براہ راست نشریات

سعودی عرب گیم چینجر: دنیا ہرمز بحران کے بڑے جھٹکے سے بچ گئی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز بحران اور تیل سپلائی کے لیے متبادل سمندری راستوں اور آئل ٹینکرز کا منظر
بحران میں سب سے اہم کردار سعودی عرب کی ’ایسٹ ویسٹ‘ پائپ لائن نے ادا کیا
🚢

ہرمز بند، پھر بھی تیل کیسے دنیا تک پہنچ رہا ہے؟

+

پائپ لائنوں سے بحیرہ احمر تک ترسیل

سعودی عرب مشرقی کنوؤں کا خام تیل پائپ لائن سے ملک کے دوسرے سرے (ینبع) اور متحدہ عرب امارات فجیرہ کی بندرگاہ پر پہنچا رہا ہے، جس سے ہرمز کے تنگ دہانے سے گزرنے کی مجبوری ختم ہو گئی۔

کھلے سمندر میں جہاز سے جہاز منتقلی

خلیج عمان کے محفوظ پانیوں میں ایک ٹینکر سے دوسرے ٹینکر میں تیل کی براہ راست منتقلی (STS) شروع کی گئی ہے۔ اب خطے کا 40 فیصد خام تیل ہرمز کے اندر داخل ہوئے بغیر ہی عالمی منڈیوں کو روانہ ہو رہا ہے۔

دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شامل آبنائے ہرمز شدید بحران کا شکار ہو، ٹینکروں کو خطرات لاحق ہوں اور ایران کی برآمدات تقریباً رک جائیں تو بظاہر اگلی خبر تیل کی قیمت میں تباہ کن اضافے کی ہونی چاہیے تھی۔

مزید پڑھیں

حقیقتاً ایسا خطرہ پیدا بھی ہوا، مگر مشرق وسطیٰ کے تیل نے سمندر کے ساتھ خشکی پر بھی اپنے لیے نئے راستے تلاش کر لیے۔

یہی وہ کہانی ہے جس نے عالمی منڈی کو اب تک 200 ڈالر فی بیرل جیسے انتہائی خطرناک منظرنامے سے بچا رکھا ہے۔

ہرمز کا متبادل اچانک کتنا اہم ہوگیا؟
اس بحران میں سب سے اہم کردار سعودی عرب کی ’ایسٹ ویسٹ‘ پائپ 

لائن نے ادا کیا۔ یہ مشرقی سعودی عرب کے تیل کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کے بجائے ملک کے دوسری جانب بحیرہ احمر میں ینبع تک پہنچاتی ہے۔

لوگو

ہرمز بحران اور متبادل تیل گزرگاہیں: عالمی منڈی کا تحفظ

سعودی پائپ لائنز اور بحری راستوں کی تبدیلی نے دنیا کو 200 ڈالر کے شدید بحران سے بچا لیا۔

سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن اور متبادل سپلائی چین کے ذریعے خطے کی تیل برآمدات 81 فیصد بحال ہو کر عالمی معیشت کے لیے ڈھال بن گئیں۔

🛢️ زمینی پائپ لائن کا سہارا

5.8 ملین بیرل روزانہ

سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن نے آبنائے ہرمز کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے خام تیل براہِ راست بحیرہ احمر کی بندرگاہ تک پہنچایا۔

🚢 بحری ترسیل کے متبادل راستے

40% بائی پاس برآمدات

خلیج عمان میں جہاز سے جہاز منتقلی کے ذریعے خطے کا بڑا حصہ بغیر کسی بحری رکاوٹ کے بیرونی منڈیوں کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے۔

📈 سپلائی کی تیز رفتار واپسی

81% مجموعی بحالی

مشرق وسطیٰ سے ایندھن اور خام تیل کی برآمدات بڑھ کر 1 کروڑ 92 لاکھ بیرل تک پہنچ گئیں جس سے سپلائی کا فقدان بڑی حد تک ٹل گیا۔

⚠️ عالمی ذخائر پر طویل دباؤ

3 ارب بیرل خسارہ

تیل کی منتقلی جاری رہنے کے باوجود عالمی انرجی ذخائر شدید متاثر ہوئے ہیں جنہیں معمول کی سطح پر لانے کے لیے 2 سال درکار ہوں گے۔

ستمبر کے ڈرون حملوں سے یہ راستہ بھی متاثر ہوا، مگر اسے دوبارہ فعال کردیا گیا ہے۔

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کے مطابق پائپ لائن سے تیل کا بہاؤ 58 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گیا ہے۔

سعودی ارامکو کے سربراہ امین الناصر کا دعویٰ اس کی اہمیت واضح کرتا ہے کہ یہ پائپ لائن نہ ہوتی تو برینٹ 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتا تھا۔

🛡️

وہ 4 راستے جو تیل کو 200 ڈالر ہونے سے بچا رہے ہیں

✦
سعودی عرب کا پرچم راستہ 1

سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن

مشرقی کنوؤں سے بحیرہ احمر کی ینبع پورٹ تک روزانہ 58 لاکھ بیرل تیل پہنچانے والی یہ پائپ لائن دنیا کا سب سے بڑا دفاعی حصار ثابت ہوئی ہے۔

متحدہ عرب امارات کا پرچم راستہ 2

امارات کا فجیرہ آئل ٹرمینل

حبشان سے فجیرہ تک زمینی پائپ لائن ہرمز کے خطرے سے مکمل آزاد ہے، جہاں سے متحدہ عرب امارات خطے کا سب سے بڑا ایندھن برآمد کنندہ بن کر ابھرا ہے۔

راستہ 3

خلیج عمان میں شپ ٹو شپ منتقلی

کھلے سمندر میں ٹینکرز کو آپس میں جوڑ کر ترسیل جاری رکھی گئی، جس کے سبب جنگ سے قبل کے 17 فیصد کے مقابلے اب 40 فیصد تیل آبنائے کے باہر سے لوڈ ہو رہا ہے۔

راستہ 4

جی 7 کے 10 کروڑ اسٹریٹجک بیرل

ترسیلی کمی کو پورا کرنے اور قیاس آرائیوں کی کمر توڑنے کے لیے امیر ترین جی 7 ممالک کے ہنگامی تیل کے ذخائر نے منڈی کو وقتی سہارا فراہم کیا۔

اسی طرح متحدہ عرب امارات کے پاس بھی فجیرہ تک ایسا راستہ موجود ہے جو ہرمز کو بائی پاس کرتا ہے۔

اب فجیرہ میں ایندھن کی سرگرمی دوبارہ بڑھنے لگی ہے اور ستمبر میں متحدہ عرب امارات ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کا بڑا فیول آئل برآمد کنندہ بن گیا ہے۔

براستہ سمندر بھی تیل ترسیل کا طریقہ تبدیل

یہ کہانی صرف پائپ لائنوں تک محدود نہیں، بلکہ تیل کی صنعت نے سمندر میں بھی اپنا طریقہ بدل لیا ہے۔

خلیج عمان میں ایک ٹینکر سے دوسرے ٹینکر میں تیل منتقل کرکے کھیپیں آگے بھیجی جارہی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خطے کے خام تیل کا تقریباً 40 فیصد اب ہرمز سے گزرے بغیر باہر نکل رہا ہے، جبکہ جنگ سے پہلے یہ شرح صرف 17 فیصد تھی۔

ستمبر میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق، کویت، قطر، عمان اور بحرین سے خام تیل، کنڈینسیٹ اور ریفائنڈ ایندھن کی ترسیل اوسطاً ایک کروڑ 92 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔

جنگ سے پہلے یہی مقدار 2 کروڑ 36 لاکھ بیرل تھی، یعنی بحالی 81 فیصد سے زیادہ ہوچکی ہے۔

