امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ ایران معاہدے نے واشنگٹن میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
ریپبلکن پارٹی کے سخت گیر رہنما خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ جنگ بندی اور پابندیوں میں نرمی ایران کو معاشی اور سیاسی طور پر دوبارہ مضبوط ہونے کا موقع دے سکتی ہے۔
دوسری طرف ٹرمپ اسے جنگ کے خاتمے، توانائی بحران میں کمی اور سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جبکہ اصل تنازع جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور پابندیوں کے مستقبل پر مرکوز ہے۔
ایران کو معاشی
ریلیف ملنے سے
تہران دوبارہ
مضبوط ہو سکتا ہے
دوسری طرف ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ مذاکراتی دروازہ کھولنا جنگ کی لاگت کم کرنے، عالمی توانائی مارکیٹ کو مستحکم کرنے اور سیاسی کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا تیز ترین راستہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق طویل جنگ بندی، 60 روزہ مذاکراتی مرحلہ، اور آبنائے ہرمز کی بحالی جیسے نکات زیر بحث ہیں، جہاں جنگ کے آغاز کے بعد سے جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔
بعض رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ جنگ بندی کے دوران ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت مل سکتی ہے، جس نے ریپبلکن سخت گیر حلقوں میں شدید تشویش پیدا کی ہے، کیونکہ ان کے مطابق یہ تہران کے لیے بلا معاوضہ معاشی فائدہ ہوگا۔
ریپبلکن پارٹی کے اندر سے مخالفت
دلچسپ بات یہ ہے کہ سب سے سخت تنقید ڈیموکریٹس کی جانب سے نہیں بلکہ ریپبلکن پارٹی کے اندر سے سامنے آئی ہے۔
کئی ریپبلکن سینیٹرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مجوزہ معاہدہ جنگ کے ان اہداف کو کمزور کرسکتا ہے جن کے نام پر پوری حکمت عملی تیار کی گئی تھی۔
پارٹی کے ایک بڑے حلقے کا مؤقف ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر محدود کیے بغیر دباؤ کم کردیا گیا تو عسکری کامیابیاں طویل المدتی سیاسی نقصان میں بدل سکتی ہیں۔
ان حلقوں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ پابندیوں میں نرمی یا ایرانی تیل کی فروخت دوبارہ شروع ہونے سے تہران اپنی معاشی مشکلات پر قابو پا لے گا اور خطے میں اپنا اثرورسوخ مزید مضبوط کرلے گا، بجائے اس کے کہ اسے بنیادی رعایتوں پر مجبور کیا جائے۔
ٹرمپ کا دفاعی موقف
ان دباؤ کے جواب میں ٹرمپ نے جارحانہ انداز اختیار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاہدہ 2015 کے جوہری معاہدے جیسا نہیں بلکہ یہ مکمل طور پر مختلف راستہ ہے۔
ٹرمپ کی حکمت عملی یہ دکھائی دیتی ہے کہ جنگ کا خاتمہ، توانائی مارکیٹ کا استحکام، اور آبنائے ہرمز کی بحالی انہیں ’جنگ ختم کرنے والے صدر‘ کے طور پر پیش کرسکتی ہے، خاص طور پر آئندہ سیاسی مرحلوں کے تناظر میں۔
لیکن ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی قدامت پسند سیاسی بنیاد کو یہ باور کرانا ہوگا کہ یہ معاہدہ ایران کو دوبارہ سنبھلنے کا موقع فراہم نہیں کرے گا۔
سیاسی جوا یا مجبوری کا راستہ؟
بعض امریکی تجزیہ کار ممکنہ معاہدے کو واشنگٹن کے پاس بچا ہوا ’واحد عملی راستہ‘ قرار دے رہے ہیں۔
ان کے مطابق جنگ جاری رہنے کی صورت میں عالمی معیشت، توانائی منڈیوں اور ٹرمپ کے سیاسی مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
اس تناظر میں معاہدہ، اپنے خطرات کے باوجود، غیر معینہ جنگ سے کم نقصان دہ راستہ بن سکتا ہے۔
تاہم بنیادی سوال اب بھی برقرار ہے:
کیا واشنگٹن ایران سے جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی کے حوالے سے حقیقی رعایتیں حاصل کرپائے گا، یا یہ محض ایک عارضی سیاسی وقفہ ہوگا جو ایران کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کرے گا؟
اسی سوال کا جواب طے کرے گا کہ آیا ٹرمپ اس معاہدے کو تاریخی کامیابی کے طور پر پیش کریں گے، یا ان کے ناقدین اسے ایران کو دی گئی ’سیاسی زندگی کی نئی مہلت‘ قرار دیں گے۔