ایران کے خلاف کئی ماہ سے جاری جنگ میں امریکا نے اربوں ڈالر کا جدید اسلحہ استعمال کیا ہے۔
پینٹاگون کی نئی رپورٹ کے مطابق بعض اسٹریٹجک ذخائر پر دباؤ بڑھا ہے، جبکہ جدید میزائلوں کی پیداوار استعمال کی رفتار کا ساتھ نہیں دے رہی۔
اب واشنگٹن کے سامنے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر ایشیا یا تائیوان کے گرد کوئی نیا بحران پیدا ہوا تو کیا امریکا کے پاس کافی ذخائر موجود ہوں گے؟
ایران کے ساتھ کئی ماہ سے جاری جنگ کے بعد واشنگٹن میں اب سوال صرف یہ نہیں کہ تہران کو کتنا نقصان پہنچا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس جنگ کی قیمت خود امریکا کو کتنی ادا کرنا پڑ رہی ہے، اور آیا وہ کسی دوسرے بڑے بحران کا مقابلہ بھی کر سکتا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کی نئی نگرانی رپورٹ نے ایک حساس حقیقت نمایاں کردی ہے:
جنگ میں امریکی گولہ بارود اور جدید ہتھیار بڑی مقدار میں استعمال ہوئے، جس سے بعض اسٹریٹجک ذخائر پر دباؤ بڑھا، جبکہ دفاعی صنعت اسی رفتار سے اسلحہ دوبارہ تیار نہیں کر پا رہی۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTایران جنگ — اہم نکات ⌄
- ✓
ایران کے ساتھ کئی ماہ کی جنگ نے امریکی میزائل اور گولہ بارود کے ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
- ✓
28 فروری سے جون کے اختتام تک جنگ کی ابتدائی تخمینی لاگت تقریباً 33.4 ارب ڈالر رہی۔
- ✓
اس عرصے میں تقریباً 22.3 ارب ڈالر مالیت کا گولہ بارود اور میزائل استعمال ہوئے۔
- ✓
تازہ تخمینے میں جنگ کی مجموعی لاگت قریب 38 ارب ڈالر تک پہنچنے کی بات کی گئی ہے۔
- ✓
اہم سوال یہ ہے کہ ایران جنگ طویل ہوئی تو چین اور تائیوان کے لیے امریکی فوجی تیاری کس حد تک متاثر ہوگی۔
پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ ایران کے خلاف آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے مالی اور تزویراتی اثرات کا جائزہ لیتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے جون کے اختتام تک جنگ کی مجموعی تخمینی لاگت تقریباً 33.4 ارب ڈالر رہی، جس میں قریب 22.3 ارب ڈالر استعمال ہونے والے گولہ بارود اور میزائلوں کی مالیت تھی۔
مزید پڑھیں
اصل مسئلہ پیسہ نہیں، پیداوار ہے
اصل مسئلہ صرف رقم نہیں۔
بھاری مقدار میں اسلحے کے استعمال نے بعض اسٹریٹجک ذخائر میں کمی پیدا کی اور امریکی دفاعی صنعت کی محدود رفتار کو نمایاں کردیا۔
امریکا مزید اربوں ڈالر مختص کرسکتا ہے، مگر رقم فوراً پیٹریاٹ
انٹرسیپٹر، ٹوماہاک میزائل یا دوسرے جدید ہتھیاروں میں تبدیل نہیں ہوتی۔
جدید میزائلوں کی تیاری کے لیے خصوصی مواد، اہم پرزوں، پیچیدہ ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس: جنگ کی قیمت ⌄
ایپک فیوری
28 فروری 2026
33.4 ارب ڈالر
22.3 ارب ڈالر
تقریباً 38 ارب ڈالر
تقریباً 3 ارب ڈالر
چین اور تائیوان کے لیے امریکی فوجی تیاری
اسی لیے پینٹاگون خریداری تیز کرنے اور دفاعی کمپنیوں کے ساتھ طویل المدتی معاہدے کرنے پر مجبور ہے۔
یہ صورتحال ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہے:
اگر ایران جنگ جاری رہتی ہے اور اسی دوران دنیا کے کسی دوسرے حصے میں بڑا بحران شروع ہوجاتا ہے تو کیا امریکا کے پاس کافی ذخائر باقی ہوں گے؟
