براہ راست نشریات

’کورونا امریکا نے بنایا اور دنیامیں پھیلایا‘: تلسی گبارڈ کا تہلکہ خیز انکشاف

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
کووڈ -19 کا ماخذ، تلسی گبارڈ کے الزامات اور ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی میں امریکی فنڈنگ کا تنازع
تاریخ میں لیب سے وائرس لیک ہونے کے تقریباً 70 واقعات درج ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

سابق امریکی انٹیلی جنس ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے عہدہ چھوڑنے سے قبل ایک بڑا سیاسی دھماکہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں

گبارڈ نے اینتھونی فاؤچی پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی میں کورونا وائرس کی خصوصیات بڑھانے کے لیے ’گیین آف فنکشن‘ تحقیق پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے۔

متنازع تحقیق اور فاؤچی کا کردار

گبارڈ کے مطابق فاؤچی نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کووڈ -19 کے ماخذ سے متعلق رپورٹوں کو متاثر کیا۔ 

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کانگریس کے سامنے اس تحقیق میں اپنے کردار کو چھپایا اور اسے قدرتی ماخذ قرار دے کر لیب سے وائرس لیک ہونے کے امکانات کو دبایا۔

گیین آف فنکشن تحقیق کیا ہے؟

یہ طبی اور سائنسی تحقیق وائرس یا جانداروں میں جینیاتی تبدیلیاں لاتی ہے تاکہ ان کی افزائش یا زہریلے پن کو بڑھایا جا سکے۔

اس کا مقصد مستقبل کی وباؤں کے خلاف ویکسین بنانا ہوتا ہے، تاہم ناقدین اسے خطرناک حد تک انسانی جانوں کے لیے ایک ممکنہ خطرہ سمجھتے ہیں۔

کووڈ -19 کا ماخذ، تلسی گبارڈ کے الزامات اور ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی میں امریکی فنڈنگ کا تنازع
تنازع صرف اس بات پر ہے کہ کیا یہ تحقیق مقررہ حفاظتی حدود سے تجاوز کر گئی تھی (فوٹو: انٹرنیٹ)

لیب لیک کا خوف اور تاریخی حقائق

تاریخ میں لیب سے وائرس لیک ہونے کے تقریباً 70 واقعات درج ہیں۔

ان میں 1977 کی H1N1 انفلوئنزا، 1979 میں سوویت یونین سے انتھریکس کا اخراج اور 2003 کے سارس وائرس کا لیب سے دوبارہ خارج ہونا شامل ہے، جو اس نوعیت کی تحقیق کے خطرات کو واضح کرتے ہیں۔

امریکی فنڈنگ اور ووہان کا تنازع

اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشن ڈیزیز نے ’ایکوس ہیلتھ‘ اتحاد کو فنڈز دیے، جس نے 2014 سے 2019 کے درمیان ووہان انسٹی ٹیوٹ کو تقریباً 6 لاکھ ڈالر منتقل کیے۔

تنازع صرف اس بات پر ہے کہ کیا یہ تحقیق مقررہ حفاظتی حدود سے تجاوز کر گئی تھی۔

سائنسی برادری کا مؤقف

سائنسی حلقے اب بھی وائرس کے قدرتی ماخذ (جانوروں سے انسانوں میں منتقلی) کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی ایک ماہر کمیٹی کے مطابق اگرچہ لیب سے اخراج کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا، تاہم ٹھوس سائنسی شواہد تاحال قدرتی منتقلی کی حمایت کرتے ہیں۔

کووڈ -19 کا ماخذ، تلسی گبارڈ کے الزامات اور ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی میں امریکی فنڈنگ کا تنازع
گبارڈ کے مطابق فاؤچی نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کووڈ -19 کے ماخذ سے متعلق رپورٹوں کو متاثر کیا (فوٹو: انٹرنیٹ)

بائیو ٹیکنالوجی اور مستقبل کے خطرات

کووڈ-19 کے بعد دنیا بھر میں ہائی سیکیورٹی لیبز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کو خدشہ ہے کہ سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام ان تحقیقی مراکز کے پھیلاؤ کی رفتار کے ساتھ قدم نہیں ملا پا رہے۔ 

اس کے علاوہ جدید مصنوعی ذہانت  کا بائیو سیکیورٹی میں کردار اب ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔

سیاسی کشمکش بمقابلہ سائنسی حقیقت

حقیقت یہ ہے کہ کووڈ-19 کے ماخذ پر جاری بحث اب سائنسی سے زیادہ سیاسی ہو چکی ہے۔ یہ معاملہ امریکی اداروں کے اندر احتساب اور شفافیت کی جنگ میں تبدیل ہو گیا ہے۔

اینتھونی فاؤچی ایک طرف سائنسی عقلیت کی علامت ہیں تو دوسری طرف ان کے مخالفین کے نزدیک وہ بیوروکریسی کے استحقاق کا استعارہ ہیں۔

کورونا وائرس کے اصل ماخذ کے حوالے سے شکوک و شبہات بلاشبہ موجود ہیں، لیکن ان کا حل محض سیاسی بیان بازی میں نہیں۔ 

مبصرین کے مطابق اصل خطرہ لیبز میں ہونے والی ایسی تحقیق ہے جو بائیو ہتھیار بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 

مستقبل کے تحفظ کے لیے سخت عالمی نگرانی اور شفافیت ناگزیر ہے تاکہ انسانیت کو کسی اور عالمگیر وبا سے محفوظ رکھا جا سکے۔