خاموشی نے جنگ ختم نہیں کی، اس نے اسلام آباد اور اس کے شراکت داروں کو اسے روکنے کا موقع دیا ہے
ایران اور امریکہ کے درمیان تقریباً دو ہفتوں کی شدید فوجی کشیدگی کے بعد مسلسل دو راتوں کی خاموشی نے مذاکرات کی نئی امید پیدا کردی ہے۔
پاکستان اور قطر رابطے تیز کر رہے ہیں، عمان اپنا روایتی سفارتی کردار ادا کررہا ہے جبکہ چین بھی پس پردہ نئی کوشش کو آگے بڑھا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آیا یہ خاموشی امن کی ابتدا ہے یا اگلی جنگ سے پہلے محض ایک مختصر مہلت؟
دو ہفتوں تک ایران پر امریکی حملے ہوتے رہے، تہران نے جواب دیا، خلیج میں خطرے کی گھنٹیاں بجتی رہیں اور ہر نئی رات یہ خدشہ بڑھاتی گئی کہ کہیں محدود تصادم ایک ایسی علاقائی جنگ میں نہ بدل جائے جسے روکنا کسی کے بس میں نہ رہے۔
پھر اچانک آسمان خاموش ہوگیا۔
ایک رات گزری، پھر دوسری۔
نہ ایران کے اندر کسی نئے امریکی حملے کی اطلاع آئی اور نہ ہی امریکہ یا اس کے علاقائی مفادات کے خلاف کسی نئے بڑے ایرانی جوابی حملے کا اعلان ہوا۔
لیکن جنگ ختم نہیں ہوئی۔
اصل جنگ اب شاید میز کے گرد شروع ہونے والی ہے۔
اسلام آباد، دوحہ اور مسقط میں سفارتی رابطے تیز ہیں، جبکہ چین بھی پس پردہ اس کوشش کو آگے بڑھا رہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران دوبارہ مذاکرات کی طرف لوٹیں۔
اس پوری سفارتی سرگرمی میں پاکستان ایک بار پھر اہم مقام پر کھڑا ہے۔
اہم نکات +
- مسلسل دو راتوں کی خاموشی نے نئی سفارتی گنجائش پیدا کردی ہے۔
- پاکستان واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی طرف لانے کی کوششوں میں شامل ہے۔
- قطر پاکستان کے ساتھ ثالثی کے عمل کا اہم شراکت دار ہے۔
- عمان اپنا روایتی پس پردہ سفارتی چینل استعمال کررہا ہے۔
- چین کی شمولیت نے موجودہ کوشش کو اضافی اسٹریٹجک وزن دیا ہے۔
- اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکرات کا بنیادی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے۔
- خلیجی ممالک کی سلامتی کسی بھی نئے سمجھوتے کا اہم حصہ ہوگی۔
- اصل کامیابی حملوں کا عارضی رکنا نہیں بلکہ پائیدار سیاسی معاہدہ ہوگا۔
مگر سوال یہ نہیں کہ پاکستان ثالثی کر رہا ہے یا نہیں۔
یہ بات پہلے ہی واضح ہوچکی ہے۔
اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے:
ان دو خاموش راتوں کے پیچھے کیا ہوا، بندوقیں کس وجہ سے خاموش ہوئیں، اور کیا اسلام آباد اس وقفے کو پائیدار سیاسی راستے میں بدل سکتا ہے؟
مزید پڑھیں
اچانک کیا بدل گیا؟
تقریباً دو ہفتے تک جاری رہنے والی امریکی فوجی کارروائیوں میں ایران کے فوجی انفراسٹرکچر، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی کے نظام، بحری اثاثوں اور لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران نے بھی جواب دیا اور خطے میں یہ خطرہ بڑھتا گیا کہ تصادم صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہے گا۔
لیکن اب مسلسل دوسری رات بڑے امریکی یا ایرانی حملوں کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔
یہ خاموشی بظاہر معمولی دکھائی دے سکتی ہے، مگر سفارت کاری میں بعض اوقات یہی مختصر وقفے فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں۔
کیونکہ فائر بندی اور امن میں بہت بڑا فرق ہے۔
دو دن تک گولیاں نہ چلنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ جنگ ختم ہوگئی۔
یہ صرف ایک ایسی مختصر سفارتی کھڑکی ہوسکتی ہے جسے فریقین مذاکرات کے لیے استعمال کرسکتے ہیں—یا ضائع کرسکتے ہیں۔
اسی لیے موجودہ چند دن انتہائی اہم ہیں۔
وہ چند دن جنہوں نے جنگ کا رخ بدلا
موجودہ صورتحال سمجھنے کے لیے صرف آج کی خاموشی دیکھنا کافی نہیں۔
گزشتہ چند ہفتوں کے واقعات کو ایک دوسرے سے جوڑنا ضروری ہے۔
17 جون:
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے ایک بنیادی سفارتی فریم ورک سامنے آیا، جسے بعد میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے نام سے آگے بڑھایا گیا۔
22 جون:
سوئٹزرلینڈ کی جھیل لوسرن کے قریب اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان اور قطر کی ثالثی کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان سیاسی عمل کو منظم کرنے کی کوشش ہوئی۔
60 روزہ روڈ میپ، اعلیٰ سطحی سیاسی کمیٹی اور مختلف ورکنگ گروپس کے قیام پر پیش رفت ہوئی۔
فیکٹ باکس+
مرکزی فریق: امریکہ، ایران
اہم ثالث: پاکستان، قطر
دیگر سفارتی کردار: عمان، چین
بنیادی فریم ورک: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت
اہم معاملات: جوہری پروگرام، پابندیاں، نگرانی، علاقائی سلامتی اور آزاد جہاز رانی
سب سے بڑا خطرہ: مذاکرات کی ناکامی اور زیادہ شدید فوجی تصادم
پاکستان کا مفاد: خلیجی استحکام، توانائی، تجارت، روزگار اور ترسیلاتِ زر
جولائی کے آغاز میں:
دوحہ میں تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوئے۔ پاکستان اور قطر نے الگ الگ امریکی اور ایرانی وفود سے رابطے کیے اور پیش رفت کی اطلاع دی گئی۔
پاکستان دوبارہ
واشنگٹن اور تہران
کے درمیان سفارتی
راستہ تلاش کرنے کی
کوشش کررہا ہے
اس کے بعد:
اعتماد دوبارہ ٹوٹا، فوجی کارروائیاں شروع ہوئیں اور تقریباً دو ہفتے تک امریکہ اور ایران ایک نئی خطرناک کشمکش میں داخل رہے۔
گزشتہ چند دن:
پاکستان، قطر، عمان اور دیگر فریقوں کے سفارتی رابطے دوبارہ تیز ہوئے۔
چین نے بھی مذاکرات بحال کرانے کی کوششوں میں دلچسپی بڑھائی۔
اب:
مسلسل دو راتوں سے بڑے حملے رپورٹ نہیں ہوئے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا پہلے سے موجود سفارتی ڈھانچہ دوبارہ زندہ ہورہا ہے؟
چین نے دھکا دیا، پاکستان نے راستہ تلاش کیا
حالیہ سفارتی کوششوں کا سب سے اہم نیا پہلو چین کا کردار ہے۔
رائٹرز کے مطابق پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کا راستہ تلاش کر رہا ہے اور اس کوشش کے پیچھے چین کی جانب سے شروع کی گئی ایک سفارتی پیش رفت بھی موجود ہے۔
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے مختصر عرصے میں دو مرتبہ اسلام آباد کا دورہ کیا اور پاکستانی حکام اور عسکری قیادت سے بات چیت کی۔
چین کے لیے یہ مسئلہ محض ایران اور امریکہ کی سیاسی کشمکش نہیں۔
