وزیر اعظم شہباز شریف اور سربراہِ فوج فیلڈ مارشل عاصم منیر اہم دورے پر سعودی عرب جا رہے ہیں۔
یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب امریکہ، ایران جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
دوسری جانب حوثیوں نے ینبع کے قریب سعودی تیل بردار جہاز پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
سیاسی اور عسکری قیادت کی مشترکہ موجودگی دورے کو غیرمعمولی سفارتی و دفاعی اہمیت دیتی ہے۔
پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کا دورہ
ایسے وقت ہو رہا ہے
جب آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
اور بحیرۂ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں کو حوثی خطرات لاحق ہیں
امریکہ کی جانب سے جلد معاہدے کے اشاروں، آبنائے ہرمز پر مستقل اثرورسوخ حاصل کرنے کی ایرانی کوششوں اور بحیرۂ احمر میں سعودی جہاز رانی کے لیے بڑھتے حوثی خطرات کے درمیان پاکستانی ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور سربراہِ فوج فیلڈ مارشل عاصم منیر کل سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔
دورے کا وقت اور وفد کی تشکیل اسے محض دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہنے دیتی۔ وزیر اعظم کے ساتھ فوجی قیادت کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ بات چیت کے دو اہم پہلو ہو سکتے ہیں:
ایک سیاسی، جس کا تعلق جنگ کے خاتمے کی کوششوں سے ہوگا اور دوسرا دفاعی و سلامتی سے متعلق، جس میں مذاکرات ناکام ہونے اور دوبارہ فوجی تصادم شروع ہونے کی صورت میں سعودی عرب اور خطے کو درپیش خطرات پر غور کیا جا سکتا ہے جیسا کہ العربیہ نے رپورٹ کیا ہے۔
سعودی اور پاکستانی حکومتوں نے ابھی تک دورے کا تفصیلی ایجنڈا جاری نہیں کیا، اس لئے مذاکرات کے تمام موضوعات کے بارے میں حتمی رائے دینا ممکن نہیں۔
تاہم موجودہ حساس مرحلے میں شہباز شریف اور عاصم منیر کی ایک ساتھ سعودی عرب آمد، اسلام آباد کو جنگ کے مستقبل اور خلیج و بحیرۂ احمر کی سلامتی سے متعلق علاقائی سرگرمیوں کے مرکز میں لے آتی ہے۔
مزید پڑھیں
ایک مذاکراتی عمل، تین مختلف راستے
فریقین کے بیانات صورتِ حال کو بظاہر الجھا دیتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے ایران کے ساتھ پورا دن جاری رہنے والی ’انتہائی مثبت بات چیت‘ کی ہے اور آبنائے ہرمز بہت جلد دوبارہ کھول دی جائے گی۔ تاہم وہ اس امید افزا بیان کے ساتھ یہ دھمکی بھی دیتے ہیں کہ اگر تہران مفاہمت سے پیچھے ہٹا
تو اسے سخت حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری طرف ایران، واشنگٹن کے ساتھ کسی براہِ راست معاہدے کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اصل مذاکرات عُمان کے ساتھ ہو رہے ہیں۔
ان مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہازوں کے لیے محفوظ راستے قائم کرنا اور ایران و عُمان دونوں کے خودمختار اور سلامتی سے متعلق حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
📰خبر کا خلاصہ⌄
قطر اور پاکستان تیسرے اور نسبتاً وسیع سیاسی راستے پر کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد صرف جہاز رانی کا مسئلہ حل کرنا نہیں بلکہ فریقین کو قریب لاکر جنگ کا خاتمہ بھی ہے۔
یوں ایک ہی مذاکراتی میز کے بجائے 3 باہم منسلک راستے دکھائی دیتے ہیں:
امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطے، ایران اور عُمان کے مابین تکنیکی مذاکرات اور ان دونوں فریقوں سے تعلق رکھنے والی علاقائی ریاستوں کی سیاسی ثالثی۔
یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن پیش رفت کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ تہران براہِ راست مذاکرات سے انکار کر رہا ہے۔
ممکن ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات ثالث ممالک کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہوں، جبکہ ہرمز سے متعلق عملی تفصیلات ایران اور عُمان طے کر رہے ہوں جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔
آبنائے ہرمز ہی اصل معاہدہ بن گئی
جنگ کے آغاز پر ایرانی جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور امریکی اتحادیوں کی سلامتی کو بنیادی مسائل قرار دیا گیا تھا۔
لیکن 5 ماہ بعد آبنائے ہرمز ایسی مرکزی گتھی بن چکی ہے جو جنگ کے جاری رہنے یا رکنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
🔎یہ دورہ کیوں اہم ہے؟⌄
دنیا میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ اس آبی راستے سے گزرتا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد یہاں بیشتر جہاز رانی رک چکی ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں اور ان سے منسلک جہازوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
مذاکرات میں شریک ایک ایرانی ذریعے کے مطابق تہران خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں پر کنٹرول، باہر جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت سے مکمل آگاہی اور ضرورت کے وقت مداخلت کا اختیار چاہتا ہے۔
خلیج سے نکلنے والے جہاز ایران اور عُمان کے درمیان متعین راستہ استعمال کریں گے، جبکہ مسقط تہران کو مطلع کرنے کے بعد انہیں گزرنے کی اجازت دے گا۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے دونوں سمتوں میں جہاز رانی پر مکمل کنٹرول کے سابق مطالبے سے پیچھے ہٹ کر لچک دکھائی ہے۔
تاہم تہران نے عُمان کی اس تجویز کو مسترد کر دیا جس کے تحت راستوں اور نگرانی کو دونوں ممالک کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کیا جانا تھا۔
ایران کے لئے فضائی حملوں اور ناکہ بندی کا خاتمہ ہی کافی نہیں۔
وہ ہرمز بند کرنے کی اپنی عسکری صلاحیت کو ایک ایسے سیاسی فائدے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جو خلیج کے اس اہم دروازے کے انتظام میں اس کے مستقل کردار کو تسلیم کرے۔
📊فیکٹ باکس⌄
اس کے برعکس امریکہ اور خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ عارضی معاہدہ بھی تہران کو جہازوں کی نقل و حرکت پر مستقبل میں اثرانداز ہونے کی طاقت دے سکتا ہے اور ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو ہر نئے بحران میں استعمال ہونے والی ایرانی دباؤ کی دسترس بنا سکتا ہے۔
سعودی عرب دو آبی راستوں کے درمیان
سعودی عرب اپنی تیل برآمدات پر دباؤ کم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کھلوانا چاہتا ہے، لیکن ریاض یہ نہیں چاہتا کہ سعودی تیل بردار جہازوں کی آمدورفت ایرانی نگرانی یا منظوری سے مشروط ہو جائے۔
اسی دوران مملکت کو مغربی ساحل پر ایک اور خطرے کا سامنا ہے۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ینبع کی بندرگاہ کے قریب ایک سعودی تیل بردار جہاز پر میزائل داغے ہیں۔
گروپ نے حملے کا وقت نہیں بتایا، جبکہ رپورٹ کی تیاری تک سعودی عرب کی جانب سے واقعے یا ممکنہ نقصان کی سرکاری تصدیق بھی سامنے نہیں آئی تھی۔
اگرچہ یہ حملہ تاحال حوثیوں کا دعویٰ ہے، تاہم اس نے توانائی کی منڈیوں میں تشویش واپس لا کر تیل کی قیمتیں بڑھا دیں۔
اس سے قبل جلد معاہدے کی امید پر قیمتوں میں 5 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔
📌اہم ترین نکات⌄
سعودی مسئلہ اب صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہا۔
ایران مشرقی راستے پر دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ حوثی بحیرۂ احمر کے مغربی راستے کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگر دونوں راستے بیک وقت غیرمحفوظ ہو گئے تو صرف سعودی تیل برآمدات نہیں بلکہ توانائی کی عالمی رسد بھی ایک بڑے بحران کا سامنا کر سکتی ہے۔
پاکستان اسی وقت سعودی عرب کیوں جا رہا ہے؟
پاکستان کے پاس تعلقات کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو بہت کم ممکنہ ثالثوں کو حاصل ہے۔