سعودی عرب اس واپسی اور بحالی کا اہم ترین کردار بنا ہے۔ اس کی خام تیل کی ترسیل اگست کے مقابلے میں تقریباً 42 لاکھ بیرل یومیہ بڑھ کر ستمبر میں 66 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ چکی ہے۔

پاکستان کا پرچم

پاکستان کی جیب تک ہرمز بحران کا جھٹکا کیسے پہنچ سکتا ہے؟

◀
جھٹکا 1

پیٹرول اور ڈیزل کی مقامی قیمتیں

امریکی ایجنسی کے مطابق برینٹ کی اوسط قیمت 105 ڈالر کے گرد رہنے کی توقع ہے، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر ریلیف کے امکانات محدود رہیں گے۔

جھٹکا 2

درآمدی بل اور زرمبادلہ پر دباؤ

پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے کی صورت میں اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر بیرونی ادائیگیوں کا غیر معمولی بوجھ بڑھے گا۔

جھٹکا 3

شپنگ اور انشورنس کے اضافی اخراجات

خلیجی پانیوں میں ٹینکرز کے کرایے 12 لاکھ ڈالر یومیہ تک جا پہنچے ہیں۔ خام تیل کی پاکستان تک نقل و حمل کے یہ اضافی فریٹ چارجز بالآخر عام صارف کی جیب سے وصول ہوں گے۔

جھٹکا 4

بجلی کی لاگت اور مہنگائی کی لہر

ڈیزل کی عالمی قلت اور مہنگے فرنس آئل کے سبب بجلی کی پیداواری لاگت، زرعی ٹیوب ویلز کے اخراجات اور اشیائے خورد و نوش کے مال برداری کرایوں میں نیا اضافہ ہو سکتا ہے۔

200 ڈالر کا خطرہ ٹل گیا، ختم نہیں ہوا

ویٹول کے چیف ایگزیکٹو رسل ہارڈی کے مطابق حالیہ دنوں میں تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ بیرل خام تیل اور 20 لاکھ بیرل ریفائنڈ مصنوعات روزانہ مشرق وسطیٰ سے باہر جارہی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً ایک کروڑ سے ایک کروڑ 40 لاکھ بیرل یومیہ کا بہاؤ برقرار رہنا عالمی منڈی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

لیکن ایک نئی مشکل سامنے آچکی ہے۔ اب مسئلہ صرف یہ نہیں کہ تیل موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے منزل تک کیسے اور کتنی قیمت پر پہنچایا جائے۔

ٹینکروں کی کمی، انشورنس اور سکیورٹی کے بڑھتے اخراجات اور پیچیدہ بحری راستوں نے شپنگ مہنگی کردی ہے۔ بعض مشرق وسطیٰ تا ایشیا ٹینکر کرایے 12 لاکھ ڈالر یومیہ سے بھی اوپر پہنچ چکے ہیں۔

⚠️

تیل موجود ہے، پھر دنیا کو اصل خطرہ کس چیز کا ہے؟

پوشیدہ خطرات

ڈیزل بحران: ریفائنڈ ایندھن صرف 60 فیصد بحال

خام تیل کی ترسیل تو 91 فیصد تک بحال ہو گئی، مگر ریفائنریز کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث تیار ڈیزل کی ترسیل صرف 60 فیصد ہے۔ شیل کے ریفائننگ مارجن ریکارڈ 42 ڈالر فی بیرل پر پہنچنا بتاتا ہے کہ اصل قحط ڈیزل کا ہے۔

شپنگ لاگت: 12 لاکھ ڈالر یومیہ کا کرایہ

مسئلہ تیل کے کنوؤں سے نکلنے کا نہیں بلکہ منزل تک پہنچانے کا ہے۔ ٹینکرز کی قلت اور انشورنس کے محشر نے ایشیا کے سمندری روٹس پر جہازوں کے کرایے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیے ہیں جس سے لاگت بے قابو ہو رہی ہے۔

ارامکو کی وارننگ: عالمی تیل کے ذخائر میں بحران کے دوران 3 ارب بیرل کا دیوہیکل خلا پیدا ہو چکا ہے، جسے دوبارہ معمول پر لانے کے لیے مسلسل دو سال کا طویل عرصہ درکار ہو گا۔

ڈیزل اور دوسرے ایندھن کو خطرہ

خام تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 91 فیصد تک واپس آگئی ہے، مگر ریفائنڈ ایندھن کی بحالی صرف 60 فیصد کے قریب ہے۔ یہی فرق آنے والے مہینوں میں عام صارف کے لیے زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ و روس میں ریفائننگ نظام کو پہنچنے والے نقصان نے ڈیزل سمیت تیار ایندھن کی قلت بڑھائی ہے۔

شیل کی ریفائننگ مارجن بھی 2026 کی تیسری سہ ماہی میں ریکارڈ 42 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو عالمی فیول مارکیٹ میں غیر معمولی دباؤ کی علامت ہے۔

اسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گروپ 7 (G7) ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل خام تیل اور ڈیزل جاری کرنے پر اتفاق کیا۔

اس کے باوجود ارامکو کے امین الناصر خبردار کرچکے ہیں کہ بحران کے دوران عالمی رسد میں تقریباً 3 ارب بیرل کا نقصان ہوا اور ذخائر دوبارہ معمول کی سطح پر لانے میں 2 سال لگ سکتے ہیں۔

💥

اگر متبادل راستے بند ہوئے تو عالمی منڈی میں کیا ہوگا؟

▼
1
فوری دھچکا

برینٹ کروڈ کا 200 ڈالر فی بیرل کا تاریخی دھماکہ

ارامکو کے سربراہ کے مطابق اگر ینبع پائپ لائن یا فجیرہ کے ٹرمینلز کسی حملے کی زد میں آ کر بند ہوئے تو عالمی مارکیٹ سے لاکھوں بیرل راتوں رات غائب ہو جائیں گے، جس کے بعد قیمتیں بے لگام ہو کر 200 ڈالر فی بیرل کی سطح کو چھو لیں گی۔

2
صنعتی بحران

ٹرانسپورٹیشن اور مینوفیکچرنگ کا پہیہ جام

ڈیزل اور جیٹ فیول کی ترسیل منقطع ہونے سے ایئرلائنز، بحری کارگو اور ہیوی ٹرانسپورٹ مفلوج ہو جائے گی۔ ریفائنریز بند ہونے سے دنیا بھر کی صنعتی سپلائی چین مکمل طور پر جمود کا شکار ہو جائے گی۔

3
عالمی کساد بازاری

عالمی افراطِ زر کا سونامی اور مالیاتی دیوالیہ پن

تیل کی اس سطح پر درآمدی معیشتوں کے زرمبادلہ کے ذخائر چند ہفتوں میں ختم ہو جائیں گے۔ شرح سود اور مہنگائی میں بے قابو اضافے سے دنیا 1970ء کی دہائی سے بھی بدترین کساد بازاری (Stagflation) میں داخل ہو جائے گی۔

پاکستان کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟

پاکستان کے لیے ہرمز کا بحران زیادہ دور کی کشمکش نہیں ہے۔

پاکستان خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کا درآمد کنندہ ہے، اس لیے عالمی قیمت، شپنگ اور سپلائی چین میں بڑی تبدیلی پاکستانی درآمدی لاگت کے لیے اہم بن جاتی ہے۔

سرکاری اعدادوشمار میں بھی پیٹرولیم خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات پاکستان کی بڑی درآمدات میں شامل ہیں۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے اب 2026 کی آخری سہ ماہی میں برینٹ کی اوسط قیمت 105 ڈالر فی بیرل رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

←
اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

ادارے کے مطابق عالمی ذخائر میں تیز کمی اور ڈیزل کی تنگ سپلائی قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔

اس طرح ہرمز کے معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا تیل کی مکمل بندش سے تو بچ گئی، لیکن بحران ختم نہیں ہوا۔ سعودی پائپ لائنیں، فجیرہ، بحیرہ احمر اور سمندر میں ٹینکر سے ٹینکر منتقلی نے عالمی منڈی کو سانس لینے کا وقت ضرور دیا ہے۔

اصل بات یہ نہیں کہ تیل نکل رہا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ راستے کب تک محفوظ اور فعال رہ سکتے ہیں؟ کیونکہ اگر یہ عارضی نظام بھی متاثر ہوا تو 200 ڈالر فی بیرل کا وہ خطرہ، جو فی الحال دور دکھائی دیتا ہے، کیا دوبارہ عالمی معیشت کے دروازے پر دستک دے سکتا ہے۔

🛢️ اصل ذرائع ORIGINAL SOURCES 🌍 آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی رسد، سعودی پائپ لائن اور قیمتوں سے متعلق بنیادی حوالہ جات 5 معتبر ذرائع
🛢️ ہرمز بحران اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل
روئٹرز — مشرق وسطیٰ سے روزانہ 14 ملین بیرل کی ترسیل 🚢 ویٹول کے چیف ایگزیکٹو رسل ہارڈی کی جانب سے خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی موجودہ ترسیل، عالمی منڈی کے توازن اور 200 ڈالر فی بیرل کے خطرے سے متعلق اہم رپورٹ۔ بنیادی بین الاقوامی رپورٹ اصل رپورٹ کھولیں ↗ روئٹرز — خلیجی تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی 81 فیصد سطح پر 📈 ورٹیکسا اور کیپلر کے اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ، جس میں سعودی برآمدات کی تیز بحالی، خلیجی تیل کے بہاؤ اور ایرانی برآمدات میں کمی کا جائزہ شامل ہے۔ شپنگ اور برآمدی ڈیٹا اصل رپورٹ کھولیں ↗
🇸🇦 سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن اور بحیرہ احمر کا راستہ
روئٹرز — ایسٹ ویسٹ پائپ لائن 58 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی 🇸🇦 سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کا تازہ بیان، جس میں ہرمز کو بائی پاس کرکے ینبع اور بحیرہ احمر تک تیل پہنچانے والی اہم پائپ لائن کی بحالی کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ سعودی تیل کی متبادل گزرگاہ اصل رپورٹ کھولیں ↗ سعودی آرامکو — امین الناصر کا ہرمز بحران پر اصل خطاب ⚠️ آرامکو کے صدر اور CEO امین الناصر کا 5 اکتوبر کا مکمل خطاب، جس میں تقریباً 3 ارب بیرل رسد کے نقصان، عالمی ذخائر میں کمی اور انہیں دوبارہ بھرنے میں دو سال تک لگنے کے خدشے کی تفصیل موجود ہے۔ سرکاری سعودی ماخذ اصل خطاب کھولیں ↗
🌍 عالمی تیل کی قیمتیں اور آگے کا خطرہ
امریکی EIA — اکتوبر 2026 عالمی تیل مارکیٹ آؤٹ لک 📊 امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی 6 اکتوبر کی تازہ سرکاری رپورٹ، جس میں ہرمز بحران، سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن، عالمی ذخائر اور برینٹ خام تیل کی قیمتوں کا تازہ تخمینہ شامل ہے۔ امریکی سرکاری انرجی ڈیٹا سرکاری رپورٹ کھولیں ↗
📚 ادارتی نوٹ: اس فیچر رپورٹ کی تیاری میں روئٹرز کی تازہ بین الاقوامی رپورٹس، سعودی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو کا اصل خطاب اور امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے سرکاری اعداد و شمار اور تخمینوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔ BY: overseaspost.net