پاکستان میں برسوں سے جرمنی جانے کی اُمید لگائے بیٹھے سیکڑوں افغان شہریوں کے لیے جرمنی کی اعلیٰ ترین عدالت کا ایک فیصلہ نئی اُمید بن کر سامنے آیا ہے۔
مزید پڑھیں
وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا ہے کہ حکومت افغان شہریوں کو ملک میں قبول کرنے کے اپنے وعدوں سے محض پالیسی تبدیل ہونے کی بنیاد پر من مانے انداز میں پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔
یہ معاملہ بظاہر ایک افغان خاتون اور ان کے دو کم عمر بچوں کا ہے، لیکن اس فیصلے کے اثرات ان سیکڑوں افغان شہریوں تک پہنچ سکتے ہیں جو طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان چھوڑ کر
پاکستان پہنچے اور اب جرمنی کے ویزوں کے انتظار میں ہیں۔
2021 کا وعدہ، 2025 میں واپسی
اس قانونی جنگ میں ایک افغان خاتون ہیں جو اپنے دو کم عمر بیٹوں کے ساتھ پاکستان میں مقیم ہیں۔ جرمنی نے 2021 میں انہیں اپنے استقبالیہ پروگرام کے تحت ملک میں داخل ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
یہ وہ دور تھا جب اگست 2021 میں بین الاقوامی افواج افغانستان سے نکل رہی تھیں اور طالبان تیزی سے دوبارہ اقتدار سنبھال رہے تھے۔
📌 اہم نکات
جرمنی نے اُس وقت ایسے افغان شہریوں کو تحفظ دینے کا فیصلہ کیا تھا جو جرمن اداروں کے لیے کام کرچکے تھے یا جنہیں طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں شدید خطرات لاحق تھے۔
متعلقہ افغان خاتون بھی انہی افراد میں شامل تھیں اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم رہنے کے باعث انہیں طالبان سے خطرہ بتایا گیا تھا۔
لیکن 4 سال بعد حالات بدل گئے۔ دسمبر 2025 میں جرمن وزارت داخلہ نے ’ہیومن رائٹس لسٹ‘ اور عارضی استقبالیہ پروگرام میں شامل افغان شہریوں کو دی گئی یقین دہانیاں واپس لے لیں تھیں۔
حکومت کا اس سلسلے میں مؤقف تھا کہ اب انہیں قبول کرنے میں جرمنی کا سیاسی مفاد باقی نہیں رہا۔
حکومت کے فیصلے پر عدالتی سوال
افغان خاتون نے اپنے اور بچوں کے ویزوں کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا، تاہم برلن-برانڈنبرگ کی اعلیٰ انتظامی عدالت سے انہیں کامیابی نہ مل سکی۔
بعد ازاں یہ معاملہ بالآخر جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت پہنچا، جہاں سے آنے والے فیصلے نے صورتحال بدل دی۔
جرمن اعلیٰ ترین عدالت کا افغان مہاجرین کے حق میں فیصلہ ⚖️
جرمن وفاقی آئینی عدالت نے حکومت کو افغان مہاجرین کے کیسز کا انفرادی جائزہ لینے کا حکم دیتے ہوئے پاکستان میں ان کے تحفظ کی ذمہ داری برقرار رکھی ہے۔
حکومت عمومی بنیادوں پر پروگرام منسوخ نہیں کر سکتی؛ ہر متاثرہ شخص کا الگ جائزہ لینا لازمی قرار۔
پاکستان میں مقیم تقریباً 400 افغان شہری اور 31 آئینی شکایات اس فیصلے سے راست متاثر ہوں گی۔
ویزے کے اجراء تک افغان خاندانوں کو مالی معاونت دینا اور ڈی پورٹیشن سے بچانا جرمنی کی ذمہ داری ہے۔
طالبان کے کنٹرول کے بعد 2021 میں دیا گیا تحفظ کا وعدہ دسمبر 2025 میں حکومت نے واپس لیا، جسے عدالت نے غیر آئینی طریقہ کار قرار دے کر منسوخ کر دیا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
آئینی عدالت نے قرار دیا کہ افغان شہریوں کے استقبالیہ پروگرام کو عمومی انداز میں معطل کرنا کافی نہیں۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ ہر متاثرہ شخص کے حالات کا الگ جائزہ لیا جائے۔
