امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں کا نسبتاً سکون ختم ہوگیا ہے۔
تازہ امریکی حملوں کے جواب میں تہران نے خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم تمام ایرانی دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ، سعودی تیل لے جانے والے ٹینکروں پر حملے اور قطر و امارات کی ایل این جی ترسیل کے نئے طریقوں نے بحران کو عالمی توانائی کے مسئلے میں تبدیل کردیا ہے۔
امریکا کی تازہ فوجی کارروائی کو صرف ایران کے خلاف ایک اور حملہ سمجھنا موجودہ بحران کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ فوجی تصادم اب دنیا کی توانائی کی سب سے اہم سمندری گزرگاہ کے ساتھ جڑ گیا ہے۔
تازہ شپنگ ڈیٹا کے مطابق منگل کو صرف چار کموڈٹی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 10 اور گزشتہ دس دنوں کی یومیہ اوسط تقریباً 13 تھی۔
تاہم اس کے ساتھ ایک اور اہم حقیقت بھی سامنے آئی۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کے مطابق پیر کو ہرمز سے تقریباً 17 ملین بیرل تیل گزرا، جو جنگ کے باعث آمدورفت متاثر ہونے کے بعد سب سے بڑی یومیہ مقدار تھی۔
◆OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTہرمز بحران — اہم نکات⌄
- امریکا نے ایران کے فضائی دفاع، ریڈار، بحری اور مواصلاتی اہداف پر تازہ حملے کئے۔
- ایران نے اردن، عراق اور بحرین میں امریکی فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا، مگر تمام نقصانات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
- منگل کو آبنائے ہرمز سے صرف 4 کموڈٹی جہاز گزرنے کی اطلاع سامنے آئی، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 10 تھی۔
- امریکی وزیر توانائی کے مطابق پیر کو ہرمز سے تقریباً 17 ملین بیرل تیل گزرا۔
- سعودی خام تیل لے جانے والے دو بڑے ٹینکر عمان کے قریب حملے کی زد میں آئے۔
- قطر اور امارات کی بعض ایل این جی کارگوز کو ہرمز سے باہر ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں منتقل کیا گیا۔
بظاہر یہ دونوں اعداد ایک دوسرے سے متضاد محسوس ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔ ایک عدد مخصوص تجارتی جہازوں کی تعداد بتاتا ہے، جبکہ دوسرا گزرنے والے تیل کا مجموعی حجم ظاہر کرتا ہے۔
نتیجہ واضح ہے: ہرمز بند نہیں ہوا، لیکن یہاں معمول کی تجارت ختم ہوچکی ہے۔
مزید پڑھیں
امریکا نے کن اہداف کو نشانہ بنایا؟
یکم ستمبر کو امریکی افواج نے ایران کے خلاف کئی ہفتوں کی شدید ترین کارروائیوں میں سے ایک کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حملوں میں پاسداران انقلاب کے فضائی دفاعی نظام، ریڈار، بحری اثاثوں اور مواصلاتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
واشنگٹن نے بعد میں تازہ حملوں کی لہر مکمل ہونے کا اعلان کیا، لیکن تہران نے فوری طور پر جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا۔
ایرانی حکام کے مطابق اردن، عراق اور بحرین میں امریکی فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کئے گئے۔
تاہم ایرانی دعووں اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ معلومات کے درمیان فرق موجود ہے۔
ایران نے اردن میں امریکی فوجیوں کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا، مگر امریکی حکام نے ابتدائی طور پر کسی امریکی جانی نقصان کی تردید کی۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXہرمز بحران: فیکٹ باکس⌄
