براہ راست نشریات

ارب ڈالر کا نظام، ایک وقت کی روٹی نہیں، نارو میں پاکستانی بدحال

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Nauru asylum seekers

بحرالکاہل کے جزیرے نارو میں پاکستانیوں سمیت 101 پناہ کے متلاشی افراد غیر یقینی مستقبل، بھوک اور صاف پانی کی قلت کا سامنا کررہے ہیں۔
سرکاری حساب کے مطابق بیرونِ ملک پراسیسنگ نظام کی سالانہ لاگت فی شخص تقریباً 96 لاکھ آسٹریلوی ڈالر بنتی ہے، لیکن بیشتر افراد صرف 260 ڈالر کی 15 روزہ امداد پر گزارا کرتے اور بعض اوقات ایک وقت کا کھانا کھاتے ہیں۔

نارو میں پاکستانیوں سمیت 

پناہ کے متلاشی افراد کی بھوک، 

پیاس اور نہ ختم ہونے والے انتظار کی کہانی

OVERSEAS POST  |  PREMIUM LEAD STORY

محمد جب 2024 میں سمندر کے راستے تحفظ کی امید لیے آسٹریلیا پہنچا تو اس کا وزن 67 کلوگرام تھا۔ 

ایک خطرناک سفر کے بعد اسے یقین تھا کہ اب کم از کم جان محفوظ ہوگی، مگر آسٹریلوی حکام نے اسے اپنے ملک میں رکھنے کے بجائے بحرالکاہل کے ایک چھوٹے سے جزیرے نارو منتقل کردیا۔

دو برس بعد محمد کا وزن صرف 51 کلوگرام رہ گیا ہے۔ 

وہ 16 کلو وزن کھو چکا ہے اور اب طبی اعتبار سے کم وزنی کا شکار ہے۔ 

اسے ایک دائمی میٹابولک بیماری بھی لاحق ہے، جسے قابو میں رکھنے کے لیے مخصوص اور متوازن غذا ضروری ہے، مگر اس کی قوتِ خرید صرف چاول تک محدود ہوچکی ہے—اور بعض اوقات جزیرے کی دکانوں سے چاول بھی غائب ہوجاتے ہیں۔

فیکٹ باکس+
  • مقام: جمہوریہ نارو، بحرالکاہل
  • پناہ کے متلاشی افراد: 101
  • بند مرکز میں: 10 افراد
  • دیگر رہائش گاہوں میں: تقریباً 91 افراد
  • 2025-26 کے اخراجات: 971.6 ملین آسٹریلوی ڈالر
  • حسابی لاگت: تقریباً 96 لاکھ ڈالر فی شخص
  • پندرہ روزہ امداد: 260 آسٹریلوی ڈالر
  • خوراک کے لیے رقم ناکافی: 99 فیصد
  • صاف پانی تک آسان رسائی نہیں: 82 فیصد
  • نمایاں قومیتیں: پاکستانی، بنگلہ دیشی اور چینی

محمد اب روزانہ ایک وقت کا کھانا اور ایک ہلکا سا اسنیک لیتا ہے۔ 

رہائش گاہ کا پانی ہفتے میں دو یا تین مرتبہ بند ہوجاتا ہے اور آنے پر اسے پینے سے پہلے ابالنا پڑتا ہے۔ 

مزید پڑھیں

خاندان سے جدائی اور غیر یقینی مستقبل نے اسے بے خوابی، شدید اضطراب اور خودکشی کے خیالات تک پہنچا دیا ہے۔

محمد کی شناخت اس کی حفاظت کے لیے تبدیل کی گئی ہے، مگر اس کی کہانی نارو میں موجود درجنوں افراد کی اجتماعی زندگی کا عکس ہے: 

ایک ایسی جگہ جہاں حکومت کے حساب میں ہر شخص پر لاکھوں ڈالر 

خرچ ہورہے ہیں، لیکن انسان کے حصے میں ایک وقت کی پوری غذا اور صاف پانی بھی نہیں آرہا۔

