نماز کے بعد خود سے پوچھیے کہ امام نے کون سی سورت تلاوت کی، جواب نہ ملے تو سمجھ لیجیے دل کہیں اور تھا
محمد عابد ندوی
جدہ
غفلت سے پڑھی گئی نماز ظاہری فرض تو ادا کردیتی ہے، مگر اس کی حقیقی تاثیر خشوع سے پیدا ہوتی ہے۔
اسلاف کی زندگیاں بتاتی ہیں کہ نماز ان کے لیے رسم نہیں، اپنے رب سے ملاقات تھی۔
ہر نماز کے بعد خود سے پوچھیے کہ آپ نے کیا پڑھا، امام نے کیا سنایا اور آپ کا دل کہاں تھا؟
غفلت اور بے توجہی سے ادا کی گئی نماز اگرچہ ظاہری اعتبار سے درست سمجھی جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور اس نماز کی اصل قدر خشوع و خضوع سے پیدا ہوتی ہے۔
بندۂ مومن کے لیے وہی نماز حقیقی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے جس میں جسم کے ساتھ دل بھی حاضر، نگاہ جھکی اور روح اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو۔
اسی لیے نماز میں خشوع پیدا کرنے کی کوشش محض ایک اضافی خوبی نہیں، بلکہ نماز کی روح اور بنیادی ضرورت ہے۔
خشوع دراصل ایمان و یقین کا ثمرہ ہے۔
جب دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، جلال اور کبریائی کا احساس بیدار ہو اور بندہ اپنی کمزوریوں، لغزشوں اور کوتاہیوں کو پہچان لے تو اس کے اندر عجز و انکسار کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
خشوع صرف نماز تک محدود نہیں رہتا، بلکہ سچے مومن کے کردار، گفتگو اور طرزِ زندگی میں بھی نمایاں ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں
حضرت ربیع بن خثیمؒ ہمیشہ نگاہیں جھکائے اور سر نیچا کیے رکھتے تھے، یہاں تک کہ بعض لوگ انہیں نابینا سمجھتے تھے۔
ایک مرتبہ وہ بازار میں لوہاروں کے پاس سے گزرے تو دہکتی ہوئی آگ دیکھ کر آخرت کی آگ یاد آگئی اور خوفِ الٰہی سے بے ہوش ہوگئے۔
وہ اپنی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے:
’جب میں نماز میں داخل ہوتا ہوں تو اس کے سوا کسی چیز کی فکر نہیں
رہتی کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور اپنے رب سے کیا مناجات کررہا ہوں۔‘
حضرت عامر بن عبداللہؒ بھی نہایت خشوع سے نماز ادا کرتے تھے۔
جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو باہر کے شور سے بے خبر ہوجاتے اور دل میں یہ تصور رکھتے کہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہوں اور جنت یا جہنم میں سے کوئی ایک میرا ٹھکانہ ہے۔
📖 مختصر خلاصہ پڑھیے ⌄
غفلت سے پڑھی گئی نماز ظاہری فرض تو ادا کردیتی ہے، لیکن اس کی حقیقی تاثیر خشوع سے پیدا ہوتی ہے۔ اسلاف کی زندگیاں بتاتی ہیں کہ نماز ان کے لیے محض ایک رسم نہیں، بلکہ اپنے رب سے ملاقات تھی۔ ہر نماز کے بعد خود سے پوچھیے کہ آپ نے کیا پڑھا، امام نے کیا سنایا اور اس وقت آپ کا دل کہاں تھا؟
حضرت مسلم بن یسارؒ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک ستون گر گیا، لیکن انہیں اس کا احساس تک نہ ہوا۔
