براہ راست نشریات

وہی بارش، وہی تباہی: پاکستان کب تک ڈوبتا رہے گا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Pakistan Monsoon Floods 2026

پاکستان میں 26 جون سے 26 جولائی 2026 تک مون سون بارشوں، سیلاب اور متعلقہ حادثات میں 107 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
نصف سے زیادہ اموات گھروں اور چھتوں کے گرنے سے ہوئیں۔
2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد اربوں ڈالر کے عالمی وعدوں اور بہتر تیاری کے حکومتی دعووں کے باوجود وہی کمزوریاں دوبارہ سامنے آگئی ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ پیشگی انتباہ موجود ہونے کے باوجود لوگوں کی جانیں کیوں نہیں بچ رہیں؟

ایک ماہ میں 100 سے زیادہ جانیں چلی گئیں، 

نئی بارشیں دروازے پر ہیں، 

موسمیاتی تبدیلی خطرہ بڑھا رہی ہے، 

مگر کمزور گھر، ناقص نکاسی اور بکھرا ہوا انتظام بارش کو ہر سال سانحے میں بدل دیتا ہے

OVERSEAS POST  |  PREMIUM LEAD STORY

بارش شروع ہوئی تو کسی نے اسے خطرے کی گھنٹی نہیں سمجھا۔ 

لاہور کی تپتی سڑکوں پر پانی گرا تو موسم خوش گوار ہوا، بچوں نے کھڑکیوں سے باہر جھانکا اور لوگوں نے گرمی سے عارضی نجات کا سانس لیا۔ 

لیکن چند گھنٹوں بعد یہی پانی گلیوں سے گھروں میں داخل ہونے لگا۔ 

کہیں چھتیں ٹپکنے لگیں، کہیں بجلی کے کھمبے گر گئے اور کہیں کچی دیواریں اپنے ہی مکینوں پر آ گریں۔

پنجاب میں رشتے دار ملبے سے لاشیں نکالتے رہے، خیبر پختونخوا میں اچانک آنے والے ریلے انسانوں اور گاڑیوں کو بہا لے گئے، جبکہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں بارش کا پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا۔ 

بجلی کے کھمبے گرنے سے آبادیاں تاریکی میں ڈوب گئیں اور رابطہ سڑکیں بند ہونے کے بعد لوگ مدد کے انتظار میں پھنس گئے۔

مزید پڑھیں

یہ مناظر پاکستان کے لیے نئے نہیں۔ 

ہر سال مقامات اور مرنے والوں کے نام بدل جاتے ہیں، مگر کہانی تقریباً وہی رہتی ہے: 

ایک کمزور مکان جو مسلسل بارش برداشت نہیں کرسکتا، کھیت میں جمع پانی میں ڈوبتا بچہ، بجلی کے کھلے تار سے لگنے والا کرنٹ، سیلابی نالے کے کنارے آباد بستی اور مدد پہنچنے سے پہلے زندگی

 کی بازی ہارنے والے لوگ۔

سوال اب صرف یہ نہیں کہ بارش کتنی ہوئی۔

 اصل سوال یہ ہے کہ جب بارشوں کی پیش گوئی پہلے سے موجود تھی، خطرے والے علاقے معلوم تھے، انتباہ جاری کیے جا چکے تھے اور 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد اربوں ڈالر دینے کے وعدے ہوئے تھے، تو پاکستان آج بھی ہر مون سون کو اچانک آنے والی آفت کی طرح کیوں جھیلتا ہے؟ 

ایک ماہ میں 107 اموات

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق 26 جون سے 26 جولائی 2026 تک مون سون بارشوں، سیلاب اور متعلقہ حادثات میں کم از کم 107 افراد ہلاک اور 344 زخمی ہوئے۔ 

اس دوران 447 مکانات کو نقصان پہنچا، جبکہ 269 مویشی بھی ہلاک ہوئے۔

خیبر پختونخوا 55 اموات کے ساتھ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ 

پنجاب میں 36، آزاد جموں و کشمیر میں 7، بلوچستان میں 6، سندھ میں دو اور گلگت بلتستان میں ایک شخص جان سے گیا۔