ایران چین کے لیے توانائی اور تجارت کے حوالے سے اہم ملک ہے، جبکہ خلیج اور بحیرۂ احمر میں طویل عدم استحکام چینی تجارت اور توانائی کی سپلائی لائنوں کو براہ راست متاثر کرسکتا ہے۔
کیا تصدیق ہوچکی ہے؟+
یہاں ایک دلچسپ سفارتی مثلث بنتی ہے:
بیجنگ — اسلام آباد — تہران۔
مگر پاکستان کی اہمیت صرف اسی مثلث تک محدود نہیں۔
اسلام آباد کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں، قطر کے ساتھ فعال سفارتی رابطہ موجود ہے، واشنگٹن سے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں اور چین اس کا قریبی اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان بیک وقت ایسے دار الحکومتوں سے بات کرسکتا ہے جنہیں ایک ہی میز پر لانا آسان نہیں۔
یہ اس کی طاقت بھی ہے اور سب سے بڑا امتحان بھی۔
’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ آخر ہے کیا؟
موجودہ بحران میں بار بار سامنے آنے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کو محض ایک سیاسی اعلان سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
اس کے بعد شروع ہونے والے سفارتی عمل میں ایک اعلیٰ سطحی سیاسی کمیٹی قائم کی گئی، جبکہ مختلف ورکنگ گروپس کو جوہری پروگرام، پابندیوں، نگرانی کے طریقۂ کار اور تنازعات کے حل جیسے معاملات پر کام کرنا تھا۔
جھیل لوسرن اجلاس میں 60 روزہ روڈ میپ پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کا مقصد ایک حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کو وقت اور ڈھانچہ فراہم کرنا تھا۔
اس کے ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک رابطہ لائن قائم کرنے پر بھی کام ہوا تاکہ خصوصاً آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق کسی حادثے یا غلط اندازے کو بڑے فوجی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جاسکے۔
یعنی مذاکرات کے لیے عمارت کا نقشہ پہلے سے موجود ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس عمارت کی بنیاد اعتماد پر رکھی جانی تھی—اور یہی اعتماد بار بار ٹوٹا۔
ایک مرتبہ پیش رفت ہوئی، پھر بندوقیں بولنے لگیں
یہاں پاکستان کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔
اسلام آباد اور دوحہ کی سابقہ کوششوں نے حقیقی پیش رفت ضرور کی۔
دوحہ میں پاکستانی اور قطری ثالثوں نے امریکی اور ایرانی وفود کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کیے اور بعد میں مثبت پیش رفت کی اطلاع دی گئی۔
لیکن وہ پیش رفت جنگ کو واپس آنے سے نہ روک سکی۔
یہ موجودہ بحران کا شاید سب سے اہم سبق ہے۔
کیا ابھی مکمل طور پر ثابت نہیں؟+
گولیاں چند دن کے لیے رکوانا کامیابی ہوسکتی ہے، مگر جنگ کی وجوہ ختم کرنا بالکل الگ امتحان ہے۔
اسی لیے موجودہ دو خاموش راتوں کو امن قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
واشنگٹن کیا چاہتا ہے، تہران کہاں تک جاسکتا ہے؟
بنیادی اختلافات اب بھی میز پر موجود ہیں۔
ایران کا جوہری پروگرام، امریکی پابندیاں، خلیج میں آزاد جہاز رانی، خطے میں امریکی فوجی موجودگی، ایران سے منسلک گروہوں کی سرگرمیاں اور خلیجی ممالک کی سلامتی—یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔
حالیہ جنگ نے ان میں ایک اور مسئلہ شامل کردیا ہے:
اعتماد کا تقریباً مکمل خاتمہ۔
رائٹرز کے مطابق خلیجی ممالک پر حملے روکنے کا معاملہ بھی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے متعلق مطالبات میں شامل ہے اور اس حوالے سے پیغام پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا۔
یہ اسلام آباد کے لیے انتہائی حساس مقام ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟+
پاکستان ایران کو مذاکرات کی میز تک لانے کی کوشش تو کرسکتا ہے، لیکن وہ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کی سلامتی کے خدشات کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔
یہیں سے پاکستان کا کردار محض پیغام پہنچانے والے ملک سے بڑھ کر ایک مشکل اسٹریٹجک توازن میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
قطر کو کہانی سے نکالنا ممکن نہیں
اگر اس سفارتی عمل کو صرف ’پاکستانی ثالثی‘ کہا جائے تو تصویر ادھوری ہوگی۔
قطر اس پورے عمل کا اہم شریک رہا ہے۔
جھیل لوسرن کے عمل، تکنیکی مذاکرات اور بعد کی سفارتی کوششوں میں دوحہ نے اسلام آباد کے ساتھ کام کیا۔
قطر کے امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں، جبکہ وہ ایران کے ساتھ بھی رابطے برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسی لیے اگر موجودہ کوشش کسی سمجھوتے تک پہنچتی ہے تو اسے کسی ایک ملک کی سفارتی فتح کہنا مشکل ہوگا۔
زیادہ درست تعبیر یہ ہوگی:
یہ متعدد ثالثوں کی مشترکہ سفارت کاری کا نتیجہ ہوگا۔
عمان؛ خاموش مگر پرانا راستہ
مسقط بھی اس تصویر کا اہم حصہ ہے۔
عمان کئی برسوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان حساس پیغامات منتقل کرنے اور پس پردہ رابطوں کے لیے ایک قابل اعتماد مقام رہا ہے۔
موجودہ بحران میں بھی عمانی رابطے جاری ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں کم از کم کئی سفارتی راستے متحرک ہوسکتے ہیں:
پاکستان اور قطر کا راستہ، عمان کا روایتی چینل، چین کا سیاسی دباؤ اور خلیجی ممالک کے اپنے رابطے۔
یہی وجہ ہے کہ کسی ایک ملک کو دو راتوں کی خاموشی کا مکمل کریڈٹ دینا صحافتی طور پر درست نہیں ہوگا۔
تو پھر بندوقیں کس نے خاموش کرائیں؟
اس سوال کا ابھی کوئی قطعی جواب موجود نہیں۔
ممکن ہے امریکہ اپنی فوجی کارروائی کے ایک ایسے مرحلے تک پہنچ چکا ہو جہاں واشنگٹن دوبارہ سفارت کاری آزمانا چاہتا ہو۔
ممکن ہے ایران نے اندازہ لگایا ہو کہ مسلسل جوابی کارروائی اسے ایک ایسی بڑی جنگ میں دھکیل سکتی ہے جس کے نتائج قابو سے باہر ہوں۔
پاکستان کے لیے کیا مطلب ہے؟+
ممکن ہے پاکستان، قطر اور عمان کے رابطوں نے دونوں فریقوں کو پیچھے ہٹنے کا ایسا راستہ دیا ہو جسے وہ شکست کے طور پر پیش نہ کریں۔
اور ممکن ہے چین کی مداخلت نے اس سفارتی کوشش کو اضافی وزن دیا ہو۔
زیادہ قرینِ قیاس بات یہ ہے کہ:
بندوقیں کسی ایک شخص یا ایک ملک نے خاموش نہیں کرائیں، فوجی دباؤ، ایرانی حساب کتاب اور کئی ممالک کی سفارت کاری ایک ہی مقام پر آکر ملے۔
یہ نتیجہ پاکستان کے کردار کو کم نہیں کرتا۔
بلکہ اسے زیادہ معتبر بناتا ہے۔
