براہ راست نشریات

جنگ نے امریکی میزائل نگل لئے؟ ٹرمپ غضبناک، وزیرِ جنگ کٹہرے میں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Trump Hegseth clash

ایران کے خلاف 5 ماہ سے جاری جنگ میں جدید میزائلوں کے غیرمعمولی استعمال کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے درمیان مبینہ اختلاف سامنے آیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں اسلحے کی قلت پر ہیگستھ سے جواب طلب کیا، تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے رپورٹ کی مکمل تردید کی ہے۔
یہ بحران خلیج، یوکرین اور چین سے ممکنہ تصادم کے لیے امریکی فوجی تیاری کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

کیمپ ڈیوڈ میں امریکی کابینہ کا اجلاس جاری تھا، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ ایران کے خلاف اگلی کارروائی سے زیادہ ایک پریشان کن سوال پر تھی: 

امریکا کے اہم میزائل کہاں گئے؟ 

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ سے سختی سے پوچھا کہ اسلحے کی شدید قلت اب تک ختم کیوں نہیں ہوئی، حالانکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ صورتِ حال قابو میں ہے۔

اخبار نے دو باخبر افراد کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ کو محسوس ہوا کہ انہیں ذخیرے کی اصل حالت سے پوری طرح آگاہ نہیں رکھا گیا۔ 

ہیگستھ نے مبینہ طور پر اپنا دفاع کرتے ہوئے ذمہ داری نائب وزیرِ جنگ اسٹیفن فائنبرگ پر ڈال دی، جو ہتھیاروں کی پیداوار اور ذخائر کی بحالی کی نگرانی کررہے ہیں۔ 

چونکہ تفصیلات نامعلوم ذرائع سے آئی ہیں، اس لئے انہیں ثابت شدہ سرکاری بیان نہیں بلکہ ایک معتبر اخبار کی منسوب رپورٹ سمجھنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں

یہ کہانی صرف ٹرمپ اور ان کے وزیر کے تعلقات کی نہیں۔ اس کے پیچھے ایران کے خلاف 5 ماہ سے جاری جنگ، میزائلوں کا غیر معمولی استعمال اور امریکی دفاعی صنعت کی سست رفتار موجود ہے۔ 

جدید جنگ میں طاقت کا فیصلہ صرف طیاروں اور فوجیوں سے نہیں ہوتا، یہ بھی اہم ہے کہ خرچ ہونے والے پیچیدہ ہتھیار کتنی جلد دوبارہ تیار ہوسکتے ہیں۔

میزائل کتنی تیزی سے استعمال ہوئے؟

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جنگ کے پہلے مہینے میں امریکا نے 850 سے زیادہ ٹوماہاک کروز میزائل استعمال کئے۔ 

ایرانی حملے روکنے کے لئے پیٹریاٹ اور تھاڈ نظاموں کے ایک ہزار سے زیادہ انٹرسیپٹرز داغے گئے، جبکہ ابتدائی ہفتوں میں 1300 سے زیادہ ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل بھی استعمال ہوئے۔ 

یہ غیرمعمولی تعداد ہے، کیونکہ ایسے ہتھیار مہنگے ہیں اور چند ہفتوں میں دوبارہ تیار نہیں ہوسکتے۔

چار اہم نکات
  • واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نے میزائلوں کی قلت پر پیٹ ہیگستھ سے سخت جواب طلب کیا۔
  • وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے کیمپ ڈیوڈ میں مبینہ تلخ مکالمے کی مکمل تردید کی ہے۔
  • رائٹرز کی الگ تحقیقات بھی اہم امریکی میزائلوں کے ذخیرے پر شدید دباؤ کی نشاندہی کرتی ہیں۔
  • اس بحران کے اثرات ایران سے آگے خلیج، یوکرین اور چین کے مقابل امریکی تیاری تک پہنچ سکتے ہیں۔

رائٹرز کی الگ تحقیقات کے مطابق امریکا طویل فاصلے تک درست نشانہ لگانے والے ATACMS اور نئی نسل کے پریسیژن اسٹرائیک میزائلوں کا تقریباً پورا دستیاب ذخیرہ استعمال کرچکا ہے۔ ایک تحقیقی اندازے میں فروری سے جولائی تک پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے تقریباً 65 فیصد استعمال اور تھاڈ ذخیرے میں کم از کم 38 فیصد کمی بتائی گئی۔ 

