ترکی میں تقریباً آٹھ سال سے مفرور توغرول باشار کو استنبول پولیس نے گرفتار کرلیا۔
وہ مبینہ طور پر عورت کا بھیس اختیار کرتا اور اپنی بہن کی شناخت استعمال کرتا تھا، تاہم فنگر پرنٹس اور تفتیشی شواہد نے اس کی اصل شناخت ظاہر کردی۔
ترکی کے شہر استنبول میں پولیس نے ایک ایسے مفرور شخص کو گرفتار کر لیا ہے جو تقریباً 8 سال تک قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچتا رہا۔
اس کہانی کو غیر معمولی بنانے والی بات صرف طویل عرصے تک فرار رہنا نہیں، بلکہ وہ طریقہ ہے جو ملزم نے اپنی اصل شناخت چھپانے کے لیے اختیار کیا۔
ترک میڈیا کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت توغرول باشار کے نام سے ہوئی ہے، جو 28 فروری 2018 سے پولیس کو مطلوب تھا۔
اس کے خلاف پہلے سے عدالتی فیصلہ موجود تھا، لیکن وہ گرفتاری اور سزا پر عمل درآمد سے بچتا رہا۔
مزید پڑھیں
شکل بدلی، عورت کا بھیس اختیار کیا
پولیس کی تفتیش میں سامنے آیا کہ باشار نے اپنے ظاہری حلیے میں اس قدر تبدیلی کر لی تھی کہ پرانی تصاویر کی بنیاد پر اسے پہچاننا مشکل ہوگیا تھا۔
صرف یہی نہیں، اس نے مبینہ طور پر عورت کا روپ اختیار کر کے شہر میں نقل و حرکت شروع کر دی۔
پولیس کے مطابق وہ ایسا اس لیے کرتا تھا تاکہ عام نگرانی یا شناخت کے دوران اس پر شبہ نہ ہو۔
معاملہ اس وقت مزید حیران کن ہوگیا جب تفتیش کاروں کو معلوم ہوا کہ وہ اپنی بہن کا شناختی کارڈ بھی استعمال کرتا رہا تھا۔
◆ OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات ⌄
- ✓ترک پولیس نے استنبول میں ایسے مفرور کو گرفتار کیا جو تقریباً 8 سال سے مطلوب تھا۔
- ✓گرفتار شخص کی شناخت توغرول باشار کے نام سے ہوئی۔
- ✓پولیس کے مطابق اس نے اپنی ظاہری شکل بدل کر عورت کا بھیس اختیار کر رکھا تھا۔
- ✓اس پر اپنی بہن کی شناخت استعمال کرنے کا بھی الزام ہے۔
- ✓گرفتاری استنبول کے کادیکوئی علاقے میں ہوئی۔
- ✓فنگر پرنٹس سمیت بائیومیٹرک جانچ نے اصل شناخت کی تصدیق میں اہم کردار ادا کیا۔
ترک خبر رساں ادارے DHA کے مطابق گرفتاری کے وقت بھی اس کے پاس بہن کی شناخت موجود تھی۔
یوں ایک شخص، جسے پولیس برسوں سے تلاش کر رہی تھی، اپنی اصل شناخت کے بجائے ایک خاتون کی شناخت استعمال کرتے ہوئے معمول کی زندگی گزارنے کی کوشش کرتا رہا۔
پولیس نے حکمت عملی بدل دی
کسی مفرور کو تلاش کرنے میں عموماً اس کی تصویر، پتے، رابطوں اور معروف مقامات سے مدد لی جاتی ہے، لیکن باشار کے معاملے میں ظاہری شکل بدلنے کے باعث روایتی طریقوں کی افادیت محدود ہوگئی۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس ⌄
عربی میڈیا میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق بعد میں تفتیش کا رخ اس کی روزمرہ سرگرمیوں اور مالی معاملات کی طرف کیا گیا۔
مبینہ طور پر اس کی بہن سے منسلک کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ایسی خریداریوں کا سراغ ملا جو اس وقت ہوئی تھیں جب بہن ملک سے باہر تھی۔
اس صورتحال نے تفتیش کاروں کی توجہ اپنی جانب کھینچی اور مشتبہ سرگرمیوں کی مزید نگرانی شروع ہوئی۔
سراغ کادیکوئی تک پہنچ گیا
تحقیقات کے دوران پولیس کو اطلاع ملی کہ مطلوب شخص استنبول کے معروف علاقے کادیکوئی میں موجود ہے۔
استنبول پولیس کے شعبہ مطلوب افراد نے اس کے ممکنہ ٹھکانے اور نقل و حرکت کی نگرانی شروع کی۔
بالآخر اہلکاروں نے اسے حراست میں لے لیا۔
◎ OVERSEAS POST | DISGUISEوہ 8 سال کیسے چھپا رہا؟ ⌄
حلیہ بدلنا: برسوں پرانی تصاویر سے مماثلت کم کرنے کے لیے ظاہری شکل میں نمایاں تبدیلیاں کی گئیں۔
عورت کا بھیس: پولیس کے مطابق وہ عورت کی شکل اختیار کرکے اپنی نقل و حرکت کو کم مشکوک بنانے کی کوشش کرتا رہا۔
دوسری شناخت: اس پر اپنی بہن کی شناختی دستاویز استعمال کرنے کا الزام بھی سامنے آیا۔
طویل فرار: یہی امتزاج اسے طویل عرصے تک پولیس کی براہ راست شناخت سے بچاتا رہا۔
یہاں ایک اور مسئلہ پولیس کے سامنے تھا: زیر حراست شخص کا موجودہ حلیہ برسوں پرانی تصویر سے خاصا مختلف تھا۔
شائع شدہ تفصیلات کے مطابق فنگر پرنٹس سمیت شناخت کی جانچ کے بعد اس کی اصل شناخت کی تصدیق ہوئی اور واضح ہوگیا کہ زیر حراست شخص وہی توغرول باشار ہے جسے حکام 2018 سے تلاش کر رہے تھے۔
بہن کی شناخت استعمال کرنے پر الگ کارروائی
گرفتاری کے بعد معاملہ صرف پرانے عدالتی مقدمے تک محدود نہیں رہا۔
DHA کے مطابق پولیس نے باشار کے خلاف کسی دوسرے شخص کی شناختی معلومات استعمال کرنے کے الزام میں بھی قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔
⌕ OVERSEAS POST | INVESTIGATIONپولیس آخر اس تک کیسے پہنچی؟ ⌄
- 1استنبول پولیس نے مطلوب شخص کے ممکنہ رابطوں اور نقل و حرکت پر دوبارہ توجہ مرکوز کی۔
- 2تفتیش کا دائرہ اس کے ممکنہ ٹھکانے اور روزمرہ سرگرمیوں تک بڑھایا گیا۔
- 3پولیس کو اس کے کادیکوئی میں موجود ہونے کی اطلاع ملی۔
- 4کارروائی کے بعد اسے حراست میں لیا گیا، لیکن بدلے ہوئے حلیے کے باعث شناخت کی اضافی تصدیق کی ضرورت پڑی۔
- 5بائیومیٹرک جانچ نے مطلوب شخص کی شناخت کی تصدیق میں مدد دی۔
اسے مزید کارروائی کے لیے کادیکوئی کے اسکَیلے پولیس مرکز منتقل کیا گیا۔
اس طرح جس شناخت کو وہ برسوں تک گرفتاری سے بچنے کے لیے استعمال کرتا رہا، اب وہی اس کے خلاف ایک نئے قانونی معاملے کی بنیاد بن گئی۔
8 سالہ فرار کا اختتام
توغرول باشار کا معاملہ اس اعتبار سے غیر معمولی ہے کہ اس نے محض مقام تبدیل کرکے خود کو چھپانے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اپنی پوری ظاہری شناخت تبدیل کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔
FP OVERSEAS POST | BIOMETRICSفنگر پرنٹس نے کیا ثابت کیا؟ ⌄
- ✓بدلا ہوا حلیہ پرانی تصاویر سے فوری شناخت مشکل بنا سکتا تھا۔
- ✓فنگر پرنٹس ظاہری شکل سے الگ ایک مستقل بائیومیٹرک شناخت فراہم کرتے ہیں۔
- ✓پولیس نے شناختی جانچ سے مشتبہ شخص کی اصل شناخت کی تصدیق کی۔
- ✓یہ مرحلہ برسوں پرانے مطلوب شخص اور موجودہ زیرِ حراست فرد کے درمیان ربط قائم کرنے میں اہم بنا۔
عورت کا روپ، بہن کا شناختی کارڈ اور تبدیل شدہ حلیہ ایک عرصے تک اسے پولیس کی نظروں سے دور رکھنے میں مددگار ثابت ہوئے، لیکن تفتیشی طریقوں میں تبدیلی نے بالآخر اس کے گرد دائرہ تنگ کردیا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں صرف ظاہری شکل یا کسی دوسرے شخص کی دستاویز استعمال کرکے طویل مدت تک اپنی شناخت چھپانا آسان نہیں رہا۔
مالی سرگرمیاں، شناختی ریکارڈ، نگرانی اور بائیومیٹرک تصدیق مختلف کڑیوں کو جوڑ کر برسوں پرانے مطلوب شخص تک پہنچا سکتی ہیں۔
باشار کے لیے یہ کھیل تقریباً آٹھ سال جاری رہا، لیکن استنبول کے کادیکوئی علاقے میں ہونے والی گرفتاری کے ساتھ اس طویل فرار کا اختتام ہوگیا۔