براہ راست نشریات

انسانی دماغ اور یادوں کو کنٹرول کرنا ممکن؟ حیران کن تحقیق

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
انسانی دماغ اور یادداشت کنٹرول کے لیے آپٹوجینیٹکس کی نیلی روشنی کا خاکہ
یہ سائنس فکشن فلم کا منظر لگتا ہے، مگر سائنس دان جانوروں پر اپنے تجربات میں ایسا کرچکے ہیں
🧠

فیکٹ باکس: روشنی سے دماغ کیسے کنٹرول ہوتا ہے؟

+
مرحلہ 1

کائی کا نوری پروٹین

یک خلوی سبز کائی میں روشنی محسوس کرنے والا چینل روڈوپسن-2 پروٹین پایا جاتا ہے، جو نیلی روشنی پڑتے ہی انتہائی تیزی سے برقی راستہ کھول دیتا ہے۔

مرحلہ 2

جینیاتی پیوند کاری

سائنس دان اس پروٹین کے جینز کو وائرس کی مدد سے دماغ کے منتخب اعصابی خلیوں (نیورونز) میں داخل کر کے انہیں روشنی کے لیے حساس بناتے ہیں۔

مرحلہ 3

آپٹیکل فائبر سوئچ

بال سے بھی باریک فائبر کے ذریعے دماغ کے اس مخصوص مقام پر نیلی روشنی ڈالی جاتی ہے، جو مطلوبہ خلیوں کے لیے فوری بٹن کا کام کرتی ہے۔

مرحلہ 4

0.2 ملی سیکنڈ کا ردعمل

روشنی چھوتے ہی خلیے کے برقی چینلز فعال ہو جاتے ہیں، جس سے مطلوبہ حرکت، جذبہ یا کیفیت فوری طور پر برقی سگنل بن کر نمودار ہوتی ہے۔

ذرا تصور کریں کہ ایک شخص کے ذہن میں برسوں پرانی خوفناک یاد موجود ہے۔ سائنس دان صرف روشنی کی ایک شعاع سے اس یاد سے جڑے دماغی خلیوں کو فعال کردیں اور وہ خوف دوبارہ لوٹ آئے۔

مزید پڑھیں

بظاہر یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر لگتا ہے، مگر سائنس دان جانوروں پر اپنے تجربات میں ایسا کرچکے ہیں۔

یہی وہ حیران کن سائنسی سفر ہے، جس نے 2026 کے طب کے نوبیل انعام کو خاص بنا دیا۔ ایک ایسی دریافت، جس کی جڑیں ایک ننھی سی کائی میں ملتی ہیں، مگر اس نے سائنس کو دماغ کے مخصوص خلیوں کو روشنی سے آن اور آف کرنے کا راستہ دکھا دیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انسانی دماغ کے راز جاننے کی یہ کوشش ہمیں ایک ہزار سال پیچھے ابنِ سینا تک بھی لے جاتی ہے۔

اوورسیز پوسٹ

دماغ اور یادداشت پر کنٹرول: سائنسی انقلاب

روشنی کے ذریعے دماغی خلیوں کو آن اور آف کرنے کی حیران کن دریافت پر نوبیل انعام کا اعزاز۔

آپٹوجینیٹکس کی بدولت سائنس دانوں نے مخصوص خلیوں کو روشنی سے فعال کر کے یادیں بیدار کرنے اور اعصابی بیماریوں کے علاج کا نیا راستہ دریافت کر لیا۔

🔬 نوبیل انعام برائے طب

2026 سال

کارل ڈائسراتھ، پیٹر ہیگمان اور جارج ناگل کو روشنی کے ذریعے خلیات کو قابو کرنے کی انقلابی دریافت پر اعزاز دیا گیا۔

⚡ برق رفتار ردعمل

0.2 ملی سیکنڈ

کائی سے ملنے والا چینل روڈوپسن پروٹین روشنی پڑتے ہی خلیے کا راستہ کھول کر فوری برقی سگنل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

🧠 یادوں کا دوبارہ بیدار ہونا

2012 سال

محققین نے محفوظ ماحول میں نیلی روشنی کے ذریعے چوہوں کے دماغی خلیوں کو متحرک کر کے خوف کی پرانی یاد کامیابی سے واپس جگائی۔