اردن نے کہا کہ اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 13 بیلسٹک میزائلوں میں سے 10 کو تباہ کردیا گیا، جبکہ تین دور دراز علاقوں میں گرے۔ بحرین نے بھی ایرانی ڈرونز کو روکنے کی اطلاع دی۔
اسی طرح تہران نے عراق میں امریکی فوجی اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا، لیکن تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یعنی ایران کا فوجی جواب وسیع ضرور تھا، مگر اس کے اعلان کردہ تمام نتائج کو تصدیق شدہ حقیقت نہیں سمجھا جاسکتا۔
اصل ایرانی ہتھیار: ہرمز؟
فوجی حملوں سے زیادہ اہم ایران کا وہ پیغام ہوسکتا ہے جو آبنائے ہرمز سے متعلق دیا گیا۔
پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت پر مزید پابندیاں لگ سکتی ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایران کی جغرافیائی طاقت سامنے آتی ہے۔
↻OVERSEAS POST | LATESTتازہ ترین کیا بدلا؟⌄
4 جہاز اور 17 ملین بیرل کے اعداد متضاد نہیں؛ ایک جہازوں کی گنتی ہے اور دوسرا تیل کے حجم کا اندازہ۔
قطر اور امارات کی بعض کارگوز ہرمز سے باہر دوسرے جہازوں میں منتقل کی گئیں۔
ہرمز ابھی کھلا ہے، مگر یہاں معمول کی تجارت نہیں رہی۔ آمدورفت غیر منظم، خطرناک اور مہنگی ہوتی جارہی ہے۔
امریکا فوجی اعتبار سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، لیکن ایران دنیا کے اس سمندری راستے کے کنارے بیٹھا ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بہت بڑا حصہ گزرتا ہے۔
اگر تہران اپنا تیل آزادانہ طور پر برآمد نہیں کرسکتا تو وہ دوسروں کے لئے بھی اس راستے کو مہنگا اور خطرناک بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس مقصد کے لئے اسے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنا بھی ضروری نہیں۔
اگر شپنگ کمپنیاں خطرہ محسوس کریں، انشورنس مہنگی ہوجائے، جہازوں کو اضافی حفاظتی اقدامات کرنا پڑیں اور کچھ کمپنیاں راستہ بدلنے لگیں تو ہرمز رسمی بندش کے بغیر بھی عالمی تجارت کے لئے شدید مسئلہ بن سکتا ہے۔
سعودی تیل لے جانے والے ٹینکروں پر حملہ
بحران کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ گئی جب سعودی خام تیل لے جانے والے دو بڑے ٹینکروں کو عمان کے قریب نامعلوم پروجیکٹائلز نے نشانہ بنایا۔
یہ واقعہ اس لئے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ سعودی عرب امریکا اور ایران کی براہ راست فوجی جنگ میں فریق نہیں، لیکن وہ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے۔
✓?OVERSEAS POST | VERIFIEDایرانی جواب: کیا مصدقہ، کیا دعویٰ؟⌄
اردن، عراق اور بحرین میں امریکی فوجی اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔
امریکی حکام نے ایران کی جانب سے بیان کئے گئے بعض جانی نقصانات کی تصدیق نہیں کی۔
اردن نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی اطلاع دی۔
بحرین نے ایرانی ڈرونز کو روکنے اور تباہ کرنے کی اطلاع دی۔
اگر سعودی تیل لے جانے والے جہاز بھی خطرے سے محفوظ نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ کے اثرات امریکی اور ایرانی فوجی اہداف سے نکل کر عالمی توانائی کی سپلائی تک پہنچ چکے ہیں۔
سعودی عرب کے لئے صورتحال میں ایک تضاد بھی ہے۔
جنگ تیل کی قیمت بڑھاتی ہے، جس سے آمدنی میں اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن اگر شپنگ، انشورنس اور سلامتی کے اخراجات بڑھ جائیں تو مہنگے تیل کا فائدہ محدود ہوسکتا ہے۔
اسی لئے ہرمز سے ہٹ کر سعودی عرب کے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن جیسے متبادل راستوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
