اہم خبریں
11 June, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

پاکستان متحرک، ایران نے یورینیم منتقلی پر آمادگی ظاہر کردی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پاکستان ایران امریکا مذاکرات

پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ایک حصے کو تیسرے ملک منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ منجمد ایرانی اثاثوں اور آبنائے ہرمز کے معاملات پر بھی بات چیت جاری ہے۔

پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ 

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق اسلام آباد دونوں ممالک کے درمیان موجود رکاوٹیں دور کرنے اور ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔

اسی سلسلے میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعہ کے روز ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے 24 گھنٹوں کے دوران دوسری بار ملاقات کی۔ 

اس اہم ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، خطے کی تازہ صورتحال، داخلی سلامتی اور کشیدگی کم کرنے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ 

مزید پڑھیں

پاکستانی وزارت داخلہ کے مطابق دونوں وزراء نے علاقائی استحکام اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی گفتگو کی۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق ایران نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ایک حصے کو کسی ایسے تیسرے ملک منتقل کرنے پر آمادہ ہے جس پر تمام فریق متفق ہوں۔

ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں امریکی تجویز پر ایران کے حتمی ردعمل

 اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجویز میں کی گئی نئی ترامیم پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

مذاکرات میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ 

اطلاعات کے مطابق اصل تنازع اس بات پر ہے کہ ان رقوم کو کس طریقہ کار کے تحت ایران کے حوالے کیا جائے۔

امریکی فریق اب بھی ان اثاثوں کو نقد شکل میں جاری کرنے Monetization کے اصول سے متفق نہیں، جبکہ مختلف تجاویز پر غور جاری ہے، جن میں ایک خصوصی فنڈ کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ ان رقوم کو وہاں جمع رکھا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا معاملہ بھی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

العربیہ کو گزشتہ روز ایک باخبر ذریعے نے بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثوں کو واضح کر دیا ہے کہ ایران کے منجمد اثاثے کسی بھی صورت معاہدے پر دستخط سے قبل جاری نہیں کیے جائیں گے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ عبوری امن معاہدے کے حوالے سے حالیہ مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔

546456

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کا مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کا مرکزی نکتہ ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے تاحال کسی امن معاہدے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔

اگرچہ گزشتہ ہفتے مذاکرات کے حوالے سے امید افزا اشارے سامنے آئے تھے، تاہم حالیہ دنوں میں دوبارہ کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ 

آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان حملوں کے تبادلے کے علاوہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین کو نشانہ بنانے کے واقعات نے سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اس صورتحال میں پاکستان کی ثالثی اور سفارتی سرگرمیاں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