امریکا اپنے ٹوماہاک ذخیرے کا بھی تقریباً نصف خرچ کرچکا ہے۔ 

رائٹرز بعض اعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا، مگر اس کی معلومات اہم میزائلوں پر حقیقی دباؤ ظاہر کرتی ہیں۔

کیا اسی لیے ٹرمپ نے بڑا حملہ روکا؟

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ میزائلوں کی قلت ان عوامل میں شامل تھی جن کے باعث ٹرمپ نے ایران پر ایک اور وسیع حملہ روک دیا۔ 

صدر نے کہا تھا کہ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑا حملہ ہوتا، مگر انہوں نے فیصلے کو آبنائے ہرمز پر سفارتی پیش رفت کے باعث مؤخر کردیا۔

میزائل بحران اعداد میں
850+ جنگ کے پہلے مہینے میں استعمال ہونے والے ٹوماہاک میزائل
1,000+ پیٹریاٹ اور تھاڈ دفاعی انٹرسیپٹرز
تقریباً 65٪ فروری سے جولائی تک پیٹریاٹ ذخیرے کے استعمال کا اندازہ
تقریباً نصف امریکا کے عالمی ٹوماہاک ذخیرے کا مبینہ استعمال
یہ اعداد واشنگٹن پوسٹ، رائٹرز اور امریکی تحقیقی اندازوں سے لیے گئے ہیں؛ مکمل سرکاری ذخیرہ خفیہ رکھا جاتا ہے۔

اس کی ایک مختلف روایت بھی ہے۔ 

رائٹرز سے گفتگو کرنے والے امریکی عہدیدار نے کہا کہ حملہ ذخیرے کی کمی کے بجائے خلیجی ممالک کے دباؤ پر روکا گیا۔ 

ممکن ہے دونوں عوامل نے کردار ادا کیا ہو: 

خلیجی ممالک وسیع جنگ سے خوف زدہ تھے اور امریکی فوج بھی قیمتی ہتھیار تیزی سے خرچ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ 

کسی ایک وجہ کو حتمی قرار دینا ابھی درست نہیں۔

وائٹ ہاؤس کا مکمل انکار

وائٹ ہاؤس نے کیمپ ڈیوڈ میں تلخ مکالمے کی تردید کردی۔ 

پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے رپورٹ کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو ہیگستھ پر مکمل اعتماد ہے۔ 

پینٹاگون نے بھی کہا کہ وزیرِ جنگ نے کسی کو ذخیرے کے بارے میں گمراہ کیا، نہ اپنے نائب کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

کیا ثابت ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟

جو سامنے آچکا ہے

  • اہم امریکی میزائلوں کے ذخیرے پر دباؤ کی متعدد رپورٹس موجود ہیں۔
  • امریکا نے پیداوار بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر کے معاہدے کیے ہیں۔
  • وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے اختلاف کی باقاعدہ تردید کی ہے۔

جو ابھی ثابت نہیں

  • کیمپ ڈیوڈ میں استعمال کیے گئے اصل الفاظ اور گفتگو کی مکمل تفصیل۔
  • یہ دعویٰ کہ ہیگستھ نے جان بوجھ کر ٹرمپ کو گمراہ کیا۔
  • میزائلوں کی قلت ہی ایران پر بڑا حملہ روکنے کی واحد وجہ تھی۔

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا کے پاس بڑی مقدار میں اسلحہ ہے اور دفاعی کمپنیاں ریکارڈ رفتار سے مزید ہتھیار تیار کررہی ہیں۔ 

یہ بیان اس تصور کی تردید کرتا ہے کہ امریکا لڑنے کے قابل نہیں رہا، لیکن مخصوص میزائلوں کی قلت کا سوال برقرار ہے۔ 

مجموعی فوجی ذخیرہ بڑا ہونے کے باوجود چند جدید اور زیادہ مطلوب ہتھیار کم ہوسکتے ہیں۔

