آبنائے ہرمز میں نئی کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو ایک بار پھر ہلا دیا۔
برینٹ خام تیل 95 ڈالر سے اوپر پہنچ گیا، ایشیائی مارکیٹس میں شدید فروخت دیکھی گئی اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی دباؤ میں آگئی۔
سعودی اور دیگر خلیجی منڈیوں پر اثر نسبتاً محدود رہا کیونکہ بلند تیل کی قیمتیں توانائی برآمد کرنے والے ممالک کو سہارا دے رہی ہیں۔
دوسری جانب یورپی منڈیاں، بانڈز اور سونا بھی نئی مہنگائی اور بلند شرح سود کے خدشات سے متاثر ہوئے۔
آبنائے ہرمز میں نئی کشیدگی نے آج بدھ 2 ستمبر 2026 کو ایک بار پھر عالمی مالیاتی منڈیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان نئے حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھیں، بانڈ ییلڈ اوپر گئی اور ایشیا سے پاکستان اور یورپ تک اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار ہوگئیں۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاہم نکات ⌄
- آبنائے ہرمز کی نئی کشیدگی نے عالمی اسٹاک، تیل، بانڈز اور کرنسی مارکیٹس پر دباؤ بڑھا دیا۔
- برینٹ خام تیل تقریباً 95.6 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ 100 ڈالر کی سطح مرکزی نفسیاتی حد بن گئی۔
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 ایک مرحلے پر 1,300 سے زائد پوائنٹس نیچے گیا۔
- ایشیا میں جاپان اور جنوبی کوریا کی منڈیوں میں شدید فروخت دیکھی گئی۔
- سعودی و خلیجی منڈیوں پر اثر نسبتاً محدود رہا، کیونکہ بلند تیل قیمتیں جزوی سہارا دے رہی ہیں۔
- سونا جنگی کشیدگی کے باوجود محفوظ پناہ گاہ کا مکمل کردار ادا نہ کرسکا۔
خلیجی منڈیوں کی صورتحال قدرے مختلف ہے۔
ایک جانب بلند تیل کی قیمتیں سعودی عرب اور دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک کے لیے آمدنی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں، لیکن دوسری جانب ہرمز میں جہاز رانی میں خلل اور خطے میں فوجی کشیدگی سرمایہ کاروں کو محتاط کررہی ہے۔
مزید پڑھیں
پاکستان اسٹاک مارکیٹ دباؤ میں
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس بدھ کی ابتدائی تجارت میں 175 ہزار پوائنٹس کے قریب آگیا اور ایک مرحلے پر 1,300 سے زائد پوائنٹس تک نیچے گیا۔
پاکستان کے لیے اصل خطرہ اسٹاک مارکیٹ سے زیادہ مہنگا تیل ہے۔
ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے برینٹ
کی قیمت 95 سے 100 ڈالر کے درمیان رہنے کا مطلب درآمدی بل میں اضافہ، مہنگائی پر نیا دباؤ اور روپے کے لیے مشکلات ہوسکتی ہیں۔
اس کا ایک اور نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان شرح سود میں مزید کمی کے معاملے میں محتاط ہوجائے، جس سے کاروباری سرگرمیوں اور اسٹاک مارکیٹ دونوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
سعودی مارکیٹ.. تیل کا فائدہ، کشیدگی کا خوف
سعودی اسٹاک مارکیٹ بھی ہرمز بحران کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
منگل کے سیشن میں سعودی TASI انڈیکس تقریباً 0.2 فیصد نیچے بند ہوا۔
ریئل اسٹیٹ، ٹیلی کمیونیکیشن اور مالیاتی شعبوں کے حصص پر دباؤ رہا، جبکہ سعودی نیشنل بینک اور دار الارکان جیسے بڑے حصص میں بھی کمی دیکھی گئی۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس ⌄