6 اہم نکات+
  1. 26 جون سے 26 جولائی تک مون سون واقعات میں 107 افراد ہلاک اور 344 زخمی ہوئے۔
  2. خیبر پختونخوا میں 55 اور پنجاب میں 36 اموات ریکارڈ کی گئیں۔
  3. نصف سے زیادہ ہلاکتیں گھروں اور چھتوں کے گرنے سے ہوئیں۔
  4. 447 مکانات متاثر اور 269 مویشی ہلاک ہوئے۔
  5. 2022 کے بعد اربوں ڈالر کے وعدوں کے باوجود حفاظتی تیاری ناکافی ہے۔
  6. 29 جولائی سے بارشوں کا نیا سلسلہ مزید خطرات پیدا کرسکتا ہے۔

ان اعداد میں سب سے تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ نصف سے زیادہ ہلاکتیں دریاؤں کے بڑے سیلاب سے نہیں بلکہ گھروں اور چھتوں کے گرنے سے ہوئیں۔ 

باقی اموات ڈوبنے، بجلی کا کرنٹ لگنے، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث ہوئیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بارش تنہا قاتل نہیں۔ 

جب شدید بارش کسی خستہ مکان، کھلے برقی تار، بند نالے یا قدرتی آبی گزرگاہ پر بنائی گئی آبادی سے ٹکراتی ہے تو ایک موسمی خطرہ انسانی المیے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

خطرہ ابھی ٹلا نہیں

محکمۂ موسمیات نے 29 جولائی سے بارشوں کے نئے سلسلے کی پیش گوئی کی ہے، جس سے بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں، اسلام آباد، بالائی پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔

اگرچہ بیشتر بڑے دریا معمول یا نچلے درجے کے سیلاب پر تھے، دریائے راوی میں سدھنائی ہیڈ ورکس کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔ 

پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش رکنے کے باوجود تقریباً 400 مربع کلومیٹر زمین پانی میں ڈوبی ہوئی تھی۔

فیکٹ باکس+
107مجموعی اموات
344زخمی افراد
447متاثرہ مکانات
269ہلاک مویشی
55خیبر پختونخوا میں اموات
36پنجاب میں اموات
450 ملی میٹرلاہور میں پانچ روز کی بارش
29 جولائینئی بارشوں کا امکان

لاہور میں 5 دن کے دوران تقریباً 450 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ گوجرانوالہ، نارووال، سیالکوٹ اور اوکاڑہ میں بھی شدید بارش سے سڑکیں، نشیبی علاقے اور بستیاں زیرِ آب آئیں۔

یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ پاکستان ایک قسم کے سیلاب کا سامنا نہیں کررہا۔ 

ملک میں دریاؤں کا سیلاب، پہاڑی نالوں کے اچانک ریلے، برفانی جھیلوں کا پھٹنا اور شہروں میں ناقص نکاسی سے پیدا ہونے والا سیلاب ایک ساتھ خطرہ بن رہے ہیں۔ 

بعض اوقات دریا معمول کے مطابق بہہ رہا ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود شہر اس لیے ڈوب جاتا ہے کہ پانی کے نکاس کا نظام بارش کا دباؤ برداشت نہیں کرسکتا۔

بدانتظامی سانحہ بناتی ہے

ہر تباہی کو صرف موسمیاتی تبدیلی کے کھاتے میں ڈال دینا آسان ہے، مگر ایسا کرنا حکومتوں، بلدیاتی اداروں اور تعمیراتی نظام کی ذمہ داریوں سے توجہ ہٹا دیتا ہے۔

ابھی ایسی کوئی مخصوص سائنسی تحقیق سامنے نہیں آئی جو موجودہ بارشوں کے ہر واقعے کو براہِ راست موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دے۔ 

تاہم وسیع تر تصویر واضح ہے۔ 

بڑھتا ہوا درجۂ حرارت گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار تیز کرتا، فضا میں نمی بڑھاتا اور بارشوں کو زیادہ بے ترتیب اور شدید بناتا ہے۔

کیا تصدیق ہوچکی ہے؟+
  • کم از کم 107 اموات اور 344 زخمیوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔
  • نصف سے زیادہ اموات گھروں یا چھتوں کے گرنے سے ہوئیں۔
  • خیبر پختونخوا اور پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ صوبے ہیں۔
  • دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ ہوا۔
  • پنجاب کے مختلف علاقوں میں وسیع رقبہ پانی میں ڈوبا رہا۔
  • 29 جولائی سے بارشوں کے نئے سلسلے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