تقریباً ایک ارب ڈالر کہاں خرچ ہوئے؟

آسٹریلوی وزارتِ داخلہ کی سرکاری بجٹ دستاویز کے مطابق مالی سال 2025-26 میں غیر مجاز سمندری راستوں سے آنے والوں کے بیرونِ ملک انتظام اور پراسیسنگ پروگرام پر تخمینی اخراجات 971.6 ملین آسٹریلوی ڈالر تک پہنچ گئے۔

 

آسٹریلیا نے
2025-26 میں
بیرونِ ملک
پراسیسنگ نظام
پر 971.6 ملین
آسٹریلوی ڈالر
خرچ کیے

دوسری جانب 31 مئی 2026 تک نارو میں پناہ کے 101 متلاشی موجود تھے۔
ان میں 10 افراد جیل جیسے بند مرکز میں رکھے گئے تھے، جبکہ تقریباً 91 افراد دوسرے مراکز یا جزیرے کی کمیونٹی میں رہائش پذیر تھے۔
اگر 971.6 ملین ڈالر کو ان 101 افراد پر تقسیم کیا جائے تو حساب تقریباً 9.6 ملین، یعنی 96 لاکھ آسٹریلوی ڈالر فی شخص بنتا ہے۔
یہاں بنیادی وضاحت ضروری ہے:
96 لاکھ ڈالر ہر شخص کو نہیں دیے گئے۔
یہ پورے پروگرام کی مجموعی لاگت ہے، جس میں انتظام، نجی معاہدے، عمارتیں، سکیورٹی، طبی خدمات اور نظام کو فعال رکھنے کے اخراجات شامل ہیں۔
اس کے باوجود سوال اپنی جگہ موجود ہے:
تقریباً ایک ارب ڈالر خرچ کرنے والا نظام صرف 101 انسانوں کو مناسب خوراک اور محفوظ پانی کیوں فراہم نہیں کرسکا؟
رپورٹس کے مطابق امریکی نجی جیل کمپنی سے منسلک ایم ٹی سی آسٹریلیا کو نارو کا مرکز چلانے کے لیے 5 برس میں 791.2 ملین آسٹریلوی ڈالر ملیں گے، جبکہ وہاں موجود افراد کو طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے 3 سال میں مزید 106.5 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔

78 میں سے 77 افراد کے لیے رقم ناکافی

پناہ کے متلاشیوں کی معاونت کرنے والی آسٹریلوی تنظیم ASRC نے فروری سے اپریل 2026 کے درمیان نارو میں موجود 78 افراد کے تفصیلی انٹرویوز کیے اور 90 طبی و انفرادی فائلوں کا جائزہ لیا۔

صحافتی تحقیق کا نتیجہ+

971.6 ملین آسٹریلوی ڈالر کے اخراجات سرکاری بجٹ دستاویز سے ثابت ہیں، جبکہ 31 مئی 2026 تک نارو میں 101 افراد کی موجودگی ASRC کی رپورٹ میں درج ہے۔

دونوں اعداد کی تقسیم سے تقریباً 96 لاکھ ڈالر فی شخص کا حساب سامنے آتا ہے، مگر یہ براہِ راست فی کس خرچ نہیں بلکہ پورے نظام کی مجموعی لاگت کا حسابی موازنہ ہے۔

بھوک، پانی کی قلت اور وزن میں کمی کے نتائج 78 افراد کے سروے اور 90 طبی و انفرادی فائلوں کے جائزے پر مبنی ہیں۔ یہ سرکاری طبی تحقیق نہیں، تاہم نتائج کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔

سروے میں شامل 78 میں سے 77 افراد، یعنی 99 فیصد نے کہا کہ انہیں ملنے والی رقم مناسب خوراک خریدنے کے لیے کافی نہیں۔ 

بیشتر افراد کو ہر دو ہفتے بعد صرف 260 آسٹریلوی ڈالر ملتے ہیں۔ 

اسی رقم سے انہیں خوراک، پینے کا پانی، کپڑے، فون کریڈٹ اور انٹرنیٹ سمیت اپنی تمام بنیادی ضروریات پوری کرنا ہوتی ہیں۔

