اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

عاصم منیر متحرک، ٹرمپ کی ہنگامی واپسی، کیا بڑا فیصلہ قریب ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ ایران حملہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیو جرسی سے اچانک واشنگٹن واپسی اور بیٹے کی شادی میں شرکت منسوخ کرنے کے بعد ایران پر ممکنہ امریکی حملوں کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے دھمکیوں کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان کیا۔
اسی اثنا پاکستان کشیدگی کم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچے ہوئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر دوبارہ حملوں پر غور کئے جانے کی میڈیا رپورٹس کے درمیان، نیو جرسی میں اپنی چھٹی منسوخ کر کے اچانک واشنگٹن واپسی نے کئی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔

ان شکوک میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب خود ٹرمپ نے کل جمعہ کی شام اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ وہ اپنے بڑے بیٹے ڈونلڈ جونیئر کی شادی میں شرکت نہیں کریں گے، جس کی وجہ انہوں نے حکومتی معاملات سے متعلق حالات قرار دی ہے۔

مزید پڑھیں

ٹرمپ نے لکھا کہ میں اپنے بیٹے ڈون جونیئر اور ان کی ہونے والی اہلیہ بیٹینا کے ساتھ ہونا چاہتا تھا لیکن حکومتی ذمہ داریاں اور امریکہ سے میری محبت مجھے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ اس اہم مرحلے پر میرا واشنگٹن، وائٹ ہاؤس میں موجود رہنا ضروری ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب باخبر ذرائع کے مطابق 

امریکی فوج رواں ہفتے کے اختتام پر ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کی تیاری کر رہی ہے، جیسا کہ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نے رپورٹ کیا اور جسے العربیہ نے بھی نقل کیا ہے۔

ChatGPT Image 23 مايو 2026، 11 33 18 ص
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور نئے معاہدے کی امیدیں بڑھ گئیں

یہ اطلاعات اس وقت بھی سامنے آئیں جب امریکی صدر نے ایران سے متعلق جنگی صورتحال پر غور کے لیے اپنے قریبی مشیروں کا اجلاس طلب کیا تاہم تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب ایرانی حکومت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گی۔ 

جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے گزشتہ روز خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو جنگ کا دائرہ خطے سے کہیں آگے تک پھیلایا جا سکتا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب
نے نئی امریکی
کارروائی پر
جنگ بڑھانے کی
دھمکی دی ہے

اسی دوران پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر، جو گزشتہ روز تہران پہنچے، امریکی، ایرانی مذاکرات میں جاری تعطل ختم کرانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ دونوں فریق اب بھی بعض شرائط پر اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے آج ہفتے کے روز اعلان کیا کہ عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان گزشتہ رات دیر تک مذاکرات ہوئے، جن میں کشیدگی روکنے، جنگ کے خاتمے، خطے میں امن کے فروغ اور سفارتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ہفتے کے آغاز میں دوسری مرتبہ چند دنوں کے اندر تہران پہنچے تھے۔
ان کی آمد کے فوراً بعد ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ وہ جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات کے تناظر میں امریکی ردعمل کا جائزہ لے رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ اپریل میں اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی تھی تاہم وہ کسی معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے۔

ایران امریکا مذاکرات
امریکی فوج ایران پر ممکنہ نئے حملوں کی تیاری کر رہی ہے

اس کے بعد دونوں ممالک نے متعدد تجاویز کا تبادلہ کیا مگر بعض اہم معاملات بدستور حل طلب رہے، جن میں ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کرنا، آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور ایرانی تیل پر عائد تمام امریکی پابندیوں کا مکمل خاتمہ شامل ہیں۔

ادھر امریکی حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کا آپشن مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