براہ راست نشریات

پناہ گزین بوجھ نہیں: ایتھوپیا کا منصوبہ مہاجر نظام بدل سکتا ہے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Afghan Refugees in Pakistan

ایتھوپیا نے 11 لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کو قومی تعلیمی، طبی اور معاشی نظام میں شامل کرنے کے لیے ’مکاتیت‘ منصوبہ شروع کیا ہے۔
اس کے تحت پناہ گزینوں کو ڈیجیٹل شناخت، ورک پرمٹ اور کاروباری مواقع فراہم کئے جائیں گے۔
تاہم فنڈنگ کی شدید کمی، بے روزگاری اور کمزور سرکاری سہولتیں اس خواب کے سامنے بڑی رکاوٹ ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان بھی افغان پناہ گزینوں کے لیے کیمپ اور بیدخلی کے درمیان تیسرا راستہ اختیار کرسکتا ہے؟

کیمپوں اور امدادی قطاروں کے بجائے 

تعلیم، روزگار اور کاروبار—

سوال یہ ہے کہ : کیا پاکستان بھی افغان پناہ گزینوں کے لیے اس ماڈل سے کچھ سیکھ سکتا ہے؟

OVERSEAS POST  |  PREMIUM HUMAN STORY

رحمت اللہ عابدین کی عمر 65 برس تھی اور جسم اتنا کمزور کہ چند قدم چلنا بھی مشکل تھا، مگر پیچھے موت اور آگے سرحد تھی۔ 

وہ دو دن تک ایک موٹر سائیکل کے پچھلے حصے سے چمٹے رہے۔ 

راستہ ایسے علاقوں سے گزرتا تھا جہاں سوڈان کی ریپڈ سپورٹ فورسز کے جنگجو پھیلے ہوئے تھے۔ 

پکڑے جانے کا مطلب شاید وہیں موت تھا۔

وہ بمشکل ایتھوپیا پہنچ گئے، مگر ان کا سفر سرحد عبور کرنے پر ختم نہیں ہوا۔ 

وہ اپنی اہلیہ اور 3 بیٹیوں کو تلاش کر رہے تھے، جن سے 883 دن پہلے اس وقت بچھڑ گئے تھے جب ریپڈ سپورٹ فورسز نے سوڈانی شہر ود مدنی پر قبضہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں

مئی کے آخر میں رحمت اللہ ایتھوپیا کے اورا پناہ گزین کیمپ میں گھوم رہے تھے کہ اچانک ایک جانی پہچانی چیخ سنائی دی۔ 

انہوں نے پلٹ کر دیکھا تو ان کی بڑی بیٹی رؤیٰ بازو پھیلائے ان کی طرف دوڑ رہی تھی۔

دو سال سے زیادہ طویل جدائی ختم ہوگئی، لیکن خاندان کے سامنے ایک نیا سوال کھڑا تھا: 

گولیوں سے بچ جانے کے بعد کیا پوری زندگی خیمے، راشن کی قطار اور غیر یقینی مستقبل میں گزارنا ہی پناہ گزین کی تقدیر ہے؟

ایتھوپیا اب اسی سوال کا ایک مختلف جواب دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

’’مکاتیت‘‘ کیا ہے؟

ایتھوپیا نے 18 جون 2026 کو دار الحکومت ادیس ابابا میں پناہ گزینوں کے لیے ایک نئے قومی منصوبے ’مکاتیت روڈ میپ‘ کا باقاعدہ آغاز کیا۔ 

امہاری زبان میں ’مکاتیت‘ کا مطلب شمولیت یا اپنے اندر جگہ دینا ہے۔

منصوبے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ پناہ گزینوں کو برسوں تک خیموں میں رکھ کر امداد پر منحصر بنانے کے بجائے انہیں تعلیم، علاج، قانونی شناخت، ملازمت، کاروبار اور مقامی خدمات تک رسائی دی جائے۔

