🧠
انسانی دماغ کی وہ 5 صلاحیتیں جو اے آئی میں ابھی نہیں
+
انسانی دماغ کی وہ 5 صلاحیتیں جو اے آئی میں ابھی نہیں
1۔ عمل کے امکان کی فوری پرکھ (Affordance Perception)
انسان کسی منظر کو پکسلز یا بے جان اشیا کا انبار نہیں سمجھتا، بلکہ ایک لمحے میں بھانپ لیتا ہے کہ وہاں کیا کیا جا سکتا ہے؛ مثلاً پتھر پر قدم رکھا جا سکتا ہے، پانی میں تیرا جا سکتا ہے یا پگڈنڈی پر گاڑی چل سکتی ہے۔ جدید ترین اے آئی صرف اشیا کا لیبل لگاتی ہے، ان کے عملی امکانات کا اندازہ نہیں کر پاتی۔
جسمانی تجربہ اور توازن (Embodied Intuition)
انسان نے گرنے، چلنے، ٹھوکر کھانے اور وزن سنبھالنے کا جسمانی تجربہ کیا ہوتا ہے۔ اے آئی کے پاس حقیقی جسم اور حسیات نہ ہونے کی وجہ سے وہ کشش ثقل اور مادی دنیا کے عملی نتائج سے محروم رہتی ہے۔
خودکار لاشعوری نیوی گیشن (OPA Activity)
تحقیق سے ثابت ہوا کہ انسانی دماغ کا OPA حصہ بغیر سوچے سمجھے اور بغیر ارادے کے بھی منظر میں سے گزرنے کے ممکنہ راستے ناپ لیتا ہے، جبکہ کمپیوٹر وژن کو کمانڈ کے بغیر اس کا شعور نہیں ہوتا۔
جامد تصویر سے حرکی تسلسل کا ادراک
انسان جامد تصویر دیکھ کر بھی اگلے قدم کی منصوبہ بندی کر لیتا ہے کہ آگے راستہ کتنا تنگ یا ٹیڑھا ہے۔ اے آئی صرف فریم میں موجود ڈیٹا دیکھتی ہے مگر اگلے لمحات کی پیشگی حرکیات بھانپنے میں چوک جاتی ہے۔
فطری رکاوٹوں کا سیاق و سباق
انسانی ذہن سڑک پر پانی، کیچڑ یا گڑھے کو محض ایک رنگین پیچ نہیں مانتا بلکہ فوراً جان جاتا ہے کہ یہاں گاڑی پھنس سکتی ہے یا بریک فیل ہو سکتی ہے، جو حسابی الگورتھمز کے لیے اب بھی ایک پیچیدہ معمور ہے۔
آپ کراچی کے ساحل، مری کی پگڈنڈی یا لاہور کی کسی مصروف سڑک کی تصویر دیکھیں تو دماغ صرف یہ ہی نہیں بتاتا کہ سامنے پانی، پتھر یا سڑک ہے، بلکہ ایک لمحے میں یہ اندازہ بھی ہو جاتا ہے کہ رستہ ٹیڑھا ہے، چڑھائی ہے، پیدل چلا جا سکتا ہے یا گاڑی بھی چلائی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
بظاہر یہ معمولی لگنے والی انسانی صلاحیت جدید مصنوعی ذہانت کے لیے اب بھی ایک مشکل مسئلہ ہے۔
یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم کے تحقیق کاروں کی PNAS میں شائع ہونے والی تازہ تحقیق کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ دماغ کسی بھی منظر کو صرف اشیا کے مجموعے کے طور پر ہی نہیں دیکھتا بلکہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ وہاں کیا کیا جا سکتا ہے۔
دماغ تصویر نہیں، اگلا قدم بھی پڑھتا ہے
نفسیات میں اس تصور کو ’Affordance‘ کہا جاتا ہے اور آسان زبان میں’کسی جگہ کو دیکھ کر فوراً سمجھ جانا کہ وہاں کون سا عمل ممکن ہے‘۔
انسانی دماغ کسی ماحول کو دیکھ کر فوری طور پر ممکنہ حرکت اور راستے اخذ کر لیتا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت عملی جسمانی تجربہ نہ ہونے کے باعث یہ صلاحیت حاصل نہیں کر سکی۔
انسان کسی بھی راستے، پہاڑ یا ساحل کو دیکھ کر محض اشیاء نہیں پہچانتا بلکہ ایک لمحے میں یہ جان لیتا ہے کہ وہاں چلنا، چڑھنا یا تیرنا ممکن ہے یا نہیں۔
تجربے میں 152 افراد نے مختلف مناظر میں قابلِ عمل راستوں کی تصدیق کی، جس نے انسانی بصارت کے عملی پہلو کو ثابت کیا۔
دماغ کے دو مخصوص مقامات بغیر کسی ارادے کے بھی منظر کو دیکھ کر گزرنے کے راستوں اور نقل و حرکت کے امکانات کی خودکار نقشہ بندی کرتے ہیں۔
مشینی ماڈلز لاکھوں تصاویر سے چیزوں کے نام تو پہچان لیتے ہیں، لیکن ماحول کے ساتھ براہِ راست جسمانی اور عملی تعامل نہ ہونے سے اگلا قدم سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اس تحقیق کے دوران 152 افراد کو 231 حقیقی مقامات کی تصاویر دکھائی گئیں۔
شرکا نے بتایا کہ ان جگہوں پر چلنا، سائیکل یا گاڑی چلانا، تیرنا، کشتی چلانا یا چڑھنا ممکن ہے یا نہیں۔ بعد میں 20 افراد کے دماغ fMRI کے ذریعے دیکھے گئے اور 90 منتخب تصاویر پر ان کا ردعمل ریکارڈ کیا گیا۔
🔬 سائنسی ڈیٹا
فیکٹ باکس: دماغ منظر دیکھ کر فوراً کیا سمجھ لیتا ہے؟
❯
فیکٹ باکس: دماغ منظر دیکھ کر فوراً کیا سمجھ لیتا ہے؟
یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم و PNAS سائنسی تحقیق
PPA اور OPA ریجنز کی فوری فعالیت🚶 قابلِ عبور راستوں کی نشاندہی
آنکھ جھپکنے میں دماغ یہ طے کر لیتا ہے کہ سامنے موجود سطح پر پیدل چلا جا سکتا ہے، قدم پھسلنے کا خدشہ ہے یا اونچائی پر چڑھنے کے لیے سہارے کی ضرورت پڑے گی۔
🚴 موزوں سواری یا ذرائع کا انتخاب
دماغ منظر کو دیکھ کر فوری حساب لگاتا ہے کہ کیا یہاں سائیکل یا موٹر سائیکل چل سکتی ہے، سڑک ہموار ہے یا پھر کشتی رانی اور تیراکی ہی واحد ممکنہ حل ہے۔
⚡ بغیر سوچے متحرک ہونے والا سگنل
تجربے میں شامل 20 افراد کے fMRI اسکینز نے ثابت کیا کہ جب انسان کو حرکت کے بارے میں سوچنے کا نہ بھی کہا جائے، تب بھی بصری مراکز میں حرکت کے راستے روشن رہتے ہیں۔
📐 فاصلے، گہرائی اور خطرے کا ادراک
انسانی نیورونز فلیٹ تصویر کو فوری طور پر سہ جہتی (3D) خلائی میدان میں تبدیل کرتے ہیں، جس سے رکاوٹوں اور محفوظ پناہ گاہوں کا فاصلہ ملی سیکنڈز میں واضح ہو جاتا ہے۔
نتائج میں دماغ کے مناظر کو سمجھنے والے دو حصے، پیرا ہپوکیمپل پلیس ایریا (PPA) اور آکسی پٹل پلیس ایریا (OPA) نمایاں ہوئے۔
دماغ کے یہ حصے صرف سامنے موجود چیزوں کو ہی نہیں پہچان رہے تھے، بلکہ حرکت کے ممکنہ طریقوں کی معلومات بھی ظاہر کر رہے تھے۔ حیرت انگیز طور پر یہ عمل اس وقت بھی جاری رہا جب شرکا سے حرکت کے بارے میں سوچنے کو نہیں کہا گیا تھا۔
We took the robots on a tour of specific areas in a real-world setting, highlighting key places to recall - such as "Lewis’s desk" or "temporary desk area". Then, they were asked to lead us to these locations. 🏢
— Google DeepMind (@GoogleDeepMind) July 11, 2024
Watch more. ↓ pic.twitter.com/Sptm6q31CL
اس سے پہلے کی تحقیق بھی بتا چکی ہے کہ OPA فوری طور پر ایسے راستوں کی ساخت پہچان سکتا ہے جن سے انسان آگے گزر سکتا ہے۔
⚙️
اے آئی کہاں پیچھے رہ جاتی ہے؟ تحقیق کے اہم نکات
◆
اے آئی کہاں پیچھے رہ جاتی ہے؟ تحقیق کے اہم نکات
📊 لیبل لگانے اور عملی برتاؤ کا بنیادی فرق
ڈیپ نیورل نیٹ ورکس اور جدید ماڈلز نے لاکھوں تصاویر اور ویڈیوز کا ڈیٹا کھنگال رکھا ہے۔ وہ پانی کو پانی اور سیڑھی کو سیڑھی تو بتا دیتے ہیں، لیکن انسانی جسم کے ساتھ ان اشیا کے تعامل کی پیچیدگی سمجھنے میں بری طرح ناکام رہتے ہیں۔
انسانی دماغی ماڈل
کامل ہم آہنگیانسان اشیا کو دیکھنے کے ساتھ ہی اپنی جسمانی لچک، عضلات کی طاقت اور توازن کا موازنہ کرتا ہے۔ انسان کے لیے کوئی بھی منظر درحقیقت اگلا قدم اٹھانے کا زندہ نقشہ ہوتا ہے۔
جدید اے آئی اور GPT-4
محدود حسابی فہماگرچہ GPT-4 کو مخصوص انسانی انداز پر پرومپٹ دینے سے اس کے جوابات قدرے بہتر ہوئے، مگر وہ fMRI اسکینز میں ریکارڈ ہونے والے قدرتی انسانی ردعمل کے معیار تک نہیں پہنچ سکا۔
جسمانی تجربے کا فقدان (Lack of Embodiment):
سائنس دانوں کے مطابق اے آئی اس لیے پیچھے ہے کیونکہ اس نے کبھی خود چل کر یا گر کر دنیا کا وزن محسوس نہیں کیا۔ جب تک مصنوعی ذہانت کو حرکت کرنے والے روبوٹک جسم سے نہیں جوڑا جائے گا، وہ انسانوں کی طرح فیصلے نہیں کر سکے گی۔
اے آئی کہاں پیچھے رہ جاتی ہے؟
محققین نے انسانی ردعمل کا مقابلہ مختلف ڈیپ نیورل نیٹ ورکس، تصویری و ویڈیو ماڈلز، لینگویج ماڈلز اور GPT-4 سے بھی کیا ہے۔
روایتی AI ماڈلز اشیا اور مناظر شناخت کرنے میں اچھے نکلے، لیکن انسانی دماغ کی طرح یہ سمجھنے میں پیچھے رہے کہ ’اس جگہ پر کیا کیا جا سکتا ہے؟‘۔
یعنی پانی کو پانی، سڑک کو سڑک پہچان لینا الگ بات، لیکن اسے تیرنے یا چلنے کے امکان سے جوڑنا دوسری بات۔
دلچسپ طور پر جب GPT-4 کو تقریباً وہی کام دیا گیا جو انسانوں نے کیا تھا تو اس کی کارکردگی بہتر ہوئی، مگر انسانی ردعمل سے مکمل مطابقت پھر بھی پیدا نہیں ہوئی۔
پاکستان کے لیے اس تحقیق کا مطلب کیا ہو سکتا ہے؟
▼
پاکستان کے لیے اس تحقیق کا مطلب کیا ہو سکتا ہے؟
مغربی ماڈلز کی حدود اور غیر منظم زمینی چیلنجز
پاکستان کا قدرتی و شہری ماحول مغربی ممالک کی طرح سیدھا اور کمپیوٹرائزڈ نہیں ہے۔ کراچی کے کھڈوں، مری کی پہاڑی چڑھائیوں اور دیہی سڑکوں پر محض اشیا پہچاننے والی اے آئی مکمل طور پر ناکام ہو سکتی ہے جب تک کہ وہ حرکت کے امکانات سمجھنا نہ سیکھے۔
🚗 کراچی و لاہور کی مخلوط ٹریفک کا حل
موٹر سائیکلوں، چنگ چی رکشوں، ریڑھی بانوں اور پیدل چلنے والوں کے درمیان روایتی کیمرے کام نہیں کرتے۔ خودکار گاڑیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کون کس زاویے سے آگے بڑھنے کی گنجائش رکھتا ہے۔
🏔️ قدرتی آفات اور ریسکیو روبوٹکس
سیلاب اور مری یا گلگت کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے بعد امدادی روبوٹس صرف ملبہ پہچاننے کے بجائے یہ طے کر سکیں گے کہ ملبے کے اوپر چڑھنا محفوظ ہے یا نیچے سے راستہ بنانا پڑے گا۔
🌾 زرعی ڈرونز اور فارم مشینری
پنجاب و سندھ کے ناہموار کھیتوں میں اسمارٹ ٹریکٹرز اور ڈرونز فصل کی حالت کے ساتھ ساتھ یہ جان سکیں گے کہ گیلی مٹی میں آگے بڑھنا ممکن ہے یا ٹائر دھنسنے کا خطرہ ہے۔
🎓 یونیورسٹیوں میں مقامی R&D کے مواقع
پاکستانی ٹیک اداروں (NUST, FAST, LUMS) کے محققین کو صرف درآمدی سافٹ ویئر پر انحصار کرنے کے بجائے Embodied AI اور مقامی جغرافیے کے لیے موزوں روبوٹک سسٹمز پر کام کا موقع ملے گا۔
