اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

امریکا، ایران معاہدہ تاخیر کا شکار، اہم نکات پر مذاکرات جاری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران مذاکرات
ایرانی سرکاری ٹی وی نے 14 نکاتی ابتدائی مفاہمتی فریم ورک کا دعویٰ کیا

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر پیش رفت جاری ہے تاہم کئی اہم تکنیکی اور سیاسی نکات اب بھی زیرِ بحث ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق معاہدے میں تاخیر ہو سکتی ہے جبکہ پابندیوں، آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام اور منجمد فنڈز جیسے معاملات پر مذاکرات جاری ہیں۔
ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی واضح کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ کمزور معاہدہ نہیں کرے گا۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات نے ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ 

حالیہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کسی ممکنہ ابتدائی معاہدے یا مفاہمت کے قریب پہنچ چکے ہیں تاہم کئی اہم نکات پر اختلافات اب بھی موجود ہیں، جس کے باعث حتمی معاہدے پر دستخط فوری طور پر متوقع نہیں۔

امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکسيوس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اتوار کو ایران اور امریکا کے درمیان کسی حتمی معاہدے پر دستخط ہونے کی توقع نہیں کیونکہ کئی اہم تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

مزید پڑھیں

امریکی عہدیدار کے مطابق مذاکرات میں حساس نکات، قانونی شقوں اور بعض الفاظ پر دونوں ممالک کے درمیان مسلسل بات چیت جاری ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان مختلف معاملات پر گفتگو ہو رہی ہے، کیونکہ دونوں فریق اپنی شرائط اور مفادات کے مطابق معاہدے کو حتمی شکل دینا چاہتے ہیں۔

امریکی اہلکار نے مزید بتایا کہ ایرانی نظام فیصلہ سازی میں محتاط اور 

مرحلہ وار طریقہ کار اختیار کرتا ہے، اسی لیے کسی بھی بڑے معاہدے کو مختلف منظوریوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

ان کے مطابق امریکی اندازوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت نے ممکنہ معاہدے کے بنیادی خدوخال پر ابتدائی رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم اسے مکمل اور حتمی شکل دینا اب بھی ایک کھلا معاملہ ہے۔

ChatGPT Image 23 مايو 2026، 09 28 44 م 1
مبینہ مسودے میں ایران پر بحری پابندیاں ختم کرنے اور امریکی فوجی انخلا جیسے نکات شامل تھے

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ایران کے جوہری ذخائر، اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم اور مستقبل کے جوہری پروگرام کی نوعیت اب بھی مذاکرات کا اہم ترین حصہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود اور شفاف بنانے کے بغیر تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی نہیں دی جا سکتی۔

آبنائے ہرمز
کھولنے اور
جوہری وعدوں
کو معاہدے کا
اہم حصہ قرار
دیا جا رہا ہے

امریکی عہدیدار نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے بیرون ملک منجمد مالی اثاثوں کی رہائی کا معاملہ بھی مکمل طور پر طے نہیں ہوا۔
اطلاعات کے مطابق ایران کے فنڈز کی ممکنہ بحالی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے اور ایران کی جانب سے جوہری وعدوں کی تکمیل سے مشروط ہو سکتی ہے۔
ایکسیوس نے قبل ازیں ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا اور ایران ایک ایسے فریم ورک کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے تحت جنگ بندی کی مدت میں 60 دن کی توسیع کی جا سکتی ہے۔
مجوزہ انتظام کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر بحال کیا جائے گا جبکہ ایران کو عالمی منڈی میں تیل فروخت کرنے کی زیادہ آزادی بھی دی جا سکتی ہے۔
ممکنہ معاہدے کے تحت ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام کے مستقبل، یورینیم افزودگی، نگرانی کے نظام اور پابندیوں کے ممکنہ خاتمے سے متعلق مزید مذاکرات کئے جائیں گے۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ سمجھوتے میں بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ عالمی توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔

ایران امریکہ مذاکرات
ایران کے منجمد فنڈز کی رہائی بعض شرائط سے مشروط ہو سکتی ہے

بعض اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں موجود رکاوٹیں ختم کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے، تاکہ بین الاقوامی تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق بحال ہو سکے۔

اسی طرح ممکنہ معاہدے میں ایران کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی شامل ہو سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، جبکہ اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کے ذخائر اور بعض حساس جوہری سرگرمیوں پر بھی تفصیلی بات چیت جاری رہے گی۔

ٹرمپ نے کہا
ایران کے ساتھ
جلد بازی میں
کوئی معاہدہ
نہیں ہوگا

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق جاری سفارتی عمل پر کئی اہم بیانات دیے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جو امریکا کے مفادات کے خلاف ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر معاہدے کی تفصیلات عوامی سطح پر بیان نہیں کی جا سکتیں، تاہم ان کے مطابق ایران سے متعلق سامنے آنے والی خبریں مثبت ہو سکتی ہیں۔ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر بھی متعدد پیغامات جاری کیے، جن میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ زیر بحث ممکنہ معاہدہ سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے سے مکمل طور پر مختلف ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر عائد پابندیاں اور اقتصادی دباؤ اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک کوئی قابل عمل اور باضابطہ معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی عندیہ دیا کہ ایران کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے اور کئی تکنیکی معاملات پر بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اب ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں معمولی اختلافات بھی بڑے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ 

آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ دونوں ممالک واقعی کسی تاریخی مفاہمت کے قریب ہیں یا مذاکرات کا عمل مزید وقت اور پیچیدگیوں کا شکار ہوگا۔