انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ حتمی معاہدے اور اس کی منظوری تک ایران پر بحری دباؤ اور بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی۔
انہوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیا سمجھوتہ مضبوط، بامعنی اور مؤثر ہونا چاہئے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے محتاط مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ابھی کسی حتمی معاہدے کے قریب ہونے کا دعویٰ قبل از وقت ہوگا، اگرچہ بعض معاملات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ موجودہ مذاکرات کا بنیادی مقصد جنگ روکنا ہے، جبکہ جوہری پروگرام کا معاملہ بعد میں زیر بحث آسکتا ہے۔
ایرانی حکام نے واشنگٹن کی بدلتی پالیسیوں کو مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا، جبکہ اس بات پر بھی زور دیا کہ تہران آبنائے ہرمز کی سلامتی کے لیے پُرعزم ہے، تاہم اپنے خودمختار حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایرانی صدر نے بھی واضح کیا کہ ان کا ملک دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور صرف ایسا سفارتی راستہ قبول کرے گا جو قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
ادھر بعض ایرانی سفارتی ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا اپنی یقین دہانیوں پر قائم رہا تو مستقبل میں جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی رہائی جیسے معاملات بھی مذاکرات کا حصہ بن سکتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر چین نے بھی مداخلت کرتے ہوئے دونوں ممالک سے کشیدگی ختم کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ جنگ کا آغاز ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔
بیجنگ نے خطے میں استحکام اور عالمی سپلائی چینز کے تحفظ کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا۔