سعودی عرب کی ابھرتی ہوئی ایئرلائن ’طیران الریاض‘ اپنے فضائی بیڑے کو وسعت دینے کے لیے مزید 25 سے 30 بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے خریدنے پر غور کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق یہ پیشرفت کمپنی کی جانب سے امریکی طیارہ ساز کمپنی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت حاصل کردہ آپشنز کو استعمال کرنے کا حصہ ہے۔
طیران الریاض نے 2023 میں بوئنگ سے 72 ڈریم لائنر طیارے حاصل کرنے کا آرڈر دیا تھا، جس میں 39 طیارے حتمی آرڈر کا حصہ تھے جبکہ 33 طیاروں کی خریداری کے آپشنز شامل تھے۔
اب کمپنی ان آپشنز کو حتمی خریداری میں تبدیل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس ممکنہ معاہدے کا باضابطہ اعلان آئندہ ہفتے برطانیہ میں منعقد ہونے والے فارنبرہ ایئر شو کے دوران کیا جا سکتا ہے۔
تاہم اس حوالے سے حتمی تفصیلات پر ابھی بھی بات چیت جاری ہے اور دونوں کمپنیوں نے فی الحال اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کی ملکیت میں قائم ریاض ایئرلائنز، سعودی عرب کی دوسری قومی ایئرلائن ہے جس نے گزشتہ ماہ اپنی پہلی کمرشل پرواز مکمل کی ہے۔
کمپنی کی جانب سے تیزی سے اپنے آپریشنز کو وسعت دینے کے لیے حکمت عملی پر عمل درآمد جاری ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹونی ڈگلس کے مطابق رواں ماہ کے آخر تک ایئرلائن کے بیڑے میں طیاروں کی تعداد 8 تک پہنچ جائے گی۔
ایئرلائن کا ہدف ہے کہ مارچ 2027 تک دنیا کے 22 مختلف شہروں کے لیے پروازوں کا سلسلہ شروع کر دیا جائے۔
ریاض ایئرلائنز نے اب تک قاہرہ، دبئی، جدہ، میڈرڈ اور مانچسٹر کے لیے پروازیں چلانے کا اعلان کیا ہے جبکہ بھارت کے مختلف شہروں کے لیے بھی جلد سروس شروع کی جائے گی۔
حال ہی میں کمپنی نے ممبئی کے لیے اپنی روزانہ کی پروازوں کے ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز بھی کر دیا ہے۔
ٹونی ڈگلس کا کہنا ہے کہ 72 ڈریم لائنر طیاروں کے علاوہ 60 ایئربس اے 321 نیو اور 50 ایئربس اے 350 طیاروں کے آرڈرز کے ساتھ یہ ایئرلائن جدید تاریخ کی سب سے بڑی عالمی سٹارٹ اپ ایئرلائن بننے کی جانب گامزن ہے، جس سے سعودی ہوابازی کے شعبے میں انقلاب آئے گا۔