دنیا کے مختلف حصوں سے یکے بعد دیگرے تباہ کن زلزلوں کی خبریں سامنے آ جائیں تو ایک خوف فطری طور پر جنم لیتا ہے کہ کیا زمین پہلے سے زیادہ بے چین ہوگئی ہے؟
مزید پڑھیں
وینزویلا، فلپائن، جاپان، کولمبیا اور خلیج سویز کے حالیہ زلزلے یہی تاثر دیتے ہیں، مگر سائنسی نظریہ مختلف ہے۔
چند ہفتے، کئی بڑے زلزلے
جون 2026ء میں وینزویلا کو چند سیکنڈ کے وقفے سے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلوں نے ہلا دیا۔ کراکس اور ساحلی ریاست لا گوائرا شدید متاثر ہوئے، ہزاروں جانیں گئیں اور بڑے پیمانے پر عمارتیں تباہ ہوئیں۔
اسی عرصے کے دوران جنوبی فلپائن کے ساحل پر 7.8 شدت کا طاقت ور زلزلہ آیا۔
🌐 ارضیاتی جائزہ
کیا واقعی زمین پہلے سے زیادہ بے چین ہوگئی ہے؟
کیا واقعی زمین پہلے سے زیادہ بے چین ہوگئی ہے؟
🌍 سائنسی سچائی بمقابلہ سطحی تاثر
عالمی سطح پر حالیہ دنوں میں وینزویلا، فلپائن، جاپان اور کولمبیا میں انے والے زلزلوں کے باوجود امریکی جیولوجیکل سروے کے سائنسی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ زمین کے اندر ٹیکٹونک پلیٹوں کی مجموعی لرزش کی اوسط میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا۔
مستحکم تاریخی اوسط
دنیا میں ہر سال اوسطاً 16 بڑے زلزلے (7 یا زائد شدت کے) اتے ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں کی طرح اس دہائی میں بھی سالانہ اوسط 14 کے قریب ہی ہے۔
حساس آلات کا کمال
سیسموگراف نیٹ ورکس اور جدید ترین مانیٹرنگ کی وجہ سے اب چھوٹے جھٹکے بھی فوراً ریکارڈ میں ا جاتے ہیں، جو ماضی میں نظر انداز ہو جاتے تھے۔
سوشل میڈیا کا وائرل اثر
ویڈیوز اور الگورتھمز ماضی اور حال کے مختلف واقعات ایک ساتھ سکرین پر دکھاتے ہیں، جس سے دماغ کو مسلسل لہر کا وہم محسوس ہوتا ہے۔
شہری پھیلاؤ کا نقصان
زمین اتنی ہی متحرک ہے جتنی پہلے تھی، مگر اب فالٹ لائنز کے اوپر گنجان ابادی اور بلند عمارتیں بننے سے تباہی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
جولائی میں جاپان کے کوماموتو میں 7.1 شدت کے زلزلے نے تباہی مچائی، جبکہ اگست کے آغاز میں خلیج سویز کا 5.6 شدت کا جھٹکا مصر سے دُور غزہ، اردن اور لبنان تک محسوس کیا گیا۔
پھر 10 اگست کو کولمبیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ آیا۔ سوشل میڈیا پر گرتی عمارتوں اور خوف زدہ لوگوں کی ویڈیوز نے دنیا بھر میں یہ سوال مزید نمایاں کردیا کہ آخر اچانک اتنے زلزلے کیوں آ رہے ہیں؟
اعدادوشمار اور خوف کا موازنہ
امریکی جیولوجیکل سروے کے ایک صدی سے زائد عرصے کے ریکارڈ کے مطابق دنیا میں اوسطاً ہر سال تقریباً 16 بڑے زلزلے متوقع ہوتے ہیں۔
ان میں عموماً 15 زلزلے 7 شدت کے آس پاس اور ایک 8 یا اس سے زیادہ شدت کا ہوتا ہے۔
2000ء سے 2009ء تک بڑے زلزلوں کی سالانہ اوسط 14.5 تھی۔ اگلی دہائی میں یہ 16.1 رہی، جبکہ موجودہ دہائی میں اب تک اوسط تقریباً 14 ہے۔
یعنی ایسا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں کہ بڑے زلزلوں کی عالمی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
2026ء میں اگست کے آغاز تک 7 یا اس سے زیادہ شدت کے کم از کم 10 زلزلے ریکارڈ ہو چکے ہیں۔
بظاہر یہ تعداد بڑی لگتی ہے، مگر تاریخی ریکارڈ میں ایسے سال بھی گزرے ہیں جن میں 24 بڑے زلزلے آئے اور ایسے بھی جن میں صرف 7 ریکارڈ ہوئے۔