حضرت خلف بن ایوبؒ سے پوچھا گیا کہ نماز کے دوران مکھی آپ کے جسم پر بیٹھتی ہے تو آپ اسے ہٹاتے کیوں نہیں؟
انہوں نے فرمایا:
’فاسق لوگ حکمران کے کوڑے برداشت کرتے اور اس پر فخر کرتے ہیں، تو کیا میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوکر ایک مکھی کی وجہ سے حرکت کرنے لگوں؟‘
یہ واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ ان بزرگوں کے لیے نماز محض چند الفاظ اور جسمانی حرکات کا نام نہیں تھی، بلکہ اپنے رب سے ملاقات اور مناجات کا عظیم لمحہ تھی۔
حضرت عمر فاروقؓ نے ایک مرتبہ منبر پر فرمایا:
’آدمی اسلام کی حالت میں بوڑھا ہوجاتا ہے، لیکن اللہ کے لیے اس کی ایک نماز بھی کامل نہیں ہوپاتی۔‘
لوگوں نے پوچھا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ فرمایا:
’وہ نماز میں خشوع، تواضع اور اللہ تعالیٰ کی طرف پوری طرح متوجہ ہونے کا اہتمام نہیں کرتا۔‘
غور کیجیے کہ حضرت عمرؓ یہ بات اسلام کے ابتدائی اور روشن زمانے میں فرما رہے تھے۔
اگر وہ آج ہماری نمازیں دیکھتے تو کیا فرماتے؟
ہمارا حال یہ ہے کہ نماز کے دوران کاروبار، گھر، ملازمت، موبائل، ملاقاتیں اور دنیا بھر کے خیالات ذہن پر چھائے رہتے ہیں۔
کبھی یہ یاد نہیں رہتا کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو، اور کبھی تیسری اور چوتھی رکعت میں شبہ ہونے لگتا ہے۔
جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہوئے مقتدی عموماً رکعتوں کی گنتی امام پر چھوڑ کر خود کو بے نیاز سمجھ لیتا ہے۔
لیکن نماز میں ہماری توجہ کی حقیقت ایک آسان سوال سے سامنے آسکتی ہے۔
جہری نماز کے بعد اگر مقتدیوں سے پوچھا جائے کہ امام نے پہلی اور دوسری رکعت میں کون سی سورتیں تلاوت کی تھیں تو بہت کم لوگ درست جواب دے پائیں گے۔
ہر نماز کے بعد خود سے یہ سوال کیجیے:
امام نے آج کون سی سورت یا آیات تلاوت کی تھیں؟
اس سوال کا جواب بتا دے گا کہ نماز میں صرف ہمارا جسم موجود تھا یا دل بھی اپنے پروردگار کے حضور حاضر تھا۔
✓ اہم نکات دیکھیے ⌄
- خشوع ایمان، یقین اور عظمتِ الٰہی کے گہرے احساس کا ثمرہ ہے۔
- نماز میں جسم کے ساتھ دل اور ذہن کی حاضری بھی ضروری ہے۔
- اسلاف نماز کو اپنے رب سے مناجات اور ملاقات سمجھتے تھے۔
- دنیاوی خیالات نماز کی توجہ اور روحانی تاثیر کو کم کردیتے ہیں۔
- امام کی تلاوت یاد نہ رہنا نماز میں بے توجہی کی ایک علامت ہے۔
- خشوع مسلسل کوشش، دعا اور خود احتسابی سے حاصل ہوتا ہے۔
ایک مرتبہ رسول اللہﷺ سے نماز میں تلاوت کرتے ہوئے ایک آیت رہ گئی۔
نماز کے بعد آپﷺ نے صحابۂ کرامؓ سے دریافت فرمایا کہ میں نے کیا پڑھا تھا؟
لوگ خاموش رہے، البتہ حضرت اُبی بن کعبؓ نے سورت اور رہ جانے والی آیت کی نشان دہی کردی۔
اس پر آپ ﷺ نے ان کی تصدیق فرمائی اور دوسروں کو متنبہ کیا کہ لوگ نماز میں حاضر ہوتے اور صفیں بھی مکمل کرتے ہیں، لیکن انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے پروردگار کی کتاب کا کون سا حصہ ان کے سامنے پڑھا جارہا ہے۔
