مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ اب صرف اس سوال تک محدود نہیں رہی کہ سب سے طاقتور ماڈل کس کمپنی کے پاس ہے۔
مزید پڑھیں
ماہرین کے مطابق کاروباری دنیا میں ایک نیا سوال زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے کہ روزمرہ کے کام کے لیے مہنگا ترین اے آئی ماڈل خریدنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
یہی سوچ امریکی کمپنیوں کو چین کے نسبتاً سستے اے آئی ماڈلز کی طرف لے جا رہی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی ادارے اب اپنی ضروریات دیکھ کر
اے آئی پر خرچ کر رہے ہیں اور ہر کام کے لیے اوپن اے آئی یا اینتھروپک کے مہنگے ترین ماڈلز استعمال کرنے کے بجائے کم قیمت متبادل آزما رہے ہیں۔
چینی اے آئی ماڈلز امریکی کمپنیوں کے لیے اہم کیوں؟
ہر کام کے لیے ’لیمبورگینی‘ کیوں؟
اے آئی کمپنی کرسر کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر مائیک سائیکس نے اس تبدیلی کو دلچسپ مثال سے سمجھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معمول کے کام کے لیے انتہائی مہنگا اے آئی ماڈل استعمال کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی دودھ خریدنے کے لیے لیمبورگینی لے کر گروسری اسٹور جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کمپنیوں کے لیے اب اصل اہمیت کارکردگی اور لاگت کے درمیان توازن کی ہے۔
ایک طریقہ یہ بھی اپنایا جا رہا ہے کہ پیچیدہ منصوبہ بندی طاقتور ماڈل سے کرائی جائے، لیکن اس منصوبے کے معمول کے کام نسبتاً سستے ماڈلز کے حوالے کر دیے جائیں۔
چینی اے آئی ماڈلز کی امریکی مارکیٹ میں مقبولیت
کاروباری لاگت میں کمی کے لیے امریکی کمپنیاں مہنگے ماڈلز کے بجائے سستے چینی متبادل اپنانے لگی ہیں۔
عالمی تکنیکی دوڑ میں اب توجہ صرف طاقتور ماڈل پر نہیں بلکہ مناسب قیمت اور عملی کارکردگی میں توازن پر مرکوز ہو چکی ہے۔
🏎️ 'لیمبورگینی' حکمت عملی
معمولی کاموں کے لیے انتہائی مہنگا ماڈل استعمال کرنے سے بچنے کے لیے کمپنیاں اب کام کی نوعیت کے لحاظ سے ماڈل منتخب کر رہی ہیں۔
🌐 مقبول ترین ماڈلز
اوپن روٹر کے اعداد و شمار کے مطابق ٹاپ مقبول ترین اے آئی ماڈلز میں سے 5 اہم ماڈلز چینی ساختہ نکلے۔
💰 انفراسٹرکچر پر خرچ
امریکی ٹیک دیو ایمیزون، الفابیٹ، میٹا اور مائیکروسافٹ ڈیٹا سینٹرز پر 725 ارب ڈالر کی سرمایاکاری کر رہے ہیں۔
📉 ملازمتوں میں کٹوتی
بڑھتے اخراجات کے دباؤ کے باعث 2026 کے آغاز سے اب تک امریکی ٹیک کمپنیوں میں 140,000 ملازمتیں ختم کی جا چکی ہیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
چین کے لیے نیا موقع
یہ تبدیلی چینی اے آئی کمپنیوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں ایک بڑا موقع بن رہی ہے۔
اس سلسلے میں ڈیپ سیک، منی میکس اور مون شاٹ جیسے نام پہلے ہی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔
چینی ماڈلز کی کم قیمت کے ساتھ ایک اور بڑی کشش یہ بھی ہے کہ ان میں سے کئی اوپن سورس ہیں، جنہیں کاروباری ادارے اپنی ضروریات کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔
اے بی سی نیوز کے مطابق موزیلا کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر راوی کرکوریان بھی مون شاٹ کے تیار کردہ ’کیمی-کے 3‘ کو روزمرہ کاموں میں استعمال کر رہے ہیں۔
جون کے اعداد و شمار میں اوپن روٹر پر 5 مقبول ترین اے آئی ماڈلز بھی چینی ساختہ تھے۔
🤖 فیکٹ باکس: امریکا، چین اور اے آئی کی نئی دوڑ
ٹیکنالوجی کے ساتھ سیاست بھی
چینی ماڈلز کی بڑھتی مقبولیت نے واشنگٹن میں بیجنگ سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ کردیا ہے۔
اوپن اے آئی اور اینتھروپک سمیت امریکی حلقے چینی کمپنیوں پر امریکی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے الزامات لگا رہے ہیں اور بعض پابندیوں کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔
دوسری طرف اینویڈیا، مائیکروسافٹ اور پالانٹیر سمیت کئی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے امریکی پالیسی سازوں کو چینی اور اوپن ماڈلز پر پابندیوں کے معاملے میں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
اربوں ڈالر کے اخراجات کا دباؤ
تیزی کے ساتھ ہونے والی اس پوری تبدیلی کے پیچھے سب سے بڑا عنصر پیسہ ہے۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی انفرااسٹرکچر پر غیر معمولی سرمایہ لگا رہی ہیں۔ ایمیزون، الفابیٹ، میٹا اور مائیکروسافٹ مجموعی طور پر ڈیٹا سینٹر انفرااسٹرکچر پر 725 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتی ہیں۔
اسی دوران ٹیکنالوجی سیکٹر میں ملازمتوں میں کمی بھی جاری ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق 2026 کے آغاز سے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کے فیصلے کیے جا چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کی اگلی جنگ صرف ’سب سے ذہین ماڈل‘ بنانے کی نہیں ہوگی، بلکہ اصل مقابلہ اس بات پر ہو سکتا ہے کہ کون سی کمپنی مناسب صلاحیت کا اے آئی ماڈل سب سے کم قیمت میں فراہم کرتی ہے۔