قطر اور امارات نے نیا طریقہ کیوں اپنایا؟
تازہ بحران کا ایک غیر معمولی پہلو مائع قدرتی گیس، یعنی ایل این جی، کی ترسیل میں سامنے آیا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں قطر اور متحدہ عرب امارات سے روانہ ہونے والی تین ایل این جی کارگوز کو ہرمز سے باہر ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں بھارت اور جاپان کی جانب روانہ کیا گیا۔
یہ ایک اہم تبدیلی ہے۔
◎OVERSEAS POST | ANALYSISہرمز ہی اصل میدان کیوں؟⌄
ایران دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک کے کنارے واقع ہے، یہی اس کی بڑی اسٹریٹجک قوت ہے۔
چند حملے، مہنگی انشورنس اور شپنگ کمپنیوں کا خوف بھی جزوی بندش جیسا معاشی اثر پیدا کرسکتا ہے۔
خطرہ صرف خام تیل تک محدود نہیں؛ ایل این جی، شپنگ، بیمہ اور عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
مارکیٹ آج کے نقصان کے ساتھ اس تیل کی قیمت بھی لگا رہی ہے جو شاید کل منزل تک نہ پہنچ سکے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ توانائی کمپنیاں اب صرف جنگ ختم ہونے کا انتظار نہیں کر رہیں بلکہ ہرمز کے خطرے کے مطابق اپنے آپریشنز تبدیل کر رہی ہیں۔
اگر یہ طریقہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے لگا تو موجودہ بحران عالمی توانائی کی ترسیل کے طریقہ کار میں طویل مدتی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
تیل 95 ڈالر کے قریب کیوں پہنچا؟
تازہ امریکی ایرانی تصادم کے بعد برینٹ خام تیل تقریباً 4.6 فیصد بڑھ کر 94.65 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جبکہ امریکی خام تیل 5.2 فیصد اضافے کے ساتھ 90.22 ڈالر تک پہنچ گیا۔
مارکیٹ صرف آج کی سپلائی نہیں دیکھتی۔
وہ کل کے خطرے کی قیمت بھی لگاتی ہے۔
SAOVERSEAS POST | GULFسعودی عرب اور خلیج پر کیا اثر؟⌄
- سعودی خام تیل لے جانے والے دو ٹینکروں پر حملہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کا خطرہ اب براہ راست توانائی کی ترسیل تک پہنچ چکا ہے۔
- تیل کی بلند قیمتیں آمدنی بڑھا سکتی ہیں، مگر شپنگ، بیمہ اور سلامتی کی لاگت اس فائدے کو محدود کرسکتی ہے۔
- سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لئے اسٹریٹجک متبادل ہے۔
- قطر اور امارات کی ایل این جی ٹرانسفر کارروائیاں بتاتی ہیں کہ خلیجی توانائی کمپنیاں نئے عملی راستے آزما رہی ہیں۔
- خلیجی معیشتوں کے لئے اصل فائدہ صرف مہنگا تیل نہیں بلکہ محفوظ اور قابلِ پیش گوئی خطہ ہے۔
کسی بڑے ٹینکر کا ڈوبنا، اہم خلیجی تنصیب پر حملہ یا ہرمز سے آمدورفت میں مزید کمی تیل کو بہت زیادہ مہنگا کرسکتی ہے۔
اسی لئے مارکیٹ ایسے تیل کی قیمت بھی آج ہی میں شامل کررہی ہے جو شاید کل خریدار تک نہ پہنچ سکے۔
ایران پر امریکی معاشی دباؤ
امریکی حکمت عملی کا دوسرا بڑا حصہ ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرنا ہے۔
مارچ میں ایران تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ خام تیل لوڈ کررہا تھا، لیکن اگست میں یہ مقدار سکڑ کر تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار سے 2 لاکھ 55 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی۔
یہ تہران کے لئے زرمبادلہ اور حکومتی آمدنی کا بڑا نقصان ہے۔
PKOVERSEAS POST | PAKISTANپاکستان کے لئے دوہرا امتحان⌄
تیل مسلسل 90–100 ڈالر کے قریب رہا تو پاکستان کی توانائی درآمدات مہنگی ہوسکتی ہیں۔
مہنگی توانائی زرمبادلہ، روپے، ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
