⚡
فیکٹ باکس: بجلی کھانے والا بیکٹیریا آخر ہے کیا؟
▼
چاول کے کیچڑ سے نکلا ایک غیر معمولی خردبینی پاور ہاؤس
سائنسی شناختاس کا سائنسی نام Fundidesulfovibrio terrae SG127 ہے۔ یہ بیکٹیریا روایتی انداز میں بجلی کو غذا نہیں بناتا بلکہ الیکٹروڈز سے براہِ راست الیکٹران حاصل کر کے میٹابولک توانائی پیدا کرتا ہے اور ضرورت کے تحت الیکٹران واپس خارج بھی کر سکتا ہے۔
دوطرفہ الیکٹران ٹرانسفر
یہ جرثومہ الیکٹروڈ سے الیکٹران وصول کرنے کے ساتھ ساتھ اسے واپس الیکٹران دے بھی سکتا ہے، جس کی بدولت یہ بیک وقت بجلی جذب کرنے اور برقی رو پیدا کرنے کی غیر معمولی دوطرفہ لچک رکھتا ہے۔
سی ٹائپ سائٹوکرومز کا نیٹ ورک
خلیے کی جھلی میں موجود خاص پروٹینز (c-type cytochromes) قدرتی برقی تاروں کی مانند کام کرتے ہیں، جو بیرونی ماحول اور خلیے کے اندرونی نظام کے درمیان برقی چارج کی بلا تعطل ترسیل ممکن بناتے ہیں۔
آکسیجن سے محروم کیچڑ کی پیداوار
اسے چین کی گوانگ ڈونگ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور مصر کے ماہرین نے چاول کے ان کھیتوں کی مٹی سے الگ کیا جہاں آکسیجن نہ ہونے کے باعث جاندار زندہ رہنے کے لیے معدنیات سے برقی لین دین کرتے ہیں۔
CO₂ سے ایسیٹیٹ کی پیداوار
توانائی ملنے پر یہ زہریلی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہضم کر کے صنعتی خام مال 'ایسیٹیٹ' میں بدل دیتا ہے، جس سے فضائی آلودگی کو قیمتی کیمیائی ایندھن میں تبدیل کرنے کا نیا راستہ ملا ہے۔
چاول کے کھیت کے کیچڑ میں چھپا ایک جرثومہ آنے والے برسوں میں کارخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مفید خام مال میں بدلنے والی ٹیکنالوجی کا حصہ بن جائے۔
مزید پڑھیں
اس کا نام Fundidesulfovibrio terrae SG127 ہے اور عام زبان میں آپ اسے ’بجلی کھانے والا بیکٹیریا‘ بھی کہہ سکتے ہیں، لیکن حقیقت اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔
یہ بیکٹیریا بجلی براہِ راست نہیں کھاتا بلکہ الیکٹروڈ سے الیکٹران حاصل کرکے انہیں توانائی کے طور پر استعمال کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر یہی جرثومہ الیکٹران واپس باہر بھی منتقل کر سکتا ہے۔
چاول کے کھیت سے دریافت ہونے والا منفرد جرثومہ برقی توانائی کے بل بوتے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے مفید کیمیکل بنانے کی انقلابی صلاحیت رکھتا ہے۔
لیبارٹری تجربات کے دوران جرثومے نے انتہائی مختصر مدت میں آئرن والی معدنیات کا بڑا حصہ کامیابی کے ساتھ ریڈیوس کر کے اپنی صلاحیت ثابت کی۔
بیکٹیریا نے کارخانوں کے دھوئیں سے پیدا ہونے والی زہریلی گیس کو کارآمد ایسیٹیٹ کیمیکل میں ڈھال دیا جو ایندھن اور بائیو پراڈکٹس بنانے میں کام آتا ہے۔
اس جرثومے کے پروٹین قدرتی حیاتیاتی تاروں کا کام کرتے ہوئے الیکٹروڈ سے کرنٹ جذب بھی کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر واپس باہر بھی منتقل کرتے ہیں۔
شمسی اور ہوائی بجلی پر چلنے والے بائیو ری ایکٹرز کو صنعتی آلودگی سے جوڑنے کی تکنیک چاول اگانے والے ممالک کے لیے کلین انرجی کا نیا سنگِ میل ہے۔
چین کی گوانگ ڈونگ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں اور مصر کے ایک محقق کی مشترکہ تحقیق میں اسے چاول کے کھیت کی آکسیجن سے محروم مٹی سے الگ کیا گیا۔
اس کی سب سے خاص بات الیکٹرانوں کی دوطرفہ منتقلی ہے، یعنی یہ الیکٹروڈ کو الیکٹران دے بھی سکتا ہے اور وہاں سے لے بھی سکتا ہے۔
حیاتیاتی معجزہ