عدالت کے مطابق سابقہ فیصلے میں اس آئینی اصول کا درست اطلاق نہیں کیا گیا جو ریاست کو من مانے اقدامات سے روکتا ہے۔ اسی بنیاد پر سابق عدالتی فیصلہ ختم کرکے مقدمہ دوبارہ اعلیٰ انتظامی عدالت کو بھیج دیا گیا ہے۔
پاکستان میں تحفظ بھی جرمنی کی ذمہ داری؟
اس فیصلے کا پاکستانی تناظر میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ عدالت نے صرف جرمنی میں داخلے کے سوال تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ پاکستان میں موجود درخواست گزاروں کے تحفظ اور معاونت پر بھی بات کی ہے۔
عدالت کے مطابق جرمنی کو خاتون اور ان کے بچوں کی پاکستان میں معاونت اس وقت تک جاری رکھنا ہوگی جب تک انہیں ویزے نہیں مل جاتے یا جرمن وزارت داخلہ استقبالیہ پروگرام ختم کرنے کے بارے میں آئینی تقاضوں کے مطابق کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ جرمنی کو پاکستانی حکام کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کا بھی کہا گیا ہے تاکہ خاتون اور ان کے بچوں کو گرفتار کرکے افغانستان واپس نہ بھیجا جائے۔
اس طرح یہ مقدمہ اب صرف ویزا حاصل کرنے کی قانونی لڑائی نہیں رہا بلکہ اس سوال سے بھی جڑ گیا ہے کہ کسی حکومت کی جانب سے تحفظ کا باقاعدہ وعدہ کیے جانے کے بعد اس پر انحصار کرنے والے افراد کے حقوق کہاں تک برقرار رہتے ہیں۔
معاملہ صرف ایک خاندان کا نہیں
اس فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ پاکستان میں موجود کئی دوسرے افغان خاندان بھی تقریباً اسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق موجودہ مقدمہ 31 آئینی شکایات میں سے ایک ہے، جبکہ فیصلے کے اثرات تقریباً 400 دیگر افغان شہریوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
⚖️ جرمن عدالت کا فیصلہ افغان مہاجرین کے لیے اہم کیوں؟
ان میں خاندانوں کے ساتھ ایسی خواتین بھی شامل ہیں جو اپنے بچوں کے ساتھ تنہا پاکستان میں رہ رہی ہیں۔
یہ افراد جرمن ادارہ برائے بین الاقوامی تعاون کے زیر انتظام رہائش گاہوں میں مقیم ہیں اور طویل عرصے سے جرمنی جانے کے منتظر ہیں۔
ان افراد کے لیے سب سے بڑا خدشہ افغانستان واپسی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بعض افراد کو طالبان کے دور میں گرفتاری، تشدد یا جان کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ایک فیصلہ، کئی سوال
جرمن آئینی عدالت نے ابھی یہ حکم نہیں دیا کہ پاکستان میں موجود ہر افغان شہری کو فوری طور پر ویزا جاری کردیا جائے۔ اس لیے اسے تمام متاثرہ افراد کے لیے جرمنی جانے کا کھلا راستہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
تاہم عدالت نے ایک اہم قانونی حد ضرور مقرر کردی ہے کہ حکومت صرف سیاسی ترجیحات بدلنے پر پہلے کیے گئے وعدوں کو ہر معاملے کا انفرادی جائزہ لیے بغیر ختم نہیں کرسکتی۔
اب نگاہیں اعلیٰ انتظامی عدالت اور جرمن حکومت کے اگلے قدم پر ہوں گی۔
وہاں ہونے والا فیصلہ صرف ایک افغان ماں اور اس کے بچوں کا مستقبل طے نہیں کرے گا بلکہ پاکستان میں طویل انتظار سے گزرنے والے سیکڑوں افغان شہریوں کے لیے بھی یہ طے کرسکتا ہے کہ 2021 میں کیا گیا جرمنی کا وعدہ اب بھی کوئی قانونی وزن رکھتا ہے یا نہیں۔