📉
عطارد آخر کتنی تیزی سے سکڑ رہا ہے؟
▼
انتہائی سست مگر مسلسل عمل
یہ سکڑاؤ انسانی زندگی میں نظر نہیں آتا؛ سیارہ ہر ایک لاکھ سال میں چند انچ سکڑتا ہے۔ اربوں سال پر محیط اس دھیمی رفتار نے مجموعی طور پر سیارے کا رقبہ نمایاں حد تک کم کر دیا ہے۔
اندازوں سے 10 تا 30 فیصد تیز
جیوفزیکل ریسرچ لیٹرز کی نئی تحقیق نے واضح کیا ہے کہ سابقہ مشاہدات نے سکڑاؤ کی اصل حد کا تخمینہ کم لگایا تھا، کیونکہ شہابیوں کے ملبے تلے دبی دراڑیں سابقہ حساب کتاب میں شامل نہیں تھیں۔
85 فیصد حجم پر مشتمل دھاتی مرکز
عطارد کا غیر معمولی بڑا لوہے کا مرکز ٹھنڈا ہو کر ٹھوس بن رہا ہے۔ کسی بھی سیارے کا مائع کور جب ٹھوس شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے مالیکیولز کا درمیانی فاصلہ کم ہو جاتا ہے جس سے پورا سیارہ سمٹنے لگتا ہے۔
کیا یہ عمل اب بھی جاری ہے؟
خلائی شواہد بتاتے ہیں کہ عطارد کے اندر ابھی تھوڑی بہت حرارت باقی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ پتھریلا سیارہ آج بھی خاموشی سے سکڑنے کے آخری مراحل طے کر رہا ہے۔
انگور دھوپ میں پانی کھو کر سکڑتا اور جھریوں بھری کشمش میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
نظامِ شمسی کے سب سے چھوٹے سیارے عطارد کے ساتھ بھی اربوں برس سے کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے، مگر یہاں اصل وجہ دھوپ نہیں بلکہ سیارے کے اندرونی حصے کا ٹھنڈا ہونا ہے۔
معروف سائنسی جریدے جیوفزیکل ریسرچ لیٹرز میں شائع نئی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ عطارد کے سکڑاؤ کو اب تک 10 سے 30 فیصد کم سمجھا گیا۔
انگور کے کشمش بننے کی طرح عطارد اندرونی حرارت کے زوال سے سکڑ رہا ہے، جس کی تازہ سائنسی پیمائش ماضی کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ نکلی۔
تازہ تحقیق کے مطابق سیارے کے ریڈیس میں 11.6 کلومیٹر کمی ہوئی ہے، جو کل حجم کے اعتبار سے ایک بہت بڑا سکڑاؤ ہے۔
سابقہ سائنسی مشنز کی پیمائشیں ناقص تھیں؛ نئے کمپیوٹر ماڈلز کے مطابق سکڑاؤ کو ماضی میں 10 سے 30 فیصد کم ناپا گیا تھا۔
عطارد کا لوہے سے بنا مرکزی کور اربوں سال سے حرارت کھو رہا ہے، جس سے اس کی بیرونی سخت پرت سمٹنے پر مجبور ہے۔
شہابیوں کے ٹکراؤ سے نکلنے والے ملبے نے پرانی چٹانی شکنوں اور دراڑوں کو ڈھانپ دیا تھا، جس کی وجہ سے سطح کا حقیقی بگاڑ طویل عرصے تک سائنس دانوں سے چھپا رہا۔
یورپ اور جاپان کا مشترکہ مشن نومبر 2026 میں عطارد کے مدار میں داخل ہوگا، جس کا لیزر آلٹی میٹر 2027 میں سطح کی بلندیوں کا حتمی ڈیٹا فراہم کرے گا۔
