امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ قطر اور دیگر علاقائی ممالک جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور ابتدائی معاہدے کی راہ میں موجود رکاوٹیں دور کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز، ایرانی منجمد فنڈز اور جوہری معاملات اب بھی اہم مذاکراتی نکات ہیں۔
امریکی فوجی حملوں اور بڑھتی کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی کے عمل کو برقرار رکھنے اور جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سیاسی حل کی راہ کھلی رکھنے کے خواہاں ہیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حالیہ فوجی کارروائیوں کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات رکے نہیں، جبکہ قطر کا دارالحکومت دوحہ سفارتی سرگرمیوں کا اہم مرکز بن چکا ہے۔
اس کے ساتھ عرب ممالک اور پاکستان بھی دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے متحرک ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اہم مذاکرات کار محمد باقر قالیباف مسلسل دوسرے روز بھی دوحہ میں موجود ہیں، جہاں وہ ان معاملات کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ممکنہ ابتدائی معاہدے میں اب بھی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ان میں ایرانی منجمد اثاثوں کی رہائی اور آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کا طریقہ کار شامل ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی فوج نے جنوبی ایران میں میزائل تنصیبات اور آبنائے ہرمز کے قریب بعض کشتیوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا، جن کے بارے میں واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ وہ اہم بحری گزرگاہ کے لیے خطرہ بن رہی تھیں۔
دوسری جانب ایرانی حکومت نے امریکی اقدامات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے سیاسی بیانات اور عملی اقدامات میں تضاد مذاکراتی عمل کے لیے سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے واضح کیا کہ تہران اب بھی سفارتی راستے کو ترجیح دے رہا ہے، جبکہ ایرانی مذاکراتی ٹیم اور دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا پر جنوبی علاقوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی فوجی سرگرمیوں کا جواب دیا اور خبردار کیا کہ مزید کشیدگی امن کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
موجودہ مذاکرات میں جنگ بندی کو مستحکم بنانے، آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے، معاشی دباؤ کم کرنے اور بیرون ملک موجود ایرانی منجمد فنڈز کے مسئلے پر توجہ مرکوز ہے، جسے اب ممکنہ معاہدے کی ’آخری بڑی رکاوٹ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
مذاکراتی ذرائع کے مطابق تہران چاہتا ہے کہ کسی بھی سیاسی پیش رفت کے آغاز کے ساتھ اس کے منجمد اثاثوں کا بڑا حصہ جاری کیا جائے، جبکہ امریکا زیادہ سخت سکیورٹی اور جوہری ضمانتوں پر زور دے رہا ہے۔
دوسری طرف یورینیم افزودگی کا معاملہ بھی اب تک مذاکرات کا اہم حصہ ہے، جہاں بعض تجاویز کے تحت اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر کی منتقلی یا افزودگی کی شرح کم کرنے پر بات چیت جاری ہے۔
عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز اس پورے بحران میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ حالیہ کشیدگی نے عالمی تیل منڈیوں اور بحری نقل و حمل پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔
اگرچہ فوجی تناؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، تاہم واشنگٹن اور تہران دونوں کی حالیہ پوزیشنز سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ سفارتی دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، اور خطے میں امن کے لیے کوششیں اب بھی جاری ہیں۔
اسی دوران قطر اور پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی تیز ہو چکی ہیں تاکہ باقی تنازعات ختم کر کے کسی حتمی سمجھوتے کی راہ ہموار کی جا سکے۔