اربوں ڈالر، مگر میزائل فوری نہیں ملیں گے

امریکا نے لاک ہیڈ مارٹن کو پیٹریاٹ میزائلوں کا 7 سالہ معاہدہ دیا ہے، جس کی ممکنہ مالیت 58.6 ارب ڈالر ہے۔ 

ایک دوسرے معاہدے کے ذریعے پیٹریاٹ کے اہم پرزوں کی پیداوار 3 گنا اور تھاڈ کی 4 گنا بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ 

ٹوماہاک کی سالانہ امریکی پیداوار بھی تقریباً 60 سے بڑھا کر بالآخر ایک ہزار تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟
1
خلیج کا دفاع امریکی اڈے اور خلیجی ممالک ایرانی میزائلوں کے مقابل پیٹریاٹ اور تھاڈ پر انحصار کرتے ہیں۔
2
یوکرین کی ضرورت یوکرین کو روسی بیلسٹک حملے روکنے کے لیے انہی پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی ضرورت ہے۔
3
چین کے مقابل تیاری واشنگٹن بحرالکاہل میں کسی ممکنہ بحران کے لیے دور مار میزائل محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
4
فوجی خطرہ دور مار میزائل کم ہوئے تو امریکا کو زیادہ خطرناک پائلٹ والے فضائی مشن استعمال کرنا پڑسکتے ہیں۔

مگر رقم مختص ہونے اور تیار میزائل ملنے کے درمیان طویل صنعتی عمل ہے۔ 

نئی تنصیبات، تربیت یافتہ کارکن، راکٹ موٹرز اور تجربات درکار ہوتے ہیں۔ 

بعض پیٹریاٹ میزائل تیار ہونے میں دو سال لگ سکتے ہیں، اس لیے آج کا معاہدہ موجودہ جنگ میں خالی ہونے والا ذخیرہ فوراً نہیں بھر سکتا۔

ایران سے آگے پھیلتا ہوا مسئلہ

میزائلوں کی کمی کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا حملہ نہیں کرسکتا۔ 

اس کے پاس بمبار طیارے، لڑاکا جہاز، بحری ہتھیار، ڈرون اور دنیا بھر میں ذخائر ہیں۔ 

البتہ دور سے درست نشانہ لگانے والے میزائل کم ہونے پر پائلٹ والے طیاروں کو دشمن کے فضائی دفاع کے قریب بھیجنا پڑسکتا ہے، جس سے خطرہ اور سیاسی قیمت بڑھ جائے گی۔

ممکنہ اگلے منظرنامے
1
سفارتی سمجھوتا آبنائے ہرمز پر معاہدہ جنگ محدود کرکے امریکا کو میزائل ذخائر بحال کرنے کا وقت دے سکتا ہے۔
2
محدود حملے مذاکرات ناکام ہوئے تو واشنگٹن صرف منتخب اور اہم اہداف پر محدود کارروائیاں کرسکتا ہے۔
3
وسیع جنگ کی واپسی بڑا تصادم شروع ہوا تو امریکا کو دوسرے خطوں سے ہتھیار منتقل یا زیادہ خطرناک فضائی مشن چلانا پڑیں گے۔

اثرات خلیج، یوکرین اور بحرالکاہل تک پھیل سکتے ہیں۔ 

خلیجی ممالک اور امریکی اڈے ایرانی میزائلوں کے مقابل پیٹریاٹ اور تھاڈ پر انحصار کرتے ہیں۔ یوکرین کو بھی روسی بیلسٹک حملے روکنے کے لیے پیٹریاٹ درکار ہیں، جبکہ امریکا چین کے ساتھ ممکنہ بحران کے لیے دور مار میزائل محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ 

ایک ہی ہتھیار کے کئی محاذوں پر درکار ہونے سے واشنگٹن کو مشکل ترجیحات طے کرنا پڑیں گی۔

کیا ہیگستھ کا منصب خطرے میں ہے؟

ہیگستھ ایران کے خلاف سخت فوجی پالیسی کے نمایاں حامی رہے ہیں، اس لئے طویل جنگ اور کم ہوتے ذخائر کی سیاسی ذمہ داری ان تک پہنچ سکتی ہے۔ 

پھر بھی ان کی ممکنہ برطرفی کا کوئی سرکاری ثبوت نہیں، وائٹ ہاؤس نے کھل کر ان کی حمایت کی ہے۔ 

