ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے آج اتوار کے روز کہا ہے کہ ایران دنیا کو یہ یقین دلانے کے لیے تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ جب معاملہ ہمارے ملک کے وقار اور عزت کا ہوگا تو مذاکراتی ٹیم کسی قسم کی پسپائی اختیار نہیں کرے گی۔
دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کی منظوری دے دیتی ہے تو اسے حتمی منظوری کے لیے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو بھیجا جائے گا۔
مزید پڑھیں
اسی دوران اعلیٰ ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ ابتدائی معاہدے کا نام ’اعلان اسلام آباد‘ رکھا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان مفاہمتی یادداشت کے اعلان کی ذمہ داری سنبھالے گا جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 5 جون کو متوقع ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ واشنگٹن اور تہران حتمی معاہدے پر باضابطہ
مذاکرات شروع ہونے پر اپنے اپنے وفود کے سربراہان کو مذاکراتی عمل میں شامل کریں گے۔
ابتدائی معاہدہ دراصل ایک مفاہمتی یادداشت ہوگا، جس کے بعد حتمی اور بنیادی معاملات پر مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی عندیہ دیا تھا کہ ایران سے متعلق جنگ کے معاملے پر آج مزید پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر ایران کے معاملے پر نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