براہ راست نشریات

خوراک کے بدلے زیادتی: سوڈانی پناہ گزیں کیمپ خواتین کے لیے جہنم

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سوڈانی پناہ گزیں کیمپ میں خواتین کا استحصال اور امدادی تنظیم کی رپورٹ
بے یار و مددگار سوڈانی مہاجرین بوادی فیرا، مشرقی چاڈ کے ایک کیمپ میں (فوٹو: رائٹرز)

چاڈ میں تعینات ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے انسانی ہمدردی کے کاموں کے پیچھے چھپی درندگی کو بے نقاب کردیا ہے۔

مزید پڑھیں

رپورٹ کے مطابق سوڈان کی خانہ جنگی سے متاثر ہو کر پناہ لینے والی خواتین اور کم سن لڑکیوں کو امدادی کارکنوں کی جانب سے جنسی ہراسانی اور استحصال کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

تحقیقات اور انکشافات 

رواں برس جولائی میں مکمل ہونے والی یہ تحقیقات خزاں 2024 سے جاری تھیں۔ 

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس کے بعد شروع کی گئی اس چھان بین میں 59 ممکنہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی ہوئی، جس کے نتیجے میں 18 مقامی اور غیر ملکی ملازمین کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر میں سوڈان میں قحط اور زراعت کی تباہی کے باعث بنجر پڑے ہوئے زرعی کھیت
(فوٹو: انٹرنیٹ)

استحصال کی ہولناک نوعیت

تحقیقات سے پتا چلا کہ پناہ گزین خواتین کو خوراک، پانی، دودھ اور ملازمتوں کی فراہمی کے بدلے جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا گیا۔

یہاں تک کہ کچھ واقعات میں انسانی اسمگلنگ کے منظم نیٹ ورک کے شواہد بھی ملے، جس میں کم سن لڑکیوں کو  بھی نشانہ بنایا گیا۔

خواتین کی مجبوری اور خوف

کئی متاثرہ خواتین نے خاموشی اختیار کیے رکھی کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ شکایت کرنے کی صورت میں طبی سہولیات اور امداد بند کر دی جائے گی۔

مقامی افراد کے مطابق کیمپوں میں خوف کا یہ عالم تھا کہ عملے سے بچنے کے لیے لڑکیوں پر کرفیو جیسی پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

سوڈان میں ادویہ کا بحران اور مخدوش طبی صورتحال
بلیک مارکیٹ میں انتہائی مہنگی اور غیر تصدیق شدہ ادویات فروخت ہو رہی ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

سکیورٹی خامیاں

تنظیم نے اعتراف کیا کہ تحقیق کے یہ نتائج حقیقی صورت حال کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہو سکتے ہیں۔

بحرانی صورتحال اور ہنگامی حالات کے دوران نقل و حرکت کی وجہ سے کئی ملزمان کی شناخت کرنا ناممکن رہا، جس سے امدادی کارروائیوں میں طاقت کا عدم توازن واضح ہوتا ہے۔

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے تسلیم کیا کہ ان کے سسٹمز میں خامیاں موجود تھیں۔ 

تنظیم نے مزید کہا کہ انہوں نے بھرتی کے عمل، اسکریننگ اور شکایات کے نظام کو سخت کر دیا ہے، تاہم پناہ گزینوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ابھی طویل جدوجہد باقی ہے۔

یہ انکشافات عالمی امدادی اداروں کے لیے ایک بڑا اخلاقی سوالیہ نشان بھی ہیں۔ 

انسانی ہمدردی کے کام کرنے والے اداروں میں طاقت کا غلط استعمال اور پناہ گزینوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھانا ان اصولوں کی نفی ہے جن پر یہ تنظیمیں قائم ہیں۔ شفافیت اور احتساب کا نظام ہی اس بحران کو روک سکتا ہے۔