اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

امریکہ، ایران معاہدہ ممکن مگر فوری کی امید نہیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران معاہدہ

امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت کے باوجود فوری معاہدے کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ یا تو واشنگٹن ایران کے ساتھ اچھا معاہدہ کرے گا یا پھر ’دوسرا راستہ‘ اختیار کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے تصدیق کی کہ متعدد معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے تاہم معاہدہ ابھی قریب نہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان 3 ماہ سے جاری کشیدگی میں فوری پیش رفت کے امکانات کم دکھائی دینے لگے ہیں کیونکہ واشنگٹن اور تہران دونوں نے کسی فوری معاہدے کی توقعات کو محدود کر دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آج پیر کے روز کہا ہے کہ امریکا یا تو ایران کے ساتھ ایک ’اچھا معاہدہ‘ کرے گا یا پھر اس سے ’کسی اور طریقے‘ سے نمٹے گا۔

نیو دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکا سفارتکاری کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن موقع دے گا، تاہم ضرورت پڑنے پر ’متبادل راستوں‘ پر بھی غور کیا جائے گا۔ 

یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کو ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے میں جلد بازی سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

مزید پڑھیں

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران اس وقت جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے اور فی الحال جوہری معاملات زیر بحث نہیں ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات میں ایک عمومی فریم ورک طے پا گیا ہے تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکا اور ایران کسی حتمی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

بقائی نے مزید کہا کہ ممکنہ مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز کے انتظام یا اس کے کنٹرول سے متعلق کوئی مخصوص تفصیلات شامل نہیں ہیں کیونکہ یہ آبی گزرگاہ اس سے متصل ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ادھر امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پیر کے روز کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہوں گے، جبکہ صدر ٹرمپ نے ایران کو 5 سے 7 دن کی مہلت دی ہے تاکہ وہ ایک قابل قبول معاہدے کا خاکہ پیش کرسکے۔

ایران امریکا مذاکرات
ایران: جنگ کے خاتمے پر مذاکرات جاری، جوہری پروگرام فی الحال بات چیت کا حصہ نہیں

امریکی حکام کے مطابق مذاکراتی فریم ورک کا تقریباً 95 فیصد حصہ مکمل ہوچکا ہے، جبکہ جوہری ذخائر اور آبنائے ہرمز کے معاملات پر بنیادی اتفاق رائے حاصل کرلیا گیا ہے اور صرف حتمی قانونی اور سفارتی زبان باقی رہ گئی ہے۔

ٹرمپ نے اتوار کو ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ ایران کی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز پر امریکی بحری پابندیاں اس وقت تک مکمل طور پر برقرار رہیں گی جب تک کسی معاہدے کو باضابطہ منظوری اور دستخط کے ذریعے حتمی شکل نہیں دے دی جاتی۔

مجوزہ فریم ورک
کا 95 فیصد حصہ
مکمل ہوچکا

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں کو صبر سے کام لینا چاہئے اور معاملے کو درست طریقے سے مکمل کرنا چاہیے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران ایک ایسی مفاہمتی یادداشت پر نمایاں پیش رفت کرچکے ہیں جو ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔
ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹیکس عائد نہیں کرے گا تاہم نیوی گیشن سروسز، ماحولیاتی تحفظ اور بحری سلامتی سے متعلق خدمات کے لیے مقررہ فیس وصول کی جاسکتی ہے۔
واضح رہے کہ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا اہم راستہ تھی تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب بھی متعدد حساس معاملات پر اختلافات موجود ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، پابندیوں کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی، لبنان کی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کے دیگر معاملات شامل ہیں۔

امریکہ ایران امن معاہدہ
آبنائے ہرمز، یورینیم ذخائر اور پابندیاں مذاکرات کے اہم ترین نکات بن گئے

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ایران اصولی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے، امریکی بحری پابندیاں ختم کرنے اور یورینیم کے انتہائی افزودہ ذخائر ختم کرنے کے عمومی فریم ورک پر آمادہ ہوگیا ہے، جبکہ واشنگٹن کو یقین ہے کہ ایران کی اعلیٰ قیادت نے بھی اس کی ابتدائی منظوری دے دی ہے۔

تاہم ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ اگرچہ کئی معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، مگر یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ کسی حتمی معاہدے کا اعلان قریب ہے۔