👁️ بصارت کی بحالی کا سنگ میل

40 سال بعد

چار دہائیوں سے نابینا مریض کے ریٹینا میں روشنی کے لیے حساس جینز داخل کر کے اشیا دیکھنے اور پہچاننے کے قابل بنایا گیا۔

ابنِ سینا نے ایک ہزار سال پہلے کیا سوچا تھا؟

گیارہویں صدی میں جب نہ جدید خوردبین تھی، نہ برین اسکین اور نہ نیورو سائنس، ابنِ سینا انسانی ذہن کو سمجھنے کی کوشش کررہے تھے۔

انہوں نے دماغ کے افعال کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے سمجھایا تھا۔ اُن کے نزدیک حواس سے آنے والی معلومات، تخیل، سوچ اور یادداشت کے الگ الگ کام تھے۔

انہوں نے اسی سے متعلق ایک دلچسپ سوال بھی اٹھایا تھا کہ بھیڑ نے کبھی استاد سے نہیں پڑھا کہ بھیڑیا اس کا دشمن ہے، پھر اسے دیکھتے ہی وہ بھاگتی کیوں ہے؟ ابنِ سینا نے اسے ایک اندرونی قوت سے جوڑا۔

💡

ابنِ سینا سے نوبیل تک: ہزار سال میں کیا بدلا؟

تفصیلات
11ویں صدی کا فکری سوال

ابنِ سینا اور اندرونی جبلت

ابنِ سینا نے بھیڑ اور بھیڑیے کی مثال سے سوال اٹھایا کہ بنا کسی استاد کے خوف کیسے جنم لیتا ہے؟ انہوں نے تخیل، یادداشت اور حواس کے افعال کو منطقی طور پر دماغ کے مختلف باطنی حصوں سے منسوب کیا۔

2026 کی سالماتی دریافت

نوبیل انعام اور مادی خلیات

جدید نیورو سائنس نے عمومی حصوں کی بحث ختم کر کے انفرادی خلیات کی سطح پر گرفت حاصل کر لی۔ 2026 کا نوبیل انعام ثابت کرتا ہے کہ خوف اور جذبات کو روشنی کے سوئچ سے باقاعدہ کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

آج نیورو سائنس اسی قسم کے فطری خوف کے پیچھے کام کرنے والے دماغی خلیوں اور سرکٹس کو تلاش کررہی ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ اب سوال یہ نہیں کہ ’یادداشت دماغ کے کس حصے میں ہے؟‘ بلکہ یہ ہے کہ کون سا خلیہ کس یاد، خوف یا احساس سے جڑا ہوا ہے؟ اور کیا اس خلیے کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے؟

2026 کا نوبیل اور دماغ کا نیا دروازہ

2026 کا فزیالوجی یا طب کا نوبیل انعام کارل ڈائسراتھ، پیٹر ہیگمان اور جارج ناگل کو روشنی کے ذریعے آئن چینلز کو کنٹرول کرنے اور آپٹوجینیٹکس سے متعلق دریافتوں پر دیا گیا۔

اس کا نام مشکل ضرور ہے، مگر تصور نسبتاً آسان ہے۔

😨

کیا خوف اور یادیں واقعی آن اور آف ہوسکتی ہیں؟

◀

مرکزی حقیقت: یادیں تجریدی خیال نہیں بلکہ ٹھوس برقی خلیے ہیں

دماغ میں ہر خوفناک یا خوشگوار تجربہ مخصوص اعصابی خلیات کے گچھے (اینگرامز) کی صورت میں نقش ہوتا ہے۔ آپٹوجینیٹکس نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر ان خلیات تک روشنی کا براہ راست رابطہ قائم کر دیا جائے تو وہ یاد جسمانی سطح پر فوری لوٹ آتی ہے۔

خوف کو 'آن' کرنا

نیلی روشنی ڈالنے سے پرانے خطرے سے وابستہ خلیے بیدار ہو جاتے ہیں اور جاندار بغیر کسی بیرونی خطرے کے بالکل اسی طرح خوفزدہ اور ساکت ہو جاتا ہے جیسے وہ ماضی کے سانحے میں تھا۔

