براہ راست نشریات

سورج کے بغیر زندگی: سمندر کی گہری تاریکی میں آباد شہر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
لوسٹ سٹی سمندر کی تہہ میں ہائیڈرو تھرمل سفید چمنیاں اور چٹانیں
تقریباً 26 سال پہلے دریافت ہونے والا یہ ہائیڈرو تھرمل میدان اٹلانٹس میسیف پر واقع ہے

بحرِ اوقیانوس کی گہرائی میں ایک ایسا مقام موجود ہے، جہاں سورج کی ایک کرن بھی نہیں پہنچتی، مگر حیران کن طور پر وہاں زندگی پھر بھی قائم ہے۔

مزید پڑھیں

سفید میناروں اور چمنیوں سے بھرا یہ مقام کسی ڈوبے ہوئے قدیم شہر کا منظر پیش کرتا ہے، اسی لیے سائنس دان اسے ’لوسٹ سٹی‘ یعنی گمشدہ شہر کہتے ہیں۔

تقریباً 26 سال پہلے دریافت ہونے والا یہ ہائیڈرو تھرمل میدان اٹلانٹس میسیف پر واقع ہے۔

یہاں کیلشیم کاربونیٹ سے بنی سفید چمنیوں سے گرم اور انتہائی 

الکلائن پانی نکلتا ہے۔ بعض بڑی ساختیں درجنوں میٹر بلند ہیں اور یہ علاقہ عام آتش فشانی ’بلیک اسموکر‘ وینٹس سے خاصا مختلف ہے۔

🏛️ سمندر کے نیچے ’گمشدہ شہر‘ آخر ہے کیا؟
بحرِ اوقیانوس کا عجوبہ

بحرِ اوقیانوس کے اٹلانٹس میسیف پہاڑی سلسلے پر واقع ’لوسٹ سٹی‘ سفید چونے اور کاربونیٹ چٹانوں سے بنا ایک انوکھا ہائیڈرو تھرمل میدان ہے، جو کسی قدیم غرقاب شہر کی مانند دکھائی دیتا ہے۔

1۔ سفید مینار اور دیو ہیکل چمنیاں

اس خطے میں کیلشیم کاربونیٹ کی درجنوں میٹر بلند سفید چمنیاں ایستادہ ہیں، جو عام کالے دھوئیں والے آتش فشانی وینٹس سے بناوٹ اور رنگت میں بالکل مختلف ہیں۔

2۔ الکلائن اور گرم سیال کا اخراج

یہاں کی چمنیوں سے نکلنے والا پانی انتہائی الکلائن (زیادہ pH والا) اور نیم گرم ہوتا ہے، جو سمندری چٹانوں کے گہرے کیمیائی تعامل سے تیار ہو کر اوپر ابھرتا ہے۔

3۔ سورج کی روشنی سے مکمل محروم دنیا

ہزاروں میٹر گہرائی میں واقع ہونے کے باعث یہاں سورج کی روشنی کا گزر نہیں، مگر اس گھپ اندھیرے میں بھی جانداروں کا ایک خود کفیل اور متحرک حیاتیاتی نظام آباد ہے۔

4۔ 26 سال قبل کی تاریخی دریافت

سن 2000ء میں دریافت ہونے والا یہ مقام ارضیاتی سائنس اور حیاتیات کے لیے سنگِ میل ثابت ہوا، جس نے زمینی ارتقا اور ابتدائی حیات کے مطالعے کو نئی سمت دی۔

سورج نہیں تو زندگی کو توانائی کون دیتا ہے؟

یہی سوال برسوں سے سائنس دانوں کو حیران کرتا رہا ہے۔ یہاں موجود خُردبینی جاندار روشنی کے بجائے ہائیڈروجن، میتھین اور دوسرے کیمیائی مادوں سے حاصل ہونے والی توانائی پر زندہ رہ سکتے ہیں۔

لوگو

گمشدہ شہر: سمندر کی گہرائی میں بغیر سورج زندگی 🌊

بحرِ اوقیانوس کی تہہ میں تاریخی کھدائی سے زمین کے اندرونی قدرتی کیمیائی پاور پلانٹ کا انکشاف

سمندر کی تہہ میں 1268 میٹر گہری سائنسی کھدائی نے ثابت کیا کہ چٹانوں اور پانی کا کیمیائی ردعمل بغیر سورج کی روشنی کے بھی زندگی کے لیے توانائی فراہم کر سکتا ہے۔

🔬 ریکارڈ گہری کھدائی 🕳️

1268 میٹر

سائنس دانوں نے لوسٹ سٹی کے منبع تک پہنچنے کے لیے سمندری تہہ میں تاریخی سوراخ مکمل کیا۔

