اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

ٹرمپ کی مایوسی، روبیو کی امید اور ایران کے شکوک، معاہدہ کیا ہوا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران معاہدہ
ایران نے مفاہمتی یادداشت کے اعلان کے وقت 24 ارب ڈالر میں سے نصف رقم فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ممکنہ سمجھوتے کی امیدوں کے باوجود مذاکرات ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں جلد بازی نہیں ہوگی، جبکہ ایران نے بھی محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات ابھی حساس مرحلے میں ہیں۔
ادھر چین نے دونوں ممالک سے کشیدگی ختم کرنے اور مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے، جنگ روکنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی کوششوں کے باوجود ممکنہ معاہدے کے امکانات ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگئے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آج پیر کے روز کہا کہ ایک مضبوط فریم ورک پر پیش رفت ہوئی ہے، اور ممکن ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں اہم اعلان سامنے آئے۔ 

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کا عندیہ دیا۔

مزید پڑھیں

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توقعات کو کم کرتے ہوئے واضح کردیا کہ امریکا کسی جلد بازی میں نہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ مذاکرات ابھی مکمل نہیں ہوئے اور کسی بھی معاہدے سے پہلے امریکا اپنی تمام شرائط پوری ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے سے روکنا امریکا کی بنیادی شرط ہے۔ 

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ حتمی معاہدے اور اس کی منظوری تک ایران پر بحری دباؤ اور بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی۔

انہوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیا سمجھوتہ مضبوط، بامعنی اور مؤثر ہونا چاہئے۔

ChatGPT Image 24 مايو 2026، 01 44 35 م
امریکی انتظامیہ نے تصدیق کی کہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے محتاط مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ابھی کسی حتمی معاہدے کے قریب ہونے کا دعویٰ قبل از وقت ہوگا، اگرچہ بعض معاملات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ موجودہ مذاکرات کا بنیادی مقصد جنگ روکنا ہے، جبکہ جوہری پروگرام کا معاملہ بعد میں زیر بحث آسکتا ہے۔

ایرانی حکام نے واشنگٹن کی بدلتی پالیسیوں کو مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا، جبکہ اس بات پر بھی زور دیا کہ تہران آبنائے ہرمز کی سلامتی کے لیے پُرعزم ہے، تاہم اپنے خودمختار حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ChatGPT Image 22 مايو 2026، 09 53 57 م
مذاکرات کا بنیادی مرکز جنگ روکنا ہے، جوہری پروگرام نہیں

ایرانی صدر نے بھی واضح کیا کہ ان کا ملک دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور صرف ایسا سفارتی راستہ قبول کرے گا جو قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

ادھر بعض ایرانی سفارتی ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا اپنی یقین دہانیوں پر قائم رہا تو مستقبل میں جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی رہائی جیسے معاملات بھی مذاکرات کا حصہ بن سکتے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر چین نے بھی مداخلت کرتے ہوئے دونوں ممالک سے کشیدگی ختم کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ جنگ کا آغاز ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ 

بیجنگ نے خطے میں استحکام اور عالمی سپلائی چینز کے تحفظ کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا۔