مولانا محمد عظیم قاسمی فیض آبادی
انڈیا
اخلاق انسان کی حقیقی دولت اور معاشرے کی مضبوط بنیاد ہے۔
اسلامی تعلیمات نوجوانوں کو حسنِ اخلاق، ایثار، ہمدردی اور باہمی احترام کا درس دیتی ہیں۔
صحابۂ کرامؓ کی زندگیاں اس بات کی روشن مثال ہیں کہ اعلیٰ کردار ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
معاشرہ افراد کے مجموعے کا نام ہے اور اس کی تعمیر و ترقی کا دار و مدار اس کے افراد، خصوصاً نوجوان نسل کے کردار اور اخلاق پر ہوتا ہے۔
جب معاشرے میں حسنِ اخلاق، احترام، ہمدردی اور ایثار جیسی صفات فروغ پاتی ہیں تو امن، محبت اور خوش حالی جنم لیتی ہے لیکن جب یہ اقدار کمزور پڑ جائیں تو بے سکونی، نفرت اور انتشار معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
آج دنیا کے بہت سے معاشرے اسی اخلاقی بحران سے دوچار ہیں، اور افسوس کہ اس کے اثرات ہمارے معاشرے میں بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔
نوجوان صرف اپنے خاندان کا فرد نہیں بلکہ پوری ملت کا سرمایہ ہیں۔
ایک صالح معاشرے کی تشکیل میں ان کے کردار، گفتار اور عملی اخلاق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
مزید پڑھیں
اگر نوجوان اسلامی تعلیمات کو اپنا شعار بنا لیں تو وہ معاشرے میں خیر، محبت اور اخوت کو فروغ دے سکتے ہیں۔
اسلام نے ایثار، ہمدردی اور دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دینے کی تعلیم دی ہے۔ اسلامی تاریخ ایسی روشن مثالوں سے بھری پڑی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان صرف عبادت گزار ہی نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق کے بھی پیکر تھے۔
حضرت امام واقدیؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ شدید مالی تنگی کے باعث وہ قرض لینے اپنے ایک تاجر دوست کے پاس گئے۔
دوست نے 12 سو درہم کی ایک سربمہر تھیلی ان کے حوالے کر دی۔
گھر پہنچے تو ایک ضرورت مند ہاشمی دوست قرض مانگنے آ گیا۔
امام واقدیؒ نے نصف رقم دینے کا ارادہ کیا لیکن ان کی اہلیہ نے مشورہ دیا کہ پوری تھیلی ہی اسے دے دی جائے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ہاشمی دوست بھی یہی تھیلی اسی تاجر کے حوالے کر آیا تھا کیونکہ وہ بھی قرض لینے آیا تھا۔
یوں تینوں دوست ایک دوسرے کے لیے اپنی ضرورت قربان کرنے کو تیار تھے۔
جب یہ واقعہ وزیر یحییٰ بن خالد تک پہنچا تو انہوں نے تینوں کو انعام دیا، جبکہ سب سے بڑا حصہ امام واقدیؒ کی اہلیہ کو دیا، جنہوں نے بے مثال ایثار کا مظاہرہ کیا۔
حضرت ربیع بن خثیمؒ کا واقعہ بھی اسی جذبۂ ایثار کی روشن مثال ہے۔
بیماری کی حالت میں انہیں مرغی کا گوشت کھانے کی خواہش ہوئی۔
جب کھانا سامنے آیا تو دروازے پر ایک سائل نے آواز دی۔ آپؒ نے نہ صرف وہ کھانا بلکہ اس کی قیمت بھی فقیر کو دینے کا حکم دیا اور اپنی خواہش قربان کر دی۔
رسول اللہﷺ نے حسنِ اخلاق کو انسان کی سب سے بڑی نعمت قرار دیا۔
صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا کہ انسان کو عطا کی جانے والی سب سے بہترین چیز کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھے اخلاق۔
حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
مومنوں میں کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں۔
حقیقت یہی ہے کہ دولت، منصب اور شہرت وقتی چیزیں ہیں، لیکن حسنِ اخلاق وہ سرمایہ ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرتا ہے۔
شاعر نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے:
اخلاق کی دولت سے بھرا ہے میرا دامن
گو پاس میرے درہم و دینار نہیں ہیں
اسلام ہمیں بزرگوں کے احترام، چھوٹوں پر شفقت، علماء کی توقیر، محتاجوں کی مدد، ہمسایوں کے حقوق اور باہمی محبت کا درس دیتا ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
جو شخص چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی عزت نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔
یہ مختصر حدیث ایک مثالی معاشرے کا مکمل منشور ہے۔
اگر ہر شخص اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور بڑوں کے ساتھ احترام کا رویہ اختیار کرے تو معاشرے کے بیشتر اختلافات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔
صحابۂ کرامؓ کی زندگیوں میں ایثار کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔
ایک انصاری صحابی کے گھر مہمان آیا جبکہ گھر میں صرف اتنا کھانا تھا جو اہلِ خانہ کے لیے کافی تھا۔
انہوں نے اپنے بچوں کو بھوکا سلا دیا، چراغ بجھا دیا اور خود کھائے بغیر مہمان کو سیر کرایا۔ اسی جذبۂ قربانی پر اللہ تعالیٰ نے انہیں قرآن کریم میں سراہا۔
جنگِ یرموک میں حضرت حذیفہ عدویؓ اپنے زخمی رشتہ دار کو پانی پلانے پہنچے، مگر اس نے دوسرے زخمی کو ترجیح دی۔
دوسرا تیسرے کو، تیسرا چوتھے کو، یہاں تک کہ 7 زخمی ایک دوسرے کو پانی پلانے کی خواہش کرتے رہے اور سب جامِ شہادت نوش کر گئے۔
یہ منظر ایثار کی ایسی عظیم مثال ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
قرآن کریم ان اہلِ ایمان کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے:
اور وہ دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ خود محتاج ہوں۔ (سورۃ الحشر: 9)
اسلامی معاشرہ محبت، اخوت، خیرخواہی، ہمدردی اور تعاون کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔
نئی نسل کی سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ ان اعلیٰ اخلاقی اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے اور اپنے کردار سے دوسروں کے لیے مثال قائم کرے۔
جب نوجوان حسنِ اخلاق سے آراستہ ہوں گے تو گھروں میں سکون، معاشرے میں اعتماد اور امت میں اتحاد پیدا ہوگا، اور یہی ایک مضبوط، مہذب اور کامیاب معاشرے کی حقیقی بنیاد ہے۔
جنہیں حقیر سمجھ کر بجھا دیا تم نے
وہی چراغ جلاؤ تو روشنی ہوگی۔