نئے تجزیے کے مطابق اس کا ریڈیس (دائرہ) تقریباً 11.6 کلومیٹر کم ہو چکا ہو سکتا ہے، یعنی قطر میں مجموعی کمی قریب 23 کلومیٹر بنتی ہے۔ تقریباً 4,880 کلومیٹر قطر والے سیارے کے لیے یہ قابلِ ذکر تبدیلی ہے۔
سیاروی تناظر
23 کلومیٹر کی کمی کیوں اہم ہے؟
+
4,880 کلومیٹر کے سیارے کے لیے 0.5 فیصد کی کمی
اہم ترین تناسبعطارد کا کل قطر تقریباً 4,880 کلومیٹر ہے، جو چاند سے تھوڑا ہی بڑا ہے۔ ٹھوس چٹانوں سے بنے سیارے کے بیرونی فریم میں 23 کلومیٹر کا سکڑاؤ کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ اس نے سیارے کی پوری بیرونی پرت کو توڑ مروڑ کر رکھ دیا ہے۔
تھرمل ماڈلز کی بنیادی تصحیح
سائنس دان ماضی میں سمجھتے تھے کہ عطارد صرف 2 سے 8 کلومیٹر تک سکڑا ہوگا۔ 23 کلومیٹر کا نیا عدد ظاہر کرتا ہے کہ تخلیق کے وقت عطارد ہمارے اندازے سے کہیں زیادہ گرم اور پگھلا ہوا تھا۔
سیاروی کیمسٹری کا نیا سراغ
اس بڑے سکڑاؤ سے پتا چلتا ہے کہ لوہے کے مرکز میں سلفر یا سلیکون جیسے ہلکے عناصر کس تناسب سے موجود رہے ہوں گے، جو کور کے ٹھنڈا ہونے کی رفتار کو کنٹرول کرتے ہیں۔
جھریاں جو اصل کہانی سناتی ہیں
عطارد کی سطح پر لمبی چٹانی شکنیں، ابھار اور کھڑی ڈھلوانیں موجود ہیں۔ یہ اس وقت بنتی ہیں جب اندرونی حصہ ٹھنڈا اور سکڑتا ہے اور اوپر کی سخت پرت کم جگہ میں سمٹنے پر مجبور ہوتی ہے۔
محقق گاکو نیشی یاما اور ان کے ساتھیوں نے دریافت کیا کہ شہابیوں کے ٹکراؤ سے نکلنے والا ملبہ پرانی شکنوں اور دراڑوں کو ڈھانپ سکتا ہے۔
اسی لیے زیادہ ناہموار علاقوں میں سکڑاؤ کے آثار کم دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ وہ سطح کے نیچے چھپے ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ماضی کے اندازوں کو کم ظاہر کرتی رہی۔
🔍
عطارد کی سطح پر یہ ’جھریاں‘ کیا بتاتی ہیں؟
◀
چٹانوں کا ایک دوسرے پر چڑھنا
سطح پر نظر آنے والی یہ شکنیں دراصل بلند پہاڑی ڈھلوانیں ہیں، جہاں اندرونی حصہ سکڑنے سے بیرونی پرت پر اتنا دباؤ آیا کہ چٹانیں ٹوٹ کر اوپر چڑھ گئیں۔
ملبے کے نیچے چھپے پرانے آثار
جاپانی محقق گاکو نیشی یاما کی ٹیم کے مطابق خلائی پتھروں کے ٹکراؤ سے نکلنے والے ملبے نے پرانی دراڑوں کو مٹا دیا تھا، جس کی وجہ سے ہم سطح کے نیچے چھپے سکڑاؤ کو نہیں دیکھ پائے۔
ایک ہی سخت خول کا قید خانہ
زمین پر متعدد متحرک پلیٹیں ہیں جو زلزلوں اور آتش فشاں سے دباؤ خارج کرتی ہیں، مگر عطارد کا ایک ہی خول ہے، چنانچہ سارا تناؤ صرف جھریاں بن کر سطح پر نکلتا ہے۔
کھڑی چٹانوں کی تیز دھار
