اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

مجتبیٰ خامنہ ای کے گرد پراسرار سناٹا مزید گہرا ہوگیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مجتبیٰ خامنہ ای
رپورٹس کے مطابق ایرانی رہنما اب بھی شدید جلنے کے زخموں کا علاج کروا رہے ہیں (فوٹو: العربیہ)

ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای، جو جنگ کے پہلے دن تہران پر ہونے والے حملوں میں زخمی ہوئے تھے، اب بھی منظرِ عام سے غائب ہیں۔ 

تاہم نئی امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق ایرانی رہنما علی خامنہ ای کے بیٹے جنگی حکمت عملی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکی انٹیلی جینس اندازوں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کا کردار ایرانی نظام کے اندرونی اختلافات ختم کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوا، یہ انکشاف امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے کیا ہے۔

مزید پڑھیں

رپورٹس میں مزید بتایا گیا کہ موجودہ ایرانی رہنما اب بھی شدید زخموں کا علاج کروا رہے ہیں۔ 

العربیہ کے ذرائع کے مطابق ان کے جسم کے ایک پورے حصے پر شدید جھلساؤ کے اثرات ہیں، جن میں چہرہ، بازو، دھڑ اور ٹانگ شامل ہیں۔

انٹیلی جنس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای امریکا کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات کی سمت متعین کرنے میں بھی شریک ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ وہ کسی بھی قسم کے الیکٹرانک ذرائع استعمال نہیں کرتے بلکہ محدود افراد سے بالمشافہ ملاقات یا ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیج کر رابطہ رکھتے ہیں۔

654564645
خامنہ ای الیکٹرانک ذرائع استعمال نہیں کرتے اور خفیہ پیغامات کے ذریعے رابطہ رکھتے ہیں (فوٹو: العربیہ)

دوسری جانب بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ خامنہ ای اس وقت فیصلہ سازی کے عمل سے نسبتاً دور ہیں اور ان تک رسائی بھی محدود ہے، اسی لیے روزمرہ امور کی نگرانی اعلیٰ پاسدارانِ انقلاب کمانڈر اور پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔

ایک ذریعے نے کہا کہ اس بات کا کوئی واضح ثبوت نہیں کہ وہ مسلسل احکامات جاری کر رہے ہیں، لیکن اس کے برعکس بھی کوئی ثبوت موجود نہیں۔

روزمرہ فیصلوں
کی نگرانی
پاسدارانِ انقلاب
اور قالیباف
کر رہے ہیں

بین الاقوامی بحران گروپ میں ایران پروگرام کے ڈائریکٹر علی واعظ کے مطابق ایرانی نظام اہم فیصلوں کی حتمی منظوری کے لیے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام کو استعمال کرتا ہے، نہ کہ مذاکرات کی تفصیلات چلانے کے لیے۔
انہوں نے کہا کہ مجتبیٰ کا کردار نمایاں کرنا ایرانی مذاکرات کاروں کے لیے ایک حفاظتی سیاسی کور فراہم کرتا ہے تاکہ اندرونی تنقید سے بچا جا سکے، خاص طور پر اس لیے کہ وہ عوامی سطح پر ظاہر نہیں ہوتے۔
ادھر ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر میں پروٹوکول ڈپارٹمنٹ کے سربراہ مظاہر حسینی نے گزشتہ جمعہ دعویٰ کیا کہ خامنہ ای کی صحت اب مکمل طور پر بہتر ہے۔
ان کے مطابق رہنما کو صرف پاؤں اور کمر کے نچلے حصے میں معمولی چوٹیں آئیں، جبکہ ایک چھوٹا سا شیل کا ٹکڑا کان کے پیچھے لگا تھا اور تمام زخم اب مندمل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دشمن جھوٹی افواہیں اور بے بنیاد دعوے پھیلا رہا ہے تاکہ ان کی موجودگی اور مقام کا تعین کیا جا سکے، تاہم عوام سے صبر کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ مناسب وقت پر خود قوم سے خطاب کریں گے۔

اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے خامنہ ای کے ساتھ ڈھائی گھنٹے طویل ملاقات کی، جو کسی اعلیٰ ایرانی عہدیدار اور نئے سپریم لیڈر کے درمیان پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