خوف کو 'آف' کرنا

مخالف طولِ موج والی روشنی یا مسکن خلیوں کو متحرک کر کے خوف کی برقی لہر کو فوری طور پر معطل کیا جا سکتا ہے، جس سے جاندار کے اعصاب چند ہی لمحوں میں پرسکون ہو جاتے ہیں۔

آپٹوجینیٹکس میں مخصوص خلیوں کو جینیاتی طریقے سے روشنی کے لیے حساس بنایا جاتا ہے۔ پھر روشنی کے ذریعے انہیں انتہائی تیزی سے فعال یا غیر فعال کیا جاسکتا ہے۔

یوں سمجھیں کہ سائنس دانوں کے ہاتھ میں دماغ کے بعض مخصوص خلیوں کے لیے ایک نہایت باریک ’لائٹ سوئچ‘ آگیا ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ اس دریافت کی کہانی انسانی دماغ سے نہیں بلکہ پانی میں تیرنے والی ایک معمولی سی سبز کائی سے شروع ہوئی ہے۔

🔬

چوہے کی یاد کیسے جگائی گئی؟ حیران کن تجربہ

3 مراحل
1

خوف کے خلیات کی نشاندہی

2012 کے تجربے میں چوہوں کو ایک خاص جگہ پر خوفناک تجربے سے گزارا گیا۔ اس دوران دماغ کے ہپوکیمپس میں خوف کی یاد بناتے وقت فعال ہونے والے نیورونز کی درست شناخت کی گئی۔

2

روشنی کے حساس جینز کا داخلہ

سائنس دانوں نے صرف انہی منتخب خلیوں میں کائی سے حاصل کردہ چینل روڈوپسن پروٹین ڈالا، جس سے وہ خلیے نیلی روشنی کے لیے خاص طور پر حساس بن گئے۔

3

محفوظ کمرے میں خوف کا بیدار ہونا

چوہوں کو مکمل پرسکون اور بے خطرہ ماحول میں لایا گیا، جہاں کوئی خطرہ نہ تھا۔ جوں ہی فائبر سے نیلی روشنی ڈالی گئی، چوہے بغیر کسی خطرے کے شدید خوف سے ساکت ہو گئے۔

ننھی سی کائی نے سائنس بدل دی

کلیمائڈوموناس نامی یک خلوی سبز کائی اتنی چھوٹی ہے کہ انسانی آنکھ اسے الگ خلیے کی صورت میں نہیں دیکھ سکتی، مگر اس میں ایک حیرت انگیز صلاحیت ہے کہ یہ روشنی کی طرف تیرتی ہے۔

سوال یہ تھا کہ جس جاندار کے پاس نہ آنکھ ہے اور نہ دماغ، اسے روشنی کا پتا کیسے چلتا ہے؟

پیٹر ہیگمان نے برسوں اس معمے پر تحقیق کی اور انہیں معلوم ہوا کہ اس کائی میں ایسے پروٹین موجود ہیں جو روشنی پڑتے ہی انتہائی تیزی سے ایک راستہ کھول دیتے ہیں، جس سے برقی چارج رکھنے والے ذرات خلیے کے اندر داخل ہوتے اور برقی سگنل پیدا ہوتا ہے۔

ہیگمان اور جارج ناگل کی تحقیق سے بالآخر چینل روڈوپسن نامی روشنی سے فعال ہونے والے پروٹین سامنے آئے۔ خصوصاً چینل روڈوپسن-2 غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ روشنی پڑنے کے صرف 0.2 ملی سیکنڈ بعد یہ فعال ہوسکتا تھا۔

اب اگلا سوال تھا کہ اگر یہ نظام کائی میں کام کرسکتا ہے تو کیا اسے دماغ میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے؟

👁️

اندھی آنکھ سے دماغ تک: اس ٹیکنالوجی کے بڑے امکانات

✦
طبی معجزہ 2021

40 سال بعد بصارت کی جزوی واپسی

آنکھوں کے پردے (ریٹینا) میں روشنی کے حساس جینز داخل کر کے چار دہائیوں سے نابینا شخص کو میز پر رکھی اشیا دیکھنے اور ہاتھ سے پکڑنے کے قابل بنایا گیا۔ یہ انسانی جسم میں اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا عملی ثبوت ہے۔

شدید ڈپریشن اور شیزوفرینیا

ڈپریشن میں خوشی یا انعام کے احساس سے محروم خلیات کو براہ راست روشنی سے جگا کر مریض کے موڈ اور ترغیب کے سرکٹس بحال کرنے کی تحقیق جاری ہے۔

پارکنسن اور موٹر کنٹرول

جسم کے لرزنے اور پٹھوں کے اکڑاؤ کے شکار مریضوں میں حرکت کو کنٹرول کرنے والے نیورونز کو درست وقت پر آن یا آف کر کے توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔

روشنی پڑی اور چوہے کی مونچھیں حرکت کرنے لگیں

یہاں کارل ڈائسراتھ کی کہانی شروع ہوتی ہے۔

ڈائسراتھ نفسیاتی مریضوں کو دیکھ کر ایک بنیادی سوال سے پریشان تھے کہ ڈپریشن کا مریض خوشی کیوں محسوس نہیں کرتا؟ شیزوفرینیا میں وہم کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ وسوسے کا مریض ایک کام بار بار کیوں کرتا ہے؟

وہ دماغ کو مجموعی طور پر نہیں بلکہ مخصوص خلیوں کی سطح پر سمجھنا چاہتے تھے۔

چینل روڈوپسن-2 کی دریافت سامنے آئی تو انہوں نے اس کا جین چوہوں کے اعصابی خلیوں میں استعمال کیا۔ نیلی روشنی پڑتے ہی یہ خلیے فوری طور پر برقی سگنلز دینے لگے۔

2007 میں ان کی ٹیم نے زندہ چوہے کے دماغ کے مخصوص خلیوں کو روشنی کے لیے حساس بنایا اور انتہائی باریک آپٹیکل فائبر کے ذریعے وہاں نیلی روشنی پہنچائی۔ روشنی پڑتی تو چوہے کی مونچھیں حرکت کرتیں، روشنی بند ہوتی تو حرکت رک جاتی۔

سائنس دان پہلی مرتبہ زندہ دماغ میں خلیوں کے ایک مخصوص گروہ کو درست وقت پر ’آن‘ کرکے اس کا اثر رویے میں دیکھ رہے تھے۔

⚠️

کیا مستقبل میں انسان کی یادداشت بھی تبدیل کی جاسکے گی؟

اخلاقی سوال

موجودہ سائنسی حدیں

فی الحال انسانوں کے دماغ میں جینز اور فائبر داخل کر کے یادیں بدلنا ممکن نہیں ہے اور یہ تحقیق صرف جانوروں تک محدود ہے۔ تاہم جانوروں میں یاد کے جذباتی اثر کو کم کرنے کی کامیابی نے مستقبل کے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

جنگی صدمات اور پچھتاوے کا مٹنا

اگر فوجیوں یا حادثات کا شکار افراد کے دردناک احساسات کو مٹا دیا جائے تو کیا انسان اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی صلاحیت اور اخلاقی پچھتاوے سے محروم نہیں ہو جائے گا؟

شخصیت اور آزاد مرضی پر اثر

ہماری یادیں ہی ہماری شناخت ہیں۔ اگر کوئی بیرونی طاقت یا ٹیکنالوجی ماضی کے تجربات اور خوف کو بدل سکتی ہے تو انسان کے فیصلے اور آزاد مرضی کس حد تک محفوظ رہے گی؟

کیا ایک ’یاد‘ دوبارہ جگائی جاسکتی ہے؟

اس تحقیق نے 2012 میں ایک مزید حیران کن موڑ لیا۔

چوہوں کو ایسی جگہ رکھا گیا، جہاں انہوں نے خوفناک تجربہ کیا۔ اس دوران خوف کی یاد بناتے وقت فعال ہونے والے دماغی خلیوں کی نشاندہی کرکے انہیں روشنی کے لیے حساس بنادیا گیا۔

