🧬
فیکٹ باکس: ’بلیک ڈیتھ‘ آخر کتنی خطرناک بیماری ہے؟
+
فیکٹ باکس: ’بلیک ڈیتھ‘ آخر کتنی خطرناک بیماری ہے؟
وائرس نہیں بلکہ بیکٹیریا
طاعون کورونا کی طرح وائرس نہیں بلکہ یرسینیا پیسٹِس (Yersinia pestis) نامی بیکٹیریا سے پیدا ہوتا ہے، جو جنگلی چوہوں اور پسوؤں میں قدرتی طور پر زندہ رہتا ہے۔
غدودی، خون اور پھیپھڑے
بیماری لمف نوڈز (غدودی طاعون)، خون کے نظام، یا پھیپھڑوں کو نشانہ بناتی ہے۔ ان میں سب سے مہلک پھیپھڑوں کا طاعون ہے جو مریض کی کھانسی سے فضا میں پھیل سکتا ہے۔
وقت پر علاج نہ ہو تو جان لیوا
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پھیپھڑوں کا طاعون مناسب اینٹی بائیوٹکس کے بغیر محض 24 سے 72 گھنٹوں میں مہلک ثابت ہو سکتا ہے، اسی لیے فوری تشخیص فیصلہ کن ہوتی ہے۔
اینٹی بائیوٹکس سے مکمل شفا
چودھویں صدی کے برعکس آج دنیا کے پاس عام اور سستی اینٹی بائیوٹکس موجود ہیں، جو علامات کے فوری بعد استعمال کی جائیں تو مریض کی مکمل صحتیابی یقینی بنا دیتی ہیں۔
سائبیریا میں ایک 28 سالہ خاتون کی اچانک موت، تقریباً 200 افراد کی نگرانی، ایک ایسی لیبارٹری جہاں خطرناک جراثیم پر تحقیق ہوتی ہے اور پھر دنیا بھر میں ’طاعون‘ کی خوفناک گونج۔
مزید پڑھیں
چند ہی دنوں میں روس کا یہ واقعہ عالمی توجہ حاصل کر چکا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی صدیوں پہلے کروڑوں انسانوں کی جان لینے والی ’بلیک ڈیتھ‘ واپس آرہی ہے؟
فی الحال تازہ معلومات اس خوفناک منظرنامے کی تصدیق نہیں کرتیں۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کی موت ’نامعلوم وجہ سے ہونے والے نمونیا‘ سے ہوئی اور اب تک طاعون کی تصدیق نہیں ہوئی۔
عالمی ادارۂ صحت بھی اس معاملے کی نگرانی کررہا ہے، لیکن اس نے دستیاب معلومات کی بنیاد پر روس سے باہر خطرے کو انتہائی کم قرار دیا ہے۔
سائبیریا میں ’بلیک ڈیتھ‘ کا خوف: سائنسی حقائق اور جائزہ
لیبارٹری ملازمہ کے پراسرار انتقال کے بعد ٹیسٹ رپورٹس منفی، ماہرین کے مطابق خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
روسی لیبارٹری میں 5 ہزار تشخیصی ٹیسٹوں کے بعد طاعون کی تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ عالمی ادارہ صحت نے بین الاقوامی پھیلاؤ کے امکانات کو انتہائی معمولی قرار دیا ہے۔
مکمل منفی رپورٹس
خاتون کی ہلاکت کے بعد کیے گئے تمام ٹیسٹ منفی آئے اور کسی خطرناک جراثیم کے شواہد نہیں ملے۔
طبی طور پر محفوظ
زیرِ نگرانی رکھے گئے 200 قریبی رابطوں میں سے اکثریت کو طبی معائنے کے بعد کلیئر قرار دے دیا گیا۔
کوئی نیا مریض نہیں
مریضہ سے کسی دوسرے انسان میں بیماری منتقل ہونے کا ثبوت نہ ملنے سے وبائی لہر کا خدشہ ختم ہو گیا۔
سست منتقلی کی شرح
پھیپھڑوں کے طاعون کا پھیلاؤ کورونا سے کہیں سست ہے اور جدید اینٹی بائیوٹکس کے سامنے مکمل بے اثر ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
ایک موت نے دنیا کو کیوں چونکا دیا؟
اس تشویش کی سب سے بڑی وجہ مرنے والی خاتون کا کام تھا۔ داریا شیپیلووا سائبیریا کے ارکتسک میں قائم انسدادِ طاعون تحقیقی ادارے سے وابستہ تھیں، جہاں طاعون سمیت خطرناک جراثیم کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