وہ سعودی عرب کا قریبی دفاعی شراکت دار، ایران کا ہمسایہ اور امریکہ کا سکیورٹی پارٹنر ہے۔ اس کے ساتھ قطر اور عُمان سے بھی اس کے فعال سفارتی رابطے موجود ہیں۔
جنگ کے دوران اسلام آباد نے خود کو ایسے فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جو واشنگٹن، تہران اور خلیجی دار الحکومتوں سے بات کر سکتا ہے۔
✅کیا تصدیق ہوئی، کیا نہیں؟⌄
عاصم منیر نے بالخصوص علاقائی رابطوں اور مختلف فریقوں کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
شہباز شریف اور عاصم منیر کا مشترکہ دورہ 3 بنیادی سوالات پیدا کرتا ہے:
کیا پاکستانی وفد واشنگٹن یا تہران کا کوئی پیغام لے کر جا رہا ہے؟
کیا سعودی عرب اور پاکستان آبنائے ہرمز کے مجوزہ انتظامات پر مشترکہ مؤقف تشکیل دینا چاہتے ہیں؟
اور کیا ریاض، ایران اور حوثیوں کے حوالے سے اسلام آباد سے کسی قسم کی ضمانت یا تعاون چاہتا ہے؟
فی الحال ان سوالات کے حتمی جواب کے لیے سرکاری معلومات دستیاب نہیں۔
تاہم ایک ہی وفد میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ سلامتی کے مسائل مذاکرات میں نمایاں رہیں گے، خاص طور پر دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کی موجودگی میں۔
🗂️ممکنہ ایجنڈا⌄
اس کا مطلب یہ نہیں کہ سعودی عرب نے پاکستانی فوج یا براہِ راست عسکری شرکت کی درخواست کی ہے۔
ایسے کسی مطالبے کا معتبر ثبوت موجود نہیں۔
البتہ سفارتی کوششیں ناکام ہونے کی صورت میں ممکنہ علاقائی خطرات سے نمٹنے کے طریقوں پر دونوں ممالک کا غور کرنا فطری ہوگا۔
ایک ایسا معاہدہ جس کی سب کو ضرورت ہے
واشنگٹن ایسے معاہدے کا خواہش مند ہے جو ہرمز کھول دے، توانائی کی قیمتیں کم کرے اور ٹرمپ کو یہ کہنے کا موقع فراہم کرے کہ امریکی عسکری دباؤ نے ایران کو مذاکرات پر مجبور کیا۔
تاہم امریکہ اب تک ایرانی جوہری پروگرام کے خاتمے اور اس کی عسکری صلاحیت محدود کرنے کے اپنے اعلانیہ اہداف حاصل نہیں کر سکا۔
تہران کو حملے اور ناکہ بندی رکوانے کی ضرورت ہے، لیکن وہ خود کو شکست خوردہ فریق کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتا۔
اسی لیے ایران آبنائے ہرمز کے انتظام میں کردار حاصل کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔
🌐دورے کے ممکنہ اثرات⌄
سعودی عرب خلیج اور بحیرۂ احمر دونوں میں محفوظ جہاز رانی چاہتا ہے اور ایران یا حوثیوں کو اپنی تیل برآمدات کا راستہ روکنے کی طاقت دینے کے لیے تیار نہیں۔
دوسری طرف پاکستان جنگ کو اپنی سرحدوں، توانائی کی رسد اور خلیجی اتحادوں کے لیے بڑا خطرہ بننے سے پہلے ختم کرانا چاہتا ہے۔
خطے کے سامنے تین راستے
سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ ایک عارضی معاہدہ ہے، جس کے تحت محدود مدت کے لئے آبنائے ہرمز کھول دی جائے، محفوظ راستے قائم کیے جائیں اور خودمختاری، فیسوں اور جوہری پروگرام جیسے تنازعات کو آئندہ مذاکرات تک مؤخر کر دیا جائے۔
دوسرا امکان کم شدت کی جنگ جاری رہنے کا ہے، جس میں بڑے امریکی فضائی حملے رک جائیں، لیکن ناکہ بندی، سمندری حملے اور حوثی کارروائیاں بدستور جاری رہیں۔
سب سے خطرناک منظرنامہ مذاکرات کی ناکامی اور امریکی حملوں کی بحالی ہے۔
اس صورت میں ایران اور اس کے اتحادی امریکی اڈوں، تیل تنصیبات اور بین الاقوامی جہاز رانی کے خلاف کارروائیاں مزید وسیع کر سکتے ہیں۔
شہباز شریف اور عاصم منیر کا دورہ تنہا جنگ ختم نہیں کر سکتا، لیکن یہ اگلے مرحلے کی سمت ضرور واضح کر سکتا ہے۔
اگر سعودی عرب اور پاکستان قابلِ قبول ضمانتوں کی تیاری میں کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوئے تو یہ دورہ امن کی جانب ایک اہم سنگِ میل بن سکتا ہے۔
لیکن اگر آبنائے ہرمز پر اختیار کا تنازع حل نہ ہوا تو امن بدستور ٹرمپ کے وعدوں اور بحیرۂ احمر کے میزائلوں کے درمیان معلق رہے گا۔
🤝
اصل اور معتبر ذرائع
سعودی پاکستان تعلقات، ہرمز مذاکرات اور بحیرۂ احمر کی کشیدگی
6 بنیادی ذرائع
اصل اور معتبر ذرائع
سعودی پاکستان تعلقات، ہرمز مذاکرات اور بحیرۂ احمر کی کشیدگی