اس اختلاف کو فوری برطرفی کے بجائے انتظامیہ کے اندر بڑھتے دباؤ کی علامت سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔

ایک منٹ میں پوری کہانی

ایران کے خلاف طویل جنگ کے دوران امریکی میزائل ذخائر پر شدید دباؤ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ ہے کہ صدر ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ سے پوچھا کہ اسلحے کی قلت اب تک کیوں ختم نہیں ہوئی۔ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے اس گفتگو کی تردید کی ہے، لیکن رائٹرز کی الگ تحقیقات بھی کئی اہم میزائلوں کے ذخیرے میں بڑی کمی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اب امریکا کو ایران پر دباؤ، خلیجی اڈوں کے دفاع، یوکرین کی مدد اور چین کے مقابل تیاری کے درمیان مشکل ترجیحات طے کرنا ہوں گی۔

آگے 3 راستے ہیں۔ 

آبنائے ہرمز پر سمجھوتا جنگ محدود کرکے امریکا کو ذخائر بحال کرنے کا وقت دے سکتا ہے۔ مذاکرات ناکام ہوئے تو واشنگٹن منتخب اہداف پر محدود حملے جاری رکھ سکتا ہے۔ 

وسیع جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اسے دوسرے خطوں سے ہتھیار منتقل کرنے یا زیادہ خطرناک فضائی کارروائیوں کا سہارا لینا پڑے گا۔

کیمپ ڈیوڈ کی مبینہ تکرار کا قطعی ثبوت سامنے نہیں آیا، مگر ایران جنگ نے امریکی منصوبہ بندی کی بنیادی کمزوری ضرور نمایاں کردی ہے: 

میزائل چند منٹ میں داغے جاتے ہیں، ان کا متبادل تیار ہونے میں کئی ماہ یا سال لگتے ہیں۔ ٹرمپ کے سامنے اب اصل فیصلہ یہ ہے کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ فوجی دباؤ برقرار رکھا جائے یا باقی قیمتی ہتھیار کسی بڑے مستقبل کے بحران کے لیے محفوظ رکھے جائیں۔

اصل اور بنیادی ذرائع ٹرمپ، ہیگستھ اور امریکی میزائل ذخائر کا بحران 5 SOURCES
favicons?domain=washingtonpost واشنگٹن پوسٹ — مبینہ اختلاف کی خصوصی رپورٹ کیمپ ڈیوڈ میں ٹرمپ اور وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے درمیان مبینہ سخت مکالمے، میزائلوں کی قلت اور وائٹ ہاؤس کی تردید کی بنیادی رپورٹ۔ EXCLUSIVE اصل رپورٹ ↗ favicons?domain=reuters رائٹرز — دور مار میزائلوں کے ذخائر کی تحقیقات ایران جنگ میں ATACMS، پریسیژن اسٹرائیک، پیٹریاٹ، تھاڈ اور ٹوماہاک میزائلوں کے استعمال اور باقی امریکی ذخائر سے متعلق تحقیقی رپورٹ۔ INVESTIGATION اصل رپورٹ ↗ favicons?domain=reuters رائٹرز — پیٹریاٹ اور تھاڈ کی پیداوار میں اضافہ تین ارب ڈالر سے زیادہ کے معاہدوں، پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی پیداوار تین گنا اور تھاڈ کی پیداوار چار گنا بڑھانے کے منصوبے کی تفصیلات۔ DEFENCE اصل رپورٹ ↗ favicons?domain=reuters رائٹرز — 58.6 ارب ڈالر کا پیٹریاٹ معاہدہ لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ سات سالہ تاریخی معاہدے اور امریکی پیٹریاٹ میزائل ذخائر دوبارہ بھرنے کے طویل مدتی منصوبے کی بنیادی رپورٹ۔ $58.6BN اصل رپورٹ ↗ favicons?domain=reuters رائٹرز — 850 سے زیادہ ٹوماہاک میزائلوں کا استعمال ایران جنگ کے ابتدائی چار ہفتوں میں ٹوماہاک میزائلوں کے غیرمعمولی استعمال اور امریکی ذخائر کی تیز کمی پر پینٹاگون کے اندر پیدا ہونے والی تشویش۔ TOMAHAWK اصل رپورٹ ↗