فٹبال ورلڈکپ کے مقابلوں کے دوران شائقین ایک عجیب اور حیران کن صورتحال دیکھ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
ٹورنامنٹ میں شامل 3 بڑی ٹیمیں اچانک باہر ہوگئیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سب کا تعلق انگلش کلب ایورٹن کے سابق کوچز سے ہے۔
ناکامی کا مشترکہ پہلو
برازیل، پرتگال اور ہالینڈ جیسی عالمی درجہ بندی کی ٹاپ 8 ٹیموں کا ورلڈ کپ سے قبل از وقت اخراج شائقین کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان تینوں ٹیموں کی قیادت ایسے کوچز کر رہے تھے جو ماضی میں ایورٹن کے مینیجر رہ چکے ہیں۔
برازیل اور کارلو آنچلوٹی
کارلو آنچلوٹی کی زیر قیادت برازیلی ٹیم راؤنڈ آف 16 ہی میں ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔
آنچلوٹی نے 2019 میں کورونا وبا کے دوران 18 ماہ تک ایورٹن کی کوچنگ کی تھی، جس کے بعد وہ 2021 میں ریال میڈرڈ کے ساتھ دوبارہ منسلک ہو گئے تھے۔
ورلڈ کپ میں ایورٹن کلب کا انوکھا اتفاق
سابق کوچز کی زیر قیادت 3 بڑی ٹیموں کا غیر متوقع اخراج
عالمی فٹبال ٹیمیں ٹورنامنٹ سے باہر
برازیل اور پرتگال کا سفر ختم
ہالینڈ کی مراکش سے پنالٹی پر ہار
برازیل، پرتگال اور ہالینڈ کے کوچز کا ماضی ایورٹن کلب سے جڑا ہے۔
ناکامی کے بعد ہالینڈ کے رونالڈ کومان نے کوچنگ سے استعفیٰ دے دیا۔
معاہدہ ختم ہونے پر پرتگال کے کوچ روبرٹو مارٹینیز نے بھی عہدہ چھوڑ دیا۔
روبرٹو مارٹینیز اور پرتگال
پرتگال کے کوچ روبرٹو مارٹینیز کی ٹیم بھی اسی مرحلے پر باہر ہوئی ہے۔
مارٹینیز نے 2013 سے 2016 تک ایورٹن کی کمان سنبھالی تھی۔ ان کے بعد رونالڈ کومان نے ٹیم کی ذمہ داری لی تھی، جن کا دورانیہ 16 ماہ پر محیط رہا اور انہوں نے 24 فتوحات حاصل کیں۔
رونالڈ کومان کی بدقسمتی
ہالینڈ کے کوچ رونالڈ کومان کا ورلڈکپ 2026ء کا سفر انتہائی تلخ رہا۔ ان کی ٹیم مراکش کے ہاتھوں پنالٹی ککس پر شکست کھا کر راؤنڈ آف 32 سے باہر ہو گئی۔
برطانوی اخبار دی سن نے اسے ایورٹن سے جڑے کوچز کا ایک عجیب اور خوفناک مشترکہ پہلو قرار دیا ہے۔
مستقبل کے فیصلے
اہم میچز میں ناکامی کے بعد ان ٹیموں کی انتظامیہ میں تبدیلیاں شروع ہو گئی ہیں۔
رونالڈ کومان نے ہالینڈ کی کوچنگ سے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ مارٹینیز کا معاہدہ ختم ہونے پر پرتگال کی کوچنگ چھوڑ دی ہے۔
دوسری جانب کارلو آنچلوٹی بدستور برازیل کے کوچ کے عہدے پر برقرار ہیں۔
یہ اتفاقات اس وقت عالمی سطح پر فٹبال شائقین کے لیے بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایورٹن کلب کے پرستاروں نے اسے کلب ہی کی بدقسمتی سے تعبیر کیا ہے۔ اگرچہ اعداد و شمار یہی کہانی بیان کر رہے ہیں، لیکن فٹبال کی دنیا میں اس نوعیت کے اتفاقات ہمیشہ مبصرین کے لیے سوالیہ نشان بنے رہتے ہیں۔