پاکستان میں تقریباً 13 ہزار گلیشیئرز موجود ہیں، جو قطبی علاقوں کے بعد دنیا کے بڑے برفانی ذخائر میں شامل ہیں۔ 

گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں 3 ہزار سے زیادہ برفانی جھیلیں بن چکی ہیں۔ 

ان میں سے 33 کو خطرناک قرار دیا گیا ہے، جبکہ ان کے آس پاس رہنے والے 71 لاکھ سے زیادہ افراد ممکنہ طور پر خطرے کی زد میں ہیں۔

مگر بھاری بارش یہ وضاحت نہیں کرتی کہ لوگ چھتوں کے نیچے دب کر کیوں مرتے ہیں۔ برساتی نالوں پر تجاوزات، بند نالیاں، کچے گھر، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، غیر محفوظ بجلی کا نظام اور سڑکوں و پلوں کی ناقص دیکھ بھال قدرتی خطرے کی انسانی قیمت کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔

انتباہ جاری ہوا، مگر کیا آخری گاؤں تک پہنچا؟

این ڈی ایم اے اور محکمۂ موسمیات نے سیلابی ریلوں، لینڈ سلائیڈنگ، شہری سیلاب اور دریاؤں میں پانی بڑھنے سے متعلق متعدد انتباہ جاری کیے۔ 

ایمرجنسی رسپانس کمیٹی نے بھی صوبائی تیاریوں، امدادی سامان، انخلا کے منصوبوں اور اداروں کے درمیان رابطے کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کیے۔

لیکن اسلام آباد میں جاری ہونے والا انتباہ کسی دور افتادہ وادی میں رہنے والے چرواہے یا ندی کے قریب آباد خاندان تک لازماً نہیں پہنچتا۔

صحافتی تحقیق کا نتیجہ+
موجودہ بحران صرف زیادہ بارش کی کہانی نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی قدرتی خطرے کی شدت بڑھا رہی ہے، لیکن انسانی جانوں کا بڑا نقصان کمزور مکانات، غیر محفوظ بجلی، بند نالوں، تجاوزات اور محدود انتباہی نظام سے ہورہا ہے۔ سرکاری توجہ اب بھی آفت سے پہلے تحفظ کے بجائے آفت کے بعد امداد پر زیادہ ہے۔

کئی علاقوں میں موبائل نیٹ ورک اور بجلی بند ہوتے ہی اطلاع کا نظام بھی ختم ہوجاتا ہے۔ پہاڑی بستیوں میں نہ مؤثر سائرن ہیں، نہ واضح انخلا کے راستے اور نہ ہی قریب محفوظ پناہ گاہیں۔ 

برفانی جھیلوں کی نگرانی اور پیشگی انتباہ کے منصوبے بھی تمام خطرے والے علاقوں کے بجائے صرف محدود وادیوں اور مقامات کا احاطہ کرتے ہیں۔

پنجاب نے بھارتی ڈیموں میں پانی کی سطح اور اخراج کا اندازہ لگانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی نظام متعارف کرایا ہے، کیونکہ پاکستانی حکام کے مطابق سرحد پار سے پانی کے بہاؤ اور ڈیموں سے اخراج کی مکمل معلومات دستیاب نہیں۔ 

یہ نظام اندازے بہتر بنا سکتا ہے، مگر تصدیق شدہ زمینی معلومات کا مکمل متبادل نہیں۔

2022 کے بعد ملنے والے اربوں ڈالر کہاں گئے؟

2022 کے تاریخی سیلاب میں تقریباً 1700 افراد ہلاک اور 3 کروڑ سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ حکومت پاکستان، عالمی بینک اور بین الاقوامی شراکت داروں کے مشترکہ جائزے کے مطابق براہِ راست نقصان 14.9 ارب ڈالر، معاشی خسارہ 15.2 ارب ڈالر اور بحالی و تعمیرِ نو کی ضرورت 16.3 ارب ڈالر سے زیادہ تھی۔

