امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیو جرسی سے اچانک واشنگٹن واپسی اور بیٹے کی شادی میں شرکت منسوخ کرنے کے بعد ایران پر ممکنہ امریکی حملوں کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے دھمکیوں کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان کیا۔
اسی اثنا پاکستان کشیدگی کم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچے ہوئے ہیں۔
اسی دوران پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر، جو گزشتہ روز تہران پہنچے، امریکی، ایرانی مذاکرات میں جاری تعطل ختم کرانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ دونوں فریق اب بھی بعض شرائط پر اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے آج ہفتے کے روز اعلان کیا کہ عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان گزشتہ رات دیر تک مذاکرات ہوئے، جن میں کشیدگی روکنے، جنگ کے خاتمے، خطے میں امن کے فروغ اور سفارتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ہفتے کے آغاز میں دوسری مرتبہ چند دنوں کے اندر تہران پہنچے تھے۔
ان کی آمد کے فوراً بعد ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ وہ جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات کے تناظر میں امریکی ردعمل کا جائزہ لے رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ اپریل میں اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی تھی تاہم وہ کسی معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے۔