اہم نکات: اس ننھے جرثومے میں خاص کیا ہے؟
+
7 دن میں 68.3 فیصد معدنی تبدیلی
لیبارٹری ریکارڈتحقیقی تجربات کے دوران اس بیکٹیریا نے صرف ایک ہفتے کے اندر Fe(III) والی لوہے کی معدنیات کو 68.3 فیصد تک گھلا کر کیمیائی ریڈکشن دکھائی، جو خردبینی جانداروں میں بجلی اور معدنیات کے تبادلے کی تیز ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔
28.75 مائیکرو ایمپیئر کرنٹ
جب اسے الیکٹروڈ سے الیکٹران لینے کی حالت میں رکھا گیا تو اس نے 28.75 مائیکرو ایمپیئر فی مربع سینٹی میٹر کی رفتار سے برقی رو جذب کی، جو اس کی توانائی کھینچنے کی زبردست استعداد کو ظاہر کرتا ہے۔
27.50 مائیکرو ایمپیئر آؤٹ پٹ
بجلی پیدا کرنے کی ریورس حالت میں اسی جرثومے نے 27.50 مائیکرو ایمپیئر فی مربع سینٹی میٹر کرنٹ پیدا کیا، یعنی ضرورت پڑنے پر یہ ایندھن خارج کر کے بائیو بیٹری بن سکتا ہے۔
11.05 ملی مولر ایسیٹیٹ سنتھیسز
بیکٹیریا نے CO₂ کو خوراک کے واحد ذریعہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے 11.05 mM ایسیٹیٹ تیار کیا، جو صنعتی بائیو مصنوعات بنانے کے لیے انتہائی کارآمد کیمیائی سالمہ ہے۔
نامیاتی مادے کے بغیر بقا
اسے زندہ رہنے کے لیے روایتی شکر یا نامیاتی مادے کی ضرورت نہیں؛ یہ محض صاف بجلی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بل بوتے پر فیکٹری کی طرح کام کرتا رہتا ہے۔
7 دن میں حیران کن کارکردگی
لیبارٹری تجربات میں اس بیکٹیریا نے صرف 7 دن میں Fe(III) والی آئرن معدنیات میں 68.3 فیصد تک reduction دکھائی۔
بجلی پیدا کرنے کی حالت میں اس سے 27.50 مائیکرو ایمپیئر فی مربع سینٹی میٹر تک کرنٹ حاصل ہوا، جبکہ الیکٹروڈ سے الیکٹران لینے کے تجربے میں یہ شرح 28.75 مائیکرو ایمپیئر فی مربع سینٹی میٹر تک پہنچی۔
اس کام میں c-type cytochromes نامی پروٹین اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
آسان الفاظ میں انہیں خلیے کے اندر موجود انتہائی باریک ’حیاتیاتی تاروں‘ کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے، جو الیکٹرانوں کی آمدورفت ممکن بناتے ہیں۔
پاکستان کے لیے موقع: کیا یہ ٹیکنالوجی یہاں کام آسکتی ہے؟
◀
چاول کے خطوں میں مقامی بائیو پراسپیکٹنگ
پنجاب اور سندھ کے چاول کے کھیت مائکروبیل زندگی سے مالا مال ہیں۔ پاکستانی یونیورسٹیاں مقامی مٹی سے ایسے ہی الیکٹروسنتھیٹک بیکٹیریا الگ کرنے کی باقاعدہ تحقیق شروع کر سکتی ہیں۔
صنعتی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تدارک
سیمنٹ، کھاد اور ٹیکسٹائل ملوں سے خارج ہونے والی CO₂ کو ہوا میں چھوڑنے کے بجائے ان مائکروبیل ری ایکٹرز میں ڈال کر زہریلے دھوئیں کو صنعتی خام مال میں بدلا جا سکتا ہے۔
شمسی توانائی کے فاضل کرنٹ کا استعمال
دن کے اوقات میں سولر پینلز سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو ضائع کرنے کے بجائے ان حیاتیاتی نظاموں کو فراہم کر کے قیمتی ایسیٹیٹ اور بائیو فیول کا ذخیرہ تیار کیا جا سکتا ہے۔
کیمیائی درآمدات پر انحصار میں کمی
ایسیٹیٹ اور اس سے تیار کردہ بائیو پولیمرز کی مقامی پیداوار سے پاکستان کا امپورٹ بل کم ہو سکتا ہے اور ماحولیاتی مقاصد کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کی بچت بھی ممکن ہو سکے گی۔
CO₂ اندر گئی، مفید کیمیکل باہر آیا
تحقیق میں اصل دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب سائنس دانوں نے بیکٹیریا کو الیکٹروڈ سے توانائی اور کاربن کے واحد ذریعے کے طور پر CO₂ دی۔
