🪐
فیکٹ باکس: ہوگربیٹس کا نیا انتباہ آخر ہے کیا؟
+
فیکٹ باکس: ہوگربیٹس کا نیا انتباہ آخر ہے کیا؟
ڈچ محقق فرینک ہوگربیٹس نے نظامِ شمسی میں سیاروں کے نایاب ملاپ کی بنیاد پر زمین پر غیر معمولی ارضیاتی ہلچل کا دعویٰ کرتے ہوئے آنے والے دنوں کو ’فیصلہ کن‘ قرار دیا ہے۔
سیاروی جیومیٹری کا نظریہ
ہوگربیٹس کا تحقیقی ادارہ SSGEOS سیاروں اور چاند کے باہمی زاویوں کی بنیاد پر زمین کی ٹیکٹونک پلیٹس پر مقناطیسی یا کششِ ثقل کے ممکنہ دباؤ کا مطالعہ کرتا ہے۔
زہرہ، عطارد اور مشتری کا قِران
تازہ پیش گوئی ان تینوں سیاروں کے ایک خاص زاویے میں آنے اور عطارد کے زمین و سورج کے ساتھ سیدھ میں آنے کے فلکیاتی منظرنامے پر مبنی ہے۔
شدید ارتعاش کا انتباہ
دعویٰ کیا گیا ہے کہ مکمل چاند سے قبل پیدا ہونے والی یہ گریویٹیشنل جیومیٹری زمین کے مخصوص حساس فالٹ لائنز پر بڑا زلزلہ پیدا کر سکتی ہے۔
سائنسی اتفاقِ رائے کا فقدان
بین الاقوامی جیولوجیکل ادارے (USGS) کے مطابق سیاروں کے مدار اور زیرِ زمین پلیٹس کے ٹوٹنے کے درمیان اب تک کوئی مصدقہ سائنسی رشتہ ثابت نہیں ہو سکا۔
خلاصہ: ہوگربیٹس کا انتباہ فلکیاتی ترتیب پر قائم ایک مفروضہ ہے جسے عوامی سطح پر تو پذیرائی حاصل ہے مگر مین اسٹریم سائنس اسے مستند پیش گوئی تسلیم نہیں کرتی۔
دنیا کے مختلف حصوں میں حالیہ ہفتوں میں آنے والے زلزلوں کے بعد ایک بار پھر وہی نام سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے جس کی پیش گوئیاں خوف اور تجسس دونوں پیدا کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں
ڈچ محقق فرینک ہوگربیٹس نے اب خبردار کیا ہے کہ دنیا کے لیے کچھ ’فیصلہ کن دن‘ آنے والے ہیں۔
آسمان میں کیا ہورہا ہے؟
ہوگربیٹس کا تازہ انتباہ زمین کے اندر کسی نئی پیمائش پر نہیں بلکہ آسمان میں سیاروں کی پوزیشن پر مبنی ہے۔
ہورہی ہیں، جن میں زہرہ، عطارد اور مشتری کا قِران نمایاں طور پر سمجھا جا رہا ہے۔
ڈچ محقق نے سیاروں کے قران کو بنیاد بنا کر زلزلوں کے خطرے کی وارننگ دی ہے، تاہم عالمی سائنسی اداروں کے مطابق زلزلے کے وقت اور مقام کی پیشگوئی ناممکن ہے۔
فرینک ہوگربیٹس کے مطابق زہرہ، عطارد، مشتری اور چاند کی سورج اور زمین کے ساتھ ایک سیدھ زمین پر غیر معمولی ارتعاش پیدا کر سکتی ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق فی الحال کسی بڑے زلزلے کے درست وقت، مقام اور شدت کی سائنسی پیشگوئی کا کوئی مستند طریقہ موجود نہیں۔
تحقیقی جرائد کے مطابق نظامِ شمسی میں سیاروں کے ایسے قران کثرت سے رونما ہوتے ہیں اور ان کا زمینی فالٹ لائنز کے ساتھ کوئی ثابت شدہ تعلق نہیں ملا۔
2023 کے ترکی اور شام کے زلزلے کے بعد انتباہات کو وائرل پذیرائی ملی، مگر سائنس ان دعوؤں کو محض ایک اتفاقیہ قیاس آرائی قرار دیتی ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