ابتدائی رپورٹس میں لیبارٹری میں کسی حادثے اور زندہ بیکٹیریا سے ممکنہ رابطے کے دعوے سامنے آئے، لیکن روسی حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
Pneumonic plague outbreak hits Siberia as lab worker, 28, dies after breaking test tube and 200 people she was in contact with are put in quarantine https://t.co/50OTMeygfj
— Daily Mail (@DailyMail) October 3, 2026
روسی صحت کے نگراں ادارے کے مطابق تقریباً 5 ہزار ٹیسٹ کیے گئے، پھر بھی خطرناک بیماری پیدا کرنے والے جراثیم نہیں ملے۔
اب قرنطینہ کیے گئے افراد میں سے تقریباً 90 فیصد کو رہا بھی کیا جاچکا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق ابھی موت کی حتمی وجہ سرکاری طور پر ثابت نہیں ہوئی، تاہم ابتدائی جائزے میں ارکتسک کے لیے خطرہ درمیانے سے کم، پورے روس کے لیے کم اور یورپی خطے کے لیے انتہائی کم بتایا گیا ہے۔
🌐
اصل خطرہ: کیا طاعون کورونا کی طرح دنیا میں پھیل سکتا ہے؟
موازنہ
اصل خطرہ: کیا طاعون کورونا کی طرح دنیا میں پھیل سکتا ہے؟
منتقلی کی محدود رفتار: R0 صرف 1.3 کے قریب
کورونا، خسرہ اور فلو کے برعکس طاعون کا وائرس نما تیز رفتار پھیلاؤ نہیں ہوتا۔ ماضی کی وبائی تاریخ میں پھیپھڑوں کے طاعون کے ایک مریض سے اوسطاً صرف 1.3 افراد تک بیماری پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وبائی زنجیر آسانی سے توڑی جا سکتی ہے۔
قریبی رابطے کی لازمی شرط
پھیپھڑوں کا طاعون بغیر علامات والے افراد سے نہیں پھیلتا۔ منتقلی کے لیے بیمار شخص کے ساتھ طویل اور انتہائی قریبی واسطہ ضروری ہوتا ہے، اس لیے عام ہوائی سفر سے اس کا اچانک پھیلاؤ ناممکنات میں سے ہے۔
عالمی اداروں کا حتمی اطمینان
عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور یورپی ہیلتھ ایجنسی کے مطابق سائبیریا کے واقعے کے بعد روس سے باہر طاعون پھیلنے کا خطرہ 'انتہائی کم' ہے اور اسے کسی نئی عالمی وبا کا آغاز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
طاعون آخر ہے کیا؟
طاعون کوئی وائرس نہیں بلکہ Yersinia pestis نامی بیکٹیریا سے ہونے والی ایک بیماری ہے۔
یہ قدرتی طور پر بعض چھوٹے جانوروں اور ان کے پسوؤں میں موجود رہتا ہے۔ متاثرہ پسو کے کاٹنے، متاثرہ جانور کے ٹشوز یا رطوبتوں سے رابطے اور مخصوص صورت میں مریض کے تنفسی ذرات سے انسان متاثر ہوسکتا ہے۔
اس کی 3 اہم اقسام ہیں۔ غدودی، خون میں پھیلنے والا اور پھیپھڑوں کا طاعون۔
سب سے زیادہ تشویش پھیپھڑوں کے طاعون سے ہوتی ہے کیونکہ یہ متاثرہ شخص کی کھانسی سے نکلنے والے قطروں کے ذریعے دوسرے انسان تک پہنچ سکتا ہے۔
یہی وہ اہم بات ہے جس نے روس میں پیش آنے والے واقعے کو اتنی تیزی سے عالمی خبر بنایا۔
🚨
خطرے کی گھنٹی: طاعون کی کون سی علامات نظرانداز نہیں کرنی چاہییں؟
◀
خطرے کی گھنٹی: طاعون کی کون سی علامات نظرانداز نہیں کرنی چاہییں؟
اچانک شدید بخار اور کپکپی
بیکٹیریا جسم میں داخل ہونے کے 1 سے 7 دن کے اندر تیز بخار، شدید سر درد، اعصابی کمزوری اور قے کے ساتھ حملہ کرتا ہے، جو بظاہر شدید فلو جیسا لگتا ہے۔
تکلیف دہ سوجن (Buboes)
پسو کے کاٹنے پر گردن، بغلوں یا رانوں کے لمف نوڈز انڈے کے سائز تک پھول جاتے ہیں، جو انتہائی دردناک اور چھونے پر سخت محسوس ہوتے ہیں۔
سانس بندش اور خونی بلغم
سب سے خطرناک علامت پھیپھڑوں کا تیزی سے ناکارہ ہونا، سینے میں شدید درد، کھانسی اور تھوک کے ساتھ خون آنا ہے، جس پر فوری آکسیجن اور ادویات ناگزیر ہوتی ہیں۔
جلد کا سیاہ پڑنا (Black Death)
خون میں زہر پھیلنے پر انگلیوں اور ناک کے بافتوں میں خون کی گردش رک جاتی ہے اور وہ سیاہ ہو کر گلنے لگتی ہیں، جس تاریخی علامت سے اس مرض کو بلیک ڈیتھ کہا گیا۔
کیا یہ کورونا کی طرح دنیا میں پھیل سکتا ہے؟
یہاں ایک بڑا فرق سمجھنا ضروری ہے۔ پھیپھڑوں کا طاعون انسان سے انسان میں منتقل ضرور ہوسکتا ہے، مگر کورونا، فلو یا خسرے کی طرح آسانی سے نہیں پھیلتا۔
یورپی مرکز برائے انسداد و کنٹرول امراض کے مطابق اس کی منتقلی کے لیے عموماً علامات رکھنے والے مریض کے ساتھ قریبی اور نسبتاً طویل رابطہ درکار ہوتا ہے۔
ارکتسک کے موجودہ واقعے میں ابھی کسی ثانوی کیس یا مسلسل انسان سے انسان منتقلی کا ثبوت نہیں ملا ہے۔
ماضی کی وباؤں کے سائنسی تجزیے میں پھیپھڑوں کے طاعون کے ایک مریض سے اوسطاً تقریباً 1.3 مزید افراد کے متاثر ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ یہ شرح حالات کے لحاظ سے بدل سکتی ہے، مگر اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیماری کا پھیلاؤ لازماً بے قابو نہیں ہوتا۔
⏳
ماضی بمقابلہ آج: کیا جدید دنیا نئی طاعون وبا روک سکتی ہے؟
✦
ماضی بمقابلہ آج: کیا جدید دنیا نئی طاعون وبا روک سکتی ہے؟
مکمل لاعلمی اور بے بس انسانیت
قرونِ وسطیٰ میں نہ خوردبین تھی، نہ جراثیم کا پتا تھا اور نہ علاج۔ لوگ سمجھ رہے تھے کہ ہوا زہریلی ہو گئی ہے۔ بغیر علاج اور بغیر قرنطینہ کے اس وبا نے یورپ کی ایک تہائی آبادی نگل لی تھی۔
اینٹی بائیوٹکس، پی سی آر اور مانیٹرنگ
آج کا انسان اس بیکٹیریا کی جینیاتی ساخت تک جانتا ہے۔ چند گھنٹوں میں لیب ٹیسٹ، قرنطینہ کا سخت پروٹوکول اور چند سو روپے کی اینٹی بائیوٹک گولیاں اس بیماری کا فوری خاتمہ کر دیتی ہیں۔
2017 مڈغاسکر کا عملی ثبوت: مڈغاسکر میں طاعون کے 2,348 کیسز اور پھیپھڑوں کے طاعون کے باوجود، جدید دنیا نے 7,300 قریبی رابطوں کو ادویات دے کر اور فوری ٹریسنگ کر کے وبا کو چند ہفتوں میں مکمل روک لیا تھا۔
خطرناک ضرور، مگر لاعلاج نہیں
’بلیک ڈیتھ‘ کا نام آج بھی دہشت پیدا کرتا ہے اور اس کی وجہ بھی واضح طور پر موجود ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق علاج نہ ملنے پر پھیپھڑوں اور خون میں پھیلنے والا طاعون جان لیوا ہوسکتا ہے۔ پھیپھڑوں کے طاعون میں وقت انتہائی اہم ہے اور بعض مریض علاج نہ ملنے پر بہت تیزی سے بگڑ سکتے ہیں۔
مگر آج اور قرونِ وسطیٰ کے زمانے میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ یعنی اینٹی بائیوٹکس۔
بروقت تشخیص ہوجائے تو دستیاب اینٹی بائیوٹکس سے طاعون کا مؤثر علاج ممکن ہے۔ اسی طرح مریض کو الگ کرنا، قریبی رابطوں کا فوری سراغ لگانا اور ضرورت پڑنے پر انہیں احتیاطی دوا دینا بیماری کی زنجیر توڑ سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے سوال: روسی واقعے سے ہمیں کتنا خطرہ ہوسکتا ہے؟
◀
پاکستان کے لیے سوال: روسی واقعے سے ہمیں کتنا خطرہ ہوسکتا ہے؟
صفر کے قریب فوری خطرہ
سائبیریا کا شہر ارکتسک پاکستان سے ہزاروں میل دور ہے۔ روسی لیبارٹری میں پیش آنے والے واقعے میں نہ طاعون کی تصدیق ہوئی اور نہ ہی انسان سے انسان میں پھیلاؤ کا کوئی ثبوت ملا ہے۔
طبی ادویات کی مقامی دستیابی
طاعون کے علاج میں کام آنے والی بنیادی اینٹی بائیوٹکس (جیسے ڈاکسی سائکلین اور سیپروفلوکساسین) پاکستان کی مقامی فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں وافر اور سستے داموں دستیاب ہیں۔
ایئرپورٹ اور ہیلتھ پروٹوکول
انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز (IHR) کے تحت تیز بخار یا مشتبہ انفیکشن والے مسافروں کی اسکریننگ معمول کا حصہ ہے، اور روس سے پاکستان آنے والے کسی مسافر میں خطرے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔
خوف بمقابلہ زمینی حقیقت
سوشل میڈیا پر ’بلیک ڈیتھ‘ کا نام سنسنی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے، جبکہ حقیقت میں قومی ادارۂ صحت (NIH) اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے مطابق کسی ہنگامی الرٹ کی ضرورت نہیں۔
جب 2017 میں خطرہ حقیقت بن گیا
طاعون صرف تاریخی کتابوں کی بیماری نہیں، اس کی ایک جدید مثال 2017 میں مڈغاسکر میں سامنے آئی تھی۔
اگست سے نومبر تک وہاں طاعون کے 2 ہزار 348 تصدیق شدہ، ممکنہ اور مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے اور 202 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں 1,791 کیسز کو پھیپھڑوں کے طاعون کے طور پر درجہ بند کیا گیا تھا۔
یہ خطرناک بیماری بڑے شہروں سمیت 55 اضلاع تک پہنچ گئی تھی اور اس کے باوجود اس وبا کو روک لیا گیا تھا۔
اس بیماری میں تقریباً 7,300 رابطوں تک پہنچ کر علاج فراہم کیا گیا، جبکہ بڑے پیمانے پر اینٹی بائیوٹکس، نگرانی اور رابطوں کی تلاش نے بیماری کی رفتار توڑنے میں مدد دی۔
کیا ’بلیک ڈیتھ‘ واقعی واپس آسکتی ہے؟
طاعون کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2019 سے 2025 کے دوران رپورٹ ہونے والے انسانی کیسز کی بڑی تعداد جمہوریہ کانگو اور مڈغاسکر سے سامنے آئی۔ یعنی بیکٹیریا آج بھی ہمارے سیارے پر موجود ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کی موجودگی اور عالمی وبا بن جانا دو الگ الگ باتیں ہیں۔
ارکتسک کے واقعے میں فی الحال طاعون کی تصدیق نہیں ہوئی، مسلسل انسانی منتقلی کا ثبوت نہیں ملا اور رابطوں کی نگرانی کی جاچکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت اور یورپی ماہرین اسے فی الوقت کسی نئی عالمی وبا کا آغاز نہیں سمجھ رہے۔
اس کے باوجود سائبیریا کی یہ پُراسرار موت ایک اہم یاد دہانی ضرور ہے کہ’بلیک ڈیتھ‘ کا جراثیم تاریخ میں دفن نہیں ہوا۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج اس کے مقابل انسان کے پاس اینٹی بائیوٹکس، جدید لیبارٹریاں، فوری تشخیص، قرنطینہ اور رابطوں کا سراغ لگانے جیسے ہتھیار موجود ہیں۔
یعنی طاعون آج بھی خطرناک ہے، لیکن دنیا اب چودھویں صدی والی دنیا نہیں رہی۔