زلزلے زیادہ کیوں آنے لگے؟ اصل خطرہ کیا ہے؟
سائنسی حقائق، عالمی اعدادوشمار اور غیر محفوظ شہری تعمیرات کا تفصیلی جائزہ
سائنسدانوں کے مطابق زمین میں زلزلوں کی شرح نہیں بڑھی، بلکہ جدید نگرانی کے آلات اور غیر محفوظ شہری آبادی کا پھیلاؤ تباہی کو نمایاں کر رہا ہے۔
تاریخی ڈیٹا کے مطابق دنیا میں ہر سال اوسطاً 16 بڑے زلزلے آتے ہیں۔ موجودہ دہائی کی سالانہ اوسط 14 ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ زلزلوں کی عالمی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا۔
حساس آلات کی وجہ سے اب سالانہ ہزاروں معمولی جھٹکے بھی ریکارڈ ہو جاتے ہیں جو ماضی میں نظر انداز ہو جاتے تھے۔
زلزلہ خیز خطوں اور فالٹ لائنز کے قریب بسنے والی عالمی آبادی میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
زلزلے کے خطرے والے علاقوں میں شہری تعمیرات کا پھیلاؤ 69 فیصد تک بڑھ چکا ہے۔ اصل المیہ زلزلہ نہیں بلکہ غیر معیاری اور کمزور عمارتیں ہیں۔
موبائل اور الگورتھمز کے باعث دنیا کے کسی بھی کونے میں آنے والے زلزلے کی ویڈیوز فوراً سامنے آ جاتی ہیں، جس سے دماغ تسلسل کا غلط تاثر لیتا ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
چھوٹے زلزلے زیادہ کیوں ؟
سائنسدانوں کے مطابق 4 یا اس سے زیادہ شدت کے ریکارڈ ہونے والے زلزلوں کی تعداد ضرور بڑھی ہے۔
اس اضافے کی بڑی وجہ زمین کی بڑھتی سرگرمی نہیں بلکہ جدید آلات اور وسیع نگرانی کا نظام ہے۔
آج زیادہ حساس آلات ایسے جھٹکے بھی پکڑ لیتے ہیں جو ماضی میں ریکارڈ نہیں ہوتے تھے۔ امریکی نیشنل ارتھ کوئیک انفارمیشن سینٹر تقریباً 20 ہزار زلزلے سالانہ، یعنی اوسطاً 55 روزانہ ریکارڈ کرتا ہے۔
📉
زلزلوں کا حساب: خوف زیادہ یا حقیقت؟
یو ایس جی ایس (USGS) کی سو سالہ تاریخ کے مطابق زلزلوں کے اعدادوشمار قدرتی تغیر کے دائرے میں ہی ہیں، تاہم عوامی بیداری اور ذرائع ابلاغ کی تیز تر رسائی نے خوف بڑھا دیا ہے۔
عموماً ہر سال 7 شدت کے 15 اور 8 یا اس سے زائد شدت کا 1 تباہ کن زلزلہ ریکارڈ ہوتا ہے۔
عالمی سینٹر ہر سال 20,000 سے زائد جھٹکے ریکارڈ کرتا ہے جن میں سے بیشتر عام انسان محسوس نہیں کر پاتے۔
تاریخ میں 1970 میں صرف 6 بڑے زلزلے ائے جبکہ 2010 میں 24 تک پہنچ گئے تھے، جو معمول کا ارضیاتی چکر ہے۔
اصل خطرہ زمین نہیں، ہمارے شہر ہیں
آج کے دور میں زلزلے اور تباہی کا فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔
زلزلہ زمین کے اندر ہونے والا ایک قدرتی عمل ہے، لیکن وہ کتنی بڑی انسانی آفت بنے گا، اس کا انحصار آبادی، عمارتوں، بنیادی ڈھانچے اور تیاری پر ہوتا ہے۔
دنیا کی آبادی 8 ارب سے تجاوز کرچکی ہے۔ کئی بڑے شہر فالٹس اور خطرناک ٹیکٹونک علاقوں کے قریب پھیل چکے ہیں۔ جو جگہ کبھی ایک چھوٹا گاؤں تھی، آج وہاں لاکھوں انسان، بلند عمارتیں، پل، اسپتال اور سڑکیں موجود ہوسکتی ہیں۔
تحقیقی اعدادوشمار کے مطابق 1990ء سے 2015ء کے درمیان زلزلہ خطرے والے علاقوں میں رہنے والی آبادی تقریباً 1.08 ارب سے بڑھ کر 1.51 ارب ہوگئی۔
انہی علاقوں میں شہری تعمیرات کا پھیلاؤ بھی تقریباً 69 فیصد بڑھا ہے۔
⚠️
زلزلہ نہیں، کمزور شہر اصل خطرہ ہیں؟
انسانی رسک
1. خطرناک زونز میں ابادی کا دھماکہ
1990 سے 2015 کے درمیان زلزلہ خیز علاقوں میں رہنے والی عالمی ابادی 1.08 ارب سے بڑھ کر 1.51 ارب تک پہنچ گئی۔
2. بغیر ضوابط کے 69 فیصد شہری پھیلاؤ