امریکی فوجی حکمت عملی ایک سے زیادہ محاذوں پر فوری ردعمل کی صلاحیت برقرار رکھنے پر قائم ہے۔ مگر ایران کے خلاف جنگ، اتحادیوں کی فوجی مدد اور بحر ہند و بحرالکاہل میں چین کے مقابل امریکی موجودگی، سب مل کر ہتھیاروں کے ذخائر پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISاصل مسئلہ پیسہ نہیں، پیداوار ہے ⌄
امریکا مزید اربوں ڈالر دفاع کے لیے مختص کرسکتا ہے، مگر رقم فوراً پیٹریاٹ، تھاڈ یا ٹوماہاک میں تبدیل نہیں ہوتی۔
جدید میزائلوں کی تیاری کے لیے مخصوص خام مواد، راکٹ موٹرز، پیچیدہ پرزوں اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے اصل دباؤ صنعتی پیداوار کی رفتار پر ہے۔
کانگریشنل بجٹ آفس کے تازہ تخمینوں کے مطابق جنگ کی مجموعی لاگت تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور موجودہ رفتار برقرار رہی تو ہر ماہ مزید تقریباً 3 ارب ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں۔
بعض طویل فاصلے کے میزائلوں اور دفاعی ذخائر کو دوبارہ مکمل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
امریکی اڈے بھی دباؤ میں
جنگ صرف امریکی حملوں تک محدود نہیں رہی۔
ایرانی حملوں سے خطے میں امریکی فوجی اور سفارتی تنصیبات بھی متاثر ہوئی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں امریکا کے وسیع فوجی اڈے، بحری جہاز اور رسد کا نیٹ ورک اسے بڑی فوجی رسائی دیتے ہیں، مگر طویل جنگ میں یہی وسیع نیٹ ورک ممکنہ اہداف بھی بن جاتا ہے۔
▦ OVERSEAS POST | DEFENCEامریکی ذخائر پر دباؤ کہاں ہے؟ ⌄
پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے انٹرسیپٹر مسلسل استعمال ہونے سے زیادہ پیداوار کی ضرورت بڑھتی ہے۔
کچھ اہم ذخائر کو دوبارہ مکمل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
پینٹاگون نے طویل المدتی معاہدوں کے ذریعے پیداوار بڑھانے کا عمل تیز کیا ہے۔
ایک اور مسئلہ جنگ کی معاشی مساوات ہے۔
امریکا کو بعض اوقات نسبتاً کم قیمت ڈرون یا میزائل تباہ کرنے کے لیے بہت مہنگے دفاعی میزائل استعمال کرنا پڑتے ہیں۔
اگر ایران مسلسل حملوں کے ذریعے امریکا کو مہنگے انٹرسیپٹر استعمال کرنے پر مجبور کرتا رہے تو وہ واشنگٹن پر مالی اور فوجی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
اسی خطرے کے باعث پینٹاگون نے پیٹریاٹ، تھاڈ اور ٹوماہاک کی پیداوار بڑھانے کے لیے نئے معاہدے کئے ہیں۔
یہ اقدامات ایک طرف امریکی تیاری بڑھانے کی کوشش ہیں، مگر دوسری طرف یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ موجودہ دفاعی صنعتی نظام طویل اور زیادہ اسلحہ استعمال کرنے والی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں تھا۔
اصل تشویش چین؟
امریکی فوجی منصوبہ سازوں کے لیے سب سے حساس پہلو چین ہے۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ جتنی طویل ہوگی، اتنے ہی زیادہ ایسے ہتھیار اور وسائل وہاں استعمال ہوں گے جنہیں واشنگٹن ایشیا اور بحرالکاہل کے لیے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
◎ OVERSEAS POST | BIG PICTUREچین اور تائیوان کیوں اہم ہیں؟ ⌄
واشنگٹن گزشتہ برسوں سے اپنی بڑی فوجی توجہ بحرالکاہل اور چین کی جانب منتقل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ زیادہ طویل ہوئی تو ایسے میزائل، طیارے اور دفاعی وسائل وہیں استعمال ہوتے رہیں گے جنہیں امریکا مستقبل کے کسی تائیوان بحران کے لیے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
اگر بعض اہم میزائلوں کے ذخائر مکمل کرنے میں کئی سال لگتے ہیں تو واشنگٹن کے سامنے مشکل انتخاب کھڑا ہوتا ہے:
ایران کے خلاف جدید ہتھیار مسلسل استعمال کئے جائیں یا ان کا بڑا حصہ مستقبل میں چین یا تائیوان کے گرد ممکنہ بحران کے لیے محفوظ رکھا جائے؟
یہ سوال ایران جنگ کو مشرق وسطیٰ سے کہیں بڑا بنا دیتا ہے۔
واشنگٹن گزشتہ برسوں سے اپنی فوجی حکمت عملی میں بحرالکاہل اور چین کو مرکزی اہمیت دیتا رہا ہے۔
ایسے میں ایران کے ساتھ ایک طویل جنگ امریکی وسائل کو اس خطے میں باندھ سکتی ہے جہاں سے امریکا انہیں بتدریج دوسری جانب منتقل کرنا چاہتا تھا۔
ایران بھی شدید دباؤ میں
دوسری طرف ایران خود بھی شدید دباؤ میں ہے۔
امریکی حملوں نے اس کی فوجی تنصیبات اور میزائل ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، جبکہ معیشت بھی جنگی دباؤ برداشت کررہی ہے۔
تہران نے بعض بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار دوبارہ شروع کی ہے، مگر رفتار جنگ سے پہلے کی سطح سے کم بتائی جاتی ہے۔
$ OVERSEAS POST | COST OF WARسستا حملہ، مہنگا دفاع ⌄
ایران نسبتاً کم قیمت ڈرون یا میزائل استعمال کرسکتا ہے، جبکہ انہیں روکنے کے لیے امریکا کو کہیں زیادہ مہنگے دفاعی میزائل استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں۔
اس طرح حملہ آور کے لیے مکمل تباہی پیدا کرنا ضروری نہیں؛ مسلسل حملے بھی مخالف کو مہنگے انٹرسیپٹر خرچ کرنے پر مجبور کرکے مالی اور فوجی دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔
یوں یہ جنگ ایسے مقابلے میں تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے جس میں اصل سوال یہ ہے کہ کون اپنی فوجی طاقت کو اس رفتار سے دوبارہ تیار کرسکتا ہے جس رفتار سے وہ اسے میدان میں استعمال کررہا ہے۔
امریکا کے پاس بڑی معیشت، جدید صنعت اور زیادہ وسائل ہیں، مگر اس کے ہتھیار انتہائی مہنگے اور پیچیدہ ہیں۔
ایران نسبتاً سستے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جنگ کو طول دے کر امریکا کی مالی اور فوجی لاگت بڑھانے کی کوشش کرسکتا ہے۔
کیا یہ ایک مہنگی طویل جنگ بن رہی ہے؟
کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جاسکتی کہ امریکا نے ایران کے کتنے فوجی مراکز تباہ کئے۔
اگر واشنگٹن کو ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے دسیوں ارب ڈالر کا اسلحہ استعمال کرنا پڑے، دوسرے علاقوں سے وسائل منتقل کرنے پڑیں اور میزائلوں کی پیداواری صلاحیت ہنگامی بنیادوں پر بڑھانا پڑے، تو یہ ایک ایسی طویل جنگ بن سکتی ہے جو امریکی وسائل مسلسل کم کرتی رہے۔
↔ OVERSEAS POST | BALANCEایران بھی شدید دباؤ میں ⌄
یہ تصویر یکطرفہ نہیں۔ امریکی حملوں نے ایران کی فوجی تنصیبات، میزائل ڈھانچے اور معیشت پر بھی بھاری دباؤ ڈالا ہے۔
تہران بعض بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار جاری رکھ سکتا ہے، مگر جنگ سے پہلے کی رفتار برقرار رکھنا آسان نہیں۔
پینٹاگون کی رپورٹ یہ نہیں کہتی کہ امریکا کا اسلحہ ختم ہونے والا ہے۔
اصل نکتہ یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کے ذخائر بھی لامحدود نہیں، اور طویل جنگیں موجودہ اسلحہ خانے اور نئے ہتھیار بنانے کی صنعتی رفتار کے فرق کو نمایاں کردیتی ہیں۔
اسی لیے بنیادی سوال یہ ہے:
امریکا نے ایران کو کتنا کمزور کیا، یہ اپنی جگہ، مگر اس مقصد کے لیے واشنگٹن نے اپنی طاقت کا کتنا حصہ خرچ کردیا، اور اگلی بڑی جنگ سے پہلے اسے یہ طاقت دوبارہ بنانے میں کتنا وقت لگے گا؟