یہ کیوں اہم ہے؟+

پاکستان مسلسل سخت مون سون موسموں کا سامنا کررہا ہے۔ اگر ہر سال ہونے والی اموات کو صرف قدرتی آفت قرار دیا گیا تو متعلقہ ادارے اپنی انتظامی ذمہ داری سے بچتے رہیں گے۔

نصف سے زیادہ اموات چھتیں اور دیواریں گرنے سے ہونا ظاہر کرتا ہے کہ محفوظ کم قیمت مکانات، بجلی کی حفاظت، صاف نالے اور بروقت انخلا بڑے منصوبوں جتنے ہی ضروری ہیں۔

جنوری 2023 کی جنیوا کانفرنس میں عالمی برادری نے 9 ارب ڈالر سے زیادہ دینے کے وعدے کیے۔ 

بعد میں پاکستانی سرکاری اعداد میں مجموعی وعدے تقریباً 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

تاہم وعدہ کیا گیا ہر ڈالر پاکستان کو نقد رقم کی شکل میں نہیں ملا۔ 

بڑا حصہ قرضوں اور کئی سال پر محیط مخصوص منصوبوں کی مالی معاونت پر مشتمل تھا۔

 جون 2025 تک تقریباً 4.5 ارب ڈالر جاری کیے گئے تھے، جو مکانات، سڑکوں، نکاسیٔ آب اور سیلاب سے تحفظ کے منصوبوں پر خرچ ہونا تھے۔

کچھ نمایاں پیش رفت بھی ہوئی۔ 

سندھ میں عالمی بینک کی مدد سے 4 لاکھ 10 ہزار سے زیادہ آفت مزاحم گھروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع ہوا، جن میں سے اکتوبر 2024 تک تقریباً ڈیڑھ لاکھ مکمل ہوچکے تھے۔

لیکن ملک کے رقبے، متاثرین کی تعداد اور آفات کی رفتار کے مقابلے میں یہ پیش رفت ناکافی ہے۔ 

پاکستان ہر سال کیوں ڈوبتا ہے؟+
نالوں اور آبی گزرگاہوں پر تجاوزات
شہروں میں ناقص نکاسیٔ آب
کچے اور غیر محفوظ مکانات
سیلابی میدانوں میں تعمیرات
جنگلات کی کٹائی اور مٹی کا کٹاؤ
سڑکوں اور پلوں کی ناقص دیکھ بھال
اداروں کے درمیان کمزور رابطہ
انتباہ کا آخری گاؤں تک نہ پہنچنا
گلیشیئرز کا تیز پگھلاؤ
تحفظ کے بجائے امداد پر زیادہ توجہ

سست عمل درآمد، پیچیدہ سرکاری طریقۂ کار، قرضوں پر انحصار اور صوبوں کی مختلف انتظامی صلاحیتوں نے کاغذ پر موجود اربوں ڈالر اور زمین پر نظر آنے والی تبدیلی کے درمیان گہری خلیج پیدا کردی ہے۔

اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ اربوں ڈالر کہاں گئے۔ 

اصل سوال یہ بھی ہے کہ کتنی رقم واقعی پہنچی، کتنی قرض تھی، کتنی اگلے موسم سے پہلے حفاظتی ڈھانچے میں تبدیل ہوئی اور نتائج کی آزادانہ نگرانی کس نے کی؟ 

پانی اترنے کے بعد اصل بحران شروع ہوتا ہے

سیلابی پانی کم ہونے کے بعد تباہی ختم نہیں ہوتی۔ 

فصلیں ضائع، مویشی ہلاک، بازار بند اور پینے کا پانی آلودہ ہوجاتا ہے۔ 

بیماریاں پھیلتی ہیں اور غریب خاندان اسی مکان کی مرمت کے لیے قرض لیتا ہے جو اگلی بارش میں دوبارہ گر سکتا ہے۔

اوورسیز پاکستانی کیسے متاثر ہوں گے؟+
  • متاثرہ خاندانوں کے لیے ہنگامی ترسیلاتِ زر بڑھ سکتی ہیں۔
  • گھر کی تعمیر، علاج اور خوراک کے اخراجات بیرون ملک مقیم فرد کو اٹھانا پڑسکتے ہیں۔
  • بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے لیے رکھی گئی بچت متاثر ہوسکتی ہے۔
  • بند سڑکوں اور مواصلاتی نظام کی خرابی سے خاندان سے رابطہ مشکل ہوسکتا ہے۔
  • سیلاب کے نام پر غیر مصدقہ چندہ مہمات بڑھ سکتی ہیں۔
  • پاکستان جانے سے پہلے موسم، سڑکوں اور پروازوں کی صورت حال دیکھنا ضروری ہوگا۔

