5 ماہ کی جنگ نے امریکی دفاعی صنعت، میزائل اور مستقبل کی جنگی تیاری پر سوالات کھڑے کر دیئے
ایران کے ساتھ 5 ماہ سے جاری جنگ نے امریکی فوج کے جدید ترین میزائلوں کے ذخائر پر غیر معمولی دباؤ ڈالا ہے۔
رائٹرز کے مطابق بعض اہم میزائلوں کا بیشتر ذخیرہ استعمال ہو چکا ہے، جس نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا جدید جنگوں میں طاقت کا اصل معیار صرف اسلحہ نہیں بلکہ اسے دوبارہ تیار کرنے کی صلاحیت بھی ہے؟
کئی دہائیوں تک امریکہ کی فوجی طاقت کا اندازہ اس کے طیارہ بردار بحری بیڑوں، اسٹیلتھ جنگی طیاروں، ایٹمی آبدوزوں اور دنیا کے سب سے بڑے دفاعی بجٹ سے لگایا جاتا رہا۔
لیکن ایران کے ساتھ جاری 5 ماہ کی جنگ نے امریکی عسکری حلقوں میں ایک بالکل مختلف سوال کو جنم دیا ہے:
اگر مسئلہ دشمن پر میزائل برسانا نہیں، بلکہ استعمال شدہ میزائلوں کی جگہ نئے میزائل تیار کرنا بن جائے تو کیا ہوگا؟
یہ سوال اس وقت کھل کر سامنے آیا جب خبر رساں ادارے رائٹرز نے 3 باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی فوج نے اپنی طویل فاصلے تک مار کرنے والی انتہائی درست نشانے والی ATACMS اور PrSM میزائلوں کا ’تقریباً پورا ذخیرہ‘ استعمال کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران پیٹریاٹ Patriot دفاعی میزائلوں کے ذخیرے کا تقریباً 65 فیصد اور THAAD نظام کے میزائلوں کا تقریباً 38 فیصد بھی استعمال ہو چکا ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکی افواج مکمل طور پر جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور نئے ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
مزید پڑھیں
ان اعداد و شمار کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ اپنی فوجی برتری کھو چکا ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ جدید جنگوں کی نوعیت بدل رہی ہے۔
اب کامیابی صرف جدید ٹیکنالوجی یا بڑے اسلحہ خانے سے وابستہ نہیں رہی، بلکہ اس بات سے بھی جڑی ہے کہ اگر جنگ مہینوں تک جاری رہے تو کوئی ملک اپنی استعمال شدہ جدید ترین جنگی ساز و سامان کی کمی
کتنی تیزی سے پوری کر سکتا ہے۔
اسی لیے آج اصل سوال یہ نہیں رہا کہ امریکہ کے پاس کتنے میزائل موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنی تیزی سے نئے میزائل تیار کر سکتا ہے۔
توقعات سے کہیں زیادہ طویل جنگ
جب اس جنگ کا آغاز ہوا تو عمومی اندازہ یہی تھا کہ چند ہفتوں کی شدید فضائی اور میزائل کارروائیوں کے بعد ایران کی عسکری صلاحیت بری طرح متاثر ہو جائے گی، جیسا کہ ماضی میں کئی امریکی جنگی مہمات میں ہوا تھا۔
لیکن حقیقت مختلف ثابت ہوئی۔
مہینے گزرتے گئے اور امریکی افواج کو مسلسل نئے اہداف کا سامنا کرنا پڑا۔
کہیں متحرک میزائل لانچر تھے، کہیں اسلحہ کے گودام، کہیں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، تو کہیں ڈرون بنانے والی تنصیبات اور فضائی دفاعی نظام، جنہیں ایران بار بار نئی جگہوں پر منتقل کرتا رہا۔
ایسے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی فوج نے بڑی تعداد میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے انتہائی درست میزائل استعمال کیے، کیونکہ ان کی مدد سے دشمن کی حدود میں داخل ہوئے بغیر دور سے حملہ ممکن تھا اور پائلٹوں کو کم خطرہ لاحق ہوتا تھا۔
اسی دوران ایران کی جانب سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے امریکہ کو بڑی تعداد میں Patriot اور THAAD دفاعی میزائل بھی استعمال کرنا پڑے۔ یوں یہ جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی جہاں حملہ آور اور دفاعی، دونوں طرح کے جدید ہتھیار غیر معمولی رفتار سے استعمال ہونے لگے، اور یہی وہ حقیقت ہے جس نے امریکی عسکری منصوبہ سازوں کو مستقبل کی جنگوں کے بارے میں نئی سوچ پر مجبور کر دیا۔
جب کارخانے بھی محاذ کا حصہ بن گئے
بظاہر ’تقریباً پورا ذخیرہ استعمال ہو گیا‘ ایک فوجی جملہ محسوس ہوتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک بہت بڑی اسٹریٹجک حقیقت چھپی ہے۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی فوجی حکمتِ عملی اس تصور پر قائم تھی کہ جدید جنگیں مختصر ہوں گی، فضائی برتری چند ہی دنوں میں حاصل ہو جائے گی اور انتہائی درست ہتھیار دشمن کی کمر توڑ دیں گے۔