🔥 اندرونی درجہ حرارت 🌡️

300°C

پانی اور چٹانوں کے شدید کیمیائی تعامل کے دوران پیدا ہونے والی زیرِ زمین حرارت کا کم از کم تخمینہ۔

💧 خالص گہرا سیال 🧪

80% تناسب

گہرائی سے حاصل نمونوں میں قدرتی ردعمل سے گزرے ہائیڈرو تھرمل پانی کا غالب حصہ سامنے آیا۔

⏳ تاریخی دریافت 🏛️

26 سال

اس مسحور کن ہائیڈرو تھرمل فیلڈ کی دریافت کو بیت چکے ہیں جس کے راز اب سامنے آ رہے ہیں۔

📊 گہرائی اور کیمیائی سرگرمی کے کلیدی اشاریے
کھدائی کی گہرائی (میٹر)
1268 میٹر
گہرے پانی کا خالص تناسب
80% سیال حصہ
کیمیائی ردعمل کی حرارت
300°C درجہ حرارت

لوسٹ سٹی میں چٹان اور سمندری پانی کے درمیان ہونے والا عمل خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 

اس عمل کو سرپینٹینائزیشن کہا جاتا ہے، جس میں سمندری پانی زیرِ زمین مینٹل کی چٹانوں کے ساتھ ردعمل کرتا ہے۔ نتیجتاً حرارت اور ہائیڈروجن سمیت ایسے کیمیائی اجزا پیدا ہوتے ہیں جو تاریک ماحول میں زندگی کے لیے توانائی فراہم کر سکتے ہیں۔

⚡ سورج کے بغیر زندگی کو توانائی کہاں سے ملتی ہے؟ کیمیائی ایندھن
🌊

پہلا مرحلہ: سرپینٹینائزیشن کا قدرتی عمل

سمندری پانی تہہ میں موجود مینٹل کی چٹانوں (پیریڈوٹائٹ) کی دراڑوں میں داخل ہوتا ہے، جہاں کیمیائی ری ایکشن سے چٹانیں معدنیات میں بدلتی ہیں اور کثیر مقدار میں حرارت پیدا ہوتی ہے۔

⬇️
🧪

دوسرا مرحلہ: ہائیڈروجن اور میتھین گیس کا اخراج

اس عمل کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہائیڈروجن اور میتھین جیسی توانائی سے بھرپور گیسیں پیدا ہوتی ہیں، جو پانی کے ساتھ گھل کر چمنیوں کے ذریعے سمندر کی تہہ میں خارج ہوتی ہیں۔

⬇️
🦠

تیسرا مرحلہ: کیموتھیسس اور مائیکروبیل حیات

روشنی پر منحصر فوٹوسنتھیسس کے برعکس، یہاں خردبینی جراثیم کیموسنتھیسس (Chemosynthesis) کے ذریعے ان کیمیائی گیسوں کو غذا اور توانائی میں بدل کر حیات کو زندہ رکھتے ہیں۔

1268 میٹر گہری کھدائی نے راز کھولا

اب سائنس دان اس پُراسرار نظام کے منبع کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب پہنچ گئے ہیں۔

بین الاقوامی تحقیقی ٹیم نے لوسٹ سٹی سے تقریباً 800 میٹر شمال میں U1601C نامی سوراخ کیا، جو سمندر کی تہہ سے 1268 میٹر نیچے تک پہنچا۔

گہرائی سے ملنے والے قدرتی پانی نے ماہرین کو ایک اہم سراغ دیا ہے۔

یہاں کے سب سے گہرے نمونوں میں اس پانی کا حصہ 80 فیصد تک پہنچ گیا۔ اس میں میگنیشیم تقریباً ختم تھا، جبکہ کیلشیم، لیتھیئم، روبیڈیئم، سیزیئم اور اسٹرونشیئم کی مقدار بڑھی ہوئی تھی۔

🔥 300 ڈگری کی چٹانیں، زندگی کا راز کیسے بنا؟ 300°C+ حرارت

گیبرو اور پیریڈوٹائٹ چٹانوں کا تعامل

سمندری پانی زمین کی گہرائی میں موجود گیبرو اور پیریڈوٹائٹ چٹانوں کے ساتھ 300 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زائد درجہ حرارت پر کیمیائی ردِعمل سے گزرتا ہے۔

زمین کے اندر چھپا قدرتی پاور پلانٹ

گرم چٹانوں کی حرارت سمندری پانی کی معدنی ساخت یکسر بدل دیتی ہے، جس کے بعد یہ مائع نایاب عناصر کو سمیٹتا ہوا حیات بخش ایندھن بن کر واپس سمندر میں لوٹتا ہے۔

