فلکیات کے ایک بین الاقوامی تحقیقی وفد نے خلا میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے نظام شمسی سے باہر 7 سیاروں کے مقناطیسی میدانوں کی پہلی بار پیمائش کی ہے۔
مزید پڑھیں
یہ کامیابی ان عوامل کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگی جو سیاروں پر زندگی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔
مقناطیسی میدان اور بقائے حیات
مقناطیسی میدان کسی بھی سیارے کے لیے ایک حفاظتی ڈھال کا کام کرتے ہیں، جو اسے ستاروں سے خارج ہونے والی مہلک تابکاری اور توانائی سے بچاتے ہیں۔
مثلاً زمین کا مقناطیسی میدان کروڑوں برس سے ہمارے ماحول اور پانی کی حفاظت کر رہا ہے، جبکہ مریخ نے اپنا مقناطیسی میدان کھو کر فضا کا بڑا حصہ گنوا دیا ہے۔
تحقیق کا پس منظر
یہ نتائج ’نیچر ایسٹرونومی‘ جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔ یہ تحقیق اصل میں ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار جاننے کے لیے شروع کی گئی تھی، لیکن اس دوران ان سیاروں کے مقناطیسی میدانوں کا غیر متوقع سراغ مل گیا، جو خلائی تحقیق میں ایک بڑی کامیابی ہے۔
انتہائی گرم مشتری سیارے
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے 7 ’الٹرا ہاٹ جوپٹرز‘ (مشتری نما انتہائی گرم سیارے) کا مشاہدہ کیا ہے۔
یہ اپنے ستارے کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا ایک رخ ہمیشہ ستارے کے سامنے اور دوسرا ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ یہاں درجہ حرارت 2300 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔
ہواؤں کا غیر متوقع رویہ
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار 7200 سے 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوتی ہے۔
محققین نے دیکھا کہ درجہ حرارت بڑھنے کے باوجود ہوائیں توقع سے زیادہ سست ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ سائنسی اصول کے برعکس ہے کیونکہ زیادہ توانائی سے ہواؤں کا زور بڑھنا چاہیے تھا۔
مقناطیسی اثر کا انکشاف
تحقیق سے ثابت ہوا کہ مقناطیسی میدان ان ہواؤں کے لیے ’بریک‘ کا کام کرتے ہیں۔
یہ فضا میں موجود برقی ذرات کو متاثر کرتے ہوئے ہواؤں کی رفتار کو کم کر دیتے ہیں اور سیارے کے دونوں حصوں کے درمیان توانائی کے بہاؤ کو منظم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اگرچہ یہ ساتوں سیارے گیسز کے سبب زندگی کے قابل نہیں، لیکن یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں پتھریلے سیاروں کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
یہ تکنیک محققین کو اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے قریب لے آئی ہے کہ کیا کائنات میں ہم تنہا ہیں؟ یہ دریافت محض ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ خلائی تحقیق کا نیا باب ہے۔
مقناطیسی میدانوں کی پیمائش کرنے والی یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل کے ٹیلی اسکوپس کے ساتھ مل کر دیگر سیاروں پر زندگی کی تلاش کو مزید درست، سائنسی اور حقائق پر مبنی بنانے کی راہ ہموار کرے گی۔