بین الاقوامی بحران گروپ میں ایران پروگرام کے ڈائریکٹر علی واعظ کے مطابق ایرانی نظام اہم فیصلوں کی حتمی منظوری کے لیے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام کو استعمال کرتا ہے، نہ کہ مذاکرات کی تفصیلات چلانے کے لیے۔
انہوں نے کہا کہ مجتبیٰ کا کردار نمایاں کرنا ایرانی مذاکرات کاروں کے لیے ایک حفاظتی سیاسی کور فراہم کرتا ہے تاکہ اندرونی تنقید سے بچا جا سکے، خاص طور پر اس لیے کہ وہ عوامی سطح پر ظاہر نہیں ہوتے۔
ادھر ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر میں پروٹوکول ڈپارٹمنٹ کے سربراہ مظاہر حسینی نے گزشتہ جمعہ دعویٰ کیا کہ خامنہ ای کی صحت اب مکمل طور پر بہتر ہے۔
ان کے مطابق رہنما کو صرف پاؤں اور کمر کے نچلے حصے میں معمولی چوٹیں آئیں، جبکہ ایک چھوٹا سا شیل کا ٹکڑا کان کے پیچھے لگا تھا اور تمام زخم اب مندمل ہو رہے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے گرد پراسرار سناٹا مزید گہرا ہوگیا
Overseas Post