کیمیائی معجزہ: سخت تپش اور چٹانوں کے دباؤ نے سمندر کی تہہ کو ایک قدرتی کیمیائی ری ایکٹر بنا دیا ہے، جو بغیر کسی آتش فشاں کے مسلسل گرمی اور نامیاتی مالیکیولز خارج کرتا ہے۔

کیمیائی شواہد بتاتے ہیں کہ یہ پانی زیرِ زمین گیبرو اور پیریڈوٹائٹ جیسی چٹانوں کے ساتھ 300 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت پر ردعمل سے گزرا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی خصوصیات لوسٹ سٹی سے نکلنے والے ہائیڈرو تھرمل سیال کے متوقع گہرے منبع سے ملتی ہیں، جسے جان کو سائنس دانوں کو حیرانی ہوئی۔

زمین کے اندر چھپا قدرتی پاور پلانٹ؟

اس دریافت سے ایک دلچسپ تصویر بنتی ہے۔ سمندری پانی چٹانوں کی دراڑوں سے نیچے جاتا، گرم چٹانوں سے ردعمل کرتا اور اپنی کیمیائی ساخت بدل کر دوبارہ اوپر آتا ہے۔

🔬 1268 میٹر گہری کھدائی نے کون سا راز کھولا؟ U1601C بور ہول
1,268m

بین الاقوامی تحقیقی ٹیم نے سمندر کی تہہ میں 1268 میٹر گہرا سوراخ کر کے پہلی بار اس گہرے قدرتی منبع کا سراغ لگایا جو لوسٹ سٹی کو توانائی سپلائی کر رہا ہے۔

1۔ 80 فیصد خالص زمینی سیال

انتہائی گہرائی سے لیے گئے نمونوں میں 80 فیصد حصہ اس گہرے مائع کا تھا جو زیرِ زمین چٹانوں کے ملاپ سے تیار ہو کر اوپری وینٹس میں جا رہا تھا۔

2۔ میگنیشیم کا خاتمہ، معدنیات کا اضافہ

گہرے پانی میں عام سمندری میگنیشیم نہ ہونے کے برابر تھا جبکہ لیتھیئم، روبیڈیئم، سیزیئم اور اسٹرونشیئم جیسے نایاب عناصر کی مقدار غیر معمولی بڑھی ہوئی تھی۔

3۔ براہِ راست منبع کی تصدیق

اس کھدائی نے یہ حتمی ثبوت فراہم کیا کہ لوسٹ سٹی کے پانی کا اصل سرچشمہ سطح سمندر نہیں بلکہ زمین کی گہری پرت کے اندر چلنے والا تھرمل نظام ہے۔

اس طرح سے زمین کی پرت کے اندر گویا ایک قدرتی کیمیائی ’پاور پلانٹ‘ کام کر رہا ہے۔

محققین اب زیادہ خالص زیرِ زمین پانی حاصل کرکے بالخصوص ہائیڈروجن اور دیگر گیسوں کی درست مقدار جاننا چاہتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ تاریک سمندری ماحول میں جرثوموں کے لیے کتنی کیمیائی توانائی دستیاب ہے۔

زمین سے آگے بھی ایک بڑا سوال

اس تحقیق کی اہمیت صرف بحرِ اوقیانوس تک محدود نہیں ہے۔

🪐 کیا ’گمشدہ شہر‘ خلائی زندگی کا سراغ دے سکتا ہے؟ +

1۔ یوروپا اور اینسیلاڈس کا قدرتی ماڈل

مشتری کے چاند یوروپا اور زحل کے چاند اینسیلاڈس پر برف کے موٹے خول تلے چھپے سمندروں میں بھی ایسے ہی چٹانی ہائیڈرو تھرمل سسٹمز موجود ہو سکتے ہیں۔

2۔ بغیر سورج کے نظامِ حیات کا ثبوت

لوسٹ سٹی نے ثابت کیا ہے کہ کائنات میں زندگی کے لیے سورج کی روشنی لازمی نہیں؛ چٹانوں اور پانی کا کیمیائی ملاپ ہی حیات کے آغاز اور بقا کے لیے کافی ہے۔

3۔ خلائی مشنز کے لیے اہم رہنمائی

ناسا اور دیگر خلائی ایجنسیاں ان سمندری خردبینی جانداروں کا مطالعہ کر کے خلائی پروبس کے لیے بائیو سگنیچر (حیاتیاتی اشارے) تلاش کرنے کے طریقے ڈیزائن کر رہی ہیں۔

کائناتی سوال: اگر سمندر کی اتھاہ تاریکیوں میں چٹانوں کا کیمیائی ردِعمل زندگی کو جنم دے سکتا ہے، تو نظامِ شمسی اور دور دراز کہکشاؤں کے برفیلے سیاروں پر بھی حیات کے موجود ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

تحقیقی مقالے کے مطابق چٹان اور پانی کے ایسے تعاملات کو سمجھنا برف سے ڈھکے دوسرے جہانوں کی ممکنہ رہائش پذیری کے مطالعے کے لیے بھی ایک ماڈل فراہم کرتا ہے۔

یعنی سمندر کی تہہ میں چھپا ’گمشدہ شہر‘ ہمیں صرف زمین کی گہری دنیا نہیں دکھا رہا، بلکہ ایک بڑے سوال کی طرف بھی لے جا رہا ہے کہ اگر سورج کے بغیر یہاں زندگی کے لیے توانائی پیدا ہوسکتی ہے تو کائنات میں اور کہاں ایسا ممکن ہوگا؟

🌊 اصل ذرائع ORIGINAL SOURCES 🌋 بحرِ اوقیانوس کے ’گمشدہ شہر‘، گہری کھدائی اور زندگی کو توانائی فراہم کرنے والے نظام کے بنیادی سائنسی حوالہ جات 5 معتبر ذرائع
🔬 بنیادی 2026 سائنسی تحقیق
🧪 AGU / Wiley — گہرے پانی نے ’گمشدہ شہر‘ کا راز کھولا 2026 کی اصل تحقیقی study جس میں Atlantis Massif کے Hole U1601C سے حاصل پانی کا کیمیائی تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق سے اس گہرے آبی نظام کے شواہد ملے جو Lost City کے توانائی سے بھرپور سیال مادوں کا ممکنہ ذریعہ ہے۔ اصل تحقیقی مقالہ • 2026 تحقیق کھولیں ↗
🚢 وہ مہم جس نے سمندر کی تہہ میں کھدائی کی
🚢 IODP Expedition 399 — Atlantis Massif کی اصل ڈرلنگ مہم International Ocean Discovery Program کی Expedition 399 کا بنیادی سائنسی ریکارڈ۔ اسی مہم نے Atlantis Massif سے گہرے rock cores اور نمونے حاصل کیے تاکہ Lost City اور زندگی کے بنیادی کیمیائی عمل کو سمجھا جاسکے۔ اصل سائنسی مہم مہم کی رپورٹ کھولیں ↗ ⚗️ IODP — Lost City، ہائیڈروجن اور زندگی کا کیمیائی نظام Expedition 399 کی آفیشل معلومات میں Lost City کی carbonate chimneys، الکلائن سیال، ہائیڈروجن اور میتھین سمیت اس عمل کی وضاحت موجود ہے جس میں سمندری پانی mantle rocks کے ساتھ تعامل کرتا ہے۔ سرکاری Expedition ریکارڈ اصل ریکارڈ کھولیں ↗
🏙️ ’گمشدہ شہر‘ کی دریافت اور سائنسی پس منظر
🏙️ Scripps — Lost City کی اصل دریافت کا ریکارڈ دسمبر 2000 میں بحرِ اوقیانوس کے Mid-Atlantic Ridge کے قریب Lost City Hydrothermal Field کی دریافت کا اصل ادارہ جاتی ریکارڈ، جہاں غیر معمولی بلند hydrothermal chimneys پہلی مرتبہ سامنے آئی تھیں۔ اصل دریافت • دسمبر 2000 دریافت کا ریکارڈ کھولیں ↗ 🌍 Woods Hole — زمین کے اندر چھپے نظام کی سائنسی کہانی Woods Hole Oceanographic Institution کا سائنسی پس منظر، جس میں Atlantis Massif، mantle rocks، Lost City اور Expedition 399 کی اس کوشش کی وضاحت ہے جو زمین پر زندگی کے ابتدائی کیمیائی عمل کو سمجھنے کے لیے کی گئی۔ سائنسی ادارہ جاتی ماخذ سائنسی رپورٹ کھولیں ↗
📰 اصل خبر
📰 الجزیرہ — بحرِ اوقیانوس کے ’گمشدہ شہر‘ کا نیا راز یکم ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی اصل عربی رپورٹ، جس میں مرکزی محقق جیفری ویٹ سے گفتگو، 1268 میٹر گہری کھدائی، زیرِ زمین پانی اور ہائیڈروجن سے جڑے نتائج بیان کیے گئے ہیں۔ اصل عربی رپورٹ اصل خبر کھولیں ↗
🌊 ادارتی نوٹ: اس فیچر کی تیاری میں 2026 کے اصل peer-reviewed تحقیقی مقالے، International Ocean Discovery Program کی Expedition 399 دستاویزات، Scripps Institution of Oceanography، Woods Hole Oceanographic Institution اور الجزیرہ کی اصل رپورٹ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ BY: overseaspost.net