امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی ایک بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ معاہدے سے پہلے فنڈز جاری نہیں ہوں گے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ابھی تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران باخبر ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ڈرمپ نے بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کو عبوری معاہدے پر دستخط سے مشروط کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے ثالثوں کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ کسی بھی معاہدے پر دستخط سے قبل ایران کے منجمد فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے۔
بتایا گیا ہے کہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ان رقوم کے استعمال اور ان تک رسائی کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔
مزید پڑھیں
ذرائع نے مزید بتایا کہ ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جس میں ایرانی منجمد اثاثے جمع کیے جائیں گے، جبکہ ان رقوم کے ایک حصے کی مرحلہ وار رہائی کے لیے مختلف طریقہ کار پر بھی غور جاری ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں کوئی واضح اور ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق عراقچی نے بدھ کی شب کہا کہ مذاکراتی عمل اب تک کسی اہم نتیجے تک نہیں پہنچ سکا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ رواں ہفتے کے اختتام تک کسی ممکنہ معاہدے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کا مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کا مرکزی نکتہ ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت کے باوجود ایران نے ابھی تک امن معاہدے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
گزشتہ چند ہفتوں سے ایران اور امریکا بالواسطہ مذاکرات میں مصروف ہیں تاکہ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی راستہ نکالا جا سکے۔
اگرچہ گزشتہ ہفتے بعض مثبت اشارے سامنے آئے تھے، تاہم اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے تازہ مجوزہ معاہدے میں مزید سخت شرائط شامل کر دی ہیں، جبکہ تہران نے ابھی تک اس پر باضابطہ جواب نہیں دیا۔
دریں اثنا، گزشتہ چند دنوں کے دوران کشیدگی میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان حملوں کے تبادلے اور ایران کی جانب سے کویت، خصوصاً اس کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے بعد سفارتی کوششوں کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