بیکٹیریا نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ایسیٹیٹ میں تبدیل کرنا شروع کردیا اور تجربے میں اس کی مقدار 11.05 ملی مولر تک پہنچی۔
یاد رہے کہ ایسیٹیٹ اہم صنعتی خام مال ہے اور اسے مزید پراسیسنگ کے ذریعے ایندھن، بایو مصنوعات اور مختلف کیمیکلز کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یوں تصور کیجیے کہ ایک ننھا جاندار بجلی سے توانائی لے، آلودگی کا سبب بننے والی گیس استعمال کرے اور بدلے میں قابلِ استعمال کیمیائی خام مال تیار کردے۔
🌐
عالمی منظرنامہ: سائنس آلودگی کو خام مال کیسے بنا رہی ہے؟
مائیکروبیل ٹیکنالوجی
کاربن کیپچر اور زیرِ زمین تدفین
پرانے طریقوں میں کاربن کو محض قید کر کے زمین میں دفن کیا جاتا ہے، جس پر بھاری سرمایہ خرچ ہوتا ہے مگر اس سے کوئی معاشی نفع پیدا نہیں ہوتا اور گیس کے اخراج کا مستقل خطرہ بھی رہتا ہے۔
کاربن کو صنعتی کیمیکلز میں بدلنا
جرثومے کی مدد سے چلنے والے نئے سسٹمز CO₂ کو کوڑے کے بجائے خام مال کے طور پر کھاتے ہیں اور صاف بجلی کی مدد سے اسے پلاسٹک، ادویات اور فیول کے بنیادی مالیکیولز میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اس میں کیا ہے؟
پاکستان جیسے چاول پیدا کرنے والے، توانائی کے مسائل سے دوچار اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا سامنا کرنے والے ملک کے لیے اس تصور میں خاص کشش ہے۔
اگر مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی صنعتی سطح پر کامیاب ہوتی ہے تو شمسی یا ہوا سے حاصل شدہ بجلی پر چلنے والے بایو ری ایکٹرز کو صنعتی CO₂ کے ساتھ جوڑنے کا راستہ کھل سکتا ہے۔
یہ بیکٹیریا پاکستان میں دریافت نہیں ہوا، اس لیے فوری مقامی استعمال کا دعویٰ درست نہیں ہوگا۔ اصل اہمیت اس اصول کی ہے کہ جس کاربن کو آج فضائی آلودگی سمجھا جاتا ہے، اسے کل صنعتی خام مال بنایا جا سکتا ہے۔
🔭
آگے کیا ہوگا: کیا بیکٹیریا واقعی صنعت بدل سکتے ہیں؟
مستقبل کا روڈ میپ
حل پذیری اور لاگت کی رکاوٹ
پانی میں CO₂ کو مناسب مقدار میں گھولنا اور ہزاروں لیٹر کے ٹینکوں میں بیکٹیریا تک بجلی کی یکساں فراہمی برقرار رکھنا ابتدائی انجینئرنگ کے بڑے امتحان ہیں۔
ماڈیولر ری ایکٹرز کی فیکٹری آزمائش
اگلے چند سالوں میں چھوٹے ماڈیولر سسٹمز کو سیمنٹ اور کھاد کے کارخانوں کی چمنیوں کے ساتھ جوڑ کر حقیقی صنعتی ماحول میں گیس پروسیسنگ کی جانچ ہوگی۔
زیرو ایمیشن کیمیکل فیکٹریاں
کامیابی کی صورت میں کارخانوں کا اپنا دھواں انہی کی اگلی پروڈکٹ کا خام مال بنے گا، جس سے پیٹروکیمیکل صنعت پر دنیا کا روایتی انحصار ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے۔
انقلاب ابھی دُور ہے
اس دریافت کو فوری طور پر ’دنیا بچانے والا بیکٹیریا‘ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
2026ء کے سائنسی جائزوں کے مطابق microbial electrosynthesis کو بڑے پیمانے پر اپنانے سے پہلے کم پیداوار، CO₂ کی محدود حل پذیری، لاگت، طویل مدتی استحکام اور بڑے ری ایکٹرز میں یکساں کارکردگی جیسے مسائل حل کرنا ہوں گے۔
تاہم اب بھی پیش رفت جاری ہے۔ 2026 میں ایک دوسرے تجربے میں CO₂ سے ایسیٹیٹ بنانے والے ماڈیولر نظام کو 0.25 لیٹر سے بڑھا کر 2 لیٹر تک کامیابی سے آزمایا گیا۔
یعنی چاول کے کھیت میں معمولی سے کیچڑ سے ملنے والا یہ جرثومہ ابھی دنیا نہیں بدل رہا، مگر یہ ضرور دکھا رہا ہے کہ مستقبل کی صاف صنعت کا ایک راستہ شاید ہماری نظروں سے اوجھل خردبینی دنیا سے نکلے۔