سڑکیں اور خوراک کی ترسیل متاثر ہونے سے ان شہروں میں بھی قیمتیں بڑھتی ہیں جو براہِ راست سیلاب کی زد میں نہیں آئے۔ 

بار بار نقصان اٹھانے والے دیہاتی شہروں کے مضافات کا رخ کرتے ہیں، جہاں وہ اکثر ایسی غیر منظم بستیوں میں آباد ہوتے ہیں جو خود اگلے سیلاب کے سامنے غیر محفوظ ہوتی ہیں۔

یوں سیلاب چند روزہ حادثہ نہیں رہتا، بلکہ غربت، بیماری اور نقل مکانی کو ہر سال دوبارہ پیدا کرنے والا مستقل نظام بن جاتا ہے۔

بارش قدرتی ہے، موت کی یہ تعداد ناگزیر نہیں

ضلعی سطح پر خطرے کے نقشے، نالوں اور سیلابی میدانوں پر تعمیرات کی روک تھام، گلیشیئرز کی وسیع نگرانی، محفوظ بجلی کا نظام، کم قیمت مگر مضبوط گھر اور خطرے سے پہلے کشتیوں، ادویات اور امدادی ٹیموں کی تعیناتی ناگزیر ہے۔

 
ممکنہ اگلا منظرنامہ+
محدود نقصان: بارش مختصر رہی تو پانی آہستہ آہستہ اترے گا اور توجہ بحالی پر منتقل ہوگی۔
شہری سیلاب: شدید بارش سے لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور دیگر نشیبی شہر دوبارہ متاثر ہوسکتے ہیں۔
پہاڑی و دریائی بحران: مسلسل بارش سے لینڈ سلائیڈنگ، برفانی جھیلوں کے پھٹنے اور دریاؤں میں اچانک پانی بڑھنے کا خطرہ ہوگا۔

پاکستان عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، مگر موسمیاتی تبدیلی کی بھاری قیمت ادا کررہا ہے۔ 

اسے عالمی سطح پر منصفانہ مالی مدد درکار ہے، لیکن بیرونی موسمیاتی ناانصافی داخلی بدانتظامی کا جواز نہیں بن سکتی۔

2022 کی تاریخی تباہی اور 2025 کے جان لیوا سیلاب کے بعد 2026 کا مون سون نیا انتباہ نہیں، بلکہ سابقہ وعدوں اور تیاریوں کا امتحان ہے۔

اب تک سامنے آنے والا نتیجہ تلخ ہے:

بارش کی خبر پہلے آگئی تھی، مگر تحفظ سے پہلے موت پہنچ گئی۔ 

🌧️

اصل اور بنیادی ذرائع

پاکستان میں مون سون 2026، تازہ ہلاکتوں، سیلابی خطرات، تاریخی نقصانات اور بحالی سے متعلق بنیادی ذرائع