6 اہم نکات
  1. ایتھوپیا نے پناہ گزینوں کو مستقل امداد پر منحصر رکھنے کے بجائے تعلیم، علاج اور روزگار سے جوڑنے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔
  2. ’’مکاتت‘‘ امہاری زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب شمولیت ہے۔
  3. منصوبہ پناہ گزین کیمپوں کو قومی خدمات سے منسلک آبادیوں میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
  4. ایتھوپیا 11 لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کی میزبانی کررہا ہے۔
  5. 2025 میں 4,162 پناہ گزینوں کو ورک پرمٹ ملے، مگر مجموعی تعداد کے مقابلے میں یہ پیش رفت محدود ہے۔
  6. منصوبے کی کامیابی کا دارومدار عالمی فنڈنگ، مقامی قبولیت اور عملی نفاذ پر ہوگا۔

اس منصوبے کی تیاری میں وفاقی اور علاقائی اداروں، اقوام متحدہ، امدادی تنظیموں، سول سوسائٹی اور پناہ گزینوں کے نمائندوں نے حصہ لیا۔ 

ایتھوپیا کی حکومت اسے عارضی انسانی امداد سے ایک مستقل ترقیاتی نظام کی طرف منتقلی قرار دیتی ہے۔

ایتھوپیا میں اس وقت 11 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین اور پناہ کے درخواست گزار موجود ہیں۔ 

ان میں زیادہ تر سوڈان، جنوبی سوڈان، صومالیہ اور اریٹیریا سے آئے ہیں۔ 

بیشتر افراد 5 مختلف علاقوں میں قائم 24 کیمپوں میں رہتے ہیں، جبکہ 70 ہزار سے زیادہ شہری پناہ گزین ادیس ابابا میں مقیم ہیں۔

اس آبادی کا تقریباً 60 فیصد بچوں پر مشتمل ہے۔ 

اس لیے مسئلہ صرف آج کے راشن یا خیمے کا نہیں، بلکہ اس نسل کا بھی ہے جو تعلیم، ہنر اور روزگار کے بغیر بڑی ہوسکتی ہے۔

الگ کیمپ نہیں، مشترکہ شہر

روایتی نظام میں پناہ گزینوں کے لیے کیمپ کے اندر الگ اسکول، عارضی طبی مرکز، پانی کی محدود سہولت اور خوراک کی تقسیم کا انتظام کیا جاتا ہے۔ 

یہ پورا نظام بیرونی امداد پر چلتا ہے اور فنڈنگ رکنے کے ساتھ ہی بکھرنے لگتا ہے۔

مکاتیت ماڈل اس کے برعکس پناہ گزینوں کو قومی اور مقامی نظام میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

مثلاً کسی کیمپ کے اندر ایک عارضی کلینک بنانے کے بجائے قریبی سرکاری اسپتال میں مزید ڈاکٹر، بستر اور سہولتیں فراہم کی جائیں۔ 

ایسا اسکول بنایا جائے جہاں مقامی اور پناہ گزین بچے ایک ساتھ پڑھیں۔ 

پانی، سڑک اور بازار کی سہولت بھی دونوں آبادیوں کے لیے مشترک ہو۔

فیکٹ باکس
18 جون 2026مکاتت کا اجرا
11 لاکھ+پناہ گزین اور پناہ کے متلاشی
24پناہ گزین کیمپ
4,593رہائشی اجازت نامے
4,162ورک پرمٹ
40کاروباری لائسنس
46.96٪پرائمری اندراج
19.29٪سیکنڈری اندراج
67٪فنڈنگ کا خلا

اس طرح بین الاقوامی امداد صرف پناہ گزینوں پر خرچ نہیں ہوتی بلکہ میزبان آبادی کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔ 

مقامی شہریوں کو یہ احساس کم ہوتا ہے کہ باہر سے آنے والوں کو سہولتیں مل رہی ہیں جبکہ ان کے اپنے گاؤں اور شہر محروم ہیں۔

ڈیجیٹل شناخت کیوں اہم ہے؟

اس منصوبے کا ایک اہم ستون ’فائدہ‘ ڈیجیٹل شناختی نظام ہے۔ 

یہ بائیومیٹرک شناخت پناہ گزین کو اپنی قانونی حیثیت ثابت کرنے اور سرکاری خدمات تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔

شناختی دستاویز نہ رکھنے والا شخص عموماً بینک اکاؤنٹ نہیں کھول سکتا، ملازمت کا قانونی معاہدہ نہیں کرسکتا، دکان یا کمپنی رجسٹر نہیں کراسکتا اور بعض صورتوں میں گھر بھی باقاعدہ کرائے پر نہیں لے سکتا۔

یہ کیوں اہم ہے؟
یہ منصوبہ پناہ گزین کو مسئلہ نہیں بلکہ صلاحیت رکھنے والا انسان سمجھنے کی کوشش ہے۔

دنیا کا روایتی مہاجر نظام کیمپ، راشن اور عارضی امداد کے گرد گھومتا ہے۔ طویل جنگوں کے باعث یہی عارضی انتظام کئی نسلوں کی مستقل زندگی بن جاتا ہے۔

مکاتت پناہ گزینوں کو اسکول، ہسپتال، قانونی شناخت، ملازمت اور کاروبار تک رسائی دے کر اس انحصار کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

اگر یہ ماڈل کامیاب ہوا تو امدادی اخراجات اور غیر قانونی ہجرت کا دباؤ کم ہوسکتا ہے، جبکہ میزبان علاقوں کی معیشت اور بنیادی خدمات بھی بہتر ہوسکتی ہیں۔

نتیجتاً وہ غیر رسمی معیشت کا حصہ بن جاتا ہے، جہاں کم اجرت، استحصال، گرفتاری اور رشوت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ 

حکومت کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کہاں رہتا اور کیا کام کرتا ہے۔

قانونی شناخت اور محدود مگر منظم حقِ روزگار سے پناہ گزین بینک استعمال کرسکتا ہے، کاروبار رجسٹر کراسکتا ہے، ٹیکس دے سکتا ہے اور ملازمت کے قانونی تحفظ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یوں انسانی تحفظ اور ریاستی نگرانی ایک دوسرے کی مخالف نہیں رہتیں۔ 

کاغذ پر حق، حقیقت میں محدود مواقع

ایتھوپیا نے پناہ گزینوں کو ملازمت، خود روزگاری اور بعض پیشہ ورانہ شعبوں میں کام کرنے کا حق دیا ہے۔ 

2025 کے دوران 4,593 پناہ گزینوں کو رہائشی اجازت نامے، 4,162 کو کام کے اجازت نامے اور 40 افراد کو کاروباری لائسنس جاری کیے گئے۔

کیمپوں میں صابن، خوشبو، روایتی کھانے، زراعت اور دوسری چھوٹی صنعتوں سے وابستہ کاروبار بھی سامنے آئے ہیں۔ 

کچھ کاروبار مقامی لوگوں کے لیے بھی روزگار پیدا کر رہے ہیں۔

مکاتت کیسے کام کرتا ہے؟
  1. قانونی شناخت: پناہ گزینوں کی رجسٹریشن اور ضروری شناختی دستاویزات کا اجرا۔
  2. مشترکہ تعلیم: پناہ گزین بچوں کو قومی اسکولوں اور تعلیمی نظام سے جوڑنا۔
  3. صحت کی سہولت: الگ امدادی مراکز کے بجائے قومی اور مقامی صحت کے نظام تک رسائی۔
  4. قانونی روزگار: ورک پرمٹ، رسمی ملازمت اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرنا۔
  5. کاروباری شمولیت: لائسنس، بینکنگ اور مالی وسائل تک رسائی آسان بنانا۔
  6. مشترکہ ترقی: پناہ گزینوں اور میزبان آبادی کو ایک ہی ترقیاتی منصوبے میں شامل کرنا۔
بنیادی تبدیلی یہ ہے کہ پناہ گزینوں کے لیے الگ نظام چلانے کے بجائے انہیں قومی خدمات کا حصہ بنایا جائے۔

لیکن 11 لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کے مقابلے میں چند ہزار اجازت نامے ظاہر کرتے ہیں کہ منصوبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

