اہم خبریں
27 May, 2026
--:--:--

ایران کی نئی شرط: پہلے 24 ارب ڈالر، پھر معاہدہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکا مذاکرات

سفارتی ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں منجمد ایرانی اثاثے ایک اہم مسئلہ بن کر سامنے آئے ہیں۔
ایران نے تقریباً 24 ارب ڈالر کی منجمد رقم کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ قطر ثالثی اور سفارتی رابطوں کے ذریعے ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں سرگرم ہے۔

سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں مالی معاملات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں تہران نے اپنی منجمد مالیاتی اثاثوں کی رہائی کو ممکنہ معاہدے کا بنیادی حصہ قرار دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے سربراہ اور مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے قطر کے دورے کے دوران دوحہ حکام کے ساتھ ان مالیاتی انتظامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جن کے ذریعے بیرون ملک موجود ایرانی اثاثوں کو واپس لانے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

امریکا ایران معاہدہ
ایران نے مفاہمتی یادداشت کے اعلان کے وقت 24 ارب ڈالر میں سے نصف رقم فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا

اطلاعات کے مطابق ایران نے تقریباً 24 ارب ڈالر کی منجمد رقم کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ امریکا کے ساتھ متوقع مفاہمتی دستاویز یا یادداشت کے اعلان کے ساتھ ہی اس رقم کا نصف حصہ جاری کیا جائے، جبکہ بقیہ نصف رقم زیادہ سے زیادہ 60 روز کے اندر منتقل کی جائے۔

مزید پڑھیں

ایرانی سرکاری ٹی وی نے بھی تصدیق کی کہ ایرانی مذاکراتی وفد قطر میں مشاورت مکمل کرنے کے بعد واپس وطن پہنچ گیا ہے۔ 

دوسری جانب ایرانی خبر ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق دوحہ مذاکرات کا سب سے اہم محور منجمد مالی اثاثوں کی بحالی تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر میں ہونے والی ملاقاتوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں پیش رفت سامنے آئی ہے، 

جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق قطر اس پورے عمل میں فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق محمد باقر قالیباف کا دوحہ دورہ بنیادی طور پر انہی مالیاتی امور پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے تھا، تاکہ ممکنہ سیاسی مفاہمت کے ساتھ معاشی ریلیف بھی یقینی بنایا جا سکے۔

baqar qalibaf
ایرانی مذاکراتی وفد قطر سے واپس پہنچ گیا، جہاں منجمد اثاثوں کی واپسی مذاکرات کا مرکزی موضوع رہی

تخمینوں کے مطابق بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی مجموعی مالیت 100 ارب ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے، اگرچہ اس حوالے سے حتمی اعداد و شمار موجود نہیں۔ 

ان اثاثوں کو ایران کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کے ایک اہم ذریعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ادھر قطر نے بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ 

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے مذاکراتی عمل جاری رکھنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔

ChatGPT Image 24 مايو 2026، 04 43 47 م
شیخ تمیم نے ایرانی سے مذاکرات اور سفارتی حل جاری رکھنے پر زور دیا

قطری قیادت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام فریق دانشمندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ خطہ مزید کشیدگی اور عدم استحکام سے محفوظ رہ سکے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر مالی معاملات پر اتفاق رائے قائم ہو جاتا ہے تو ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل ایک اہم پیش رفت کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات صرف خطے ہی نہیں بلکہ عالمی توانائی اور اقتصادی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