براہ راست نشریات

امریکہ سستے میزائلوں کی تلاش میں، کیا سُپر ہتھیاروں کا دور ختم ہوگیا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی عسکری فلسفہ میں تبدیلی، پینٹاگون کے سستے کروز میزائل، ڈرونز اور جدید امریکی جنگی ہتھیاروں کا تجزیہ
امریکہ دنیا کی سب سے مضبوط فوجی طاقت سمجھا جاتا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون اپنی عسکری پالیسی میں دہائیوں بعد سب سے بڑی تبدیلی لانے کی تیاری کررہا ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے ’آرسنل آف فریڈم‘  کے تحت اعلان کیا کہ پرانے اور پیچیدہ عسکری نظام کا دور ختم ہو چکا ہے، اب توجہ پیچیدہ کاغذی کارروائی کے بجائے میدانِ جنگ کی ہنگامی ضروریات پر مرکوز ہوگی۔

روایتی عسکری نظام کا خاتمہ

امریکی عسکری صنعت دراصل سرد جنگ کے دوران تشکیل پائی تھی، 

جس کا مقصد سوویت یونین جیسی طاقتوں کے مقابلے میں ’سپر ویپنز‘ یا انتہائی جدید ہتھیار بنانا تھا۔

لیکن اب یہ نظام جدید جنگی تقاضوں کے سامنے ناکام نظر آتا ہے۔ 

پینٹاگون کے مطابق طویل کاغذی کارروائیوں جیسے عمل کی وجہ سے کسی بھی نئے ہتھیار کی تیاری میں اوسطاً 12 سال لگتے ہیں۔

امریکی عسکری فلسفہ میں تبدیلی، پینٹاگون کے سستے کروز میزائل، ڈرونز اور جدید امریکی جنگی ہتھیاروں کا تجزیہ
سستے ڈرون دفاعی صلاحیت میں اہم اضافہ ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

چین سے مقابلہ اور صنعتی سُستی

امریکی حکام چین کو اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتے ہیں۔

اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز  کی رپورٹ کے مطابق چین جنگی بنیادوں پر اسلحہ سازی کر رہا ہے، جس کی رفتار امریکہ سے 5 سے 6 گنا زیادہ ہے۔ 

چین کی جہاز سازی کی صلاحیت امریکی صلاحیت سے تقریباً 230 گنا زیادہ ہے، جو واشنگٹن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

امریکی عسکری فلسفہ میں تبدیلی، پینٹاگون کے سستے کروز میزائل، ڈرونز اور جدید امریکی جنگی ہتھیاروں کا تجزیہ
F-22 فائٹر جیٹ (فوٹو: الجزیرہ)

بیوروکریسی اور ’سست رفتار‘ خریداری

امریکی دفاعی نظام ، جو 1991 میں شروع ہوا تھا، اب خود ایک رکاوٹ بن چکا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام جنگ کی رفتار کے بجائے کاغذ کی رفتار سے چلتا ہے اور نتیجے کے طور پر فوج کو  گزشتہ دور کی ٹیکنالوجی، مستقبل کی قیمتوں پر مل رہی ہے۔

2024 میں برآمدی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکی دفاعی بجٹ پر 49 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑا۔

امریکی عسکری فلسفہ میں تبدیلی، پینٹاگون کے سستے کروز میزائل، ڈرونز اور جدید امریکی جنگی ہتھیاروں کا تجزیہ
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ (فوٹو: الجزیرہ)

معیار پرستی اور مہنگے منصوبوں کی ناکامی

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کا ’کمال پسندی‘ کا رجحان مہنگے ہتھیاروں کا باعث بنا ہے۔

ایف-22 ریکٹر طیارہ ہو یا زوموالٹ کلاس تباہ کن بحری جہاز، یہ منصوبے انتہائی مہنگے ثابت ہوئے ہیں۔ 

مثال کے طور پر 24 ارب ڈالر کی لاگت سے صرف 3 زوموالٹ بحری جہاز بن سکے، جن کی افادیت موجودہ ریڈار ٹیکنالوجی کے سامنے محدود ہو کر رہ گئی۔

امریکی عسکری فلسفہ میں تبدیلی، پینٹاگون کے سستے کروز میزائل، ڈرونز اور جدید امریکی جنگی ہتھیاروں کا تجزیہ
یو ایس ایس لنڈن جانسن، تیسرا اور آخری زوم والٹ کلاس ڈسٹرائر (فوٹو: الجزیرہ)

نئے رجحانات: سستے اور مؤثر ہتھیار

پینٹاگون اب The Possible Mass حکمت عملی پر منتقل ہو رہا ہے۔ اس میں ڈرونز اور کم قیمت والے کروز میزائل شامل ہیں۔

مثال کے طور پر یوکرین کو فراہم کردہ 3,350 ای-ریم (Eram) میزائلوں کی فی یونٹ قیمت محض 2.5 لاکھ ڈالر ہے، جو روایتی امریکی میزائلوں کے مقابلے میں انتہائی سستی اور کارگر ہے۔

عسکری-صنعتی کمپلیکس کا اثر

سابق صدر آئزن ہاور نے جس ’ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس‘ سے خبردار کیا تھا، آج اس کا اثر واضح ہے۔

امریکہ کے بڑے ہتھیار فراہم کنندگان کی تعداد 51 سے کم ہو کر صرف 5 رہ گئی ہے، جو 74 فیصد صنعت پر قابض ہیں۔ یہ اجارہ داری نہ صرف قیمتوں میں اضافے کا باعث ہے بلکہ فوج کو ان کمپنیوں کا محتاج بھی بنا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے محض بیوروکریسی کی اصلاح کافی نہیں ہوگی۔ 

امریکہ کو اپنی سپلائی چین کو خود مختار بنانا ہوگا اور تجارتی ٹیکنالوجی کو عسکری شعبے میں ضم کرنا ہوگا۔ امریکہ کا مستقبل اب اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اپنی عسکری صنعت کو سستی اور تیز پیداوار میں کس حد تک ڈھال سکتا ہے۔