محققین کے نزدیک اس فرق کی ایک ممکنہ وجہ جسمانی تجربے کی کمی ہے۔
انسان نے پانی صرف دیکھا نہیں، بلکہ وہ حرکت، توازن، گرنے اور رکاوٹوں کا عملی تجربہ بھی رکھتا ہے۔ ایک AI نے لاکھوں تصاویر دیکھی ہوں، پھر بھی اس کے پاس ایسا جسم نہیں جو حقیقی دنیا کے ساتھ روزمرہ تعامل کرے۔
یہ فرق مستقبل کے لیے اہم کیوں ہے؟
اگر AI، کسی ماحول میں عمل کے امکانات‘ بہتر سمجھنے لگے تو خودکار گاڑیاں پیدل چلنے والوں، بند راستوں اور قابلِ عبور جگہوں کا زیادہ بہتر اندازہ لگا سکتی ہیں۔
🔭
آگے کیا ہوگا؟ کیا روبوٹس انسانوں کی طرح ماحول سمجھ سکیں گے؟
▼
آگے کیا ہوگا؟ کیا روبوٹس انسانوں کی طرح ماحول سمجھ سکیں گے؟
منظرنامہ 1: ایمباڈیڈ اے آئی کا غلبہ
کمپنیاں صرف ٹیکسٹ یا کیمرہ فیڈ پر تربیت روک کر روبوٹس کو فزیکل سمولیشنز میں چلنے اور وزن اٹھانے کی مشق کرائیں گی، جس سے روبوٹس چند سالوں میں ماحول کی گہرائی سمجھنے لگیں گے۔
منظرنامہ 2: خودکار گاڑیوں میں تعطل
اگر اے آئی عمل کے امکانات (Affordances) کو درست نہ سمجھ سکی تو خودکار کاریں ناگہانی حادثات، کچی سڑکوں اور غیر متوقع انسانی حرکات پر بریک لگا کر ٹریفک جام کرتی رہیں گی۔
منظرنامہ 3: انسانی دماغ سے براہ راست شراکت
صنعتی اور ہنگامی مشنوں میں نیورل لنکس یا ریموٹ انسانی اشاروں کے ذریعے پیچیدہ نیوی گیشن روبوٹ کو سکھائی جائے گی تاکہ الگورتھم کی کوتاہی انسانی عقل سے پوری ہو۔
حتمی سائنسی نچوڑ: حقیقی ذہانت محض یہ جاننے کا نام نہیں کہ سامنے کی دنیا کیسی نظر آتی ہے، بلکہ اصل کمال یہ بھانپنا ہے کہ اس دنیا میں آگے کیا قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ جب تک روبوٹس کو جسمانی تعامل کا احساس نہیں ملے گا، انسان کا دماغ قدرت کا سب سے بے مثل نیوی گیٹر رہے گا۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں گھریلو یا صنعتی روبوٹس بھی صرف چیزیں پہچاننے کے بجائے یہ جان سکیں گے کہ کس چیز کے ساتھ کیا کرنا ممکن ہے۔
اسی تصور سے Embodied AI یا ’جسمانی تجربے سے سیکھنے والی مصنوعی ذہانت‘ کی اہمیت بڑھتی ہے۔
محققین بھی روبوٹکس کے ایسے ماڈلز کو مستقبل کی اہم سمت قرار دیتے ہیں جو دیکھنے کے ساتھ عملی حرکت اور ماحول سے تعامل بھی سیکھیں۔
فیصلہ ابھی باقی ہے
اس تحقیق کی حدود بھی ہیں۔ fMRI تجربے میں صرف 20 افراد شامل تھے، تصاویر جامد تھیں اور دنیا کے ہر AI ماڈل کو نہیں آزمایا گیا۔
خود محققین کہتے ہیں کہ حقیقی زندگی میں مسلسل حرکت اور عملی نیوی گیشن کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
پھر بھی تحقیق ایک دلچسپ سوال چھوڑ جاتی ہے کہ کیا ذہانت صرف یہ جاننے کا نام ہے کہ سامنے کیا ہے، یا اصل کمال یہ سمجھنے میں ہے کہ اب کیا کیا جا سکتا ہے؟
انسانی دماغ کا راز اور اصل طاقت یہی ہے کہ ہم دنیا کو صرف دیکھتے نہیں، اسے عمل کے لیے پڑھتے ہیں۔
🧠🤖 اصل ذرائع ORIGINAL SOURCES انسانی دماغ، حرکت کے امکانات اور مصنوعی ذہانت سے متعلق اصل تحقیق، ڈیٹا اور سائنسی حوالہ جات 5 معتبر ذرائع
DOI: 10.1073/pnas.2414005122 BY: overseaspost.net