ملازمت کا قانونی حق ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ ملازمت خودبخود پیدا ہوجائے گی۔ ایک غریب ملک میں جہاں مقامی نوجوان بھی بے روزگاری کا سامنا کررہے ہوں، پناہ گزینوں کو روزگار دینا معاشرتی تناؤ پیدا کرسکتا ہے۔ 

منصوبے کے سامنے تلخ حقیقت

مکاتیت منصوبہ امید ضرور پیدا کرتا ہے، مگر اسے کامیاب ماڈل قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں ایتھوپیا کے صرف 46.96 فیصد پناہ گزین بچے پرائمری اسکول میں زیرِتعلیم تھے، جبکہ سیکنڈری تعلیم تک پہنچنے والوں کی شرح محض 19.29 فیصد تھی۔

پناہ گزینوں اور موسمیاتی آفات سے متاثرہ لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیوں کو 67 فیصد فنڈنگ کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ 

طبی پروگرام، مریضوں کی منتقلی اور بیماریوں سے بچاؤ کی کئی خدمات محدود ہوئیں۔

جنوبی سوڈانی پناہ گزینوں کے جیوئی کیمپ میں صورتِ حال اس قدر خراب ہے کہ تقریباً 70 ہزار افراد کے لیے صرف ایک ڈاکٹر دستیاب بتایا گیا۔ 

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین بارہم صالح نے اسے ناقابلِ قبول اور اخلاقی ناکامی قرار دیا۔

وعدہ اور زمینی حقیقت

منصوبے کا وعدہ

  • قانونی شناخت اور رہائشی دستاویزات
  • تعلیم اور علاج تک بہتر رسائی
  • ملازمت اور کاروبار کے مواقع
  • امداد کے بجائے خود انحصاری
  • میزبان آبادی کے لیے بھی بہتر خدمات

موجودہ حقیقت

  • ورک پرمٹ کی تعداد اب بھی محدود
  • اسکولوں میں اندراج بہت کم
  • صحت کا نظام شدید دباؤ میں
  • قانونی کارروائی میں تاخیر
  • انسانی امداد میں 67 فیصد مالی خلا

ڈیجیٹل شناخت کے اجرا میں سست روی، وفاقی اور علاقائی اداروں کے درمیان کمزور رابطہ، فنڈز کی کمی اور مقامی آبادی کے خدشات بھی منصوبے کی راہ میں موجود ہیں۔

اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا ایتھوپیا عالمی تعریف حاصل کرنے کے بعد بھی اس منصوبے کے لیے پیسہ، سیاسی حمایت اور انتظامی صلاحیت فراہم کرتا ہے یا مکاتیت بھی اچھی نیت سے تیار کی گئی ایک اور دستاویز بن کر رہ جاتا ہے۔ 

ہر افغان کی قانونی حیثیت ایک جیسی نہیں

پاکستان اور ایتھوپیا کے حالات مکمل طور پر یکساں نہیں۔ 

پاکستان نے 4 دہائیوں سے لاکھوں افغانوں کو پناہ دی، جبکہ محدود وسائل رکھنے والے پاکستانی شہروں، سرحدی اضلاع اور صوبوں نے اس کی بڑی معاشی اور سماجی قیمت ادا کی۔

سلامتی، دہشت گردی، جعلی دستاویزات، اسمگلنگ، غیر رسمی کاروبار اور شہری سہولتوں پر دباؤ جیسے خدشات کو محض تعصب کہہ کر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں موجود ہر افغان کی قانونی حیثیت اور پس منظر ایک جیسا نہیں۔ 

ان میں رجسٹرڈ پناہ گزین، مختلف دستاویزات رکھنے والے افغان، غیر دستاویزی افراد، پاکستان میں پیدا ہونے والے بچے، طالب علم، کاروباری خاندان اور ایسے افراد شامل رہے ہیں جنہیں افغانستان واپسی پر حقیقی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

انسانی قیمت
حفاظت مل جائے لیکن زندگی آگے نہ بڑھ سکے تو کیا یہ واقعی مکمل تحفظ ہے؟

65 سالہ رحمت اللہ عابدین سوڈان سے فرار کے دوران دو دن موٹر سائیکل کے پیچھے چمٹے رہے۔ وہ 883 دن کی جدائی کے بعد اپنی اہلیہ اور بیٹیوں سے مل سکے۔

