مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں تیزی سے اضافہ نہ صرف ہماری زندگیوں کو بدل رہا ہے، بلکہ یہ کرہ ارض پر ماحولیاتی دباؤ کا باعث بھی بن رہا ہے۔
مزید پڑھیں
حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق اے آئی ڈیٹا سینٹرز اپنے ارد گرد کے ماحول کے درجہ حرارت کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
حرارت کے ڈیجیٹل جزائر
کیمبرج یونیورسٹی اور نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے مطابق ڈیٹا سینٹرز کے ارد گرد کا درجہ حرارت 0.3 سے 9.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔
سائنس دانوں نے اس مظہر کو ’حرارت کے ڈیجیٹل جزائر‘کا نام دیا ہے، جس کے اثرات 10 کلومیٹر کے دائرے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
تحقیق اور اعداد و شمار
یہ تحقیق اپریل 2026 میں شائع ہوئی، جس میں 2004 سے 2024 تک ناسا کے مصنوعی سیاروں سے حاصل کردہ ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔
ماہرین نے دنیا بھر میں قائم 11 ہزار ڈیٹا سینٹرز کے مقامات کا موازنہ کیا، جن میں سے 6733 مراکز غیر آبادی والے علاقوں میں واقع تھے۔
ڈیٹا سینٹرز حرارت کیوں پیدا کرتے ہیں؟
ایک عام ڈیٹا سینٹر میں 5 ہزار تک سرورز نصب ہوتے ہیں جو 930 مربع میٹر رقبے پر محیط ہوتے ہیں۔
یہ سرورز (Serves) 100 سے 300 میگاواٹ بجلی کھاتے ہیں اور بلا تعطل کام کرنے کے باعث بھاری مقدار میں حرارت خارج کرتے ہیں، جو مقامی سطح پر درجہ حرارت بڑھاتی ہے۔
پانی اور زمین کا بڑھتا ہوا ضیاع
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ڈیٹا سینٹرز صرف ہوا ہی گرم نہیں کر رہے، بلکہ یہ قدرتی وسائل کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
ایک اندازہ ہے کہ اس دہائی کے آخر تک ان مراکز کی پانی کی کھپت 1.3 ارب افراد کی ضروریات کے برابر پہنچ سکتی ہے، جو کہ ایک تشویشناک پیش رفت ہے۔
اے آئی: شدید بھوکی ٹیکنالوجی
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مصنوعی ذہانت کو ’زمین، پانی اور توانائی کی بھوکی‘ ٹیکنالوجی قرار دیا ہے۔
انہوں نے انتباہ کیا کہ ان مراکز کی تعمیر سے استعمال ہونے والی زمین کا رقبہ 14 ہزار 500 مربع کلومیٹر تک جا سکتا ہے، جو کہ کئی بڑے شہروں کے رقبے سے زیادہ ہے۔
صارفین کا کردار اور ذمہ داری
تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی توانائی کی 90 فیصد کھپت روزمرہ کے صارفین کی جانب سے کیے جانے والے سوالات سے ہوتی ہے۔
روزانہ 2.5 ارب سے زائد کمانڈز پروسیس ہوتی ہیں۔ ایک تصویر تیار کرنے میں ہزار ٹیکسٹ کمانڈز سے زیادہ توانائی خرچ ہوتی ہے، جبکہ ویڈیوز اور آڈیو کی تخلیق کا بوجھ اس سے کہیں زیادہ ہے۔
ممکنہ حل
ماحولیاتی اثرات کم کرنے کے لیے ماہرین ضائع ہونے والی حرارت کو ہیٹنگ کے لیے استعمال کرنے اور ڈیٹا سینٹرز کو گنجان آباد علاقوں سے دُور منتقل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
کچھ کمپنیاں قطب شمالی میں مراکز بنانے اور توانائی کے لیے نیوکلیئر پاور کے استعمال پر بھی غور کر رہی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی سہولتیں بظاہر پرکشش اور مفت لگتی ہیں، لیکن ان کی ماحولیاتی قیمت بہت زیادہ ہے۔
جب تک ٹیکنالوجی کمپنیاں پائیدار حل اور گرین انرجی کی جانب منتقلی یقینی نہیں بناتیں، تب تک ’ڈیجیٹل ترقی‘ کا یہ سفر کرہ ارض کے لیے ناقابلِ تلافی نقصانات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