نارو اپنی 90 فیصد سے زیادہ خوراک درآمد کرتا ہے۔ 

سامان بحری جہاز یا ہفتہ وار پروازوں سے پہنچتا ہے، اس لیے قیمتیں بلند اور قلت معمول بن سکتی ہے۔ 

بعض سبزیوں کی قیمت 18 ڈالر فی کلوگرام تک پہنچ جاتی ہے۔

پناہ کے متلاشی ایک نوجوان کے مطابق ایک کیلے کی قیمت 1.5 ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 4 ڈالر ہوگئی۔

سروے میں 68 فیصد افراد نے بتایا کہ انہیں تازہ پھل، سبزیاں اور گوشت شاذونادر ہی ملتا ہے یا بالکل نہیں ملتا۔ 

کچھ افراد نے کہا کہ وہ اپنی رقم اگلی ادائیگی تک چلانے کے لیے کھانے کی مقدار اور تعداد کم کردیتے ہیں۔ 

ایک شخص کے مطابق اگر وہ دن میں دو مرتبہ کھائے تو رقم صرف ایک ہفتے میں ختم ہوجاتی ہے، دو ہفتے گزارنے کے لیے اسے ایک وقت کے کھانے پر زندہ رہنا پڑتا ہے۔

کچھ لوگوں نے ضائع یا زائد المیعاد خوراک کھانے کا اعتراف بھی کیا، ان کے لیے انتخاب بیماری اور بھوک کے درمیان رہ گیا تھا۔

پانی یا کھانا—ایک چیز منتخب کریں

بھوک اس بحران کا صرف ایک پہلو ہے۔ 

سروے میں شامل 82 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں مفت اور صاف پینے کا پانی آسانی سے دستیاب نہیں۔

نارو میں میٹھے پانی کی کوئی ندی یا جھیل نہیں، جزیرہ بارش اور سمندری پانی کی صفائی پر انحصار کرتا ہے۔ 

رہائشی ٹینکوں کا پانی بعض اوقات مٹی، حشرات یا چھوٹے مردہ جانوروں سے آلودہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے؟+

یہ معاملہ صرف 101 افراد کی بھوک کا نہیں بلکہ دنیا کے مہنگے ترین امیگریشن نظاموں میں سے ایک کی کارکردگی کا امتحان ہے۔

اگر تقریباً ایک ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود مناسب خوراک، صاف پانی اور واضح مستقبل میسر نہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ رقم انسانی تحفظ پر خرچ ہورہی ہے یا نظام چلانے والے انتظامی ڈھانچے اور کمپنیوں پر۔

یہ کہانی بتاتی ہے کہ سخت سرحدی پالیسیوں کی قیمت صرف سرکاری خزانہ نہیں، برسوں تک غیر یقینی حالت میں رہنے والے انسان بھی ادا کرتے ہیں۔

سلیم—(فرضی نام‘—دائمی جسمانی خشکی کا شکار ہے۔ 

طبی عملے نے اسے بوتل کا صاف پانی خریدنے کا مشورہ دیا، لیکن محدود امدادی رقم میں وہ پانی اور کھانا دونوں نہیں خرید سکتا۔ 

اگر وہ دن میں 3 وقت کھائے تو اس کی پوری رقم مہینے کے درمیان ہی ختم ہوجاتی ہے، وہ بھی ایسی غذا پر جس میں پھل، سبزیاں اور بوتل کا پانی شامل نہیں۔

یہاں صاف پانی صحت کی ضرورت نہیں رہتا، ایک مہنگی شے بن جاتا ہے، اور زندہ رہنے کے لیے انسان کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ آج پیاس برداشت کرے یا بھوک۔ 

پاکستانی کہاں کھڑے ہیں؟

نارو میں موجود بیشتر افراد جنوبی اور مشرقی ایشیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان یا درمیانی عمر کے مرد ہیں۔ 