بعد میں انہی چوہوں کو ایک مکمل محفوظ جگہ لے جایا گیا، جہاں کوئی خطرہ نہیں تھا۔ لیکن جیسے ہی انہی مخصوص دماغی خلیوں کو روشنی سے دوبارہ فعال کیا گیا، چوہے خوف سے ساکت ہوگئے۔

گویا روشنی نے خطرہ پیدا نہیں کیا تھا، بلکہ خطرے کی یاد کو دوبارہ جگا دیا تھا۔

یہ تجربہ اس بات کا اہم ثبوت بنا کہ کسی یاد سے وابستہ مخصوص اعصابی خلیوں کو فعال کرکے اس یاد اور اس سے جڑے رویے کو واپس لایا جاسکتا ہے۔

🤖

علاج یا ذہنی کنٹرول؟ مستقبل کا سب سے بڑا سوال

⚡

روشن امکان: بیماریوں کا خاتمہ

اس دریافت کا مثبت رخ الزائمر، پارکنسن، فالج، لاعلاج ڈپریشن اور نابینا پن کے مریضوں کے لیے شفا کی ایک بے مثال کھڑکی کھولتا ہے، جہاں ادویات کے بغیر صرف روشنی سے خلیات فعال ہو سکتے ہیں۔

تاریک خدشہ: ذہن پر اختیار کا خطرہ

سائنس کی تاریخ ثابت کرتی ہے کہ طاقتور ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بھی ممکن ہے۔ اگر جذبات اور فیصلوں کے سرکٹس پر قابو پا لیا گیا تو یہ سوال سر اٹھائے گا کہ اس روشنی کا ریموٹ کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہو گا۔

فیصلہ کن حقیقت: دریافت بذاتِ خود اچھی یا بری نہیں ہوتی؛ اصل سوال یہ ہے کہ انسانیت اس طاقت کو شفا کے لیے سنبھالے گی یا ذہنوں پر قابو پانے کے لیے؟

ڈپریشن سے بینائی تک، امکانات کہاں تک ہیں؟

آپٹوجینیٹکس نے سائنس دانوں کو درد، پیاس، بھوک، انعام، توجہ، سماجی رویے اور جسم کی حیاتیاتی گھڑی سے متعلق دماغی سرکٹس سمجھنے میں مدد دی ہے۔

جانوروں پر تحقیق کے ذریعے ڈپریشن، اضطراب، شیزوفرینیا، الزائمر اور پارکنسن جیسے امراض سے وابستہ اعصابی نظام کو سمجھنے کی کوشش بھی جاری ہے۔

2021 میں ایک ایسے مریض پر تجربے کے نتائج سامنے آئے جو تقریباً 40 سال سے بینائی کھو چکا تھا۔ اس کی آنکھ کے ریٹینا میں روشنی کے لیے حساس پروٹین کا جین داخل کیا گیا اور تربیت کے بعد وہ میز پر موجود بعض اشیا کا مقام پہچاننے اور انہیں پکڑنے کے قابل ہوگیا۔

تاہم دماغ کے اندر آپٹوجینیٹکس کا انسانی استعمال ابھی بنیادی طور پر تحقیقی مرحلے تک محدود ہے۔

←
اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

اگر یادیں بدلی جاسکیں تو؟

یہیں اس حیران کن دریافت کا دوسرا اور قدرے خوفناک رخ سامنے آتا ہے۔

اگر مستقبل میں انسان کی یادوں، جذبات یا فیصلوں سے وابستہ دماغی سرکٹس میں مداخلت ممکن ہوگئی تو اس کا اختیار کس کے پاس ہوگا؟

کیا کسی تکلیف دہ یاد کے درد کو کم کرنا درست ہوگا؟

اور اگر یادوں سے وابستہ احساسات تبدیل کیے جاسکیں تو کیا فوجیوں کے جنگی تجربات سے جڑے خوف یا پچھتاوے کو بھی بدلا جاسکے گا؟

سائنس دان ابھی ایسا کرنے کے قابل نہیں، لیکن نیورو ایتھکس ماہرین ان امکانات پر بحث شروع کرچکے ہیں۔

یہاں خدشہ صرف فوجی استعمال کا نہیں ہے۔ ہماری یادیں ہماری شخصیت کا حصہ ہیں۔ ہم ماضی کے تجربات سے طے کرتے ہیں کہ کس پر اعتماد کرنا ہے، کس چیز سے بچنا ہے اور زندگی میں کون سا راستہ اختیار کرنا ہے۔