اسلام آباد کے پاس آج تہران تک رسائی، بیجنگ سے گہرا تعلق، ریاض کے ساتھ اسٹریٹجک رشتہ، دوحہ کے ساتھ سفارتی شراکت اور واشنگٹن سے بات کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
بہت کم ممالک کے پاس یہ تمام دروازے بیک وقت کھلے ہیں۔
سعودی عرب اور خلیج کے لیے اصل مطلب
خلیجی ممالک کے لیے مذاکرات کی کامیابی محض ایک سفارتی خبر نہیں۔
یہ تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر، تجارتی جہازوں اور توانائی کی عالمی منڈی کے تحفظ کا سوال ہے۔
سعودی عرب اور خلیج کے لیے کیا مطلب ہے؟+
جنگ کا ہر اضافی دن انشورنس، شپنگ اور فضائی سفر کے اخراجات بڑھا سکتا ہے۔
اور ہر رات جس میں میزائل نہیں چلتے، خطے کو سانس لینے کا موقع دیتی ہے۔
لیکن حقیقی کامیابی کا پیمانہ دو خاموش راتیں نہیں ہوں گی۔
اصل کامیابی تب ہوگی جب واشنگٹن اور تہران دوبارہ منظم مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور کسی قابل عمل سیاسی فارمولے پر بات شروع کریں۔
پاکستان کے لیے یہ صرف سفارت کاری نہیں
اگر موجودہ کوشش کامیاب ہوتی ہے تو پاکستان کو ایک غیر معمولی سفارتی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔
اسلام آباد یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ ایران سے بات کرتے ہوئے سعودی عرب کو نہیں کھوتا، چین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے امریکہ سے رابطہ منقطع نہیں کرتا اور قطر و عمان کے ساتھ کام کرتے ہوئے ثالثی کو علاقائی مقابلے میں تبدیل نہیں ہونے دیتا۔
لیکن اس کے پیچھے پاکستان کا اپنا مفاد بھی موجود ہے۔
پاکستان کی توانائی، تجارت، روزگار اور زرمبادلہ کی آمد میں خلیج انتہائی اہم ہے۔
بڑی خلیجی جنگ کا مطلب پاکستان کے لیے مہنگا تیل، مہنگی نقل و حمل، مہنگی درآمدات، زیادہ مہنگائی اور بیرون ملک روزگار کے لیے خطرات ہوسکتے ہیں۔
اس لیے امن کی کوشش صرف سفارتی وقار حاصل کرنے کا منصوبہ نہیں۔
یہ پاکستان کے اپنے معاشی مفاد کا دفاع بھی ہے۔
خلیج میں پاکستانی، میز پر ہونے والی بات گھر تک پہنچتی ہے
اس کہانی کا ایک انسانی پہلو بھی ہے۔
خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی روزگار سے وابستہ ہیں۔
علاقائی جنگ طویل ہونے کی صورت میں فضائی سفر، کاروبار، ملازمتوں اور سپلائی چینز پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اوورسیز پاکستانی کیسے متاثر ہوں گے؟+
اور اگر خلیجی معیشت متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ریاض، جدہ، دبئی یا دوحہ تک محدود نہیں رہیں گے۔
وہ پاکستان کے ان گھروں تک پہنچیں گے جو ہر ماہ بیرون ملک سے آنے والی رقم کا انتظار کرتے ہیں۔
یوں اسلام آباد یا دوحہ کے بند کمروں میں ہونے والی بات چیت کا تعلق بالآخر کسی مزدور کی ملازمت، کسی مسافر کے ٹکٹ اور پاکستان میں کسی خاندان کے ماہانہ بجٹ سے بھی جڑ جاتا ہے۔
آگے کیا ہوسکتا ہے؟
پہلا منظرنامہ: مذاکرات کی واپسی
حملوں کا وقفہ برقرار رہتا ہے، امریکہ اور ایران مذاکرات میں واپس آتے ہیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت پہلے سے بنائے گئے ڈھانچے کو استعمال کرتے ہوئے ایک عبوری سمجھوتے کی طرف بڑھتے ہیں۔
