اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

قالیباف کا انتباہ: امریکہ نے جنگ چھیڑی تو جواب ’تباہ کن‘ ہوگا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکہ کشیدگی
محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو ’سخت اور فیصلہ کن جواب‘ کی وارننگ دی

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جنہوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کی، نے آج ہفتے کے روز خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے دوبارہ جنگ کا راستہ اختیار کیا تو اسے ’شدید اور فیصلہ کن جواب‘ دیا جائے گا۔ 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے دوران ایران نے اپنی مسلح افواج کو دوبارہ منظم اور مضبوط بنا لیا ہے۔

قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری بیان میں کہا کہ ہماری مسلح افواج نے جنگ بندی کے دوران خود کو اس انداز سے دوبارہ تیار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر دوبارہ جنگ شروع کرتے ہیں تو امریکہ کو پہلے دن کے مقابلے میں زیادہ سخت اور زیادہ تلخ جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیں

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب قالیباف نے تہران میں پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کا استقبال کیا۔ پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی تک پہنچنے میں بھی اسلام آباد نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر تہران کے لیے امریکی

 پیغامات بھی لے کر پہنچے ہیں۔

مطلع ذرائع نے بتایا کہ امریکی پیغامات میں ایران کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر معاہدے پر اتفاق ہو جائے تو متنازع امور بعد میں حل کیے جا سکتے ہیں، تاہم معاہدہ مسترد ہونے کی صورت میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی پیغامات میں یہ بھی خبردار کیا گیا کہ اگر تہران نے مجوزہ سمجھوتہ قبول نہ کیا تو اسے منفی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان آنا کیلی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکی صدر اپنی سرخ لکیریں کھلے الفاظ میں بیان کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، اور نہ ہی وہ اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹوں میں تقریباً 440 کلو گرام اعلیٰ افزودہ یورینیم کو ایران سے باہر منتقل کرنے کا معاملہ اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کا مسئلہ شامل ہے۔

تہران آبنائے ہرمز پر نئے انتظامی نظام کے مؤقف پر قائم ہے، جبکہ ایران اعلیٰ افزودہ یورینیم اپنے ملک سے باہر منتقل کرنے سے بھی انکار کر رہا ہے، جس کی امریکہ مسلسل مخالفت کر رہا ہے۔