9 بنیادی ذرائع
تازہ اپ ڈیٹ 27 جولائی 2026 تک اموات کی تعداد 109 ہوگئی ہے۔ رپورٹ کی تیاری کے وقت دستیاب 107 اموات کا عدد 26 جولائی کے این ڈی ایم اے ڈیٹا پر مبنی تھا۔ نئی ایسوسی ایٹڈ پریس رپورٹ میں این ڈی ایم اے کے حوالے سے 26 جون سے اب تک 109 اموات بتائی گئی ہیں۔
تازہ سرکاری اور صحافتی صورت حال
این ڈی ایم اے — مون سون 2026 سچویشن رپورٹ
ہلاکتوں، زخمیوں، متاثرہ مکانات، مویشیوں اور صوبائی نقصان کے لیے بنیادی سرکاری ماخذ۔ ڈیش بورڈ نئی اطلاعات کے ساتھ مسلسل تبدیل ہوسکتا ہے۔
بنیادی سرکاری ماخذ
تازہ ڈیٹا ↗
ایسوسی ایٹڈ پریس — تازہ تعداد 109 اموات
27 جولائی کی رپورٹ میں این ڈی ایم اے کے حوالے سے 26 جون سے اب تک 109 اموات بتائی گئیں۔ بیشتر ہلاکتیں گھروں اور چھتوں کے گرنے سے منسلک ہیں۔
27 جولائی کی تازہ رپورٹ
اصل رپورٹ ↗
Dawn — 107 اموات اور صوبائی تقسیم
26 جولائی تک این ڈی ایم اے کے ڈیٹا پر مبنی رپورٹ میں 107 اموات، 344 زخمی، خیبر پختونخوا میں 55 اور پنجاب میں 36 ہلاکتوں سمیت دریاؤں اور زیرِ آب علاقوں کی تفصیل دی گئی ہے۔
26 جولائی کا تفصیلی ریکارڈ
رپورٹ پڑھیں ↗
سرکاری موسمی پیش گوئیاں
پاکستان محکمۂ موسمیات — بارش اور سیلاب کی پیش گوئی
ملک گیر بارش، گرج چمک، بالائی دریائی علاقوں اور ممکنہ سیلابی خطرات سے متعلق سرکاری پیش گوئیاں۔ اشاعت سے قبل تازہ بلیٹن دوبارہ دیکھنا ضروری ہے۔
سرکاری موسمی ماخذ
تازہ پیش گوئی ↗
2022 کا نقصان اور عالمی مالی وعدے
عالمی بینک — 2022 کے سیلابی نقصان کا مشترکہ جائزہ
مشترکہ جائزے کے مطابق براہِ راست نقصان 14.9 ارب ڈالر، معاشی خسارہ 15.2 ارب ڈالر اور بحالی و تعمیرِ نو کی ضرورت کم از کم 16.3 ارب ڈالر تھی۔
اصل بین الاقوامی جائزہ
جائزہ پڑھیں ↗
رائٹرز — جنیوا کانفرنس کے نو ارب ڈالر سے زیادہ کے وعدے
جنوری 2023 کی جنیوا کانفرنس میں عالمی ممالک اور مالیاتی اداروں نے پاکستان کی بحالی کے لیے نو ارب ڈالر سے زیادہ فراہم کرنے کے وعدے کیے۔
عالمی مالی وعدوں کا ریکارڈ
اصل رپورٹ ↗
بحالی اور سیلاب مزاحم تعمیرات
عالمی بینک — سندھ میں سیلاب مزاحم گھروں کی تعمیر
سندھ کا منصوبہ چار لاکھ دس ہزار سے زیادہ گھروں کی تعمیر یا بحالی میں معاونت کررہا ہے۔ اکتوبر 2024 تک تقریباً ڈیڑھ لاکھ گھر مکمل ہوچکے تھے۔
بحالی کی سرکاری پیش رفت
پیش رفت دیکھیں ↗
موسمیاتی خطرات اور علاقائی پس منظر
Al Jazeera — گلیشیئرز اور انتباہی نظام کی محدود رسائی
پاکستان کے تقریباً 13 ہزار گلیشیئرز، تین ہزار سے زیادہ برفانی جھیلوں، 33 خطرناک جھیلوں اور ممکنہ خطرے سے دوچار 71 لاکھ سے زیادہ افراد کا تفصیلی جائزہ۔
موسمیاتی خطرات کی تحقیق
تفصیلی رپورٹ ↗
رائٹرز — جنوبی ایشیا میں بارشوں کی علاقائی شدت
پاکستان، افغانستان اور بھارت میں شدید بارشوں، سیلاب، زرعی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا علاقائی پس منظر فراہم کرنے والی رپورٹ۔
آزاد علاقائی رپورٹنگ
رپورٹ پڑھیں ↗
رپورٹ کے بنیادی ستون تازہ جانی و مالی نقصان کے لیے NDMA بنیادی سرکاری ماخذ ہے، جبکہ Associated Press تازہ ترین 109 اموات کی آزاد صحافتی تصدیق فراہم کرتی ہے۔ موسمی پیش گوئی کے لیے PMD، تاریخی مالی نقصان کے لیے World Bank PDNA اور عالمی وعدوں کے لیے Reuters بنیادی حوالہ ہیں۔
SOURCES • overseaspost.net

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے