امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت کے باوجود فوری معاہدے کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ یا تو واشنگٹن ایران کے ساتھ اچھا معاہدہ کرے گا یا پھر ’دوسرا راستہ‘ اختیار کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے تصدیق کی کہ متعدد معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے تاہم معاہدہ ابھی قریب نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں کو صبر سے کام لینا چاہئے اور معاملے کو درست طریقے سے مکمل کرنا چاہیے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران ایک ایسی مفاہمتی یادداشت پر نمایاں پیش رفت کرچکے ہیں جو ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔
ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹیکس عائد نہیں کرے گا تاہم نیوی گیشن سروسز، ماحولیاتی تحفظ اور بحری سلامتی سے متعلق خدمات کے لیے مقررہ فیس وصول کی جاسکتی ہے۔
واضح رہے کہ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا اہم راستہ تھی تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب بھی متعدد حساس معاملات پر اختلافات موجود ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، پابندیوں کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی، لبنان کی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کے دیگر معاملات شامل ہیں۔