کئی اسکارپس اب بھی کافی نوکیلے اور تازہ دکھائی دیتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ یہ دراڑیں اور زلزلے نظامِ شمسی کے ابتدائی دور کے بعد بھی بنتے رہے ہیں۔
عطارد کے اندر کیا چل رہا ہے؟
عطارد کا لوہے سے بھرپور مرکزی حصہ اس کے حجم کے مقابلے میں بہت بڑا ہے۔
تقریباً 4.5 ارب سال سے اس کے اندر کی حرارت مسلسل کم ہو رہی ہے اور جیسے جیسے باطن ٹھنڈا ہوتا ہے، پورا سیارہ آہستہ آہستہ سمٹتا ہے۔
نئی تحقیق اس کا ابتدائی درجۂ حرارت، دھاتی ساخت اور اندرونی ارتقا سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔
🛰️
بیپی کولومبو کیا نیا راز کھول سکتا ہے؟
خلائی مشن
لیزر آلٹی میٹر سے 3D نقشہ
بیلا (BELA) لیزر آلٹی میٹر عطارد کی سطح کی اونچ نیچ ملی میٹر کی درستگی کے ساتھ ناپے گا، جس سے ملبے میں چھپی ڈھلوانوں کی اصل بلندی سامنے آ جائے گی۔
21 نومبر 2026 کا اہم پڑاؤ
کئی برسوں کے پیچیدہ مداروی راستے اور فلائی بائیز کے بعد مشن اسی سال نومبر میں عطارد کے گرد مدار میں داخل ہوگا اور اپنے دو پروبز کو الگ کرے گا۔
کور کی ٹھوس پرت کی جانچ
اپریل 2027 سے باقاعدہ سائنسی تحقیق شروع ہوگی جس سے یہ پتا چلے گا کہ عطارد کا مرکز کتنا مائع ہے، کتنا جم چکا ہے اور کیا سکڑاؤ کا عمل اب بھی جاری ہے۔
اب فیصلہ بیپی کولومبو کرے گا
اب تک ناسا کے میسنجر مشن نے عطارد کے بارے میں سب سے اہم تفصیلی ڈیٹا فراہم کیا ہے۔
مگر اس کی ریزولوشن محدود تھی۔ اب یورپی خلائی ادارے ESA اور جاپانی ادارے JAXA کا مشترکہ’بیپی کولومبو‘ مشن اس معمے کو زیادہ باریکی سے جانچنے جا رہا ہے۔
🪐
اگر عطارد سکڑ رہا ہے تو دوسرے سیاروں کا کیا؟
◀
متحرک پلیٹیں اور حرارت کا توازن
زمین کا حجم بہت بڑا ہے اور تابکاری مادوں کے گلنے سے اندرونی حرارت تاحال برقرار ہے۔ یہاں پلیٹ ٹیکٹونکس کا نظام ہے، جس میں ایک پلیٹ دوسری کے نیچے جا کر پگھل جاتی ہے اور نئی سطح بنتی رہتی ہے، اس لیے زمین اس طرح نہیں سکڑتی۔
جزوی سکڑاؤ اور منجمد تاریخ
چاند پر بھی سکڑاؤ کی معمولی شکنیں دیکھی گئی ہیں جو زلزلوں کا سبب بنتی ہیں۔ مریخ کا خول بہت موٹا ہے جہاں ماضی میں بلند آتش فشاں پھوٹے، مگر وہاں بھی عطارد جیسا ہمہ گیر اور شدید سکڑاؤ دیکھنے کو نہیں ملتا۔
ESA کے مطابق مشن 21 نومبر 2026 کو عطارد کے مدار میں داخل ہوگا۔ اس کا BELA لیزر آلٹی میٹر سطح کی اونچ نیچ کہیں زیادہ درستگی سے ناپے گا، جبکہ باقاعدہ سائنسی مرحلہ اپریل 2027 میں شروع ہوگا۔
اگر نئی پیمائشیں موجودہ نتیجے کی تصدیق کرتی ہیں تو عطارد ایک ایسی قدرتی تجربہ گاہ بن سکتا ہے جو بتائے گی کہ چھوٹے پتھریلے سیارے اربوں برس میں ٹھنڈے ہو کر کس طرح اپنی شکل بدلتے ہیں۔