براہ راست نشریات

ٹرمپ کا دعویٰ: ایران جوہری تفتیش کی اجازت پر آمادہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی ٹیموں کو ایرانی حکام کے تعاون سے زیرِ زمین موجود جوہری مواد کی تلاش اور جانچ کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکا اور چین ہی ایسے ممالک ہیں جن کے پاس اس نوعیت کی کارروائی کے لیے ضروری جدید ٹیکنالوجی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں جاری ہیں اور ممکن ہے کہ اس ہفتے کے اختتام تک کوئی نتیجہ سامنے آجائے تاہم ناکامی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران نے جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی ٹیموں کو ایرانی حکام کے تعاون سے زیرِ زمین دفن جوہری مواد کی تلاش اور جانچ کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

سکائی نیوز کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس تک پہنچنا بہت مشکل ہے، لیکن اس کے باوجود میں وہاں پہنچنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ غالباً امریکا اور چین ہی وہ دو ممالک ہیں جن کے پاس ایسا جدید سازوسامان موجود ہے جو اس قسم کی کارروائی انجام دے سکتا ہے۔ 

ان کے بقول اس لیے ہاں، میں یہ کرنا چاہتا ہوں۔

مزید پڑھیں

ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایرانی حکام نے کئی مرتبہ اپنا مؤقف تبدیل کیا تاہم انہوں نے کہا اب تک صورتحال یہی ہے کہ ہم مستقبل قریب میں کسی وقت وہاں جائیں گے۔

جوہری تنصیبات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ مقامات انتہائی سخت نگرانی میں ہیں۔ 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی خلائی فورس کے کیمرے ہر زاویے سے 

نگرانی کر رہے ہیں اور گزشتہ سال امریکی حملوں کا نشانہ بننے والی 3 جوہری تنصیبات فورڈو ایندھن افزودگی پلانٹ، نطنز جوہری تنصیب اور اصفہان جوہری ٹیکنالوجی مرکز مسلسل امریکی نگرانی میں ہیں۔

ChatGPT Image 4 يونيو 2026، 10 36 23 ص

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی وہاں جائے گا تو ہمیں فوراً معلوم ہو جائے گا کہ کیا ہو رہا ہے، اور پھر ہم مناسب کارروائی کریں گے۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایسی کوئی کارروائی صرف جنگ کے خاتمے کے بعد ہی کی جائے گی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ وہ تنازع جاری رہنے کے دوران امریکی اہلکاروں کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔

ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ بات چیت کے نتائج اس ہفتے کے اختتام تک سامنے آ سکتے ہیں، تاہم انہوں نے مذاکرات کی ناکامی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔

دوسری جانب تہران کا مؤقف ہے کہ مذاکراتی عمل میں اب تک کوئی نمایاں پیش رفت حاصل نہیں ہوئی۔