ڈاکٹر ساجد خاکوانی
اسلام آباد
درخت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور قرآنِ مجید کی نمایاں تمثیلات میں سے ہیں۔
قرآن میں انہیں اللہ کی قدرت، عبادت، ایمان، نبوت، جنت اور جہنم سے جوڑ کر بیان کیا گیا ہے۔
یہ مضمون قرآنی آیات کی روشنی میں درختوں کی دینی، اخلاقی اور ماحولیاتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور انسان کو فطرت کے تحفظ کی ذمہ داری یاد دلاتا ہے۔
زمین پر جب پہلی بار بہار نے قدم رکھا ہوگا تو سب سے پہلے درختوں نے ہی اس کا استقبال کیا ہوگا۔
یہی درخت ہیں جو ہوا کو زندگی، زمین کو شادابی، پرندوں کو آشیانہ، انسان کو سایہ اور کائنات کو حسن عطا کرتے ہیں۔
قرآنِ مجید نے بھی درختوں کو محض نباتات نہیں کہا بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت، رحمت اور ہدایت کی زندہ نشانیاں قرار دیا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے ایسے دلکش باغات اگائے جن کے درختوں کا اگانا تمہارے اختیار میں نہ تھا؟ کیا اللہ کے سوا بھی کوئی معبود ہے؟ نہیں، بلکہ یہ لوگ حق سے ہٹنے والے ہیں۔ (النمل: 60)
مزید پڑھیں
یہ درخت صرف زمین کی زینت ہی نہیں بلکہ اپنے خالق کے فرمانبردار بندے بھی ہیں۔
ان کی شاخیں اگرچہ آسمان کی طرف بلند ہوتی ہیں، مگر ان کی حقیقت بندگی میں جھکی ہوئی ہے۔
اسی لیے قرآن اعلان کرتا ہے:
ستارے اور درخت سب اللہ کے حضور سجدہ ریز ہیں۔ (الرحمن: 6)
سورۂ حج میں اس حقیقت کو مزید وسعت دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، جانور اور بے شمار انسان سب اپنے رب کے سامنے جھکتے ہیں۔
گویا پوری کائنات ایک خاموش عبادت گاہ ہے اور درخت اس عبادت کے خاموش مگر عظیم گواہ ہیں۔
قدرتِ الٰہی کی بے مثال نشانی
اگر انسان تمام عمر قلم ہاتھ میں لیے بیٹھا رہے اور دنیا کے تمام درخت قلم بن جائیں، تمام سمندر سیاہی میں بدل جائیں اور پھر سات مزید سمندر بھی اس میں شامل کر دیے جائیں، تب بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور نشانیاں تحریر نہیں کی جا سکتیں۔
یہی نہیں، انسان کی روزمرہ زندگی کا ایک بنیادی وسیلہ بھی درخت ہیں۔
قرآن یاد دلاتا ہے:
وہی ہے جس نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کر دی۔ (یٰسین: 80)
اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کی مثال بیان کی تو اس کے لیے بھی ایک مبارک زیتون کے درخت کو منتخب فرمایا، جس کا تیل اپنی پاکیزگی اور نورانیت میں بے مثال ہے۔
یہ اس بات کا اعلان ہے کہ درخت صرف مادی زندگی ہی نہیں بلکہ روحانی تمثیلات کا بھی حصہ ہیں۔
انبیائے کرامؑ اور درخت
قرآنِ مجید کا مطالعہ کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیوں میں بھی درخت مسلسل موجود رہتے ہیں۔
حضرت آدم علیہ السلام کی آزمائش ایک درخت سے وابستہ تھی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت ایک مبارک درخت کے پاس عطا ہوئی۔
حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد ایک بیل دار درخت نے سایہ اور سکون دیا۔
رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں بھی ایک درخت ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن گیا۔
بیعتِ رضوان ایک درخت کے نیچے ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اسی مقام پر اپنے مومن بندوں سے رضامندی کا اعلان فرمایا۔
یہ محض اتفاقات نہیں بلکہ اس حقیقت کی طرف اشارے ہیں کہ درخت اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے مظاہر ہیں جنہیں وحی کی تاریخ میں بھی ایک منفرد مقام حاصل ہے۔
ایمان بھی درخت ہے
قرآنِ مجید نے جب ایمان، کردار اور پاکیزہ زندگی کی مثال دینی چاہی تو ایک مضبوط، سرسبز اور بارآور درخت کو منتخب کیا۔
کلمۂ طیبہ کی مثال ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے، جس کی جڑیں مضبوط ہوں، شاخیں آسمان سے باتیں کرتی ہوں اور جو ہر وقت اپنے رب کے حکم سے پھل دیتا رہے۔ (ابراہیم: 24-25)
یہ محض ایک تشبیہ نہیں بلکہ ایک مکمل فلسفۂ حیات ہے۔
جس ایمان کی جڑیں یقین میں مضبوط ہوں، اس کی شاخیں کردار، اخلاق، خدمت اور خیرخواہی کی صورت میں پوری انسانیت کو سایہ فراہم کرتی ہیں۔
اس کے برعکس باطل فکر کو ایسے بے بنیاد درخت سے تشبیہ دی گئی ہے جسے زمین سے آسانی سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے۔
درخت… جنت بھی اور جہنم بھی
قرآنِ مجید نے آخرت کے دونوں انجام بھی درختوں کی زبان میں سمجھائے ہیں۔
جہنم میں زقوم کا درخت گناہ گاروں کی غذا ہوگا، جس کے پھل شیطانوں کے سروں جیسے ہوں گے اور جس کے بعد کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔
اس کے برعکس اہلِ ایمان کے لیے جنت ہے، جہاں ہمیشہ بہنے والی نہریں، سرسبز باغات، جھکی ہوئی شاخیں، لازوال سائے اور ہر موسم کے تازہ پھل ان کے استقبال کے لیے موجود ہوں گے۔
گویا انسان کی آخری منزل بھی درختوں سے جدا نہیں۔
فطرت سے دوری… انسانیت کا نقصان
اسلام دراصل دینِ فطرت ہے، جبکہ درخت فطرت کا سب سے حسین اظہار ہیں۔
آج پوری دنیا ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے خاتمے جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔
صنعتی ترقی کی اندھی دوڑ، بے ہنگم شہری توسیع اور قدرتی وسائل کے بے رحم استعمال نے زمین کے سبز چہرے کو زخمی کر دیا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ انسان ترقی کی قیمت اپنی ہی بقا سے وصول کر رہا ہے۔
درخت کٹ رہے ہیں، جنگلات سکڑ رہے ہیں، پرندوں کے آشیانے اجڑ رہے ہیں اور زمین اپنی قدرتی خوبصورتی کھوتی جا رہی ہے۔
قرآن کا پیغام
قرآنِ مجید انسان کو بار بار فطرت کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتا ہے۔
وہ درختوں کو محض لکڑی یا ایندھن نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نشانی، جنت کی یاد، ایمان کی مثال اور زندگی کی علامت قرار دیتا ہے۔
اگر مسلمان قرآن کو صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ زندگی کی رہنمائی سمجھ کر پڑھیں تو وہ جان لیں گے کہ ایک درخت لگانا صرف ماحولیاتی خدمت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت کی حفاظت بھی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ترقی اور ماحول کے درمیان توازن قائم کریں، جنگلات کی حفاظت کریں، زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک سرسبز، محفوظ اور خوبصورت زمین چھوڑ جائیں۔
کیونکہ جس معاشرے کے درخت زندہ رہتے ہیں، وہاں صرف موسم ہی نہیں، تہذیبیں بھی زندہ رہتی ہیں۔