ان کی بڑی بیٹی رُؤا ادریس ڈاکٹر بننا چاہتی ہے، مگر کیمپ سے یونیورسٹی تک پہنچنے کا راستہ اب بھی بند ہے۔

مکاتت کا اصل امتحان یہی ہے: کیا یہ منصوبہ پناہ گزینوں کو صرف زندہ رہنے کے بجائے تعلیم، پیشہ اور باوقار مستقبل دے سکے گا؟

سب کو ایک ہی زمرے میں رکھ کر ایک ہی فیصلہ نافذ کرنا انتظامی طور پر آسان، مگر انسانی اور بعض اوقات معاشی طور پر نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ادارۂ مہاجرت کے مطابق ستمبر 2023 سے 4 جولائی 2026 تک 25 لاکھ 57 ہزار سے زیادہ افغان پاکستان سے افغانستان واپس جاچکے تھے۔ 

ان میں بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے پاکستان میں دہائیاں گزاریں، روزگار قائم کیا یا جن کے بچے کسی دوسرے ملک کو اپنا گھر نہیں سمجھتے تھے۔ 

پاکستانی شہری کے خدشات بھی حقیقی ہیں

اگر کسی ضلع میں پہلے ہی اسکولوں میں جگہ نہ ہو، اسپتالوں میں ڈاکٹر کم ہوں اور نوجوان بے روزگار ہوں تو وہاں کے شہری سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ مزید آبادی کی آمد پر سوال بھی نہ اٹھائے۔

یہیں مکاتیت ماڈل کا سب سے اہم سبق سامنے آتا ہے: 

پناہ گزینوں کے لیے آنے والا بین الاقوامی سرمایہ میزبان آبادی پر بھی خرچ ہونا چاہئے۔

سب سے بڑی رکاوٹیں
  1. فنڈنگ: وسائل نہ ملے تو پہلے سے کمزور قومی خدمات پر مزید دباؤ بڑھے گا۔
  2. بیوروکریسی: شناختی دستاویزات، ورک پرمٹ اور کاروباری اجازت میں تاخیر منصوبہ روک سکتی ہے۔
  3. روزگار کی قلت: کمزور معیشت میں مقامی شہری اور پناہ گزین محدود ملازمتوں کے امیدوار ہوں گے۔
  4. مقامی قبولیت: میزبان آبادی کو فائدہ نہ ملا تو سماجی کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔
  5. سلامتی: سرحدی تنازعات اور مسلح گروہوں کا خطرہ پناہ گزینوں کے تحفظ کو متاثر کرسکتا ہے۔
  6. عملی نگرانی: واضح اہداف اور عوامی اعدادوشمار نہ ہوں تو پیش رفت جانچنا مشکل ہوگا۔

اگر بلوچستان یا خیبر پختونخوا کے کسی علاقے میں افغان خاندانوں کو تعلیم اور علاج دینا ہے تو وہاں ایسا اسکول اور اسپتال بنایا جائے جس سے پاکستانی شہری بھی برابر فائدہ اٹھائیں۔ پانی، سڑک، بجلی اور روزگار کے منصوبے صرف کیمپ تک محدود نہ ہوں بلکہ پورے مقامی علاقے کو بہتر بنائیں۔

اس طرح پناہ گزین مقامی شہری کے حصے کی روٹی کھانے والا حریف نہیں بلکہ اضافی عالمی سرمایہ، نئی منڈی اور منظم معاشی سرگرمی لانے والا فرد بن سکتا ہے۔ 

پاکستان کیا کرسکتا ہے؟

ایتھوپیا کا ماڈل پاکستان میں جوں کا توں نافذ نہیں ہوسکتا، لیکن اس سے 5 اہم اصول لئے جاسکتے ہیں:

  • تمام افغانوں کی جامع بائیومیٹرک رجسٹریشن اور درست قانونی درجہ بندی۔
  • سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے افراد اور کئی دہائیوں سے پُرامن زندگی گزارنے والے خاندانوں میں واضح فرق۔
  • مخصوص علاقوں اور شعبوں کے لیے عارضی اور قابلِ تجدید ورک پرمٹ۔
  • غیر رسمی کاروباروں کو قانونی دائرے میں لاکر رجسٹریشن اور ٹیکس کے نظام سے جوڑنا۔
  • واپسی کا مرحلہ وار، محفوظ اور جہاں ممکن ہو رضاکارانہ نظام، خصوصاً بچوں، مریضوں، طالب علموں اور خطرے سے دوچار خاندانوں کے لیے خصوصی تحفظ۔
پاکستان کے لیے کیا مطلب ہے؟
پاکستان کے لیے سبق یہ نہیں کہ ایتھوپیا کا منصوبہ جوں کا توں نقل کیا جائے، بلکہ مہاجر پالیسی کو عارضی توسیع اور اچانک بے دخلی سے آگے بڑھایا جائے۔
  • قانونی شناخت کو تعلیم، علاج، بینکنگ اور محدود رسمی روزگار سے جوڑا جاسکتا ہے۔
  • میزبان اضلاع میں عالمی فنڈنگ سے مشترکہ اسکول، ہسپتال اور بنیادی ڈھانچا بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
  • ہنرمند مہاجرین کو دستاویزی اور ٹیکس کے دائرے میں لانے سے غیر رسمی معیشت کم ہوسکتی ہے۔
  • واپسی رضاکارانہ، محفوظ، منظم اور مرحلہ وار ہونی چاہیے۔
  • ہر پالیسی میں مقامی پاکستانی آبادی کے معاشی اور سماجی مفادات کا تحفظ ضروری ہے۔

بیدخلی پر بھی سرکاری وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ 

گرفتاریاں، حراستی مراکز، سرحدی نقل وحرکت، انتظامی کارروائی اور کاروبار بند ہونے کے معاشی اثرات مفت نہیں ہوتے۔ 

اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ پناہ گزینوں کو رکھنے کی قیمت کیا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ غیر منظم اور اچانک واپسی کی مجموعی قیمت کتنی بنتی ہے۔

سلامتی کے بعد زندگی بھی ضروری ہے

ایتھوپیا کی کوشش دنیا کو کیمپ یا بیدخلی کے دو روایتی راستوں کے درمیان ایک تیسرا راستہ دکھاتی ہے: 

قانونی شناخت، تعلیم، محدود مگر منظم روزگار، مشترکہ شہری خدمات اور مقامی معیشت میں شمولیت۔

اگلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ راستہ زمینی حقیقت بن سکے گا؟

ایک منٹ میں کہانی
مطالعے کا وقت: ایک منٹ

ایتھوپیا نے ’’مکاتت‘‘ کے نام سے ایک ایسا منصوبہ شروع کیا ہے جو پناہ گزینوں کو برسوں کی امدادی محتاجی سے نکال کر قومی تعلیم، صحت، روزگار اور کاروباری نظام کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔

ملک میں 11 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین اور پناہ کے متلاشی موجود ہیں۔ 2025 میں ہزاروں افراد کو رہائشی اور ورک پرمٹ ملے، لیکن اسکولوں میں اندراج اب بھی محدود اور انسانی امداد میں مالی خلا شدید ہے۔

اس منصوبے کا انسانی چہرہ سوڈانی پناہ گزین رحمت اللہ عابدین اور ان کی بیٹی رُؤا ہیں۔ باپ 883 دن بعد خاندان سے ملا، جبکہ بیٹی ڈاکٹر بننے کے خواب کے باوجود تعلیمی موقع کی منتظر ہے۔

اگر مکاتت ایسے خوابوں کو حقیقت بناتا ہے تو یہ دنیا کے مہاجر نظام کے لیے نیا راستہ بن سکتا ہے؛ بصورتِ دیگر یہ ایک اور خوب صورت وعدہ ثابت ہوگا۔

اورا کیمپ میں رحمت اللہ عابدین کی بیٹی رؤیٰ اپنی تعلیم جاری رکھ کر گائناکالوجسٹ بننا چاہتی ہے۔ 

وہ جنگ سے بچ نکلی، سرحد عبور کرگئی اور 883 دن بعد اپنے والد سے دوبارہ مل گئی، مگر اس کی اصل آزادی اس دن شروع ہوگی جب اسے یونیورسٹی میں داخلہ اور اپنے خواب تک پہنچنے کا راستہ ملے گا۔

مکاتیت کی کامیابی تقریروں، کانفرنسوں یا جاری کیے گئے منصوبوں سے نہیں ناپی جائے گی۔ اس کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ کتنے پناہ گزین امدادی قطار سے نکل کر کلاس روم، ملازمت، کھیت، دکان یا اپنے کاروبار تک پہنچ سکے۔

کیونکہ کوئی انسان ہمیشہ پناہ گزین رہنا نہیں چاہتا۔ 

اسے صرف دوبارہ زندگی شروع کرنے کا منصفانہ موقع درکار ہوتا ہے۔

🤝

اصل اور بنیادی ذرائع

ایتھوپیا کے مکاتت منصوبے، پناہ گزینوں کی شمولیت، زمینی حالات اور پاکستان سے تقابل کے مستند ذرائع

6 بنیادی ذرائع
زمینی صحافت اور انسانی کہانی
دی گارڈین — ایتھوپیا کے پناہ گزین کیمپوں سے زمینی رپورٹ رحمت اللہ عابدین کی ہجرت، 883 دن بعد خاندان سے ملاقات، رُؤا ادریس کی تعلیم اور مکاتت منصوبے کے انسانی اثرات پر تفصیلی صحافتی رپورٹ۔ بنیادی صحافتی ماخذ
اصل رپورٹ ↗
مکاتت منصوبے کا سرکاری اعلان
اقوامِ متحدہ — مکاتت روڈ میپ کا سرکاری اعلان 18 جون 2026 کو جاری ہونے والے مکاتت روڈ میپ اور پناہ گزینوں کو تعلیم، صحت، روزگار اور قومی خدمات میں شامل کرنے کے منصوبے کی سرکاری تفصیلات۔ اصل سرکاری اعلان
اعلان پڑھیں ↗
منصوبے کی تفصیلات اور زمینی حالات
یو این ایچ سی آر — پناہ گزینوں کی شمولیت اور عملی صورتِ حال ایتھوپیا میں 11 لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں، شناختی دستاویزات، تعلیم، صحت اور روزگار تک رسائی کی تفصیلات؛ جُوئی کیمپ میں 70 ہزار افراد کے لیے صرف ایک ڈاکٹر کا حوالہ بھی شامل ہے۔ اقوامِ متحدہ کا سرکاری ماخذ
تفصیلات پڑھیں ↗
سالانہ نتائج اور سرکاری اعدادوشمار
یو این ایچ سی آر — ایتھوپیا کی سالانہ نتائج رپورٹ 2025 رہائشی اجازت ناموں، ورک پرمٹس، کاروباری لائسنس، تعلیمی اندراج اور انسانی امداد میں 67 فیصد مالی کمی کے سرکاری اعدادوشمار۔ اصل سالانہ رپورٹ — PDF
PDF پڑھیں ↗
وعدے اور عملی رکاوٹیں
ریفیوجیز انٹرنیشنل — مکاتت ماڈل کی عملی رکاوٹیں شناختی دستاویزات میں تاخیر، ورک پرمٹ کی پیچیدگی، مالی وسائل کی کمی، کمزور ادارہ جاتی رابطے اور پناہ گزینوں کی محدود شمولیت پر تحقیقی جائزہ۔ آزاد تحقیقی ماخذ
تحقیق پڑھیں ↗
پاکستانی مہاجر نظام سے تقابل
یو این ایچ سی آر — پاکستان سے افغان شہریوں کی واپسی کا ڈیٹا پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے افراد کی رضاکارانہ اور جبری واپسی کے ہفتہ وار اعداد، جنہیں ایتھوپیا کے مہاجر ماڈل سے تقابل کے لیے استعمال کیا گیا۔ سرکاری ڈیٹا پورٹل
ڈیٹا دیکھیں ↗
SOURCES • overseaspost.net

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے