وینزویلا میں 2 طاقتور زلزلوں کے 6 روز گزر جانے کے باوجود بین الاقوامی امدادی ٹیموں کی جانب سے ملبے تلے دبے افراد کو زندہ نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔
مزید پڑھیں
حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن متاثرین کے اہل خانہ کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو رہا ہے۔
ایل سلواڈور کے صدر نجیب بوکیلی نے سوشل میڈیا پر اطلاع دی ہے کہ ان کے ملک کی ریسکیو ٹیموں نے ساحلی شہر مائیکیتیا میں ایک شاپنگ سینٹر کے ملبے سے 44 سالہ شخص کو بحفاظت نکال لیا ہے۔
اس شخص کو کارروائی کے دوران پائپ کے ذریعے پانی پہنچایا جاتا رہا
تاکہ وہ امدادی ٹیموں کے پہنچنے تک زندہ رہ سکے۔
ایک اور اہم پیش رفت میں ایکواڈور کے دارالحکومت کوئٹو سے آئی فائر فائٹرز کی ٹیم نے پیر کے روز 12 سالہ لڑکے کو ملبے سے زندہ بازیاب کرایا۔
امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ 5 دن بعد بھی زندگی کے آثار ملنا انہیں اس مشکل مشن کو جاری رکھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔
دوسری جانب عالمی برادری نے بھی وینزویلا میں آنے والی اس قدرتی آفت پر فوری ردعمل دیا ہے۔
حکام کے مطابق تیل سے مالا مال اس جنوبی امریکی ملک کو اب تک 30 ممالک کی جانب سے امداد موصول ہو چکی ہے جس میں ایک ہزار ٹن سامان شامل ہے۔
اسی طرح ریسکیو آپریشن میں 3600 سے زائد امدادی کارکن اور ماہرین حصہ لے رہے ہیں جبکہ تلاش و بچاؤ کے لیے 118 خصوصی تربیت یافتہ کتوں کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بدھ کے روز آنے والے 2 شدید زلزلوں کے نتیجے میں اب تک 1719 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