🚢
ہرمز بند، پھر بھی تیل کیسے دنیا تک پہنچ رہا ہے؟
+
ہرمز بند، پھر بھی تیل کیسے دنیا تک پہنچ رہا ہے؟
خشکی اور کھلے سمندر کا دوہرا بائی پاس کوریڈور
آبنائے ہرمز پر بارودی خطرات کے بعد تیل کی سپلائی رکی نہیں بلکہ خلیجی ممالک نے سمندری ناکہ بندی کا توڑ زمینی پائپ لائنوں اور کھلے سمندر میں ٹینکرز کی خفیہ منتقلی کے ذریعے کر لیا ہے۔ اس غیر معمولی حکمت عملی سے ترسیل 81 فیصد تک بحال ہو چکی ہے۔
پائپ لائنوں سے بحیرہ احمر تک ترسیل
سعودی عرب مشرقی کنوؤں کا خام تیل پائپ لائن سے ملک کے دوسرے سرے (ینبع) اور متحدہ عرب امارات فجیرہ کی بندرگاہ پر پہنچا رہا ہے، جس سے ہرمز کے تنگ دہانے سے گزرنے کی مجبوری ختم ہو گئی۔
کھلے سمندر میں جہاز سے جہاز منتقلی
خلیج عمان کے محفوظ پانیوں میں ایک ٹینکر سے دوسرے ٹینکر میں تیل کی براہ راست منتقلی (STS) شروع کی گئی ہے۔ اب خطے کا 40 فیصد خام تیل ہرمز کے اندر داخل ہوئے بغیر ہی عالمی منڈیوں کو روانہ ہو رہا ہے۔
دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شامل آبنائے ہرمز شدید بحران کا شکار ہو، ٹینکروں کو خطرات لاحق ہوں اور ایران کی برآمدات تقریباً رک جائیں تو بظاہر اگلی خبر تیل کی قیمت میں تباہ کن اضافے کی ہونی چاہیے تھی۔
مزید پڑھیں
حقیقتاً ایسا خطرہ پیدا بھی ہوا، مگر مشرق وسطیٰ کے تیل نے سمندر کے ساتھ خشکی پر بھی اپنے لیے نئے راستے تلاش کر لیے۔
یہی وہ کہانی ہے جس نے عالمی منڈی کو اب تک 200 ڈالر فی بیرل جیسے انتہائی خطرناک منظرنامے سے بچا رکھا ہے۔
لائن نے ادا کیا۔ یہ مشرقی سعودی عرب کے تیل کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کے بجائے ملک کے دوسری جانب بحیرہ احمر میں ینبع تک پہنچاتی ہے۔
ہرمز بحران اور متبادل تیل گزرگاہیں: عالمی منڈی کا تحفظ
سعودی پائپ لائنز اور بحری راستوں کی تبدیلی نے دنیا کو 200 ڈالر کے شدید بحران سے بچا لیا۔
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن اور متبادل سپلائی چین کے ذریعے خطے کی تیل برآمدات 81 فیصد بحال ہو کر عالمی معیشت کے لیے ڈھال بن گئیں۔
🛢️ زمینی پائپ لائن کا سہارا
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن نے آبنائے ہرمز کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے خام تیل براہِ راست بحیرہ احمر کی بندرگاہ تک پہنچایا۔
🚢 بحری ترسیل کے متبادل راستے
خلیج عمان میں جہاز سے جہاز منتقلی کے ذریعے خطے کا بڑا حصہ بغیر کسی بحری رکاوٹ کے بیرونی منڈیوں کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے۔
📈 سپلائی کی تیز رفتار واپسی
مشرق وسطیٰ سے ایندھن اور خام تیل کی برآمدات بڑھ کر 1 کروڑ 92 لاکھ بیرل تک پہنچ گئیں جس سے سپلائی کا فقدان بڑی حد تک ٹل گیا۔
⚠️ عالمی ذخائر پر طویل دباؤ
تیل کی منتقلی جاری رہنے کے باوجود عالمی انرجی ذخائر شدید متاثر ہوئے ہیں جنہیں معمول کی سطح پر لانے کے لیے 2 سال درکار ہوں گے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
ستمبر کے ڈرون حملوں سے یہ راستہ بھی متاثر ہوا، مگر اسے دوبارہ فعال کردیا گیا ہے۔
سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کے مطابق پائپ لائن سے تیل کا بہاؤ 58 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گیا ہے۔
سعودی ارامکو کے سربراہ امین الناصر کا دعویٰ اس کی اہمیت واضح کرتا ہے کہ یہ پائپ لائن نہ ہوتی تو برینٹ 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتا تھا۔
🛡️
وہ 4 راستے جو تیل کو 200 ڈالر ہونے سے بچا رہے ہیں
✦
وہ 4 راستے جو تیل کو 200 ڈالر ہونے سے بچا رہے ہیں
سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن
مشرقی کنوؤں سے بحیرہ احمر کی ینبع پورٹ تک روزانہ 58 لاکھ بیرل تیل پہنچانے والی یہ پائپ لائن دنیا کا سب سے بڑا دفاعی حصار ثابت ہوئی ہے۔
امارات کا فجیرہ آئل ٹرمینل
حبشان سے فجیرہ تک زمینی پائپ لائن ہرمز کے خطرے سے مکمل آزاد ہے، جہاں سے متحدہ عرب امارات خطے کا سب سے بڑا ایندھن برآمد کنندہ بن کر ابھرا ہے۔
خلیج عمان میں شپ ٹو شپ منتقلی
کھلے سمندر میں ٹینکرز کو آپس میں جوڑ کر ترسیل جاری رکھی گئی، جس کے سبب جنگ سے قبل کے 17 فیصد کے مقابلے اب 40 فیصد تیل آبنائے کے باہر سے لوڈ ہو رہا ہے۔
جی 7 کے 10 کروڑ اسٹریٹجک بیرل
ترسیلی کمی کو پورا کرنے اور قیاس آرائیوں کی کمر توڑنے کے لیے امیر ترین جی 7 ممالک کے ہنگامی تیل کے ذخائر نے منڈی کو وقتی سہارا فراہم کیا۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات کے پاس بھی فجیرہ تک ایسا راستہ موجود ہے جو ہرمز کو بائی پاس کرتا ہے۔
اب فجیرہ میں ایندھن کی سرگرمی دوبارہ بڑھنے لگی ہے اور ستمبر میں متحدہ عرب امارات ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کا بڑا فیول آئل برآمد کنندہ بن گیا ہے۔
براستہ سمندر بھی تیل ترسیل کا طریقہ تبدیل
یہ کہانی صرف پائپ لائنوں تک محدود نہیں، بلکہ تیل کی صنعت نے سمندر میں بھی اپنا طریقہ بدل لیا ہے۔
خلیج عمان میں ایک ٹینکر سے دوسرے ٹینکر میں تیل منتقل کرکے کھیپیں آگے بھیجی جارہی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خطے کے خام تیل کا تقریباً 40 فیصد اب ہرمز سے گزرے بغیر باہر نکل رہا ہے، جبکہ جنگ سے پہلے یہ شرح صرف 17 فیصد تھی۔
Gulf crude and condensate exports ex-Iran recovered to about 16.5M bpd in September, near pre-war levels, Standard Chartered estimates. But only 60% crossed Hormuz vs 83% pre-war, so barrels move at higher cost. #Oil #Hormuz #CrudeOil #OPEC https://t.co/m0ZcfePeak
— OilPrice.com (@OilandEnergy) October 6, 2026
ستمبر میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق، کویت، قطر، عمان اور بحرین سے خام تیل، کنڈینسیٹ اور ریفائنڈ ایندھن کی ترسیل اوسطاً ایک کروڑ 92 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔
جنگ سے پہلے یہی مقدار 2 کروڑ 36 لاکھ بیرل تھی، یعنی بحالی 81 فیصد سے زیادہ ہوچکی ہے۔
سعودی عرب اس واپسی اور بحالی کا اہم ترین کردار بنا ہے۔ اس کی خام تیل کی ترسیل اگست کے مقابلے میں تقریباً 42 لاکھ بیرل یومیہ بڑھ کر ستمبر میں 66 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ چکی ہے۔
پاکستان کی جیب تک ہرمز بحران کا جھٹکا کیسے پہنچ سکتا ہے؟
◀
پاکستان کی جیب تک ہرمز بحران کا جھٹکا کیسے پہنچ سکتا ہے؟
پیٹرول اور ڈیزل کی مقامی قیمتیں
امریکی ایجنسی کے مطابق برینٹ کی اوسط قیمت 105 ڈالر کے گرد رہنے کی توقع ہے، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر ریلیف کے امکانات محدود رہیں گے۔
درآمدی بل اور زرمبادلہ پر دباؤ
پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے کی صورت میں اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر بیرونی ادائیگیوں کا غیر معمولی بوجھ بڑھے گا۔
شپنگ اور انشورنس کے اضافی اخراجات
خلیجی پانیوں میں ٹینکرز کے کرایے 12 لاکھ ڈالر یومیہ تک جا پہنچے ہیں۔ خام تیل کی پاکستان تک نقل و حمل کے یہ اضافی فریٹ چارجز بالآخر عام صارف کی جیب سے وصول ہوں گے۔
بجلی کی لاگت اور مہنگائی کی لہر
ڈیزل کی عالمی قلت اور مہنگے فرنس آئل کے سبب بجلی کی پیداواری لاگت، زرعی ٹیوب ویلز کے اخراجات اور اشیائے خورد و نوش کے مال برداری کرایوں میں نیا اضافہ ہو سکتا ہے۔
200 ڈالر کا خطرہ ٹل گیا، ختم نہیں ہوا
ویٹول کے چیف ایگزیکٹو رسل ہارڈی کے مطابق حالیہ دنوں میں تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ بیرل خام تیل اور 20 لاکھ بیرل ریفائنڈ مصنوعات روزانہ مشرق وسطیٰ سے باہر جارہی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً ایک کروڑ سے ایک کروڑ 40 لاکھ بیرل یومیہ کا بہاؤ برقرار رہنا عالمی منڈی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
لیکن ایک نئی مشکل سامنے آچکی ہے۔ اب مسئلہ صرف یہ نہیں کہ تیل موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے منزل تک کیسے اور کتنی قیمت پر پہنچایا جائے۔
ٹینکروں کی کمی، انشورنس اور سکیورٹی کے بڑھتے اخراجات اور پیچیدہ بحری راستوں نے شپنگ مہنگی کردی ہے۔ بعض مشرق وسطیٰ تا ایشیا ٹینکر کرایے 12 لاکھ ڈالر یومیہ سے بھی اوپر پہنچ چکے ہیں۔
⚠️
تیل موجود ہے، پھر دنیا کو اصل خطرہ کس چیز کا ہے؟
پوشیدہ خطرات
تیل موجود ہے، پھر دنیا کو اصل خطرہ کس چیز کا ہے؟
ڈیزل بحران: ریفائنڈ ایندھن صرف 60 فیصد بحال
خام تیل کی ترسیل تو 91 فیصد تک بحال ہو گئی، مگر ریفائنریز کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث تیار ڈیزل کی ترسیل صرف 60 فیصد ہے۔ شیل کے ریفائننگ مارجن ریکارڈ 42 ڈالر فی بیرل پر پہنچنا بتاتا ہے کہ اصل قحط ڈیزل کا ہے۔
شپنگ لاگت: 12 لاکھ ڈالر یومیہ کا کرایہ
مسئلہ تیل کے کنوؤں سے نکلنے کا نہیں بلکہ منزل تک پہنچانے کا ہے۔ ٹینکرز کی قلت اور انشورنس کے محشر نے ایشیا کے سمندری روٹس پر جہازوں کے کرایے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیے ہیں جس سے لاگت بے قابو ہو رہی ہے۔
ارامکو کی وارننگ: عالمی تیل کے ذخائر میں بحران کے دوران 3 ارب بیرل کا دیوہیکل خلا پیدا ہو چکا ہے، جسے دوبارہ معمول پر لانے کے لیے مسلسل دو سال کا طویل عرصہ درکار ہو گا۔
ڈیزل اور دوسرے ایندھن کو خطرہ
خام تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 91 فیصد تک واپس آگئی ہے، مگر ریفائنڈ ایندھن کی بحالی صرف 60 فیصد کے قریب ہے۔ یہی فرق آنے والے مہینوں میں عام صارف کے لیے زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ و روس میں ریفائننگ نظام کو پہنچنے والے نقصان نے ڈیزل سمیت تیار ایندھن کی قلت بڑھائی ہے۔
شیل کی ریفائننگ مارجن بھی 2026 کی تیسری سہ ماہی میں ریکارڈ 42 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو عالمی فیول مارکیٹ میں غیر معمولی دباؤ کی علامت ہے۔
اسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گروپ 7 (G7) ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل خام تیل اور ڈیزل جاری کرنے پر اتفاق کیا۔
اس کے باوجود ارامکو کے امین الناصر خبردار کرچکے ہیں کہ بحران کے دوران عالمی رسد میں تقریباً 3 ارب بیرل کا نقصان ہوا اور ذخائر دوبارہ معمول کی سطح پر لانے میں 2 سال لگ سکتے ہیں۔
💥
اگر متبادل راستے بند ہوئے تو عالمی منڈی میں کیا ہوگا؟
▼
اگر متبادل راستے بند ہوئے تو عالمی منڈی میں کیا ہوگا؟
برینٹ کروڈ کا 200 ڈالر فی بیرل کا تاریخی دھماکہ
ارامکو کے سربراہ کے مطابق اگر ینبع پائپ لائن یا فجیرہ کے ٹرمینلز کسی حملے کی زد میں آ کر بند ہوئے تو عالمی مارکیٹ سے لاکھوں بیرل راتوں رات غائب ہو جائیں گے، جس کے بعد قیمتیں بے لگام ہو کر 200 ڈالر فی بیرل کی سطح کو چھو لیں گی۔
ٹرانسپورٹیشن اور مینوفیکچرنگ کا پہیہ جام
ڈیزل اور جیٹ فیول کی ترسیل منقطع ہونے سے ایئرلائنز، بحری کارگو اور ہیوی ٹرانسپورٹ مفلوج ہو جائے گی۔ ریفائنریز بند ہونے سے دنیا بھر کی صنعتی سپلائی چین مکمل طور پر جمود کا شکار ہو جائے گی۔
عالمی افراطِ زر کا سونامی اور مالیاتی دیوالیہ پن
تیل کی اس سطح پر درآمدی معیشتوں کے زرمبادلہ کے ذخائر چند ہفتوں میں ختم ہو جائیں گے۔ شرح سود اور مہنگائی میں بے قابو اضافے سے دنیا 1970ء کی دہائی سے بھی بدترین کساد بازاری (Stagflation) میں داخل ہو جائے گی۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟
پاکستان کے لیے ہرمز کا بحران زیادہ دور کی کشمکش نہیں ہے۔
پاکستان خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کا درآمد کنندہ ہے، اس لیے عالمی قیمت، شپنگ اور سپلائی چین میں بڑی تبدیلی پاکستانی درآمدی لاگت کے لیے اہم بن جاتی ہے۔
سرکاری اعدادوشمار میں بھی پیٹرولیم خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات پاکستان کی بڑی درآمدات میں شامل ہیں۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے اب 2026 کی آخری سہ ماہی میں برینٹ کی اوسط قیمت 105 ڈالر فی بیرل رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
ادارے کے مطابق عالمی ذخائر میں تیز کمی اور ڈیزل کی تنگ سپلائی قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔
اس طرح ہرمز کے معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا تیل کی مکمل بندش سے تو بچ گئی، لیکن بحران ختم نہیں ہوا۔ سعودی پائپ لائنیں، فجیرہ، بحیرہ احمر اور سمندر میں ٹینکر سے ٹینکر منتقلی نے عالمی منڈی کو سانس لینے کا وقت ضرور دیا ہے۔
اصل بات یہ نہیں کہ تیل نکل رہا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ راستے کب تک محفوظ اور فعال رہ سکتے ہیں؟ کیونکہ اگر یہ عارضی نظام بھی متاثر ہوا تو 200 ڈالر فی بیرل کا وہ خطرہ، جو فی الحال دور دکھائی دیتا ہے، کیا دوبارہ عالمی معیشت کے دروازے پر دستک دے سکتا ہے۔