اگر انہی یادوں اور ان سے جڑے جذبات کو بدل دیا جائے تو سوال صرف دماغ کا نہیں رہے گا، بلکہ انسان کی شناخت اور آزاد مرضی کا بھی ہوگا۔

ہم سے جڑے رہیں

علاج کی روشنی یا ذہن پر اختیار؟

آپٹوجینیٹکس نے دماغ کی اس دنیا میں ایک کھڑکی کھولی، جو صدیوں تک سائنس کے لیے تقریباً تاریک رہی۔

ممکن ہے اسی راستے سے مستقبل میں لاکھوں انسانوں کے لیے ڈپریشن، پارکنسن، الزائمر اور دوسرے اعصابی و ذہنی امراض کے بہتر علاج سامنے آئیں۔

لیکن انسانی تاریخ ایک سبق دیتی ہے کہ طاقتور سائنسی دریافتیں صرف اس بات سے اچھی یا بری نہیں ہوتیں کہ وہ کیا کرسکتی ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ انہیں استعمال کون اور کس مقصد کے لیے کرتا ہے۔

ایک ہزار سال پہلے ابنِ سینا یہ جاننا چاہتے تھے کہ خوف، خیال اور یادداشت کہاں سے آتے ہیں، جبکہ آج سائنس اس سوال سے کہیں آگے پہنچ رہی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر انسان ایک دن دماغ کے انہی نظاموں پر اثرانداز ہونے کی پوری صلاحیت حاصل کرلے تو کیا وہ اسے صرف بیماری اور تکلیف ختم کرنے کے لیے استعمال کرے گا؟  یا یہی طاقت کسی انسان کے ذہن، یادوں اور فیصلوں پر اختیار کا راستہ بھی بن سکتی ہے؟

🧠 اصل ذرائع ORIGINAL SOURCES 🏅 نوبیل طب 2026، آپٹوجینیٹکس اور روشنی سے دماغی خلیوں کے کنٹرول سے متعلق بنیادی سائنسی حوالہ جات 3 معتبر ذرائع
🏅 نوبیل انعام، دماغ اور آپٹوجینیٹکس
🏅 کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ — نوبیل طب 2026 کا اصل اعلان پیٹر ہیگمان، جارج ناگل اور کارل ڈائسراتھ کو آپٹوجینیٹکس پر نوبیل انعام دینے کا بنیادی ادارہ جاتی اعلان؛ چینل روڈوپسن، نیلی روشنی اور اعصابی خلیوں کو کنٹرول کرنے کی تحقیق کی وضاحت بھی شامل ہے۔ نوبیل اسمبلی / بنیادی ماخذ اصل اعلان کھولیں ↗ 💡 اسٹینفورڈ یونیورسٹی — کارل ڈائسراتھ اور روشنی سے دماغ کا کنٹرول نوبیل انعام یافتہ کارل ڈائسراتھ کی آپٹوجینیٹکس تحقیق، دماغ کے مخصوص اعصابی خلیوں کو روشنی سے آن اور آف کرنے، رویوں اور دماغی بیماریوں کے مطالعے سے متعلق تفصیلی سرکاری رپورٹ۔ Stanford University اصل رپورٹ کھولیں ↗ 🔬 یونیورسٹی آف ورزبرگ — جارج ناگل کی نوبیل تحقیق جارج ناگل، پیٹر ہیگمان اور کارل ڈائسراتھ کی روشنی سے فعال ہونے والے آئن چینلز اور آپٹوجینیٹکس سے متعلق دریافتوں اور دماغی تحقیق میں ان کی اہمیت کی سرکاری تفصیل۔ University of Würzburg اصل رپورٹ کھولیں ↗
📚 ادارتی نوٹ: اس فیچر کی تیاری میں نوبیل اسمبلی سے متعلق کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کے بنیادی اعلان اور نوبیل یافتہ سائنس دانوں سے وابستہ جامعات کے اصل مواد سے استفادہ کیا گیا ہے۔ BY: overseaspost.net