یہ گراوٹ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اگست میں سعودی مارکیٹ نے پورے خلیج میں سب سے مضبوط کارکردگی دکھائی تھی اور تقریباً 5.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا تھا۔
سعودی مارکیٹ کے لیے موجودہ بحران دو رخ رکھتا ہے۔
تیل مہنگا ہونے سے سعودی معیشت اور تیل کمپنیوں کو فائدہ ہوسکتا ہے، لیکن اگر ہرمز میں کشیدگی طویل ہوگئی تو شپنگ، تجارت، انشورنس اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
خلیجی منڈیاں.. ایک جیسا ردعمل نہیں
متحدہ عرب امارات اور قطر کی مارکیٹس میں بھی ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔
ابوظبی انڈیکس تقریباً 0.3 فیصد نیچے رہا، جبکہ دبئی مارکیٹ تقریباً فلیٹ بند ہوئی۔
قطر کی مارکیٹ نے اس کے برعکس 0.5 فیصد اضافہ کیا، جس میں تیل کی بلند قیمتوں نے اہم کردار ادا کیا۔
قطر فیول کے حصص 4 فیصد سے زیادہ اور قطر نیشنل بینک کے حصص تقریباً 1.1 فیصد بڑھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلند توانائی قیمتیں خلیجی مارکیٹس کے بعض حصوں کو عالمی منڈیوں کے مقابلے میں سہارا دے رہی ہیں۔
PK OVERSEAS POST | PAKISTANپاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ⌄
- پاکستان تیل درآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے مہنگا خام تیل براہ راست درآمدی بل بڑھاتا ہے۔
- پٹرول، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں اضافے سے مہنگائی دوبارہ تیز ہوسکتی ہے۔
- روپے پر دباؤ بڑھنے کی صورت میں درآمدات مزید مہنگی ہوسکتی ہیں۔
- اسٹیٹ بینک شرح سود میں مزید کمی کے معاملے میں محتاط ہوسکتا ہے۔
- KSE-100 پر دباؤ صرف ایک دن کی گراوٹ تک محدود رہنے کا امکان نہیں اگر تیل بلند رہا۔
اصل سوال: اگر برینٹ 100 ڈالر سے اوپر گیا اور وہاں برقرار رہا تو پاکستان کی مہنگائی اور شرح سود کی توقعات دوبارہ بدل سکتی ہیں۔
تاہم خطرہ ہرمز ہی ہے۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کمرشل جہازوں کی تعداد دس روزہ اوسط سے نمایاں طور پر کم ہے۔ منگل کو صرف 4 کموڈیٹی جہازوں نے گزرگاہ عبور کی، جبکہ دس روزہ اوسط تقریباً 13 تھی۔
قطر اور متحدہ عرب امارات کی بعض LNG شپمنٹس کو بھی ہرمز سے باہر غیر معمولی ship-to-ship آپریشن کے ذریعے منتقل کیا گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ توانائی کمپنیاں متبادل انتظامات کررہی ہیں۔
ایشیا میں شدید فروخت
ایشیا میں صورتحال کہیں زیادہ خراب رہی۔
جنوبی کوریا کا KOSPI تقریباً 3.5 سے 4 فیصد جبکہ جاپان کا Nikkei تقریباً 2.7 سے 2.9 فیصد گرگیا۔
ایشیا کے لیے مہنگا تیل خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ جاپان، جنوبی کوریا، چین اور بھارت بڑے توانائی درآمد کنندگان ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں طویل اضافہ ان ممالک کی صنعتی لاگت، ٹرانسپورٹ اور مہنگائی بڑھا سکتا ہے۔
SA OVERSEAS POST | SAUDI MARKETسعودی مارکیٹ.. تیل کا فائدہ، کشیدگی کا خوف ⌄
- سعودی TASI پر دباؤ محدود رہا، جبکہ بلند تیل قیمتیں معیشت کو بنیادی سہارا دیتی ہیں۔
- تیل کی قیمت میں اضافہ سعودی آمدنی اور توانائی شعبے کے لیے مثبت عنصر ہوسکتا ہے۔
- لیکن ہرمز میں طویل کشیدگی شپنگ، انشورنس اور علاقائی سرمایہ کار اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
- اسی لیے سعودی مارکیٹ میں توانائی کا فائدہ اور جغرافیائی خطرہ ایک دوسرے کا مقابلہ کررہے ہیں۔
یورپ بھی دباؤ میں
یورپی منڈیوں کو بھی بلند تیل اور بانڈ ییلڈ نے اپنی لپیٹ میں لیا۔
یورپی اسٹاک فیوچرز کمزور رہے، جبکہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی بانڈ مارکیٹس میں فروخت بڑھی۔
سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ توانائی کی نئی مہنگائی یورپی مرکزی بینکوں کو شرح سود بلند رکھنے پر مجبور کرسکتی ہے۔
تیل.. 100 ڈالر اب دور نہیں
برینٹ خام تیل بدھ کی صبح تقریباً 95.6 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ ایک دن پہلے ہی اس میں 4.6 فیصد اضافہ ہوا تھا اور نئی کشیدگی کے بعد اس میں مزید تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک ہے اور جنگ سے پہلے عالمی تیل کی تقریباً پانچواں حصہ شپمنٹ اسی راستے سے گزرتی تھی۔
اسی لیے 100 ڈالر اب صرف ایک نفسیاتی حد نہیں بلکہ ایک حقیقی خطرہ بن چکا ہے۔
GCC OVERSEAS POST | GCCخلیجی منڈیاں.. ردعمل ایک جیسا نہیں ⌄
سونا بھی محفوظ پناہ گاہ نہ بن سکا
دلچسپ بات یہ ہے کہ جنگی کشیدگی کے باوجود سونا مضبوط ہونے کے بجائے دباؤ میں آیا۔
وجہ یہ ہے کہ مارکیٹس ہرمز بحران کو صرف جنگی خطرہ نہیں بلکہ نئی مہنگائی کا خطرہ سمجھ رہی ہیں۔
تیل مہنگا ہونے سے امریکی فیڈرل ریزرو کے لیے شرح سود کم کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈ تقریباً 4.81 فیصد تک پہنچ گئی، جس سے ڈالر اور بانڈز کی کشش بڑھی اور سونے پر دباؤ آیا۔
ہرمز نے عالمی مارکیٹ کی مساوات بدل دی
موجودہ صورتحال کو یوں سمجھا جاسکتا ہے:
ہرمز میں کشیدگی ← تیل اور گیس مہنگے ← مہنگائی کا خطرہ ← شرح سود بلند رہنے کا امکان ← بانڈ ییلڈ میں اضافہ ← عالمی اسٹاک مارکیٹس پر دباؤ۔
فرق صرف یہ ہے کہ پاکستان اور ایشیا جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے مہنگا تیل براہ راست خطرہ ہے، جبکہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی تیل برآمد کنندگان کو بلند قیمتوں سے مالی فائدہ بھی ہوسکتا ہے۔
EU OVERSEAS POST | EUROPEیورپ میں مہنگائی کا نیا خوف ⌄
- یورپی منڈیاں ایشیا کے مقابلے میں کمزور مگر نسبتاً محدود دباؤ میں رہیں۔
- جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی بانڈ مارکیٹس میں فروخت بڑھی۔
- مہنگا تیل اور گیس یورپی مہنگائی کو دوبارہ اوپر لے جاسکتے ہیں۔
- اگر مہنگائی بڑھی تو یورپی مرکزی بینکوں کے لیے شرح سود کم کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔
- صنعت اور توانائی پر زیادہ انحصار کرنے والی کمپنیوں کے منافع پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
لیکن اگر ہرمز طویل عرصے تک غیر محفوظ رہا تو پھر مسئلہ صرف تیل کی قیمت نہیں رہے گا بلکہ جہاز رانی، تجارت، انشورنس، توانائی سپلائی اور عالمی سرمایہ کاری سب اس بحران کی زد میں آسکتے ہیں۔
اسی لیے آج پاکستان، سعودی عرب، خلیج، ایشیا اور یورپ کی مارکیٹس کی نظریں ایک ہی جگہ پر لگی ہیں—آبنائے ہرمز۔
↗ OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع ⌄
اعداد و شمار 2 ستمبر 2026 کی دستیاب انٹرا ڈے رپورٹس کے مطابق ہیں اور تبدیل ہوسکتے ہیں۔