فالٹس کے قریب واقع دیہات اب لاکھوں انسانوں، بلند عمارتوں اور پلوں والے میگا شہر بن چکے ہیں۔
3. قدرتی عمل بمقابلہ انسانی آفت
زلزلہ محض زمین کی پلیٹوں کی قدرتی حرکت ہے، لیکن ناقص تعمیرات اسے جانی اور مالی المیے میں بدل دیتی ہیں۔
مضبوط عمارت زندگی اور موت کا فرق
2023ء کے ترکیہ کے زلزلے نے دکھایا کہ صرف تعمیراتی ضوابط بنانا کافی نہیں، اس پر عمل بھی ضروری ہے۔
وہاں انجینئرنگ جائزوں میں ناقص تعمیر، حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی اور کمزور نگرانی سامنے آئی۔
2025ء کے میانمار زلزلے میں بھی غیر محفوظ اینٹ اور پتھر کی عمارتوں نے نقصان بڑھایا۔ ایک جائزے میں ایک لاکھ 57 ہزار سے زیادہ عمارتوں کے متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
یہ سبق پاکستان جیسے زلزلہ خیز ملک کے لیے بھی اہم ہے۔ خطرے کو صرف زلزلے کی شدت سے نہیں، بلکہ اپنی عمارتوں، شہری منصوبہ بندی اور ہنگامی تیاری سے بھی ناپنا ہوگا۔
پاکستان کے لیے بڑا سبق کیا ہے؟
+
پاکستان کے لیے بڑا سبق کیا ہے؟
حفاظتی اقدامات اور عمل درآمد
- بلڈنگ کوڈز (Building Codes) پر نفاذ اور این او سی کے نظام کی سخت نگرانی۔
- موجودہ پرانی عمارتوں اور ہسپتالوں کی زلزلہ پروف سٹرکچرل سیفٹی چیکنگ۔
- شہریوں میں زلزلے کے وقت ہنگامی بچاؤ کے اقدامات کی آگاہی کمپینز۔
موجودہ خطرناک غفلت
- فالٹ لائنز کے قریب غص غیر قانونی تعمیرات اور بغیر انجینئرنگ کے بنے شہر۔
- کمزور خام اینٹوں سے بنی عمارتیں جو تھوڑے جھٹکے سے گر جاتی ہیں۔
- ہنگامی ریلیف اداروں کی جدید ترین الات اور تربیت کی شدید کمی۔
سوشل میڈیا خوف کو کیسے بڑھاتا ہے؟
ایک اور تبدیلی ہمارے معاشرے میں موبائل فون کے ذریعے آئی ہے۔
چند دہائیاں پہلے دنیا کے دوسرے سرے پر آنے والا درمیانی زلزلہ شاید ہم میں سے کسی کو پتا نہیں چلتا تھا، مگر آج چند لمحوں میں اس کا نقشہ، شدت، ویڈیوز اور تباہی کے مناظر ہماری اسکرین پر موجود ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا الگورتھم ایک ویڈیو دیکھنے کے بعد مزید زلزلوں کی ویڈیوز دکھانا شروع کردیتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں آج، تین ماہ پہلے اور گزشتہ سال کے مختلف واقعات چند منٹ میں ایک ساتھ سامنے آتے ہیں۔ دماغ انہیں مسلسل جاری ایک ہی لہر سمجھ سکتا ہے۔
🏢
عمارتیں کیوں گرتی ہیں؟
◀
عمارتیں کیوں گرتی ہیں؟
ترکیہ اور میانمار زلزلوں کے جائزوں کے مطابق گھٹیا سیمنٹ اور اینٹوں کا استعمال عمارتوں کے زمین بوس ہونے کی بڑی وجہ بنا۔
زلزلہ پروف تکنیک (Shock Absorbers) اور لچکدار فاؤنڈیشن ڈیزائن کا استعمال نہ کرنا جانی نقصان بڑھاتا ہے۔
نرم یا ریتلی مٹی پر بغیر گہری بنیاد کے بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر جو زلزلے میں مائع (Liquefaction) بن جاتی ہے۔
پرانی اور خستہ حال عمارتوں کی وقت پر سٹرکچرل مضبوطی (Retrofitting) نہ کروانا طوفانی تباہی کا سبب بنتا ہے۔
اسی لیے شاید سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ زمین لازماً زیادہ بے چین نہیں ہوئی، بلکہ ہماری آبادیاں، عمارتیں، اطلاعات اور یادداشت بدل گئی ہیں۔
زلزلوں کو روکنا انسان کے اختیار میں نہیں، لیکن انہیں انسانی المیے میں بدلنے سے روکنے کے لیے محفوظ تعمیرات، سخت تعمیراتی ضوابط، ان پر عمل اور بہتر شہری منصوبہ بندی ضرور ہمارے اختیار میں ہے۔