ہوگر بیٹس کے بقول عطارد بھی مکمل چاند سے کچھ پہلے سورج اور زمین کے ساتھ ایک سیدھ میں آئے گا۔
اِسی بنیاد پر انہوں نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ چند روز میں نظامِ شمسی میں ’بہت کچھ‘ ہونے والا ہے اور لوگوں کو صورت حال پر نظر رکھنی چاہیے۔
آسمان میں کیا ہونے والا ہے؟
▼
آسمان میں کیا ہونے والا ہے؟
🌌 1۔ زہرہ، عطارد اور مشتری کا کلسٹر
فلکیاتی نقشے کے مطابق ہمارے نظامِ شمسی کے تین اہم سیارے مدار کے اعتبار سے قریبی زاویوں میں آ رہے ہیں جسے فلکیات میں قِران (Conjunction) کہا جاتا ہے۔
☀️ 2۔ زمین، سورج اور عطارد کی سیدھ
عطارد کا زمین اور سورج کے بالکل سامنے ایک لکیر میں آنا وہ لمحہ ہے جسے ہوگربیٹس اپنے ماڈل میں انتہائی اہم گردانتے ہیں۔
🌕 3۔ مکمل چاند (Full Moon) کا وقت
سیاروں کے اس ملاپ کے بالکل بعد چاند کا مکمل ہونا کششِ ثقل کے مدوجزر کو عروج پر لاتا ہے، جس سے ان کے دعوے کے مطابق زمین کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔
فلکیاتی حقیقت: نظامِ شمسی میں ایسے سیاروی ملاپ اور گرہن معمول کا قدرتی عمل ہیں جو ہر سال متواتر پیش آتے ہیں اور ان کا زمین کی زلزلے کی پٹیوں پر کوئی ثابت شدہ اثر نہیں ہوتا۔
ایک پیش گوئی جس نے دنیا بھر میں نام بنایا
ہوگربیٹس SSGEOS سے وابستہ ہیں، جو اجرامِ فلکی کی پوزیشن اور زمین پر زلزلہ جاتی سرگرمی کے ممکنہ تعلق کا مطالعہ کرتا ہے۔
اُن کا نام فروری 2023 میں ترکی اور شام کے تباہ کن زلزلوں کے بعد عالمی سطح پر کافی مشہور ہوا، جب ان کی ایک پہلے کی پوسٹ کو زلزلے کی پیش گوئی قرار دیا گیا۔
🎯
ہوگربیٹس کی پیش گوئیاں کتنی بار درست نکلیں؟
ٹریک ریکارڈ
ہوگربیٹس کی پیش گوئیاں کتنی بار درست نکلیں؟
🇹🇷 فروری 2023 کا ترکیہ زلزلہ (وائرل شہرت)
ہوگربیٹس نے ترکیہ اور شام کے تباہ کن زلزلے سے تین روز قبل خطے میں ممکنہ جھٹکے کا ذکر کیا تھا، جس نے انہیں راتوں رات عالمی سطح پر غیر معمولی شہرت بخشی۔
❌ درجنوں ناکام اور مبہم الرٹس
ترکیہ کے بعد ان کی جانب سے بحر الکاہل، کیلیفورنیا اور ایشیا کے لیے جاری کی گئی متعدد میگا وارننگز کے دوران کوئی بڑا زلزلہ رونما نہیں ہوا۔
📰 سائنسی جریدے 'Seismica' کا تجزیہ
2023 میں شائع ہونے والی سائنسی تحقیق نے واضح کیا کہ سیاروں کے قِران مسلسل ہوتے رہتے ہیں اور ان کا زلزلوں سے تعلق محض اتفاقی اور غیر سائنسی ہے۔
اُس پیش گوئی کے آثار دکھائی دینے کے بعد ان کی ہر نئی وارننگ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے لگی۔
ہوگربیٹس کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ مخصوص سیاروی اور قمری ترتیب زمین پر بڑے زلزلوں کی سرگرمی کے امکانات سے منسلک ہوسکتی ہے۔
مگر سائنس کیا کہتی ہے؟
کہانی اسی مقام پر ایک اہم موڑ لیتی ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) واضح طور پر کہتا ہے کہ سائنس دان فی الحال کسی بڑے زلزلے کے درست وقت، مقام اور شدت کی قابلِ اعتماد پیش گوئی نہیں کرسکتے۔
