اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

سوڈانیوں کو آر ایس ایف نے بھوکا ماردیا، سیٹلائٹ تصاویر نے پول کھول دیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سیٹلائٹ تصاویر میں سوڈان میں قحط اور زراعت کی تباہی کے باعث بنجر پڑے ہوئے زرعی کھیت
غذائی تحفظ اشاریے کے مطابق 2 کروڑ 56 لاکھ سوڈانی بحران سے بھی بدتر حالات میں زندگی گزار رہے ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

سوڈان کی زرعی معیشت، جو کبھی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی، اب ایک بڑے انسانی المیے کا شکار ہے۔

مزید پڑھیں

دسمبر 2023 سے شروع ہوئی تباہی نے نہ صرف ملکی پیداوار کو مفلوج کر دیا بلکہ کروڑوں انسانوں کو قحط کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

ایک وقت تھا کہ ’وَد مدنی‘ شہر لاکھوں بے گھر افراد کی پناہ گاہ اور امدادی کارروائیوں کا مرکز تھا۔ 

یہاں سے 8 لاکھ افراد تک خوراک پہنچائی جاتی تھی، مگر دسمبر 2023 میں ’ریپڈ سپورٹ فورس‘ (RSF) کے قبضے نے اس نظام کو برباد کردیا۔

شہر کے سقوط کے بعد یہاں موجود خوراک کے ذخائر، جن میں ڈیڑھ ملین افراد کے لیے ایک ماہ کا راشن موجود تھا، مکمل طور پر لوٹ لیے گئے۔

اس کے ساتھ ہی ٹیلی کمیونیکیشن کے نظام کو بند کر کے پورے خطے کی معاشی شہ رگ کاٹ دی گئی، جس سے انسانی امداد کی ترسیل بھی رک گئی۔

سیٹلائٹ تصاویر میں سوڈان میں قحط اور زراعت کی تباہی کے باعث بنجر پڑے ہوئے زرعی کھیت
(فوٹو: انٹرنیٹ)

زراعت تباہ: سیٹلائٹ تصاویر کا انکشاف

سیٹلائٹ تصاویر (سینٹینل-2) نے واضح کیا ہے کہ کس طرح زرعی زمینیں بنجر پڑ گئی ہیں۔

جزیرہ پروجیکٹ، جو سوڈان کی نصف گندم پیدا کرتا تھا، اب خشک اور بے رنگ خطوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق یہاں گندم کی پیداوار میں 58 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

پراجیکٹ کے ڈائریکٹر کے مطابق’ریپڈ سپورٹ فورس‘کے قبضے کے دوران اس منصوبے کو 6 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا۔ 

زرعی آلات کی لوٹ مار، کھادوں کی قلت اور پانی کی نہروں کی تباہی نے کسانوں کو کھیتوں سے دُور کر دیا، جس سے زرعی پیداواری صلاحیت 100 فیصد سے گر کر 45 فیصد رہ گئی۔

سیٹلائٹ تصاویر میں سوڈان میں قحط اور زراعت کی تباہی کے باعث بنجر پڑے ہوئے زرعی کھیت
(فوٹو: انٹرنیٹ)

انسانی المیہ اور قحط کا شکار عوام

اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے مطابق آج سوڈان کے 2.56 کروڑ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

اِن میں سے 85 لاکھ افراد ہنگامی صورتحال اور 7 لاکھ سے زائد افراد قحط کی آخری حد پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ بحران قدرتی نہیں، بلکہ منظم عسکری کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔

سیکیورٹی اور زراعت: لازمی تعلق

تحقیقی رپورٹس اور ناسا (NASA) کے اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ جہاں جہاں عسکری قبضہ رہا، وہاں زراعت تباہ ہوئی ہے۔

خرطوم اس کی واضح مثال ہے، جہاں جنگ طویل ہونے کے باعث زراعت اب تک بحال نہیں ہو سکی۔  اس کے برعکس جہاں سے افواج کا انخلا ہوا، وہاں بحالی کا عمل سست روی ہی سے سہی، مگر شروع ہو چکا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر میں سوڈان میں قحط اور زراعت کی تباہی کے باعث بنجر پڑے ہوئے زرعی کھیت
(فوٹو: انٹرنیٹ)

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوڈان کا زرعی انحطاط اس بات کا ثبوت ہے کہ خوراک کا تحفظ مکمل طور پر امن سے جڑا ہے۔

اگرچہ سیٹلائٹ تصاویر امن واپسی کے بعد زرعی بحالی کی نوید سناتی ہیں، لیکن تباہ شدہ نہری نظام اور مالیاتی بحران نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ 

جب تک طویل مدتی سیکیورٹی اور زرعی بنیادی ڈھانچے کی بحالی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک سوڈان میں بھوک کا سایہ برقرار رہے گا اور لاکھوں افراد کی زندگی خطرے میں رہے گی۔