پاکستان کو ایران، سعودی عرب، خلیجی ممالک اور امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات میں نازک توازن قائم رکھنا ہوگا۔
جنگ بڑھی تو ایسے ملک کی اہمیت بڑھ سکتی ہے جو مختلف فریقوں سے رابطہ رکھتا ہو۔
لیکن اسی دباؤ سے ایک خطرناک ایرانی منطق بھی پیدا ہوسکتی ہے:
اگر ہمارا تیل عالمی منڈی تک نہیں پہنچ سکتا تو دوسروں کا تیل کیوں پہنچے؟
یہی وجہ ہے کہ امریکی اقتصادی دباؤ اور ہرمز کی سلامتی ایک دوسرے سے براہ راست جڑ گئے ہیں۔
پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
پاکستان کے لئے یہ بحران دوہرا خطرہ ہے۔
تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل بڑھے گا، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے پر دباؤ آسکتا ہے اور بالآخر پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی لاگت متاثر ہوسکتی ہے۔
لیکن پاکستان کا کردار صرف معاشی نہیں۔
⇢OVERSEAS POST | SCENARIOSآگے کیا ہوسکتا ہے؟⌄
چند مزید حملوں کے بعد بیک چینل رابطے اور سفارتی کوششیں دوبارہ فعال ہوجائیں۔
امریکی فوجی و اقتصادی دباؤ جاری رہے اور ایران ہرمز میں خطرات بڑھاتا رہے۔
کسی سپر ٹینکر کے ڈوبنے، بڑی خلیجی تنصیب پر حملے یا امریکی فوجیوں کی بڑی ہلاکت جنگ کو بے قابو کرسکتی ہے۔
اسلام آباد کے سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے گہرے تعلقات ہیں، ایران اس کا پڑوسی ہے اور امریکا کے ساتھ تعلق بھی اہم ہے۔
پاکستان حالیہ عرصے میں ایران سے متعلق سفارتی کوششوں میں بھی سرگرم رہا ہے۔
اس لئے جنگ جتنی بڑھے گی، اسلام آباد کے لئے توازن برقرار رکھنا اتنا ہی مشکل ہوگا، لیکن اسی کے ساتھ ایسے ملک کی سفارتی اہمیت بڑھ سکتی ہے جو مختلف فریقوں سے بات کرسکتا ہو۔
اب سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟
موجودہ جنگ کا سب سے بڑا خطرہ ایک اور میزائل یا ایک اور فضائی حملہ نہیں۔
اصل خطرہ وہ ایک بڑا واقعہ ہے جو حالات کو واپسی کے مقام سے آگے لے جائے۔
کسی سپر ٹینکر کا ڈوب جانا، خلیج کی بڑی توانائی تنصیب پر تباہ کن حملہ، بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت یا ہرمز میں وسیع امریکی فوجی آپریشن جنگ کو بے قابو کرسکتا ہے۔
1′OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی⌄
امریکا نے ایران کے فوجی اہداف پر تازہ حملے کئے اور تہران نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ تاہم ایرانی دعووں کے تمام نتائج کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
اصل خطرہ آبنائے ہرمز میں بڑھ رہا ہے: تجارتی جہازوں کی تعداد میں تیز کمی دیکھی گئی، سعودی تیل لے جانے والے ٹینکر حملے کی زد میں آئے اور قطر و امارات نے ایل این جی کی ترسیل کے متبادل طریقے استعمال کئے۔
ہرمز ابھی بند نہیں، مگر عالمی مارکیٹ نے یہ خطرہ قیمت میں شامل کرنا شروع کردیا ہے کہ اگلا ٹینکر شاید اتنی آسانی سے نہ گزر سکے۔
فی الحال ہرمز بند نہیں۔
تیل بھی گزر رہا ہے، جہاز بھی چل رہے ہیں اور خلیجی ممالک متبادل راستے تلاش کررہے ہیں۔
مگر خطرہ مکمل بندش سے پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔
امریکا ایرانی فوجی اہداف تباہ کرسکتا ہے اور ایران میزائلوں اور ڈرونز سے جواب دے سکتا ہے، لیکن عالمی معیشت کے لئے فیصلہ کن سوال اب بھی ایک ہی ہے:
کیا ہرمز سے اگلا ٹینکر محفوظ گزر سکے گا؟
کیونکہ میزائل رکنے سے جنگ کی ایک لہر ختم ہوسکتی ہے، مگر اگر توانائی کی روانی رک گئی تو اس جنگ کی قیمت صرف واشنگٹن اور تہران نہیں، پوری دنیا ادا کرے گی۔