براہ راست نشریات

سورج سے آنے والی پراسرار ’بازگشت‘ نے سائنس دانوں کو حیران کر دیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سورج کی پراسرار بازگشت

ماہرینِ فلکیات ایک ایسے پراسرار شمسی مظہر کی تحقیقات کر رہے ہیں جس نے سائنس دانوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ 

ایک نئی تحقیق کے مطابق سورج سے خارج ہونے والی بعض ریڈیو لہریں غیر معمولی ’بازگشت‘ یا ’ایکو‘ جیسی کیفیت پیدا کرتی ہیں، جو پہلے کبھی اس انداز میں نہیں دیکھی گئی۔

محققین نے سورج کے بیرونی ماحول، یعنی شمسی ہالے Solar Corona، میں ریڈیو اخراج کے ایسے جوڑوں کا مشاہدہ کیا جن کے درمیان تقریباً 4 سیکنڈ کا مستقل وقفہ موجود تھا۔ 

اس مظہر کی بار بار تکرار اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شمسی فضا میں لہروں کے پھیلاؤ کا کوئی غیر معمولی طریقۂ کار موجود ہے۔

مزید پڑھیں

یہ تحقیق ریڈیو دوربین LOFAR کے مشاہداتی اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ 

سائنس دانوں نے سینکڑوں ایسے واقعات ریکارڈ کیے جن میں ایک مختصر ریڈیو نبض کے بعد نسبتاً کمزور دوسرا سگنل موصول ہوا، جو کسی بازگشت یا گونج کی طرح محسوس ہوتا تھا۔

600 سے زائد سگنل جوڑوں کے تفصیلی تجزیے سے معلوم ہوا کہ دوسرا 

سگنل اسی مقام سے خارج نہیں ہوتا جہاں سے پہلا سگنل پیدا ہوا تھا، بلکہ نسبتاً دور مقام پر ظاہر ہوتا ہے۔ 

اس کے باوجود دونوں سگنلز کے ذرائع سورج کے شمسی ہالے کی بالائی تہوں میں ہی واقع ہوتے ہیں۔

تحقیق کے نتائج یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ الیکٹرانوں کی تیز رفتاری اور توانائی کے اخراج کے عمل ایسے علاقوں میں بھی رونما ہو سکتے ہیں جنہیں ماضی میں اس قسم کی سرگرمیوں کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا تھا۔ 

اس دریافت سے سورج کے ریڈیو اخراج سے متعلق روایتی سائنسی نظریات پر نظرثانی کی ضرورت پیدا ہو سکتی ہے۔

ChatGPT Image 20 يونيو 2026، 01 02 24 م

محققین کا خیال ہے کہ شمسی ہالے میں ہونے والے چھوٹے مگر طاقتور توانائیاتی واقعات الیکٹرانوں کو تیز رفتار بنا دیتے ہیں، جس سے پلازما لہریں اور ریڈیو سگنلز پیدا ہوتے ہیں۔ 

یہ سگنلز جب مختلف راستوں سے گزرتے ہیں تو ان کے پہنچنے کے اوقات میں فرق پیدا ہوتا ہے، جو بازگشت جیسی کیفیت کی ممکنہ وضاحت فراہم کرتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اگر یہ مفروضہ درست ثابت ہو جاتا ہے تو یہ پراسرار ریڈیو سگنلز سورج کے بیرونی ماحول کی ساخت اور وہاں توانائی کی منتقلی کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لیے ایک نئی اور مؤثر سائنسی کھڑکی ثابت ہو سکتے ہیں۔