یہ بہترین صورت ہوگی۔
دوسرا منظرنامہ: نہ جنگ، نہ امن
بڑے حملے رک جاتے ہیں لیکن بنیادی اختلافات حل نہیں ہوتے۔ مذاکرات کبھی شروع اور کبھی معطل ہوتے رہتے ہیں، جبکہ محدود فوجی کشیدگی جاری رہتی ہے۔
یہ شاید سب سے زیادہ ممکن مگر غیر مستحکم راستہ ہوگا۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کیوں اہم ہے؟+
تیسرا منظرنامہ: سفارت کاری ناکام
موجودہ رابطے ناکام ہوجاتے ہیں، ایک فریق دوسرے پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتا ہے اور دوبارہ فوجی طاقت کے ذریعے اپنی مذاکراتی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
اس مرتبہ نئی جنگ پچھلی سے زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے۔
دو راتیں فیصلہ نہیں، صرف مہلت ہیں
دو ہفتوں تک آسمان میں جنگ کی آواز سنائی دیتی رہی۔
اب دو راتوں سے خاموشی ہے۔
لیکن تاریخ میں جنگیں صرف اس وقت ختم نہیں ہوتیں جب بمبار طیارے واپس اڈوں پر اترتے ہیں۔ وہ تب ختم ہوتی ہیں جب مخالف فریق یہ فیصلہ کرلیں کہ اگلا فائدہ میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر موجود ہے۔
پاکستان، قطر، عمان اور چین اب اسی مختصر موقع کو ایک سیاسی راستے میں بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اصل سفارتی کھیل+
پاکستان: ایران، چین، سعودی عرب، قطر اور امریکہ کے درمیان رابطے کی منفرد پوزیشن۔
قطر: واشنگٹن اور تہران دونوں تک مؤثر سفارتی رسائی۔
عمان: امریکہ اور ایران کے درمیان برسوں سے قائم خاموش رابطہ چینل۔
چین: ایران سے مضبوط معاشی تعلق اور خلیجی استحکام میں بڑا تجارتی و توانائی مفاد۔
اسی لیے موجودہ عمل کو کسی ایک ملک کی ثالثی کے بجائے کثیرالجہتی سفارتی کوشش سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔
اسلام آباد کے پاس ایک فائدہ ضرور ہے: اس کے لیے مذاکرات کا ڈھانچہ پہلے ہی موجود ہے اور اس ڈھانچے پر اس کے دارالحکومت کا نام بھی درج ہے۔
لیکن یہی چیز اس کے لیے امتحان بھی ہے۔
اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں، حملے مستقل طور پر رکتے ہیں اور جوہری، پابندیوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات کسی قابل عمل فارمولے کی طرف بڑھتے ہیں تو یہ پاکستان کی حالیہ تاریخ کی اہم سفارتی کامیابیوں میں شمار ہوسکتا ہے۔
اگر یہ کوشش ناکام ہوگئی تو شاید یہ دو خاموش راتیں تاریخ میں امن کی ابتدا کے طور پر نہیں بلکہ اگلی اور زیادہ خطرناک جنگ سے پہلے ملنے والی مختصر مہلت کے طور پر یاد رکھی جائیں۔
اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ:
بندوقیں دو راتوں کے لیے کس نے خاموش کرائیں؟
اصل سوال یہ ہے:
جب اصل مذاکرات شروع ہوں گے، کیا اسلام آباد اور اس کے شراکت دار انہیں دوبارہ بولنے سے روک سکیں گے؟
🤝
اصل اور بنیادی ذرائع
امریکا ایران مذاکرات، چین کی نئی سفارتی کوشش اور پاکستان و قطر کے ثالثی کردار سے متعلق بنیادی ذرائع
7 بنیادی ذرائع
اصل اور بنیادی ذرائع
امریکا ایران مذاکرات، چین کی نئی سفارتی کوشش اور پاکستان و قطر کے ثالثی کردار سے متعلق بنیادی ذرائع