- ایران جنگ نے امریکی میزائل ذخائر پر غیر معمولی دباؤ ڈالا۔
- ATACMS اور PrSM جیسے جدید ہتھیار توقع سے زیادہ تیزی سے استعمال ہوئے۔
- Patriot اور THAAD دفاعی نظام بھی مسلسل حملوں کے باعث متاثر ہوئے۔
- میزائل کی پیداوار بڑھانا صرف بجٹ کا نہیں، وقت اور سپلائی چین کا مسئلہ بھی ہے۔
- اصل امریکی تشویش ایران سے زیادہ کسی ممکنہ اگلی جنگ کے لیے تیاری ہے۔
- چین اور روس امریکی دفاعی صنعت کی رفتار کو بغور دیکھ رہے ہیں۔
لیکن ایران کے ساتھ جاری جنگ نے اس تصور کو چیلنج کر دیا۔
رائٹرز کے مطابق، امریکی فوج نے ATACMS اور PrSM جیسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تقریباً مکمل طور پر استعمال کر لیے، جبکہ Patriot اور THAAD دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی آئی۔
اگرچہ پینٹاگون نے استعمال ہونے والے تمام ہتھیاروں کی تعداد ظاہر نہیں کی، لیکن امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں میزائل لانچر، اسلحہ کے گودام، کمانڈ مراکز، ڈرون تنصیبات اور فضائی دفاعی نظام شامل تھے۔
یہ مسلسل کارروائیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ اس جنگ میں جدید ترین ہتھیار توقعات سے کہیں زیادہ رفتار سے استعمال ہوئے۔
ہر میزائل کی جگہ دوسرا میزائل فوراً کیوں نہیں آ سکتا؟
بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ اگر امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت رکھتا ہے تو وہ نئے میزائل فوری طور پر کیوں نہیں بنا لیتا؟
اس کا جواب جدید دفاعی صنعت کی پیچیدگی میں پوشیدہ ہے۔
یہ معاملہ صرف ایران اور امریکہ کی موجودہ جنگ تک محدود نہیں۔ اگر دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت بھی چند ماہ کی جنگ میں اپنے جدید میزائل ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر سکتی ہے تو مستقبل کی جنگوں میں دفاعی صنعت، سپلائی چین اور مسلسل پیداوار فیصلہ کن عوامل بن جائیں گے۔
اس سے امریکہ کے اتحادیوں، چین، روس اور دیگر بڑی طاقتوں کو بھی اپنی عسکری منصوبہ بندی اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی پالیسیوں پر دوبارہ غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایک جدید میزائل صرف دھات کا ایک ڈھانچہ نہیں ہوتا، بلکہ اس میں انتہائی حساس الیکٹرانک پرزے، سیٹلائٹ رہنمائی کا نظام، جدید سینسر، راکٹ موٹر، خصوصی دھاتیں اور درجنوں ذیلی نظام شامل ہوتے ہیں، جنہیں مختلف کمپنیوں میں تیار کیا جاتا ہے۔
اگر سپلائی چین کا صرف ایک حصہ بھی متاثر ہو جائے تو پورا پیداواری عمل سست پڑ سکتا ہے۔
اسی لیے امریکی دفاعی کمپنیاں، خصوصاً Lockheed Martin، پہلے ہی اعلان کر چکی ہیں کہ وہ PrSM، THAAD اور PAC-3 میزائلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کر رہی ہیں۔
تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیداوار بڑھانے اور عملی طور پر نئے ذخائر تیار ہونے کے درمیان کئی ماہ، بلکہ بعض صورتوں میں سال بھی لگ سکتے ہیں۔
اصل تشویش ایران نہیں، اگلی جنگ ہے
امریکی فوجی منصوبہ بندی ہمیشہ اس اصول پر رہی ہے کہ واشنگٹن بیک وقت ایک سے زیادہ خطوں میں اپنے مفادات کا دفاع کر سکے۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھ سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر اسی دوران بحرالکاہل میں چین کے ساتھ کشیدگی بڑھ جائے، یا یورپ میں کوئی نئی فوجی بحران پیدا ہو جائے، تو کیا امریکہ کے پاس اتنی ہی مقدار میں جدید میزائل دستیاب ہوں گے؟
ایران کے ساتھ پانچ ماہ کی جنگ نے امریکی فوج کے جدید ترین میزائل ذخائر پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ رائٹرز کے مطابق امریکہ نے ATACMS اور PrSM میزائلوں کا تقریباً پورا دستیاب ذخیرہ استعمال کر لیا، جبکہ Patriot اور THAAD دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی آئی۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جدید جنگ میں صرف بہترین ہتھیار رکھنا کافی نہیں؛ انہیں مسلسل تیار کرنے کے لیے مضبوط دفاعی صنعت، قابل اعتماد سپلائی چین اور طویل المدتی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سے دفاعی ماہرین اس جنگ کو صرف مشرقِ وسطیٰ کا تنازع نہیں، بلکہ امریکی دفاعی صنعت اور عسکری منصوبہ بندی کا ایک بڑا امتحان قرار دے رہے ہیں۔
اس جنگ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اکیسویں صدی کی جنگوں میں صرف مضبوط فوج کافی نہیں ہوتی، اس کے پیچھے ایسی صنعت بھی ہونی چاہیے جو میدانِ جنگ کی رفتار کے مطابق ہتھیار تیار کر سکے۔
امریکہ نے کیا سیکھا؟
اگر ایران جنگ نے امریکہ کو ایک بنیادی سبق دیا ہے تو وہ یہ ہے کہ صرف جدید ہتھیار رکھنا کافی نہیں، بلکہ انہیں مسلسل تیار کرنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں امریکی فوج نے اپنی توجہ ایسے ہتھیاروں پر مرکوز رکھی جو زیادہ دور تک مار کر سکیں، زیادہ درست ہوں اور دشمن کے فضائی دفاع کو چکمہ دے سکیں۔
لیکن ایران کے ساتھ جاری جنگ نے ثابت کیا کہ اگر لڑائی چند ہفتوں کے بجائے کئی ماہ تک جاری رہے تو جدید ترین ذخائر بھی تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔
ایران کے ساتھ پانچ ماہ سے جاری جنگ نے امریکی فوج کے جدید ترین میزائلوں کے ذخائر پر غیر معمولی دباؤ ڈالا ہے۔ رائٹرز کے مطابق بعض اہم میزائلوں کا بیشتر ذخیرہ استعمال ہو چکا ہے، جس کے بعد یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ جدید جنگوں میں اصل طاقت صرف ہتھیار رکھنے میں ہے یا انہیں دوبارہ تیار کرنے کی صنعتی صلاحیت میں بھی؟
اسی لیے توقع کی جا رہی ہے کہ واشنگٹن آنے والے برسوں میں صرف مزید میزائل خریدنے پر اکتفا نہیں کرے گا، بلکہ دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت بڑھانے، سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور طویل جنگوں کے لیے بڑے ذخائر قائم کرنے کو بھی ترجیح دے گا۔
یہ تبدیلی صرف امریکہ تک محدود نہیں رہے گی۔
چین، روس اور امریکہ کے اتحادی بھی اس جنگ سے اپنے اپنے نتائج اخذ کر رہے ہیں۔
وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت اپنے استعمال شدہ جدید ہتھیار کتنی جلدی دوبارہ تیار کر سکتی ہے، کیونکہ یہی رفتار مستقبل کے کسی بھی بڑے تنازع میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔
تاہم اس تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔
امریکی حکومت اور پینٹاگون مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ امریکی فوج پوری طرح تیار ہے، اس کی عالمی کارروائیوں کی صلاحیت متاثر نہیں ہوئی اور دفاعی صنعت پہلے ہی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں پر عمل کر رہی ہے۔
اس لیے موجودہ صورتحال کو امریکہ کی فوجی کمزوری قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جنگ نے ایک ایسی حقیقت نمایاں کر دی ہے جس پر پہلے کم توجہ دی جاتی تھی:
جدید جنگوں میں صنعتی طاقت اور عسکری طاقت ایک دوسرے سے الگ نہیں رہیں۔
نتیجہ
شاید ایران جنگ کو تاریخ کی سب سے بڑی جنگ کے طور پر یاد نہ رکھا جائے، لیکن ممکن ہے کہ اسے اس جنگ کے طور پر ضرور یاد رکھا جائے جس نے جدید فوجی طاقت کا ایک نیا پیمانہ متعارف کرایا۔
ماضی میں طاقت کا اندازہ ٹینکوں، لڑاکا طیاروں اور بحری بیڑوں سے لگایا جاتا تھا۔
آج اس کے ساتھ ایک اور سوال بھی جڑ گیا ہے:
اگر جنگ لمبی ہو جائے تو کیا ملک اپنے استعمال شدہ جدید ہتھیار اتنی ہی تیزی سے دوبارہ تیار کر سکتا ہے؟
یہی وہ سوال ہے جسے ایران جنگ نے پوری شدت کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھا ہے۔
ہوسکتا ہے آنے والے برسوں میں فوجی ماہرین اس جنگ کا تجزیہ صرف اس بنیاد پر نہ کریں کہ کتنے اہداف تباہ ہوئے یا کتنے میزائل داغے گئے، بلکہ اس بنیاد پر کریں کہ اس نے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کو اپنی دفاعی صنعت، سپلائی چین اور جنگی منصوبہ بندی پر دوبارہ غور کرنے پر کیوں مجبور کیا۔
کیونکہ اکیسویں صدی میں صرف وہی ملک طویل جنگ کا بوجھ اٹھا سکے گا جس کے پاس مضبوط فوج کے ساتھ مضبوط صنعت بھی ہوگی۔
🚀
اصل اور معتبر ذرائع
ایران جنگ، امریکی میزائل ذخائر اور اسلحہ پیداوار کی دوڑ
8 بنیادی ذرائع
اصل اور معتبر ذرائع
ایران جنگ، امریکی میزائل ذخائر اور اسلحہ پیداوار کی دوڑ