پاکستان کے لیے سوال: کیا کسی خطرے کا اشارہ ہے؟
▼
پاکستان کے لیے سوال: کیا کسی خطرے کا اشارہ ہے؟
فالٹ لائنز کا جغرافیہ
پاکستان انڈین اور یوریشین پلیٹس کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث قدرتی طور پر زلزلہ زون ہے۔
محکمہ موسمیات کا مؤقف
پی ایم ڈی کے مطابق پاکستان میں کسی مخصوص تاریخ یا وقت کے زلزلے کی کوئی سائنسی وارننگ نہیں۔
احتیاطی حکمتِ عملی
سوشل میڈیا افواہوں کے بجائے بلڈنگ کوڈز کی پابندی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی تیاری ہی اصل دفاع ہے۔
عوامی آگاہی: پاکستان میں زلزلے کا خطرہ زمینی ارضیاتی حرکت کا نتیجہ ہے، نہ کہ سیاروں کی ترتیب کا؛ اس لیے غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹس پر گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
ادارے کے مطابق سائنس مخصوص علاقوں میں مستقبل کے زلزلوں کے امکانات کا صرف اندازہ لگا سکتی ہے۔
خصوصاً سیاروں کی صف بندی سے زلزلے کی پیش گوئی کے دعوے پر 2023 میں سائنسی جریدے Seismica میں شائع ہونے والے تجزیے کا جواب دوٹوک تھا کہ ایسے قِران بہت کثرت سے ہوتے ہیں اور زیادہ تر کے بعد کوئی بڑا زلزلہ نہیں آتا۔
ہوگربیٹس کی وارننگ اتنی وائرل کیوں؟
اس کی بڑی وجہ 2023 کے ترکی زلزلے سے جڑی ان کی شہرت اور زلزلوں کی پیش گوئی کا وہ سوال ہے جس کا سائنس ابھی حتمی حل تلاش نہیں کرسکی۔
⏳
آئندہ چند دن کیوں اہم ہیں؟
◀
آئندہ چند دن کیوں اہم ہیں؟
🧪 دعوے کی سچائی کا کڑا امتحان
سیاروں کے قِران کی مقررہ تاریخوں کے گزرنے کے ساتھ یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا ہوگربیٹس کا ماڈل واقعی درست ثابت ہوتا ہے یا پچھلی ناکام وارننگز کی طرح ایک اور قیاس آرائی۔
🌐 سائنسی تحقیق کا مستقل مؤقف
عالمی زلزلہ پیما ادارے زیرِ زمین دباؤ اور فالٹ لائنز کے ڈیٹا کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ارضیاتی تبدیلیوں کی مستند سائنسی بنیادوں پر نگرانی کی جا سکے۔
حتمی تجزیہ: زلزلے غیر متوقع قدرتی آفات ہیں جن کا وقت مقرر کرنا موجودہ سائنس کے لیے بھی ناممکن ہے؛ فلکیاتی ترتیب کو دیکھ کر خوف کا شکار ہونے کے بجائے مستند سائنسی ذرائع پر انحصار کرنا ہی دانشمندی ہے۔
تاریخ میں جھانکا جائے تو زلزلوں سے پہلے مختلف اشاروں کو سمجھنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں، مگر ان کے نتائج مستقل اور قابلِ اعتماد ثابت نہیں ہوئے۔
اس لیے ہوگربیٹس کا تازہ انتباہ دلچسپ اور توجہ مبذول کرنے والا ضرور ہے، لیکن اسے کسی یقینی زلزلے کی وارننگ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
آنے والے دن اُن کے دعوے کی تصدیق کے لیے ایک اور امتحان ہوسکتے ہیں، مگر فی الحال سائنسی دنیا کا مؤقف واضح ہے کہ زلزلے کے درست وقت اور مقام کی قابلِ اعتماد پیش گوئی ابھی ممکن نہیں۔