بنی اسرائیل کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ تنبیہی پیغام بھی نقل کیا گیا ہے کہ تم اپنے جسموں اور زبانوں کے ساتھ میرے پاس آتے ہو، لیکن تمہارے دل مجھ سے غائب رہتے ہیں۔
یہی نماز کی سب سے بڑی محرومی ہے کہ جسم قبلے کی طرف ہو، زبان تلاوت کررہی ہو، مگر دل دنیا کے بازاروں میں بھٹک رہا ہو۔
◆ فیکٹ باکس معلومات ⌄
بعض اسلاف فرمایا کرتے تھے کہ نماز کا تعلق آخرت سے ہے، جب تم نماز شروع کرو تو یوں سمجھو کہ دنیا سے نکل کر آخرت میں داخل ہوگئے ہو۔
ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ کیا نماز میں آپ کو کوئی دوسری چیز یاد آتی ہے؟
انہوں نے جواب دیا:
’کیا نماز سے بڑھ کر بھی کوئی محبوب چیز ہے جسے میں نماز میں یاد کروں؟‘
ہم شاید اسلاف جیسا خشوع فوراً حاصل نہ کرسکیں، مگر اس سمت پہلا قدم ضرور اٹھا سکتے ہیں۔
نماز سے پہلے چند لمحے رک کر سوچیں کہ ہم کس کے سامنے کھڑے ہونے جارہے ہیں۔
سورتوں، دعاؤں اور تسبیحات کے معانی سمجھیں، رکوع و سجود میں جلدی نہ کریں اور غیر ضروری حرکات سے بچیں۔
اگر دل بھٹک جائے تو مایوس ہونے کے بجائے اسے دوبارہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کریں۔
🕌 عملی رہنمائی طریقہ جانیے ⌄
- نماز سے پہلے چند لمحے خاموش بیٹھ کر ذہن کو تیار کریں۔
- موبائل اور دوسری مصروفیات کو نماز سے پہلے خود سے دور کردیں۔
- سورتوں، دعاؤں اور تسبیحات کے معانی سمجھنے کی کوشش کریں۔
- رکوع اور سجدہ جلدبازی کے بجائے مکمل اطمینان سے ادا کریں۔
- نگاہ سجدے کی جگہ پر رکھیں اور غیرضروری حرکات سے بچیں۔
- دل بھٹک جائے تو مایوس ہوئے بغیر اسے دوبارہ نماز کی طرف لائیں۔
- ہر نماز کے بعد یاد کریں کہ امام نے کون سی سورت تلاوت کی تھی۔
- خشوع کے لیے اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعا اور اپنا محاسبہ کریں۔
ہر نماز کے بعد اپنا محاسبہ کیجیے:
میں نے کیا پڑھا، امام نے کیا سنایا اور میرا دل کہاں تھا؟
خشوع ایک دن میں حاصل نہیں ہوتا، یہ مسلسل کوشش، دعا اور اپنے نفس کی نگرانی سے پیدا ہوتا ہے۔
جب جسم کے ساتھ دل بھی سجدہ ریز ہوجائے تو نماز محض فرض نہیں رہتی، بلکہ ایمان کا ثمرہ، روح کی غذا اور بندے کی حقیقی معراج بن جاتی ہے۔
متعدد آراء
ماشاء اللہ یہ تحریر بہترین تحریروں میں سے ایک ہے ۔ بہترین تذکیر ۔
اللہ تعالی لکھنے والے کو بہترین اجر دے ۔ آمین
اخبار اوورسیز پوسٹ ایک بہترین آن لائن روزنامہ ہے جو درست خبریں ، معلومات اور اس طرح کی دینی ،دعوتی ، افراد اور معاشرے کی اصلاح و تربیت میں معاون تحریریں اور مضامین کی اشاعت کے ساتھ دنیا و آخرت کے لیے اجر سمیٹ رہا ہے ۔
اللہ تعالی آپ کو دنیا اور آخرت کی بھلائیاں اور reward
عطا فرمائے
آمین
جزاکم اللہ خیرا
جزاک اللہ خیر، بہت شکریہ، آپ کی سپورٹ ہمیشہ درکار رہے گی