اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

واشنگٹن اور تہران میں 24 گھنٹوں میں امن معاہدے کے اعلان کی توقع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکہ ایران امن معاہدہ
آبنائے ہرمز، یورینیم ذخائر اور پابندیاں مذاکرات کے اہم ترین نکات بن گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ کہنے کے بعد کہ امریکہ ایران کے ساتھ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے، حالانکہ انہوں نے معاہدے اور دوبارہ جنگ چھڑنے کے امکانات کو برابر قرار دیا، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات سے باخبر ایک ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران اتوار کی شام تک مختلف محاذوں پر جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے حتمی امن معاہدے کے اعلان کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ 

یہ بات اخبار واشنگٹن ٹائمز نے نقل کی ہے۔

ذرائع کے مطابق معاہدے کے مسودے پر ہفتے کی صبح اتفاق رائے ہو گیا تھا جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران اس کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔

مزید پڑھیں

ذرائع نے مزید بتایا کہ مجوزہ معاہدے کی حتمی شکل پر اہم مذاکرات کاروں نے رضامندی ظاہر کر دی ہے، جن میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔

ابتدائی امن معاہدہ دونوں ممالک کی قیادت کو حتمی منظوری کے لیے ارسال کر دیا گیا ہے۔

اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو گزشتہ 6 ہفتوں سے جاری نازک جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو سکتی ہے، اگرچہ امریکی صدر نے دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکان کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔

ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔ 

یہ بھی واضح نہیں کہ بنیادی اختلافات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور تہران کی جانب سے عائد پابندیاں ختم کرنے کے مطالبے کو کس طرح حل کیا جائے گا۔

دونوں فریقوں کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے طریقۂ کار پر بھی اتفاق کرنا ہوگا، جو 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے بڑی حد تک جہاز رانی کے لیے بند ہے۔

پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر نے بھی ایران میں اہم ملاقاتیں کیں، جن کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنا تھا۔ 

کئی ہفتوں سے جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز، جو مشرق وسطیٰ سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے، بیشتر بحری آمد و رفت کے لیے بند ہو چکی ہے۔