امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کے نئے چیئرمین کیون وارش کو اپنے دور کے دوسرے مانیٹری پالیسی اجلاس میں ایسے فیصلے کا سامنا ہے۔
اقتصادی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات صرف امریکی معیشت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں
بظاہر سوال صرف یہ ہے کہ شرح سود بڑھائی جائے یا موجودہ سطح پر برقرار رکھی جائے، لیکن اس فیصلے کے پیچھے مہنگائی، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، مصنوعی ذہانت پر بڑھتے اخراجات اور امریکی سیاست جیسے کئی عوامل ایک ساتھ موجود ہیں۔
تیل کی قیمتوں نے مہنگائی کے خدشات بڑھا دیے
گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے
باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی۔
🔥
یہ کیوں اہم ہے؟
بعد ازاں امریکہ کی جانب سے ایران میں فوجی کارروائیاں روکنے کے نتیجے میں قیمتیں کچھ نیچے آئیں اور تقریباً 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، لیکن توانائی کی قیمتوں میں اس اچانک اتار چڑھاؤ نے مہنگائی کے بارے میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
امریکی مرکزی بینک کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ توانائی مہنگی ہونے سے تقریباً ہر شعبے میں پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا اثر آخرکار صارفین تک منتقل ہوتا ہے۔
شرح سود بڑھانے کا دباؤ: امریکی فیڈرل ریزرو کا سخت امتحان
عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور امریکی سیاست کی کشمکش میں چیئرمین کیون وارش کا اہم ترین فیصلہ
امریکی مرکزی بینک کو افراط زر، تیل کے بحران اور ٹرمپ کی سیاسی مخالفت کا بیک وقت سامنا ہے۔ کیون وارش کا یہ فیصلہ عالمی معیشت اور مالیاتی نظام کی نئی سمت طے کرے گا۔
🛢️ تیل کا بحران اور مہنگائی
90 ڈالرامریکہ اور ایران کی کشیدگی کے باعث خام تیل 100 ڈالر سے تجاوز کر کے اب 90 ڈالر فی بیرل پر موجود ہے، جس سے عالمی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔
📉 افراط زر کا ہدف
3.5% بمقابلہ 2%جون میں مہنگائی کی شرح 3.5 فیصد رہی جو کہ بینک کے مطلوبہ 2 فیصد ہدف سے نمایاں طور پر زیادہ ہے، جس کی وجہ سے شرح سود بڑھانے کا دباؤ ہے۔
🏛️ صدر ٹرمپ کا سیاسی دباؤ
وسط مدتی انتخاباتڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیح شرح سود میں کمی ہے تاکہ قرضے سستے ہو سکیں۔ نومبر کے انتخابات سے قبل وائٹ ہاؤس مہنگے قرضوں کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہتا۔
🤖 تجارتی پالیسی اور جدید لاگت
60+ ممالک پر ٹیرفمصنوعی ذہانت میں ریکارڈ سرمایہ کاری اور 60 سے زائد ممالک پر نئے درامدی محصولات نے خام مال اور صنعتی پرزہ جات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔
📊 افراط زر اور شرح سود کا تقابلی جائزہ
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
صرف تیل ہی مسئلہ نہیں
فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں کے سامنے چیلنج صرف تیل کی قیمتیں نہیں ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ریکارڈ سرمایہ کاری بھی معیشت میں طلب کو بڑھا رہی ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 60 سے زائد ممالک پر عائد نئے درآمدی محصولات نے خام مال اور صنعتی پرزہ جات کی قیمتیں بڑھنے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
آٹو موبائل سمیت کئی امریکی صنعتیں درآمدی اشیا پر انحصار کرتی ہیں، اس لیے اضافی ٹیرف پیداواری لاگت میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جون میں مہنگائی کی رفتار توقع سے کم رہی، پھر بھی فیڈرل ریزرو کے خدشات ختم نہیں ہوئے۔
📊
فیکٹ باکس
شرح سود بڑھانے کی آوازیں تیز
فیڈرل ریزرو کے سینئر حکام کا خیال ہے کہ مہنگائی اب بھی مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے کافی اوپر ہے۔
جون میں سالانہ بنیاد پر افراط زر کی شرح 3.5 فیصد رہی، جو اگرچہ گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں بہتر ہے، لیکن ہدف سے اب بھی خاصی زیادہ ہے۔
اسی دوران امریکی لیبر مارکیٹ بھی غیر معمولی طور پر مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔
جولائی میں بے روزگاری الاؤنس کی نئی درخواستیں کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔ مضبوط روزگار کی وجہ سے بعض ماہرین سمجھتے ہیں کہ معیشت شرح سود میں معمولی اضافے کا بوجھ برداشت کر سکتی ہے۔
ٹرمپ کی خواہش
دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیح شرح سود میں اضافہ نہیں بلکہ کمی ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ کم شرح سود سے گھروں، گاڑیوں اور ذاتی قرضوں کی لاگت کم ہوگی، جس کا فائدہ عام امریکیوں کو ملے گا۔ خاص طور پر نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے وائٹ ہاؤس مہنگے قرضوں کا سیاسی بوجھ اٹھانا نہیں چاہتا۔
ٹرمپ ماضی میں بھی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں اور سابق چیئرمین جیروم پاول کو شرح سود میں کمی نہ کرنے پر بارہا نشانہ بنا چکے ہیں۔
🔑
اہم نکات
وارش کے لیے محفوظ راستہ کیا ہوگا؟
زیادہ تر معاشی ماہرین کا اندازہ ہے کہ فیڈرل ریزرو اس اجلاس میں شرح سود برقرار رکھے گا اور آئندہ چند ماہ کے معاشی اعداد و شمار کا انتظار کرے گا۔
تاہم اگر تیل دوبارہ مہنگا ہوا، درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا یا مہنگائی نے دوبارہ رفتار پکڑ لی تو ستمبر یا اس کے بعد شرح سود میں اضافے کا امکان نمایاں ہو سکتا ہے۔
کیون وارش کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ ایک طرف مہنگائی کو قابو میں رکھیں اور دوسری طرف سیاسی دباؤ سے خود کو الگ رکھتے ہوئے مرکزی بینک کی خودمختاری بھی برقرار رکھیں۔
یہی توازن آئندہ مہینوں میں نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی مالیاتی نظام کی سمت کا بھی تعین کرے گا۔