ان میں پاکستانی، بنگلہ دیشی اور چینی شامل ہیں، تاہم قومیت کے لحاظ سے مکمل تعداد جاری نہیں کی گئی، اس لیے پاکستانیوں کی درست تعداد معلوم نہیں۔

یہ افراد 2023 کے بعد سمندر کے راستے آسٹریلیا پہنچنے کی کوشش کے دوران پکڑے گئے۔ آسٹریلوی پالیسی کے تحت کشتی سے آنے والوں کو مستقل آباد ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی، خواہ بعد میں ان کا دعویٰ درست تسلیم کرلیا جائے۔ 

فیصلے کے منتظر افراد کام نہیں کرسکتے، جبکہ تسلیم شدہ پناہ گزینوں کو تیسرے ملک میں آبادکاری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ 

سابق امریکی اور نیوزی لینڈ انتظامات ختم ہونے کے بعد بعض کے سامنے کوئی واضح راستہ نہیں۔

پاکستانیوں کے لیے کیا مطلب ہے؟+

نارو میں پاکستانی بھی موجود ہیں، مگر ان کی درست تعداد جاری نہیں کی گئی۔ رپورٹ تین اہم حقائق سامنے لاتی ہے:

  • کشتی کے ذریعے پہنچنے والوں کو آسٹریلیا میں مستقل آبادکاری نہیں ملتی۔
  • دعویٰ درست ثابت ہونے کے باوجود تیسرے ملک کا طویل انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔
  • فیصلے تک کام، آمدن اور آزاد نقل و حرکت محدود رہ سکتی ہے۔

یہ حقائق انسانی اسمگلروں کے محفوظ اور فوری آبادکاری کے دعووں کی سنگینی بھی ظاہر کرتے ہیں۔

یوں نارو میں پھنسا پاکستانی ایک ہی وقت میں 3 بند دروازوں کے سامنے کھڑا ہے: 

اپنے بقول غیر محفوظ وطن واپسی، آسٹریلیا میں داخلے کی مستقل ممانعت اور تیسرے ملک کی غیر یقینی منظوری۔ 

حکومت کا موقف

آسٹریلوی وزارتِ داخلہ کے مطابق افراد کے انتظام اور پناہ کے دعووں کا فیصلہ نارو حکومت کی ذمہ داری ہے۔ 

امدادی رقم کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے اور منتقل افراد سے انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق سلوک کیا جاتا ہے۔ 

کینبرا بیرونِ ملک پراسیسنگ کو خطرناک سمندری سفر اور انسانی اسمگلنگ روکنے کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔

دوسری طرف ASRC کا مؤقف ہے کہ آسٹریلیا لوگوں کو دوسرے ملک بھیج کر یا نجی کمپنیوں کو ٹھیکے دے کر اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتا۔

صحافتی تحقیق کا نتیجہ

971.6 ملین آسٹریلوی ڈالر کے اخراجات سرکاری بجٹ دستاویز سے ثابت ہیں، جبکہ 31 مئی تک 101 افراد کی موجودگی ASRC نے درج کی۔ 

ان اعداد کی تقسیم سے فی شخص 9.6 ملین ڈالر بنتے ہیں، مگر یہ براہِ راست فی کس خرچ نہیں بلکہ پورے نظام کی لاگت کا حسابی موازنہ ہے۔

نظام کیسے کام کرتا ہے؟+
  1. سمندر میں روکنا: کشتی سے آنے والوں کو آسٹریلیا میں داخل کرنے کے بجائے روکا جاتا ہے۔
  2. نارو منتقلی: پناہ کے دعوے کی کارروائی کے لیے جزیرے کے مرکز میں منتقل کیا جاتا ہے۔
  3. طویل انتظار: بعض افراد کمیونٹی رہائش میں منتقل ہوتے ہیں، مگر فیصلے کی واضح مدت نہیں ہوتی۔
  4. تیسرا ملک: دعویٰ منظور ہونے پر بھی آسٹریلیا میں مستقل رہائش نہیں ملتی؛ تیسرے ملک میں آبادکاری تلاش کی جاتی ہے۔

بھوک، پانی کی قلت اور وزن میں کمی کے اعداد ایک حقوقی تنظیم کے سروے اور اس کے طبی ریکارڈ پر مبنی ہیں، کسی سرکاری طبی تحقیق پر نہیں۔ 

پھر بھی 101 میں سے 78 افراد کے انٹرویوز اور 90 فائلوں کا جائزہ معاملے کو چند انفرادی شکایات تک محدود نہیں رہنے دیتا۔

محمد اب بھی نارو میں ہے۔ 

وہ کبھی 67 کلوگرام کا تھا، اب 51 کلو رہ گیا ہے۔ 

سرکاری کاغذوں میں اس جیسے ہر شخص کے حصے میں 96 لاکھ ڈالر کا حساب آتا ہے، مگر اس کی پلیٹ میں ایک وقت کے چاول اور اس کے گلاس میں ابالنے کے بعد قابلِ استعمال پانی آتا ہے۔

نارو کی اصل کہانی یہ نہیں کہ آسٹریلیا نے ہر پناہ کے متلاشی کو لاکھوں ڈالر دے کر بھوکا چھوڑ دیا۔ 

اصل کہانی یہ ہے کہ تقریباً ایک ارب ڈالر کا نظام انسان کی سب سے بنیادی ضرورت پوری نہیں کرپایا: 

مناسب کھانا، صاف پانی اور یہ یقین کہ انتظار کسی دن ختم ہوگا۔

🏝️

اصل اور بنیادی ذرائع

نارو میں آسٹریلیا کے آف شور نظام، سرکاری اخراجات اور پناہ کے متلاشی افراد کے انسانی حالات سے متعلق بنیادی ذرائع

3 بنیادی ذرائع
سرکاری بجٹ اور مالی لاگت
آسٹریلوی محکمۂ داخلہ — بجٹ دستاویز 2026–27
نارو میں آف شور انتظام کے لیے 97 کروڑ 16 لاکھ آسٹریلوی ڈالر کے اخراجات اور بجٹ کی سرکاری تفصیلات۔
اصل سرکاری ماخذ
اصل دستاویز ↗
انسانی حالات پر تحقیقی رپورٹ
Asylum Seeker Resource Centre — “آزادی کے لیے بھوکے”
پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کی خوراک، پینے کے پانی، مالی الاؤنس، صحت اور روزمرہ انسانی حالات پر تفصیلی تحقیقی رپورٹ۔
تحقیقی و انسانی حقوق ماخذ
مکمل رپورٹ ↗
آزاد بین الاقوامی صحافتی تحقیق
The Guardian — نارو میں پناہ گزینوں کے حالات پر تحقیق
پاکستانیوں سمیت پناہ کے متلاشی افراد کی بھوک، وزن میں کمی، خوراک کی مشکلات اور آسٹریلیا کے مہنگے آف شور نظام کے انسانی اثرات کی آزاد صحافتی رپورٹنگ۔
آزاد صحافتی تحقیق
تحقیق پڑھیں ↗
رپورٹ کے بنیادی ستون مالی لاگت اور آف شور نظام کے سرکاری اخراجات کے لیے Australian Department of Home Affairs بنیادی ماخذ ہے، جبکہ پناہ کے متلاشی افراد کی خوراک، صحت اور روزمرہ حالات کے لیے Asylum Seeker Resource Centre کی تحقیق اور The Guardian کی آزاد صحافتی رپورٹنگ استعمال کی گئی ہے۔
ادارتی نوٹ: اس رپورٹ میں سرکاری مالیاتی اعداد اور انسانی حالات کو الگ الگ ذرائع سے جانچا گیا ہے۔ بجٹ اور حکومتی اخراجات کے لیے آسٹریلوی محکمۂ داخلہ، انسانی حالات کے تحقیقی شواہد کے لیے ASRC، جبکہ متاثرہ افراد کی زمینی صورتحال کی آزاد صحافتی جانچ کے لیے The Guardian کو بنیادی حوالہ بنایا گیا ہے۔ SOURCES • overseaspost.net

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے